معاشرہ اور ثقافت

جھوٹ کاعالمی دن

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

ٹرن…ٹرن…ٹرن کی آواز سن کرراکیش نے ریسیور کان سے لگایا، اپنے دوست راجوکی آواز سن خوش ہوگیا، خوشی کوسمیٹنے کی کوشش ہی کررہاتھا کہ ریسیوراس کے ہاتھ سے جھوٹ گرااوروہ بھاگابھاگااورپرکے کمرے میں بندہوگیا، روتارہاروتارہا، بالآخرپنکھے سے جھولنے میں ہی عافیت سمجھی، راجوکوجب اس کی خبرہوئی توسرپکڑکربیٹھ گیا، اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑگئے، وہ سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ اپریل فول کی مناسبت سے دی گئی فیل ہونے کی ایک جھوٹی خبراس کے پیارے دوست کی جان تک لے سکتی ہے۔

راحیل اپنے دوستوں کے ساتھ خوشگپیوں میں مشغول تھا کہ اچانک موبائل کی رنگ ہوئی، پڑوس کی آنٹی کی بیٹی تھی، چھوٹتے ہی کہا: جلدی سے آؤ، تمہاری ممی کی طبیعت بہت خراب ہے، راحیل دوستوں کویہ خبردیتے ہوئے جھٹ سے اٹھا؛ لیکن دوستوں نے آگاہ کیاکہ آج فرسٹ اپریل ہے، راحیل جھٹکے کے ساتھ بیٹھ گیااورخوش گپیوں میں مشغول ہوگیا، اِدھرماں جنگ لڑتے لڑتے ہارگئی، جب راحیل گھرپہنچاتوپیروں تلے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی، گھرمیں کہرام بپاتھا۔

یہ اوراس طرح کے دسیوں واقعات اپریل کی پہلی تاریخ کورونماہوتے ہیں ؛ لیکن اس کے باوجودلوگ اس دن فخرکے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں، عجب نہیں کہ کچھ آج کے دن جھوٹ بولنے کوعبادت بھی سمجھتے ہوں، بدقسمتی سے یہ برائی ہمارے مسلم معاشرہ کے روشن خیال گھرانوں میں بھی گھس چکی ہے اوروہ بھی اس دن جھوٹ بول کردوسرے کامذاق بنانے کی کوشش کرتے ہیں اورخوش سے نہال ہوجاتے ہیں ؛ حالاں کہ اس جھوٹ کی وجہ سے لوگوں کی جانیں تک چلی جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عالمی پیمانہ پراس ایک دن کوجھوٹ بولنے کے لئے کیوں خاص کرلیاگیاہے؟ ظاہرہے کہ یہ چیز مغرب سے آئی ہے؛ اس لئے ہمیں اس دن کی حقیقت سے ضرورواقف ہوناچاہئے، آیئے اس پرایک نظرڈالتے چلیں، حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں :

بعض مصنفین کاکہناہے کہ فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے سال کاآغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہواکرتاتھا، اس مہینے کورومی لوگ اپنی دیوی وینس(Venus)کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھاکرتے تھے، وینس کاترجمہ یونانی زبان میں Aphroditeکیاجاتاتھا اورشایداسی یونانی نام سے مشتق کرکے مہینے کانام اپریل رکھ دیاگیا(برٹانیکاپندرہواں ایڈیشن: ۸؍۲۹۲)۔

لہٰذا بعض مصنفین کاکہنایہ ہے کہ چوں کہ یکم اپریل سال کی پہلی تاریخ ہوتی تھی اوراس کے ساتھ ایک بت پرستانہ تقدس بھی وابستہ تھا؛ اس لئے اس دن لوگ جشن ِمسرت منایاکرتے تھے اوراسی جشن مسرت کاایک حصہ ہنسی مذاق بھی تھا، جورفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیارکرگیا، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جشن مسرت کے دن لوگ ایک دوسرے کوتحفے دیاکرتے تھے، ایک مرتبہ کسی تحفہ کے نام پرمذاق کیا، جوبالآخردوسرے لوگوں میں بھی رواج پکڑگیا۔

