معاشرہ اور ثقافتہندوستان

خواتین کے ساتھ مساویانہ سلوک: کون کہاں ہے؟

عمیر کوٹی ندوی

سب جانتے ہیں کہ اس وقت ایک سماج کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرکے زبان حال سے دوسرے سماج کو اچھا بتانے اور اس کو برتر قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔حکومت اور خاص طور پرفرقہ پرست سیاست کی طرف سےمسلم خواتین کی حالت زار پر رونا رویا جارہا ہے۔خود وزیراعظم طلاق پر سیاست نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اس پر سیاست کررہے ہیں ۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 34ویں اجلاس میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی کہتے ہیں کہ” یہ(ہندوستان) ایک سیکولر ملک ہے جس کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت اس کے سیاسی نظام کا ایک اہم عنصر ہے……ہندوستان کے آئین میں اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لئے مختلف التزامات کئے گئے ہیں ……ہندوستان شہریوں کی ذات، نسل، رنگ یا مذہب میں کوئی امتیاز نہیں کرتا……ہندوستان کا آئین ہر شخص کو مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے”۔

لیکن ہندوستان واپسی پر ان کی زبان بدل جاتی ہے، خاص طور پر جب سپریم کورٹ میں حکومت کا موقف پیش کرنے پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ”سپریم کورٹ کی طرف سے تین طلاق کوغلط اور غیر آئینی قرار دینے کی صورت میں مرکزی حکومت نکاح اور طلاق کو منضبط بنانے کے لئے قانون سازی کرنے کو تیار ہے”۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ "طلاق ثلاثہ سے مسلم خواتین کو مساوی حقوق نہ تو اندرون ملت مل رہے ہیں اورنہ ہی اندرون ملک جبکہ دیگر ممالک میں مسلم خواتین کے پاس کافی حقوق ہیں "۔وہ سپریم کورٹ میں اپنی بات کہتے ہوئے اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ "صرف ایک ساتھ تین طلاق ہی نہیں ، پرسنل لاء میں موجود طلاق کے باقی دو انتظامات، طلاق احسن اور طلاق حسن بھی خواتین سے امتیازی سلوک کرتے ہیں "۔

اس وقت فرقہ پرست سیاست ملک کی جو معاشرتی تصویر پیش کررہی ہے واقعی وہ ایک سماج کو نیچا دکھانے اوردوسرے سماج کو اچھا بتانے اور اس کو برتر قرار دینے سےہی  تعلق رکھتی ہے۔معمولی سی بینائی اور تھوڑی سی بھی سمجھ رکھنے والا بھی اسے آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔لیکن اس وقت ہمارے ملک کی جو معاشرتی حقیقت ہے کیا وہ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ یقیناً حق پسند شہری اس کی نفی کرے گا۔اس لئے کہ سرکاری اور غیر سرکاری اعدادوشمار اور سروے رپورٹیں کچھ اور کہتی ہیں ۔ آئے دن رونما ہونے والے واقعات بھی کوئی اور کہانی بیان کرتے ہیں ۔ رپورٹوں کے حوالے سے یہ بات باربار کہی جارہی ہے کہ طلاق جس کا اس وقت ہرطرف غلغلہ مچاہوا ہے اس کا تناسب مسلمانوں میں بہت کم ہے، تین طلاق کا تو اور بھی کم ہے۔ بغیر طلاق دئے مذہب کے نام پر یا طاقت کے نشہ میں بیویوں کو "لٹکا” کررکھنے کی نظیر مسلمانوں میں نہیں ملتی ہے اور کہیں کوئی واقعہ اس سلسلہ میں پایا جائے تو مذہب کے خلاف ہونے کی وجہ سے مسلم سماج اسے انتہائی ناپسند کرتا ہے۔

