گوشہ خواتینمعاشرہ اور ثقافتہندوستان

جموں میں پولیس افسر کے ہاتھوں خاتون کی جنسی زیادتی کا معاملہ!

الطاف حسین جنجوعہ

گذشتہ دنوں دوران ِحراست پولیس افسر کے ہاتھوں ایک خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور تشددکا سنسنی خیز معاملہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ خاتون کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے ساتھ ہوئے ظلم وستم کی داستان تحصیلدار مڑھ کے سامنے بیان کر رہی تھی۔ اس ویڈیو نے ایک تہلکہ مچا دیا اور الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا میں بھی یہ خبر نمایاں سرخیوں سے شائع ہوئی۔متاثرہ خاتون کا الزام ہے کہ اس سے پولیس تھانہ کاہنہ چک میں حراست کے دوران شدید جنسی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔ خاتون، جوکہ گھروں میں جھاڑو وبرتن صاف کرنے کا کام کرتی ہے ،کا الزام ہے کہ اس کو 14دن تک نظر بند رکھاگیا، اس دوران ایس ایچ او کاہنہ چک ایس ایچ او نریش کمار اور اس کی ساتھی ریتہ نے اس سے مادر زاد برہنہ کر کے باندھ دیا اور اس کے خفیہ انگوں میں مرچی

پاؤڈر ڈالنے کے علاوہ بیئر کی بوتل ڈالنے کی کوشش کی اور چھڑی کے ساتھ بے رحمی سے اس کی پٹائی کی۔
متاثرہ کی یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب اس نے تحصیلدار مڑھ کے سامنے اپنی روداد پیش کی، متاثرہ نے تحصیلدار کے سامنے کپڑے اتار کرانہیں جنسی زیادتی دکھانا چاہی تاہم تحصیلدار نے اس سے روکا اور ایک خاتون کانسٹیبل سے کہاکہ وہ دیکھے ، اس خاتون پولیس نے بھی تصدیق کہ متاثرہ جوکہہ رہی ہے وہ سچ ہے۔ خاتون کا یہ بھی الزام ہے کہ نہ صرف اس کے شوہر کو بھی پولیس نے حبس جے جا میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر کسی کو اس بارے بتایاگیا تو اس کے بیٹے کو جان سے مار دیاجائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک گھر میں گھریلو نوکرانی کے طور پر کام کرتی تھی لیکن مالک مکان نے اس پر چوری کا من گھڑت الزام لگایا، اس کو ہراساں کیاگیا، مکان مالک نے اس سے کھانے اور پانی کے بغیر رکھاگیا، مجبوراًاس نے گھر چھوڑ دیا اور کچھ دنوں بعد ہی پولیس نے اس کو گرفتار کیا اور قریب آدھا ماہ تک تھانہ میں اس پر ظلم وستم کی انتہا کی گئی۔

خاتون اس وقت زیر علاج ہے، اہل خانہ کے مطابق ویڈیو کے وائرل ہونے پر ان کے جان ومال کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔فی الحال یہ معاملہ عدالت میں پہنچ چکا ہے ۔ فاضل عدالت نے الزامات کی تحقیقات کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم صادر کیا ہے ساتھ ہی اس انسانی حقوق کی بدترین خلا ف ورزی کی جانچ کے لئے 6سنیئرپولیس افسران کے نام تجویز کئے ہیں جن میں سے کم سے کم کوئی تین پر افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دیکر 15دنوں کے اندر اند ر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے بھی مائیکرو بلاگ کے ذریعہ ریاستی سار کو ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایس ایچ او کو لائن حاضر کیاگیاہے لیکن ایک اور ویڈیو اور چند تصاویر بھی سوشل میڈیاپر وائرل ہوئی ہیں جس میں ایس ایچ او کاہنہ چک جس پر خاتون کے ساتھ جنسی وجسمانی زیادتی کرنے کے الزامات ہیں ، اس کو بھاجپا وزیر صحت بالی بھگت کے ساتھ تفصیلی ملاقات کرتے اورہنسی مذاق کرتے دیکھاگیاہے۔ بہر حال یہ معاملہ ابھی تحقیق طلب ہے اور فی الحال کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ۔البتہ اس واقعہ نے کئی سوال کھڑے کئے ہیں کہ اگر قانون کے محافظ ہی اس طرح انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کر نا شروع کر دیں گے تو پھر وہ سماج کے اندر موجود ایسے درندہ صفات افراد کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائیں گے۔۔

16دسمبر2012کوقومی دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کی چلتی بس میں اجتماعی آبروریزی ، جس کے بعد اس کی سنگا پور کے ایک ہسپتال میں موت ہو گئی تھی ،نے پورے بھارت کو ہی نہیں بلکہ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں پر خوب مباحثے ہو ئے تھے اور حکومت کی تنقید ہو ئی تھی ۔ پورے ملک میں لامثال احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے اس وقت کی مرکزی حکومت کو مجبوراًقانون میں ترمیم کرنا پڑی۔ ملک بھر میں دفعہ376 ضابطہ فوجداری کی شنوائی کے لئے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔

دامنی واقعہ میں چار افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی جس کو 5اپریل2017کو عدالت عظمیٰ نے بھی برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلہ میں واضح کیاکہ خاطیوں کے جرم کی نوعیت سنگین ہے اور یہ انتہائی غیر معمولی کے زمرہ میں آتا ہے۔ کاہنہ چک پولیس تھانہ میں پیش آنے والا مبینہ معاملہ بھی کم و بیش ایسا ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں الزامات ایک پولیس آفیسر پر ہیں ۔ مجرموں کو سزا جبھی ہو سکتی ہے جب پولیس ان کے طرف سے انجام دئے گئے جرائم کی تحقیقات کرتی ہے اور ان کے خلاف مقدمہ بناتی ہے۔اسی تحقیقات کی بنیاد پر عدالتیں نتیجے پر پہنچ کر جرم کی سزا سناتی ہیں ۔لیکن موجودہ معاملے نے یہ وا ضح کر دیا ہے کہ محض سخت قوانین بنا دینا ہی کافی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی تطہیر کی ضرورت ہے۔

ان الزماات کی گہرائی سے غیرجانبدارانہ طور پر چھان بین کیا جانا لازمی ہے اور اگر یہ صحیح ثابت ہوتے ہیں تو اس پولیس افسر کو بر خاست کر کے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی قانون کا محافظ ایسا کرنے کی جرات نہ کرے ۔ پولیس کے تئیں سماج کے کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی کیلئے ایسا کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ایس ایچ او کاہنہ چک پر بھی جوالزامات ہی سنگین نوعیت کے ہیں ،اس سے خواتین کا پولیس سے بھروسہ مکمل طور اٹھ گیا ہے، اب کوئی بھی متاثرہ خاتون اپنی شکایات، مسائل وغیرہ لیکر تھانے میں جانے کی ہمت نہ کریگی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان الزماات کی گہرائی سے غیرجانبدارانہ طور پر چھان بین کی جائے ، اگر یہ صحیح ثابت ہوتے ہیں ،جوکہ بادی النظر میں صدفیصد یقینی ہے، تو اس پولیس افسر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی قانون کا محافظ ایسا کرنے کی جرعت نہ کرے ۔ پولیس کے تئیں خواتین کے کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی کیلئے ایسا کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

مزید دکھائیں

الطاف حسین جنجوعہ

مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close