برٹانیکامیں اس کی ایک اوروجہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۱؍مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آناشروع ہوجاتی ہیں، ان تبدیلیوں کوبعض لوگوں نے اس طرح تعبیرکیا کہ (نعوذباللہ) قدرت ہمارے ساتھ مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنارہی ہے، لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانہ میں ایک دوسرے کوبے وقوف بناناشروع کردیا(برٹانیکا:۱؍۴۹۶)۔

ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلوپیڈیا’’لاروس‘‘ نے بیان کی ہے اوراسی کوصحیح قراردیاہے، وہ یہ ہے کہ دراصل یہودیوں اورعیسائیوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق یکم اپریل وہ تاریخ ہے، جس میں رومیوں اوریہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوتمسخراوراستہزاء کانشانہ بنایاگیا، موجودہ نام نہادانجیلوں میں اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، لوقاکی انجیل کے الفاظ یہ ہیں :’’اورجوآدمی اسے(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)گرفتارکئے ہوئے تھے، اس کوٹھٹھے میں اڑاتے اورمارتے تھے اور اس کی آنکھیں بندکرکے اس کے منھ پرطمانچے مارتے تھے اوراس سے یہ کہہ کرپوچھتے تھے کہ نبوت(الہام) سے بتاکہ کس نے تجھ کومارا؟ اورطعنے مارمارکربہت سی باتیں خلاف کہیں (لوقا:۲۲؍ ۶۳-۶۵)۔

انجیلوں میں یہ بھی بیان کیاگیاہے کہ پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کویہودی سرداروں اورفقیہوں کی عدالت عالیہ میں پیش کیاگیا، پھروہ انھیں پیلاطس کی عدالت میں لے گئے کہ ان کافیصلہ وہاں ہوگا، پھرپیلاطس نے انھیں ہیروڈیس کی عدالت میں بھیج دیا اوربالآخرہیروڈیس نے دوبارہ فیصلے کے لئے ان کوپیلاطس ہی کی عدالت میں بھیجا، لاروس کاکہناہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کوایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنے کامقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنااورانھیں تکلیف پہنچاناتھا اورچوں کہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیاتھا؛ اس لئے اپریل فول کی یہ رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعہ کی یادگارہے(دیکھئے: ذکروفکر، ص: ۶۷-۶۸)

مولاناندیم الواجدی صاحب نے اس کی ایک اوروجہ لکھی ہے، وہ لکھتے ہیں : ’’اسپین پرمسلمانوں نے آٹھ سوسال تک بڑی شان کے ساتھ حکومت کی…؛(لیکن) مسلمانوں کی باہمی چپقلش اورمسلم حکم رانوں کی عیش کوشی نے عیسائیوں کودوبارہ اقتدارمیں آنے کاموقع فراہم کیا، اسپین کی تمام ریاستیں ایک ایک کرکے مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئیں، پہلے طلیطلہ، پھراشبیلیہ، پھرقرطبہ اورآخرمیں غرناطہ … حالات ایسے پیداہوتے چلے گئے کہ آخری مسلم حکم راں ابوعبداللہ نے الحمراء کی جابیاں کلیساکے حوالہ کردیں، کلیسانے ابوعبداللہ سے ایک معاہدہ کیاتھا، جس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ جومسلمان غرناطہ میں باقی رہ گئے ہیں، ان کی جان، مال اورعزت وآبروکی حفاظت کی جائے گی؛ لیکن اس معاہدہ پرعمل نہیں کیاگیا، اس کے برعکس مسلمانوں کوظلم وتشددکانشانہ بنایاگیا، انہیں عیسائی مذہب اختیارکرنے پرمجبورکیاگیا، جن لوگوں نے یہ حکم ماننے سے انکارکیا، ان کوباغی قراردے کرسزائیں دی گئیں، بے شمارمسلمانوں کوزندہ جلایاگیا، کچھ لوگ جان بچاکربھاگ گئے اورپہاڑوں اورغاروں میں جاچھپے، ایسے ہی لوگوں کوعیسائیوں نے یہ پیش کش کی کہ ان کوبہ حفاظت مراکش پہنچادیاجائے گا، مسلمان  ان کے جھانسے میں آگئے، ان کے سامنے اس کے علاوہ کوئی دوسراراستہ بھی نہیں تھا، ایک نئی زندگی پانے کی آرزومیں بچے کھچے اورلٹے پٹے مسلمان عیسائیوں کے فراہم کردہ جہازمیں سوارہوگئے، جب یہ جہازبحیرۂ روم میں پہنچاتواسے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سمندرمیں غرق کردیاگیا، یہ الم ناک اورانسانیت سوزواقعہ یکم اپریل ۱۴۹۸ء کوپیش آیا، مغربی اقوام یہ دن اس لئے مناتی ہیں ؛ تاکہ مسلمانوں کے بے وقوف بناکرانہیں غرق آب کرنے کے یہ لمحاتیادگاربنائے جاسکیں ‘‘۔

