معاشرہ اور ثقافت

حسن ظن: انسانی معاشرے کی صالح تعمیر و تشکیل کا بنیادی ستون

جہاں گیرحسن مصباحی

حسن ظن ایک ایسی خوبی ہے جس کی معنویت وافادیت سے ہم چاہ کر بھی انکارنہیں کرسکتے ،اگر ہم حسن ظن کو دل سے اپنالیں تو اِس میں دورائے نہیں کہ ہم دینی اوردنیوی ہر طرح کے اختلافات و اِتہامات سے پاک وصاف ہوجائیں، کیوں کہ حسن ظن نہ صرف مسلمانوں کا ایمانی زیورہے،بلکہ یہ آپسی ہم آہنگی،صلح ومصالحت، اتفاق و اتحاد اور معاشرت انسانی کی صلاح وفلاح کےلیے ناگزیربھی ہے۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ ” اے ایمان والو!بہت گمانوں سے بچو،بلاشبہ بعض گمان گناہ ہیں ۔” (حجرات:12)
بدگمانی سے بچنے کا واضح مطلب ہے کہ ہم خودکو حسن ظن سے آراستہ کریں ورنہ اس کا اثر یہ ہوگا کہ نہ ہم اپنے اندرپیدا ہونے والے انتشارواختلاف کو روک پائیں گے اور نہ ہی انسانی معاشرے کی صالح تعمیرکرپائیں گے ،جب کہ نفس کا تزکیہ اور معاشرے کی صالح تعمیروتشکیل ہماری دینی اور دنیوی دونوں ذمہ داری ہے،اوراِسی ذمے داری کی صحیح انجام دہی کی وجہ سے ہماری عبادتوں میں حسن اور نکھارپیداہوتاہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ "حسن ظن بہترین عبادت ہے۔” (ابوداؤد، باب فی حسن الظن، حدیث:4995)
یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ اللہ رب العزت جو بادشاہوں کا بادشاہ اور حاکموں کا حاکم ہے ،بندوں کے تمام عیوب ونقائص جانتے ہوئے بھی اُن کی عیب پوشی کرتارہتا ہےپھر کیا وجہ ہے کہ ہم عبدالستارہوکربھی اپنے کسی بھائی کی عیب پوشی نہیں کرپاتے ہیں اورحسن ظن کی تاکیدوتلقین ہونے کے باوجوداپنے بھائی کے ساتھ حسن ظن نہیں رکھ پاتے ہیں۔
اسی طرح اگرکوئی ناگواربات ہمارے بڑوں کے بارے میں کہی جاتی ہے تو وہ ہمیں بُری لگ جاتی ہے اورہم اُسے کسی بھی طرح ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ،لیکن وہی بات اگر کسی اورکےبڑوں کے بارے میں کہی جاتی ہےتو وہ ہمیں اچھی لگ جاتی ہے اورہم بڑی آسانی سے اُسےمان لیتےہیں،جب کہ حسن ظن کا تقاضا یہ ہے کہ جس بات کوہم اپنےاکابرکے لیے معیوب سمجھتے ہیں اس کو ہرکسی کے اکابرکے لیےبھی معیوب سمجھیں اور جسےہم اپنے اکابرکے لیے اچھا سمجھتے ہیں اُسے دوسروں کے اکابر کے لیے بھی اچھا سمجھیں۔
اس کے علاوہ کبھی ایسا بھی ہوتاہےکہ فردمخالف صحیح العقیدہ مومن ہےاورپابندشریعت بھی،اس کے باوجوداگر وہ کوئی مدلل بات بھی کہتا ہے تو ہم بلاسوچےسمجھے اُس کو رَدکردیتے ہیں،جب کہ فردموافق صحیح العقیدہ مومن توہےمگرپابندشریعت نہیں،اگروہ کوئی بات کہتا ہے غیرمدلل ہی سہی ، پھربھی ہم اُسےنہ صرف خودقبول کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے بھی قبول کروانے کے لیے پورا زور لگادیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دینی اور دنیوی دونوں سطحوں پراختلاف وانتشار اور فتنہ وفساد کا بازارگرم ہوجاتا ہے، ایسے حالات میں حسن ظن کی معنویت واہمیت بڑھ جاتی ہے ،کیوں کہ ایسے وقت میںاگرہم حسن ظن سے کام لیتے ہیں تو نہ صرف امن وآشتی، آپسی ہم آہنگی، صلح ومصالحت اوراتحادواتفاق کو فروغ دیتے ہیں،بلکہ معاشرتی انتشارواختلاف ختم کرنے کے ساتھ ساتھ قرب الٰہی کے بھی حق دار ہوتے ہیں۔
چناں چہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ” اے لوگو!اللہ تعالیٰ کےساتھ حسن ظن رکھو،کیوں کہ اللہ اپنے بندوں کے حسن ظن سے زیادہ قریب ہے.” (شعب الایمان. باب الرجاء من اللہ تعالی، حدیث:981)
یہی وجہ ہے کہ علمائے ربانی اورمشائخ کرام نے ہمیشہ حسن ظن سے کام لیا ہے اور اگرکبھی کسی سے بدگمانی ہوئی بھی تواُس کو اپنے ہی تک محدود رکھا ، کسی پر ظاہر ہونےنہیں دیا،کیوں کہ کسی سے بدگمان ہونااورپھر اس کا اظہارکرناگناہ ہے۔
اس پر روشنی ڈالتے ہوئےحضرت سفيان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ” بدگمانی دوطرح کی ہوتی ہیں،ایک بدگمانی گناہ ہے اور ایک بدگمانی گناہ نہیں ۔جوبدگمانی گناہ ہے وہ یہ ہے کہ کسی سے بدگمان بھی رہے اور اُس کاپروپیگنڈ ہ بھی کرےاور جوبدگمانی گناہ نہیں ہے وہ یہ ہے کہ کسی سےبدگمان تورہےلیکن اُس کاپروپیگنڈہ نہ کرے۔”(سنن ترمذی، باب ماجاء فی ظن السوء، حدیث: 1988)
اس لحاظ سےہمیں عملی طورپر اپنااپنا محاسبہ کرناہوگا کہ ہم کہاں تک حسن ظن کے زیور سے مزین ہیں اور جس کوہم حسن ظن سمجھ رہے ہیں وہ حسن ظن ہے بھی یا نہیں۔کہیں ایسا تونہیں کہ ہم احباب واقارب کے عیوب ونقائص کو بھی اپنے حسن ظن کی وجہ سے محاسن وخوبیاں شمارکررہے ہیں اوراُن کی بڑی سے بڑی خرابیوں پر بھی پردہ ڈال رہے ہیں،اس کے برخلاف دشمنوں کے محاسن و خوبیوں کو بھی عیوب ونقائص گمان کررہے ہیں،اُن کی چھوٹی چھوٹی برائیوں کو بھی بڑا کرکے بیان کررہے ہیں اورمزہ لےلےکر اُس کا پروپیگنڈہ بھی کررہے ہیں،اگرایسا ہےتوجان لیں کہ ہم حسن ظن سے کوسوں دور ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Close