معاشرہ اور ثقافت

جہیز کی آگ میں راکھ ہوتی بیٹیاں

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
اکیسویں صدی انوویشن، ترقی، تکنیک اور سماجی بدلاؤ کی صدی مانی جاتی ہے۔ اس کو مادہ پرستانہ نظریہ کے ابھار کیلئے بھی جانا جاتا ہے۔ سماجی رشتوں پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ کبھی شادی کو پاک بندھن نسل انسانی کو آگے بڑھانے ، خاندان و معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ سمجھاجاتا تھا۔ لیکن اب اس رشتہ کی شروعات بھی جہیز کے بغیر نہیں ہوتی۔جہیز لینے دینے کیخلاف قانون ہے پھر بھی عام لوگ جہیز کو برا نہیں سمجھتے۔ سماج کا کوئی طبقہ اس کولینے سے انکارنہیں کرتا۔ کبھی لڑکی کو شادی کے بعد تحفے دے کر رخصت کیا جاتا تھا ۔ اب تحفوں نے جہیز کی شکل اختیار کرلی ۔ اب جہیز میں طرح طرح کی فرمائش کی جاتی ہیں۔ مانگ پوری نہ ہونے پر لڑکیوں کو ستانا، مارنا پیٹنا ، بے عزت کرنا عام بات ہو گئی ہے۔کئی لوگ تو لڑکی کو اس کے والدین کے گھر پہنچاجاتے ہیں۔ جب تک ان کے من کی مراد پوری نہیں ہوجاتی لڑکی کو سسرال میں جگہ نہیں ملتی۔
اعدادوشمار کے مطابق 2007سے لے کر 2011تک جہیز کے معاملوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 2012میں جہیز کی وجہ سے قتل کے 2833معاملے سامنے آئے۔ جبکہ 2011میں اس طرح کے واقعات 2618تھے۔ یعنی اوسط ایک گھنٹہ میں ایک لڑکی کا قتل جہیز کی وجہ سے ہوا ہے۔ 2013میں جہیز قانون کے تحت10709معاملے درج کئے گئے۔ وہ معاملے الگ ہیں جو پولس تک نہیں پہنچ پائے ۔2013کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جہیز کے واقعات میں روز افرزوں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔
لڑکیوں کے خلاف تشدد کی وجہوں میں سے ایک وجہ جہیز ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں کیلئے لڑکیوں کو ماردیاجاتا ہے کبھی جلاکر تو کبھی کسی دوسرے طریقے سے۔ پیدائش سے پہلے لڑکی کے قتل کی وجہ بھی جہیز ہی ہے۔ لڑکی جسے رحمت، جنت کی ضمانت، کائنات کی رونق بتایاگیا ہے۔شاعروں کی تخلیق اور ادیبوں کی تحریریں جس کے بغیر نا مکمل رہتی ہیں کیا وجہ ہے کہ اس کی آمد پر والدین کامنہ اتر جاتا ہے۔ گھر میں ماتم چھاجاتا ہے۔ وجہ صاف ہے لڑکی کے آنے پر والدین کو اقتصادی بوجھ بڑھنے کی فکر ستانے لگتی ہے۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ لڑکی کو جہیز دینا پڑے گا۔ اسی لئے لڑکی کو رحم میں ہی قتل کردیاجاتاہے۔ جو بچ جاتی ہیں ان کے ساتھ دہرا رویہ روا رہتا ہے ۔ انہیں پرایا دھن بتا کر چڑایا جاتا ہے ۔ کھانے پینے پہننے اوڑھنے پڑھنے لکھنے کا موقع انہیں لڑکوں کے بعد دیا جاتا ہے ۔
اس مسئلہ سے متوسط طبقہ بری طرح متاثر ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق بچیوں کے رحم میں قتل کا معاملہ شہری متوسط طبقہ میں زیادہ دیکھا گیا ہے ۔ امیروں میں بھی جہیز کا خوب چلن ہے لیکن ان پر سالوں سال بچت کرنے کا دباؤ نہیں ہوتا۔ ان کیلئے شادی اپنی حیثیت کو ظاہر کرنے کا ذریعہ ہے اور کچھ نہیں۔ دباؤ متوسط اور اس سے نیچے کے طبقہ پر ہے جو خاندان کے ضروری خرچوں میں کٹوتی کرکے بیٹی کے جہیز کا انتظام کرتے ہیں۔ لڑکے والوں کو اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ لڑکی والے جو کچھ دیتے ہیں وہ اپنی بیٹی کیلئے ہی تودیتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ آج کی لڑکیاں بھی جہیز کو برانہیں مانتیں۔ اس سے نفرت نہیں کرتیں بلکہ انتظار کرتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز میں کیا کیادینے والے ہیں۔ جہیز میں ملے سامان ، زیور کو کنیا دھن مانا جاتا ہے۔ لڑکیاں بھی چاہتی ہیں کہ جہیز میں انہیں والدین سے اچھے سے اچھا سامان، کپڑے ، زیور اور گاڑی ملے ۔ کئی علاقوں میں تو لڑکوں کی قیمت تک طے ہے مثلاً بہار میں انجینئر کا پانچ سے سات لاکھ روپے میں ملتا ہے۔ اسی طرح گریجویٹ، ٹیچر، ڈاکٹر، وکیل، سرکاری نوکر، پولس آفیسر وغیرہ کا ریٹ طے ہے۔ جہیز کے لین دین میں شمال کے صوبے ہوں یا جنوب کے سبھی ایک جیسے ہیں ۔آندھرا پردیش اور بہار جہیز ، قتل کے واقعات میں تھوڑے فرق سے آگے پیچھے ہیں ۔ دراصل خاندانوں کے درمیان جہیز کی بنیاد پر جو تعلق بنتا ہے وہ دولت کی بناپر بنارشتہ ہوتا ہے انسانیت کی بنیاد پر نہیں۔ اسی سوچ نے لڑکیوں کو انسان کے طورپر دیکھنے کے بجائے ایک چیز یا جائیداد بناکر رکھ دیا ہے۔ خود لڑکیاں بھی اپنے آپ کو اسی طرح سجاتی سنوارتی ہیں۔
اسلام نے لڑکیوں کو والدین کی جائیداد میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے۔ آج مسلمانوں کی بھی بیٹی کو جہیز دے کر دوسرے گھر بھیج کر چھٹی پالینے کی ذہنیت بن گئی ہے۔ وہ بھی اپنی جائیداد میں بیٹیوں کو حصہ نہیں دیتے۔ ہمارے ملک میں جس طرح جہیز مخالف قانون ہے لیکن اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اسی طرح بیٹی کا جائیداد میں برابر کے حق کا قانون موجود ہونے کے باوجود اس کو کوئی نہیں مانتا ۔پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک مہذب سماج سے تعلق رکھتے ہیں یا ایسے مذہب کے ماننے والے ہیں جو لڑکیوں اور لڑکوں میں فرق نہیں کرتا۔ دونوں کو برابر سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دراصل ہم اپنی سہولت کے لحاظ سے مذہب یا قانون پر عمل کرتے ہیں۔ اس سے سب سے زیادہ لڑکیوں کا اور وسیع معنی میں پورے سماج کا نقصان ہے۔
شادی کیلئے لڑکی میں تین چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ خوبصورتی، دولت اورسیرت یا تقویٰ ۔اللہ کے رسول نے خوبصورتی اور دولت پر سیرت کو فوقیت دینے کا حکم فرمایا ہے۔ لیکن آج کے مادہ پرستانہ دورمیں خوبصورتی اور دولت پہلی پسند بن گئی ہے۔ سیرت کے بارے میں توبات بھی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ سیرت مند لڑکیاں ہاتھ ملتی رہ جاتی ہیں اور خوبصورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جس طرح کا معاشرہ تیار ہورہا ہے۔ اس سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔
لڑکی کی شادی کرکے پیچھا چھڑا نے کی ذہنیت نے بیٹیوں کا بھروسہ کم کیا ہے۔ والدین ان پر ایسا یقین نہیں کرتے جیسا لڑکوں پر کیاجاتا ہے۔ بیٹیوں کی تعلیم اوران کی کامیابی پر بھی فخر نہیں کیاجاتا۔ انہیں خود کفیل بننے کا موقع بھی نہیں دیاجاتا۔ ان کی آزادی پر پابندی اور محدود دائرے میںآزادی بھی اسی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ لڑکیوں کی ترقی کیلئے جس طرح کے آزاد اور خوشی والے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے وہ متوسط اورنچلے طبقہ میں میسر نہیں آتا۔ پھر بھی لڑکیاں ہرمیدان میں لڑکوں سے کچھ آگے ہیں۔ افسوس تب ہوتا ہے جب لڑکیاں بھی پنجروں میں قیدہونے کو پسند کرنے لگتی ہیں۔
قدیم زمانے میں سویمبر کی روایت تھی یعنی کئی اہل لڑکوں میں سے لڑکی اپنی شادی کیلئے لڑکے کا انتخاب خودکرتی تھی۔ عربوں میں بھی لڑکیوں کااپنی پسند کے لڑکوں سے شادی کرنے کا پیغام بھیجنے کا چلن تھا۔ اب اگر لڑکی کسی لڑکے سے شادی کرنا چاہے تو اس کے بارے میں نہ جانے کیا کیا کہا جاتا ہے۔ اس کے کردار پر شق کیاجاتا ہے۔ کئی لوگ تولڑکیوں کو اپنی غیرت، عزت اور ناک کا مسئلہ مانتے ہیں اس لئے