یہ ہیں وہ اسباب، جن کی بنیادپرمغربی اقوام ایک اپریل کوبطوریادگارمناتے ہیں اورلطف اندوز ہوتے ہیں ؛ لیکن بدقسمتی سے ہم مسلمان(بالخصوص روشن خیال طبقہ) چوں کہ مغربی کلچرسے آئی ہوئی کسی بھی چیز کو صم بکم عمی کی طرح اپنالیتے ہیں، یکم اپریل کے اس عمل کوبھی، یہ سوچے بناکہ یہ توہماری ہی بے وقوفی کی یادگارہے، اپنائے ہوئے ہیں اور اپنی تذلیل کرکے خودہی خوش بھی ہولیتے ہیں۔

اسلام ایک سادہ اورعملی دین ہے، اس کے اندراس جیسی چیزوں کابالکل بھی جواز نہیں، آیئے اپریل فول کاجائزہ شریعت اسلامی کی روسے لیتے ہیں ؛ تاکہ ہمارے وہ مسلمان بھائی، جواس عمل میں شریک ہوتے ہیں، ٹھنڈے بیٹوں سوچیں اوراسلامی تعلیمات پرعمل پیراہوں۔

اپریل فول منانادرج ذیل اسباب کی وجہ سے منانابالکل ناجائزہے:

۱-  جھوٹ:اس کے اندرسب سے بڑی خرابی ’’جھوٹ‘‘ کی ہے، جھوٹ بولناحرام ہے، جھوٹوں پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، ارشادہے: لعنۃ اللہ علی الکاذبین()، جھوٹ کو منافقین کی نشانی قراردیاگیاہے، چنانچہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: آیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب، واذا وعد أخلف، واذاائتمن خان۔ (بخاری، باب علامات المنافق،حدیث نمبر:۳۳)’’ منافقین کی تین نشانیاں ہیں : (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۲)جب وعدہ کرے تووعدہ توڑدے(۳)اور جب امین بنایاجائے توخیانت کرے‘‘، ایک حدیث میں جھوٹ کواللہ تعالیٰ کی نظرِرحمت سے دوری اوردردناک عذاب کاسبب بتایاگیاہے، آپﷺ کا ارشادہے: ثلاثۃ لایکلمہم اللہ یوم القیامۃ، ولاینظر الیہم، ولہم عذاب ألیم: المنان، والمسبل ازارہ، والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب۔ (ترمذی، حدیث نمبر: ۱۲۱۱)’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے نہ گفتگو کریں گے اورنہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے:(۱) احسان کرکے جتانے والا(۲)ٹخنے سے نیچے ازار لٹکانے والا(۳) اورجھوٹی قسم کے ذریعہ سے اپناسامان فروخت کرنے والا‘‘۔

