معاشرہ اور ثقافت

حادثہ

شیما نظیر

اخبار کی سرخیوں میں یوں تو ہر روز ہی کوئی نہ کوئی واقعہ نظر سے گزرتا ہے جسمیں حادثات کا ذکر بھی ہوتا ہے، مختلف قسم کے حادثات ہم سنتے رہتے ہیں کبھی کسی حادثہ نے بہت زیادہ متاثر کردیا کبھی کسی کا غم کم محسوس کیا ..لیکن بعض حادثات ذہن پر نقش ہوکر رہ جاتے ہیں۔  میری ایک اچھی دوست کے فرزندکےساتھ بھی حادثہ پیش آیا جسے دیکھ کرمیری روح تک تڑپ اٹھی۔

بہت کم عمر نوجوان تھا عیدالضحٰی سے ایک روز قبل کہہ کر گیا کہ ابھی آتا ہوں صبح کا اجالا چہارسو بکھر گیا لیکن وہ نہیں لوٹا۔۔۔۔ والدین اپنے جاننے والےرشتہ دار دوست احباب سے   فون پرمعلومات حاصل کر  رہے تھے اسی بیچ ایک فون آیا کہ شہر سے ۳۵ کلومیٹر دور زیرِ تعمیر سڑک کے کنارے کھودے گئے گڑھے میں کار گرجانے سے چار نوجوان برسرِ موقع ہلاک ہوئے ہیں۔۔۔فوت ہوئے اشخاص میں سے ایک شخص کے موبائل سے آپ کو اطلاع دی بارہی ہے۔۔….بس پھر کیا تھا ایک غم کا ناختم ہو نے والےطوفان کے بادل مکان پر چھا  گئے۔۔۔۔۔ پڑوسی اور سارا محلہ جمع ہوگیا۔۔۔۔۔ہر کوئی گھر والوں کواور خاص طور سے اس شخص کی والدہ کوتسلی دینے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔۔۔وہ ماں تھی اسکا لال اسکا جگر کا ٹکڑا جسکے لیئے والدہ نے بہت پیار سے آج پکوان  تیار کیا تھا ،بیٹے کا پسندیدہ سالن اور میٹھا ابھی تک فریج میں رکھا تھا ماں  چیخ چیخ کر دہائی دے رہی تھی۔ہائے میرا بچہ۔۔۔!

۔۔۔۔نوجوان اولاد کی موت اور ماں کی بے بسی ۔۔۔بہت تکلیف دہ منظر تھا۔۔۔۔جوکئی روز تک میری نظروں میں گھومتا رہا ۔۔۔۔غم اتنا شدید تھا کہ بےاختیار میرے دل سےدنیا کی تمام ماؤں کے جگر کے ٹکڑوں  کیلئے دل کی عمیق گہرائیوں سے دعانکلی کہ اللہ تعالی دنیا کی کسی ماں کو ایسی تکلیف اور امتحان سے نہ  گذارنا۔۔!

 کئی دنوں سے  دل کافی اداس ہورہا تھا وجہ معلوم نہ ہوسکی مگر بیقراری کی کیفیت برقرار تھی

ایک دن زارا جو میری بچپن کی سہیلی تھی ،فون آیا …کہہ رہی تھی۔

کل میرے گھر آنا ، میرے فرزندابوبکر الحمدللہ  قرآن حفظ کرلیا ہے اس کے کئی ساتھیوں نے بھی حفظ مکمل کرلیا ہے اسی خوشی کے موقعے پر مدرسے  میں ایک  جلسہ طلباء کی دستار بندی اور تقسیمِ اسناد کیلئے رکھا گیا ۔۔ابوبکروہاں سے فارغ ہوکر جب گھر لوٹےگا تو میں نے اسکے لیے ایک سرپرائز دعوت کا انتظام کا پلان بنایا  ہے …..میں نے دوست کی اس پرمسرت گھڑیوں کو یادگار بنانے کے لئے ہامی بھرلی۔

