معاشرہ اور ثقافت

جھگڑا ساس اور بہو کا

فانیؔ ایاز گولوی (رام بن)

یوں تو ہر گھر میں بحث و تکرار ہوتی ہے لیکن شاید ہی کوئی ایسا گھر بچا ہوجو اس سر دردی سے آزاد ہو گا۔ آئے روز دنیا جدیدیت کی اور بڑھ رہی ہے اور خاص کر تعلیم نسواں کے باب پڑھائے جا رہے ہیں۔ کچھ عورتیں بڑی بڑی عہدوں پر فائز ہیں۔ کچھ گھروں میں قید ہیں۔ جو بچاری انپڑھ ہیں ان کو گھر کا کھانا صفائی اور کپڑے دھونا اور روزمرہ کے کام ہیں۔ اور اگر گائوں کی جانب رخ کیا جائے تو گائوں کی خواتین بے چاری کام کر کر کے تھک جاتی ہیں کبھی گھاس کٹائی کبھی مال مویشی کبھی کھانا بنانا کپڑے دھونا۔ ان بے چاریوں کو تو کھانے کی فرصت بھی نہیں ملتی۔

مگر ایک بیماری ہے جس بیماری کاکوئی علاج نہیں۔ جو ہر گھر میں ہوتا رہا ہے اور ہو تارہے گا۔وہ ہے ساس بہو کی لڑائی۔غلطی سے اگر ساس نے بہو سے پانی مانگ لیا تو قہر بپا ہوگیا۔۔۔اوجی آپ کو خود پانی نہیں لینے آتاہے آپ توایک گلاس پانی بھی نہیں لا سکتی ہو مجھے اتنے کام ہیں ابھی بچے اسکول جا رہے ان کے لئے کھانا تیار کر رہی ہوں۔ ساس بے چاری کمزورہے گھٹنوں میں درد ہے وہ کہاں پانی لے سکے گی۔ در اصل جب بیٹے کی شادی کی جاتی ہے تو میاں بیوی صلاح کرتے ہیں کہیں اچھے گھر میں رشتہ کریں گے جو لڑکی پڑھی لکھی ہو گی کل کو نوکری بھی لگ سکے گی یا پھر نوکری والی ہو۔ کچھ چار پیسے بھی آئیں گے۔مگر پیسے ہی آرام کی چیز نہیں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو خود بھی کرنی پڑتی ہیں۔

جب نوکری والی ڈھونڈتے ہیں اس بے چاری کو گھر والوں نے کھانا بنانے کی ترکیب بھی نہیں سکھائی ہوتی ہے وہ بے چاری ان چیزوں سے ناواقف ہوتی ہیں۔ جب سسرال جاتی ہے تو اس کو ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔پھر کہا جاتا ہے ہائے میری بیٹی نے تو کبھی کھانا بنایا ہی نہیں ہے۔ یہ پڑھنے میں مصروف ہوتی تھی۔ادھر سے ساس کا دبائویہ تو نا اہل ہے اس کو کھانا بنانا بھی نہیں آتا۔ دوسری طرف موبائل کی جانب بھی ٹائم نکالنا ہے۔ وہ بھی ضروی ہے۔ کبھی وٹس ایپ کبھی فیس بک پر دیکھناہے کسی نے کمنٹ مت کیا ہوگا۔ اسی طرح سے گھروں میں جھگڑے تیار ہوتے ہیں۔ بہو ساس کی نہیں مانتی اور ساس بہو کی۔ گھروں کا چین و سکون دریا میں بہہ جاتا ہے۔ شادی کے کچھ روز بعد ہی بہوشوہر کو الگ رہنے کی صلہ دے دیتی ہے۔ یہ بڑھیا تھوکتی ہے مجھ سے صفائی نہیں ہو گی اتنے افرادکا کھانا نہیں بنے گا۔ ہم الگ رہیں گے۔ مگر دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ماں باپ نے اپنی اولاد کو کیسے کیسے پالا ہوتا ہے ان کو بڑھاپے میں ان کی ہی آس لگی رہتی ہے مگر کچھ وقت کی مجبوریا ں سرپہ طواف کرتی ہیں کہ وہ الگ رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس میں ایک کمی تو یہ ہے کہ ہر ایک کے گھر میں بیٹیاں ہیں ا گر دنیا کے ساری تعلیم دی گئی مگر اس تعلیم سے محروم رکھا جو اشد ضروری تھی۔جس تعلیم سے بہو کو ساس یا سسر کے آداب پتہ چلتا۔ اگر چہ ہم نے دنیا کی بڑی بڑی ڈگریاں کروائی لیکن وہ اسلامک تعلیم نہیں دی جس سے اس کے اندر کا ضمیر جاگ جاتا۔ اُس کی آنکھوں میں وہ روشنی آجاتی کہ میں نے کیسے اپنی ساس کے ساتھ سلوک کرنا ہے۔ اسلام نے عورتوں کو سارے حقوق دیے ہیں۔ دورِ ماضی میں جو عورتیں تھی وہ اگر چہ انپڑھ تھی لیکن کچھ حد تک ان میں ادب و حترام تھا۔ جو آج بھی ہماری مائوں یا بہنوں کی صورت میں موجود ہیں۔ وہ کتنی خدمت کرتی ہیں اپنی ساس اور سسر کی۔ مگر اس مغربی تعلیم نے ہمارے گھروں کو اجاڑ کے رکھ دیا۔ اگر ہمارے پاس بہت تعلیم ہے مگر بولنے کی تمیز نہیں۔ جو آنے والی جنریشن Generationہے وہ کتنی خطرناک ہو گی. ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔ میری آنکھوں کا ایک واقعہ ہے ایک روز میں ایک ہسپتال میں تھا وہا ں میں نے ایک عورت دیکھی اس کی ساس کو آنکھوں کا اپریشن Operationتھا۔ اس عورت کی بہو کتنی نیک تھی جو قدم قدم پر اس کی مدد کرتی تھی۔ اور جب بھی کہیں سسر کی نظر بہو پر پڑتی تو بہو جلدی سے چہرے کے اوپر پردہ ڈال دیتی اور سر اپنا جھکا دیتی۔