جھوٹ بولنے کی سزا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی سخت ہے، چنانچہ ایک مرتبہ آپﷺ نے اپنا خواب بیان فرمایاکہ رات میرے پاس دوآدمی آئے اورمجھے ارضِ مقدسہ لے گئے، میں نے وہاں دوآدمیوں کودیکھا، ایک بیٹھاہواتھا اور دوسراہاتھ میں لوہے کی سلاخ لئے اسی کے قریب کھڑاتھا، اس سلاخ کو بیٹھے ہوئے شخص کے جبڑے میں داخل کرتا؛یہاں تک کہ وہ اس کی گُدی کے پار ہوجاتی، پھردوسرے جبڑے میں یہی عمل دہراتا، پھرجب جبڑے اپنی حالت پر لوٹ آتے تو یہی عمل کرتا، میں نے ان دونوں سے اس کے بارے میں پوچھا، توانھوں نے جواب دیا: أما الذی رأیتہ یشق شدقہ، فکذاب، یحدث بالکذبۃ، فتحمل عنہ حتیٰ بلغ الآفاق، فیصنع بہ مارأیت الیٰ یوم القیامۃ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: ۱۳۸۶)’’ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے، جس کے جبڑے چیرے جاتے ہوئے آپﷺ نے دیکھاتووہ ایک جھوٹاشخص ہے، جھوٹ بولتا تھا، اس کی جھوٹی بات نقل کی جاتی رہی؛یہاں تک کہ افُق بھرگیا، اب قیامت تک اس کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا‘’۔

اس لئے ہمیں جھوٹ سے بچناچاہئے اورسچ کاراستہ اختیارکرناچاہئے، اللہ ہمیں توفیق عطافرمائے، آمین!

۲-  مشابہت کفارویہودنصاری: اسلام نے عمومی طورپرکفاراوریہودونصاریٰ کی مشابہت اختیارکرنے سے منع فرمایا،محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جب بتایاگیاکہ یہودبھی آج کے دن روزہ رکھتے ہیں توآپﷺ نے فرمایا: صومواالتاسع والعاشر، خالفوالیہود(جامع الأصول فی أحادیث الرسول، حدیث نمبر: ۴۴۵۲) ’’نواوردس کوروزہ رکھو، یہودکی مخالفت کرو‘‘۔

مشرکین کی مخالفت کے سلسلہ میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: خالفواالمشرکین، وفروااللحی، وأحفوالشوارب(بخاری، حدیث نمبر: ۵۸۹۲)’’مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں کٹاؤ اورداڑھیاں بڑھاؤ‘‘، ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: أعفوااللحی، وجزواالشوارب، وغیرواشیبکم، ولاتشبہوا بالیہودوالنصاریٰ(کنزالعمال عن ابن عمر، حدیث نمبر:۱۷۲۲۲) ’’داڑھیاں بڑھاؤ، مونچھیں کٹاؤ، بوڑھاپے کو(خضاب کے ذریعہ سے) بدل ڈالو اوریہودونصاری کی مشابہت مت اختیارکرو‘‘، ایک روایت میں توآپﷺ نے یہاں تک فرمایا: من تشبہ بقوم، فہومنہم(حدیث) ’’جوشخص جس قوم مشابہت اختیارکرتاہے، (قیامت کے دن ) وہ انہیں میں شمارہوگا‘‘؛ اس لئے کفارومشرکین اوریہودونصاریٰ کی مشابہت اختیارکرنے سے ہمیں پرہیزکرنی چاہئے۔