دراصل ہم دونوں ہم عمر ہونے کے ساتھ ایک دوسرے کے  ہمراز اور بہت اچھی دوست بھی تھیں۔شادی کے چند سال بعد زارا کے شوہر کا انتقال ایک حادثہ میں ہوا  ‘وہیں مجھے تین بیٹے ہوگئے اور میاں باہر ملک روزگار کے سلسلے میں رہتے ہم دونوں فرصت کے اوقات ایکدوسرے کے ساتھ گذارتے میں دیکھتی کہ زارا جاب کرتے ہوئے بھی بیٹے کا اتنا خیال رکھتی اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ کرواتی، میں دوپہر اسکے گھر پہنچی ہم دونوں ملکر بڑے ہی لذیذ و عمدہ پکوان تیار کیے  گھر کی سجاوٹ باقی تھی ۔

میں نے  زارا سے کہا،تم بھی چلی جاتی جلسہ میں دیکھ تو سکتی تھیں کتنا پیارا لگتا ہے ابوبکر…….

اس نے چہرے پہ مسکان سجا کر کہا پیارا تو وہ ہے ہی

مگر میں اسے گھر پر بھی خوشی علٰحدہ سے دینا چاہتی تھی’ تبھی تجھے یہاں بلایا ہے ـ

 چلو اب جلدی کرو’ وہ آتا ہی ہوگا ـ

میں بھی مسکراتے ہوئے اپنے کام میں لگ گئی …..

بہت دیر سے فون کی بل بج رہی تھی وہ نماز سے جیسے ہی فارغ ہوئی میں نے کہا میرے ہاتھ گیلے ہیں’ اسی لیئے نہی اٹھایا تم بات کرو ناـ

وہ رسیور کان پہ لگا کر جیسے ہی ہیلو کہتی ہے دو تین سکنڈ میں ہی زمین پر بےحس و حرکت نیچے بیٹھ گئی اس زور سے کہ گرنے کا گمان ہوا میں کچن سے بھاگتی ہوئی آئی….جلدی سے دوپٹہ سے ہاتھ پونچھے وائر سے لٹکتے ہوئےرسیور کو اٹگا کر جیسے ہی ہیلو کہا دوسری جانب سے وہ جان لیوا خبر سنائی گئی کہ میرے اوسان خطا ہوگئے

میں نے فون رکھتے ہی اگلا نمبر بھیا کا ڈائل کیا اور انھیں ابوبکر کو لانے بھیج چکی تھی

زارا کے میرے علاوہ کوئی نہی تھا میں اسے سنبھالنے میں لگ گئیـ

لیکن اگلے ہی لمحے میں نے دیکھا کہ شہر کاشہر پریشان ہے یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی ………

ظالموں نے نہ صرف ابوبکر بلکہ ایسے کتنے ابوبکر ختم کردیئے’کتنے قرآن کی روشنی سے منور سینوں کو موت کی نیند سلادیا’ کتنی ماؤں کی گودیں اجاڑ چکے تھے’ کتنی ایسی اولادیں ہونگی جو اپنی ماں کے جینے کا سہارا ہونگی ابوبکر کی طرح

جی چاہتا تھا چیخ چیخ کر اس ظالم سماج سے مطالبہ کرے کہ ارے اگر مارنا ہی تھا تو بتا کر مارتے تاکہ ہمارے مرد بھی تم سے  مقابلہ کرتے ہم موت سے نہیں ڈرتے مگر ان.معصوم نہتے حفاظ نے تمھارا کیا بگاڑا تم انکو ختم کرکے کیا سمجھتے ہو کہ تم اسلام کو مٹادوگے’ ارے تم سو سینوں کو شہید کریں گے خدا ہزار سینوں میں قرآں کو بسادیگا