اگر لڑکی نے اپنی پسند ظاہر کردی تو طوفان برپا ہوجاتا ہے۔ وہی والدین جو اس کی ذراسی تکلیف پر بے چین ہوجاتے ہیں وہ اپنی بیٹی کو غیرت، عزت کے نام پر موت کے گھاٹاتاردیتے ہیں۔ اس میں کبھی ذات ، برادری عزت کے آڑے آتی ہے توکبھی امیری، غریبی توکبھی مذہب ۔یقیناًمذہب ایک حساس مسئلہ ہے دوسرے مذہب کی لڑکی لینے یا دینے سے بچنا فطری عمل ہے لیکن اگر کوئی لڑکا یا لڑکی دوسری ذات ، برادری ، مذہب یا اپنے سے کمزور طبقہ کے لڑکے یا لڑکی سے شادی کرتا ہے تو ملک کا آئین کسی کو قانون ہاتھ میں لینے (قتل) کی اجازت نہیں دیتا ۔ آج اس طرح کے قتل کو آنر کلنگ کا نام دیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا سماج میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جنہوں نے دوسرے مذاہب کی لڑکیوں سے شادی کی ہو یا اپنی بیٹی دوسرے مذہب کے لڑکوں کو دی ہو ۔ لیا کسی نے ان کا سماجی بائیکاٹ کیا؟ کیا انہیں مذہب سے خارج کئے جانے کا کسی نے اعلان کیا ؟ نہیں ۔ایسے لوگ اسلامی سینٹر کے صدر ، سرکار میں وزیر ، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور سرکار کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔اور نام نہاد مذہب کی حفاظت کرنے والے کیا ان کی مداح سراہی نہیں کرتے ۔ان سے چندہ لینے میں انہیں کوئی پرہیز ہوتا ہے کیاَ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ یہ مذہب نام نہاد ذمہ دار ان کی رکاربیاں چاٹتے ہیں ۔آج تک کسی کو یہ کہتے نہیں سن ا گیا کہ فلاں نے دوسرے مذہب میں شادی کی ہے لہذا اسے فلاں ادارے کی ذمہ داری سے ہٹایا جائے یا فلاں وزارت میں وزیر نہ بنایا جائے ۔لیکن کوئی متوسط یا اس سے نیچے کے طبقہ کا لڑکا یا لڑکی دوسرے مذہب میں شادی کرتا یا کرنے کی بات کرتا ہے تو یہ مذہب کے مہ دار اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ لڑکی کو جس کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنی ہے اسے اس کوچنے کا حق کیوں نہیں ہے؟

جہیز کو بڑھاوا دینے میں اشتہارات بھی اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ایل آئی سی کے اشتہار میں بتایا جاتاہے کہ شرما جی جانے سے پہلے جو بیمہ کرایا تھا اسی پسے سے بچوں کی پڑھائی گھر کا خرچ اور بیٹی کی دھوم دھا سے شادی ہوئی ۔ اسی طرح اشتہارات نے لڑکیوں میں خوبصورت دیکھنے کی للک پیدا کی ہے۔ بازار لڑکیوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوا ہے کہ جو چیز جتنی اچھی دکھتی ہے اتنی ہی اس کی مانگ بڑھتی ہے۔ لڑکیاں اپنے آپ کو ہر طرح سے خوبصورت دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ سوچ بے پڑھی لکھی لڑکیوں میں ہی نہیں اچھی خاصی پڑھی لکھی لڑکیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس دکھاوے نے جنسی تشدد کو بڑھاوا دیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جہیز کے خاتمے، لڑکیوں کو خود کفیل بنانے ان کو ہر سطح پر حصہ داری دینے، دوسروں پر ان کے انحصار کو کم کرنے جیسے مدوں کو سیاست کے ایجنڈے میں جگہ ملنی چاہئے تبھی بیٹوں کو جہیز سمجھنے کی آگ میں راکھ ہونے سے بچایا جا سکے گا اور انہیں چیز(سامان) سمجھنے کی ذہنیت میں تبدیلی آئے گی۔ جہیز کاایک رد عمل یہ بھی ہورہا ہے کہ لڑکیاں شادی سے انکارکرنے لگی ہیں وہ نہیں چاہتیں کہ شادی کرکے سسرال والے کے تشدد کا شکار بنیں۔ نسل انسانی کو آگے بڑھانے کیلئے شادی کے رشتہ کو آسان اور زنا کو مشکل بنانا ہوگا یہ رشتہ تبھی خوشگوار بنے گا جب سبھی طبقے جہیز کو نا کہیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close