۳-  ایذارسانی:دوسرے کوتکلیف پہنچانابھی بڑاجرم ہے، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: واللہ لایؤمن، واللہ لایؤمن، واللہ لایؤمن، قیل: ومن یارسول اللہ ؟ قال: الذی لایأمن جارہ بوائقہ(بخاری، حدیث نمبر: ۵۶۷۰) ’’ خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، خداکی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتا، پوچھاگیا: کون اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: جس کی تکلیف سے اس کاپڑوسی محفوظ نہ ہو‘‘، اس حدیث میں صاف طورپرکہہ دیاگیا، اگرکسی کاپڑوسی اس کی وجہ سے تکلیف میں مبتلاہے تواس کاایمان کامل نہیں، یہ پڑوسی خواہ مسلم ہویاغیرمسلم، اگرمسلم ہے تواس کی قباحت اوربڑھ جاتی ہے؛ کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: من آذی مسلما، فقدآذٓنی، ومن آذانی، فقد آذی اللہ عز وجل (مجع الزوائدللہیثمی، حدیث نمبر: ۳۰۹۲) ’’ جس نے کسی مسلم کی تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اورجس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے اللہ عز وجل کوتکلیف پہنچائی‘‘، یعنی مسلمان تکلیف پہنچابالواسطہ اللہ کوتکلیف پہنچاناہے اورجواللہ کوتکلیف پہنچائے گا، ظاہر ہے کہ اس کی خیرنہیں ہوسکتی؛ اس لئے بھی مسلمانوں کواپریل فول منانے بچناچاہئے۔

۴-  بت پرستی کی حمایت:جیساکہ بتایاگیاکہ ایک اعتبارسے اس دن کی نسبت وینس نامی دیوی کی طرف کی جاتی ہے، ظاہرہے کہ یہ بت پرستانہ عقیدہ داخل ہوناہے، جو اللہ تعالیٰ کوبالکل بھی ناپسندہے، یہی وجہ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لایقل أحدکم : أطعم ربک، وضیٔ ربک، واسق ربک، ولیقل: سیدی مولای(بخاری، حدیث نمبر: ۲۵۵۲) ’’کوئی شخص کسی غلام سے نہ کہے کہ تم اپنے رب(آقا) کھلاؤ، اھنے رب(آقا) کووضوکراؤ، اپنے رب(آقا) کوپلاؤ، کہناہی ہے توکہے: سیداورمولاکہے‘‘، لفظ ’’رب‘‘ سے اللہ کی ذات کاشبہ ہورہاتھا؛ اس لئے اس لفظ کے استعمال سے اللہ کے رسولﷺ نے روکا، یہاں بھی بت کے تقدس کامسئلہ ہے تواس سے توبدرجۂ اولیٰ روکاجائے گا۔

۵-  تمسخرواستہزاء:اس میں دوسرے کامذاق اڑایاجاتاہے، جس قرآن نے صراحتاً منع کیاہے، ارشادہے: یاأیہاالذین آمنوالایسخرقوم من قوم(قرآن)’’اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کامذاق نہ اڑائے‘‘، اپریل فول قرانی آیت کے صریح خلاف ہے؛ اس لئے اس سے بچناہم مسلمانوں کوضروری ہے۔

۶-  نبی کی تضحیک وتوہین:جیساکہ ذکرکیاگیاکہ ایک لحاظ سے یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تضحیک کی یادگارہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، ان کی نبوت پرایمان لاناضروری ہے، نبی کی تضحیک کفرہے، لہٰذا اس اعتبارسے اگردیکھاجائے توہم اس دن کومناکرکفرکے مرتکب ہورہے ہیں، لہٰذا اس سے توبہ کرناضروری ہے۔

۷-  خودکی تضحیک وتذلیل:  اوپرذکرکیاگیاکہ ایک اعتبارسے یہ دن ۱۴۹۸ء میں بے وقوف بنائے گئے مسلمانوں کی یادگارکے طورپرمنایاجاتاہے، ظاہرہے کہ اس لحاظ سے یہ دن مناکرہم خوداپنے باپ داداکی تضحیک اورتذلیل کے مرتکب ہوتے ہیں اوراس سے زیادہ بے شرم اوربے غیرت کون ہوگا، جوخودکے آباواجدادکی تذلیل کامرتکب ہو؟ اس لئے اس دن کومنانے سے ہم مسلمانوں کومکمل طوپرپرہیزکرناچاہئے، اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطافرمائے اوراسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل کرنے والابنائے، آمین !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close