بیواؤں کی ناگفتہ بہ حالت مسلمانوں میں نا کے برابر ہے۔ اسلام والدین اور بزرگوں کی خدمت کو لازم قرار دیتا ہے اور اس کے بدلے جنت کی خوشخبری سناتا ہے۔ یہاں بڑے بوڑھوں کو نکال باہر کرنے یا اولڈایج کا کوئی کلچر نہیں ہے۔یہاں قریب ترین مرد رشتہ دار خواتین کی آبرو کے محافظ ہوتے ہیں جنہیں محرم کہا جاتا ہے۔اس لئے مسلم سماج میں گھر کے اندرخواتین خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں ۔  نامحرم کو آنکھ اٹھاکر دیکھنا اسلام میں منع ہے ، اس لئے اسلا م سے عملا اور علماً دوری ہونے کے باوجود مسلم سماج میں بالعموم چھیڑچھاڑ کے واقعات بہت کم ملتے ہیں ۔ شراب ، جوا اور فحاشی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے، نہ تیج تہواروں میں اور نہ عام دنوں میں ۔جب کہ دوسری جگہ نشہ میں چور ہوکر خواتین کی جو درگت ہوتی ہے اسے گلی محلہ کیا پورا ملک دیکھتا ہے حتی کہ اس ظلم کے خلاف آئے دن خواتین سڑکوں پر احتجاج کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔لیکن ایسا نظارہ مسلم سماج میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔

اگر بات مساوی حقوق کی کریں تواسلام ہی ہے جس نے خواتین کے ساتھ مساوات کا معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک ایسے وقت اورسماج میں جہاں خود عورت ہی دھن تصور کی جاتی تھی اسلام ہی ہے جس نے عورت کو جائداد ، دھن ،دولت میں مالکانہ حق دیا۔ اسلام کے مساوات اور قانون وراثت کو دیکھ کر دوسروں نے بھی اپنی خواتین کو اگرکچھ دینا چاہا تو بھی آدھے ادھورے من سے دیا جس کے نتیجہ میں وہ آج بھی پورے طور پر مساوی حقوق سے محروم ہیں ۔ اگر خواتین کے ساتھ زیادتی کی بات کی جائے تو گھر،گلی، محلہ، سڑک، اسکول وکالج، دفتر،پبلک اور پرئیویٹ ٹرانسپورٹ غرض ہر جگہ عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے۔ان کی عزتوں سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔”نربھیا” واقعہ ایک بار نہیں بار بار دہرایا جاتا ہے۔تازہ معاملہ یوپی کے ہردوئی کاہے جہاں پانچ لوگوں نے ایک لڑکی کو اس کے گھر سے اغوا کر کے اس کے ساتھ  اجتماعی زیادتی کی۔اس کے بعدنیم مردہ حالت میں اسے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ابھی دوچار روز پہلےہریانہ کے سونی پت کی 23 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے  اس کے ساتھ  اجتماعی زیادتی کی گئی۔زیادتی کے بعد لڑکی کو قتل کر کے اس کی لاش کو پھینک دیا گیا۔ لاش کو کتوں نےکئی جگہوں سے نوچ ڈالا۔خواتین پر ظلم پر مبنی سماجی تانے بانے کا عجب حال ہے اور اس سے متعلق تماشے آئے دن اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔

ایسا ہی ایک واقعہ اترپردیش کے ضلع بجنور کے ریہڑ تھانہ کے جابتانگر گاؤں میں پیش آیا۔ رمیش نامی ایک شخص نے اقتصادی صورتحال ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے کھانے پینے کا نظم نہیں کیا ۔اس پر پنچایت بیٹھ گئی اور پنچوں نے اس خاندان کا حقہ پانی بند کرکے سماجی بائیکاٹ کا فرمان سنا دیا۔ معاملہ کے سامنے آنے پر کارروائی کرنے کی جگہ ایس پی اتل شرما کا کہنا تھا کہ "یہ معاملہ تو مکمل طور پرسماجی ہے۔ یہ تو کوئی جرم ہی نہیں ہے”۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہمارے ملک میں ہر روز 180بچے غائب ہوتے ہیں ۔ ان  سب باتوں کو دیکھتے ہوئے ہندی راشٹریہ سہارا میں مضمون نگارمنیشا  کی یہ تحریر کہ”عورت کمزور کڑی نہیں ہے۔ اسے دیوی مت مانو۔ بچیوں کی پوجاکرنا فوری  طور پربند کر دو۔دیویوں کی تعریف نہ کرو۔ مگر بدلے کے جذبہ سے، کسی خاندان کو نیچا دکھانے یا تباہ کرنے کی نیت سے لڑکیوں کو نوچنا-كھسوٹنا بند کردو” غورکرنے کے لائق ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close