میں مشاہدہ کرتا رہا کے کتنی حیا والی عورت ہے جو اپنے سسر کے سامنے اس طر ح پیش آتی ہے۔ اتنا ادب و احترام اس میں پایا حیران رہ گیا۔وہ غیر مسلم  تھی۔ آج کی عورتوں کا یہ حال ہے وہ منہ کہاں چھپائیں گی الٹا ساس سسر کو منہ کے بل لٹکائیں گی۔ ایسی تعلیم حاصل کی ہے۔ لیکن جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ جو آج اپنی ساس کے ساتھ کرو گے کل تمہاری بھی بہوہو گی وہ تو اس سے بھی مزید تم سے برتائو کرے گی۔اس بات کو کبھی بھولنا مت یہ تمہارے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔ اگر چہ وقت کے غروروتکبر اور جوانی کے نزاکت نے بہلا دیا ہے لیکن وہ وقت بھی قریب ہے جب تمہارے گھٹنے بھی کمزور ہو جائیں گے اور تم بھی اسی چار پائی پر پڑھی رہو گی۔ جس طرح تم نے اپنی ساس کی خدمت کی ہو گی وہ تمہیں ضرور کام آئے گی۔ جو آنسوں اس کی آنکھوں سے بہے ہوں گے وہ تمہاری آنکھوں سے بھی ٹپکیں گے۔ یہ بات بھول نہ جانا۔ اس وقت بہت ظلم و ستم ہو رہا ہے ساس سسر پہ جو اپنے بچے کو کن کن حالات میں پالتے ہیں۔

کچھ ماں باپ مفلس ہوتے ہیں دن کو مزدوری کرتے ہیں ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑے ہوتے ہیں راتوں کے نیند نہیں آتی۔اپنی اولاد کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں کہ میری اولاد کا کیا ہو گا۔ اسکول میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں وقت پر وردی نہیں بنتی کتابیں نہیں بنتی مگر خون پسینہ ایک کرکے اپنی اولاد کو کسی قابل بناتے ہیں۔ پھر وہ ہی اولادان بزگ ماں با پ کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ماں باپ نے اپنے بچوں کا ڈاکٹر بنایا انجینئر بنایا  کے، اے، ایس آفیسر بنایا مگر بعد میں ان بچوں نے ایسی بیویاں لائیں جو شہروں میں ہی رہنا پسند کرتی ہیں ان کو گائوں میں رہنا پسند ہی نہیں۔ اور جو غریب ماں باپ اپنے بیٹے کا خواب دیکھتے تھے کہ پڑھا کر ہمیں مد د کرے گا وہ اپنی کرسی گما رہا ہے گھر سے باہر چلے آیا ہے اپنی بیوی لے کر بڑے بڑے ہوٹلوں میں موج مستی کر رہا ہے۔پارکوں اور چیڑیا گھروں کی سیر کر رہا ہے لیکن۔اس ماں باپ کی شفقت کو نہیں دیکھتا ہے جن کی وجہ سے اس مقام تک پہنچا ہے۔ لاکھوں میں شاپنگ Shopingکرتاہے۔ لیکن اگر ان کے ماں باپ کی جانب دیکھا جائے وہ آ ج بھی اسی حالت زار میں موجود ہیں وہ ہی پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہیں جس حالت میں پہلے تھے۔وہ ہی حالت آج بھی ہے۔ لیکن آج ان کی رگوں میں خون سوکھ گیا ہے وہ پانی کو تڑپ رہے ہیں لیکن ان کو پانی دینے کے لئے کوئی تیار نہیں۔

یہ حالات ہے آج کل اولاد کی۔ مگر ماں با پ کی بھی کچھ کمیاں ہے جو اپنی اولاد کو نہیں سکھا رہے ہیں انہوں نے کبھی اپنی لڑکی کو یہ تک نہیں بتایا کے اگر دوسرے گھر میں جانا ہے تو کیا کرنا ہے اس کو کھانا بنانے کی ترکیب بھی نہ بتا ئی بلکہ خالی میری بچی پڑھے گی جب وہ دوسرے گھروں میں جاتی ہے پھر وہ ڈومیسٹک وائلینس domestic voilenceکا شکار ہوتی ہے۔یا توا لگ رہنا پسند کرتی ہے یا پھر گھروں میں لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں جس سے گھروں کا سکون تباہ وہ برباد ہو جاتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. ہمارےایک دوست نےبتایاکہ:

    چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا:

    کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے، اور اس نا واقف شخص کےلئے اس نے اپنے گھر بار ماں، باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور بس اس لئیے کہ یہ اس کےلئے اس کے دین کا حکم ہے،

    کہتے ہیں، پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا:
    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ ،، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں..

    بلکہ کچھ تو دھکے دےکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی..

    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا..

    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے..

    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کےلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لےجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں..

    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چبھن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا..

    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کےلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی..

    کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی..

    اپنی ماں اور اپنی بیوی دونوں کو بے پناہ عزت دو ،، اس لئے کہ ایک تمہیں دنیا میں لائی ،،اور دوسری ساری دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی۔۔۔

متعلقہ

Back to top button
Close