ہم موت سے لڑتے ہیں ڈرتے نہیں’ ہم تو موت کی خواہش رکھنے والے لوگ ہیں ــ….اے ظالمو…ہم تو اپنے خدا سے ملنے کی خواہش دلوں میں رکھ کر جیتے ہیں اسی لیئے خوشی خوشی موت کو گلے لگاتے ہیں…………………….لیکن میں نے زارا کو سنبھالاہوا تھا وہ ٹوٹ چکی تھی اسکے جینے کا سہارا چھن گیا تھا  وہ زندہ لاش بن چکی تھی ـ اور……اور……جب بھیا ابوبکر کی میت گھر لائے وہ تین ٹکڑوں میں بٹی لاش دیکھ کر چیخ مار کر زارا بےہوش ہوگئی

جب ہوش آیا تجہیز و تکفین کے بعدمیں نے اسے تسلی دی صبر کی تلقین کی تو  اسنے میرے سینے پہ سر رکھ کر کہا” نجو    کیسے صبر کروں میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے

یہ کوئی حادثہ بھی نہی کہ میں صبر کرلیتی ظالموں نے جان لی میرے معصوم بیٹے کی کتنا خوش تھا وہ آج اسنے مدرسہ جاتے ہوئے کہا تھا ……دیکھنا مما اب میں بڑا ہوگیا ہوں آپکا اچھے سے خیال رکھوں گا ….. اور ہاں اب.مجھے بابا جیسا بننا ہے۔ وہ پھر سے رونے لگی……..

اور میں سوچنے لگی واقعی یہ کوئی حادثہ تو نہی بلکہ جان بوجھ کر ان.معصوموں پر کیا گیا ظلم یا یوں کہوں کہ انکا قتلِ عام تھا ……!تو ان معصوموں کا ہی کیوں؟

کیا اسلام دشمنی نے انکے انسانیت کے معیار کو اتنا گرادیا کہ وہ چھوٹے بچوں کی تک جان لینے پر اُتر آئے ۔ کیا یہ انسانیت ہے؟ کہاں ہیں آج تمام انسانیت کے علمبردار بڑے بڑے مقررین جوکسی اسٹیج سے تقریر کرکے واہ واہی لوٹ لیتے ہیں آج کیوں  زبانیں گنگ ہیں انکی …..آج کیوں خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں……..کیا اس لیئے کہ یہ حادثہ انکے ساتھ پیش نہی آیا

انکی عزت و آبرو’ جان و مال محفوظ ہیں اسلیئے…………..رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا تھا کہ مومن مومن کا بھائی ہے کسی کو تکلیف پہنچے تو تمام.مومن اس سے متاثر ہوں ایسے جیسے جسم کا ایک حصہ کو چوٹ لگنے پر سارا جسم.متاثر ہوتا ہے مگر…….ہنہہہ ……سبھی اس پر عمل کرلیتے تو آج  مذہب کی دیواروں سے اونچا اٹھ کر انسانیت اس طرح شرمسار نہ ہوتی

اے ظلم کے ٹھیکیدارو مذہب کی دیوار سے اٹھ کر دیکھو تمھاری وجہ سے انسانیت شرمسار ہورہی ہے معصوموں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے چاروں جانب سے ظلم کا شکنجہ کستا جارہا ہے۔ اللہ ان ظاموں کو تباہ و تاراج کردے۔

ہم کسی محمد بن قاسم کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کا انتظار اب نہی کرینگے ‘ہمارے ہر بچہ کو آج محمد بن قاسم جیسی شجاعت و عقلمندی عطا فرماـ اور آج امت کے ہر نوجوان کو صلاح الدین ایوبی جیسا بہادر و جری نوجوان بنادےـ

اس باطل کے نظام کو حق سے بدلنے والا ہمیں بنادے اور بھی کئی دعائیں کرتی رہی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شیما نظیر

محترمہ سیدہ شیما نظیر کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ آپ جماعت اسلامی کی مقامی سطح پر خواتین ونگ کی ناظمہ ہیں۔ علم و ادب سے گہری وابستگی ہے۔ ان کے اصلاحی افسانے ملک کے موقر جریدوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close