معاشرہ اور ثقافت

خو شامد پسندی: معاشرہ میں بڑھتا ہوا کینسر

مولانا غیو راحمد قاسمی

شریعت اسلامی میں ہر چیز کے لئے اصول وضابطے متعین ہیں انسانی زندگی میں پیس آنے والے حالات وواقعات میں ہر موقع کے لئے شریعت مطہرہ نے راہنمائی کی ہے جن کاموں کو فطرت او رانسانیت کے لئے مضر اور نقصان دہ بنایا ان کاموں سے ممانعت فرمائی اور سزا متعین کی خوشامد اور چاپلوسی جھوٹی تعریف کو بھی مذہب اسلام نے سزا کے دائرہ میں رکھا اور اس کے ارتکاب کرنے والوں کو سختی سے روکا۔ تعریف بلاشبہ افادیت سے خالی نہیں ہے لیکن تعریف کرتے وقت کذب بیانی مبالغہ آرائی اور مخاطب کو خوش کرنے کے لئے اور خود کا مطلب پورا کرنے کے لئے جھوٹی تعریف اور خوشامد وچاپلوسی کرنا ایک مذموم فعل ہے جس سے اجتناب ضروری ہے حوصلہ افزائی اور تعریف کرنے سے اسلام نے منع نہیں کیا لیکن کسی کی حوصلہ افزائی اور تعریف کرتے وقت شرعی قوانین کی پابندی لازمی ہے منہ پر تعریف کرنے اور خوشامد کی خدمت میں کس قدر صاف تنبیہ وتوبیح پر مبنی احادیث ہیں۔ نبی کریمؐ نے ایک شخص کو دوسرے کی تعریف کرتے ہوئے سنا جو کہ اسی کی مدح سرائی میں مبالغہ کر رہا تھا آپ نے فرمایا تم نے اس کو ہلاک کردیا تم نے اس کی کمر توڑ دی آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی ضرور بالضرور تعریف کرنا چاہئے تو یوں کہے میں خیال کرتاہوں (اگر واقعی ایسا ہو) کہ وہ ایسا ہے اس پر بھی ا للہ کے سامنے کسی کو اچھا نہیں کہنا معلوم نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں (حدیث) چاپلوسی اور خوشامد معاشرہ اور سماج کے لئے ناسور ہیں خوشامد کی قینچی عقل وفہم کے  ہر کاٹ کے انسان کے ذہن کو پرواز سے محروم کردیتی ہے چاپلوسوں اور خوشامدیوں میں گھرا ہوا شخص شیر کے قوام میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح بے بس اور معذور ہوتا ہے رفتہ رفتہ حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں اس کے آنکھ کان ہاتھ پیر سب خوشامدیوں کے محتاج ہوجاتے ہیں اور ایک بہترین شخص خوشامدیوں کا شکار ہوجاتا ہے موجودہ دور میں خوشامد اور دوسرے معنی میں چاپلوسی نے ایک فن کی صورت اختیار کرلی ہے اور ماحول کو پراگندہ کرنے میں اس کا اہم کردار ہے سچ اور صحیح بات برداشت کرنے کی قوت وصلاحیت نہیں برسراقتدار لوگوں کو جی حضوری کرنے والوں کی فوج مطلوب ہوتی ہے تعلیمی ادارے اور ملی تنظیمیں بھی اس سے مبرا نہیں انتخاب صلاحیتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ جی حضوری اور چاپلوسی کی بنیاد پر اساتذہ ملازمین وکارکن منتخب کئے جاتے ہیں جبکہ معیار صلاحیت اوستعداد ہے نہ کہ خوشامد شریعت اسلامی نے زندگی کے ہرشعبہ میں مکمل رہنمائی کی ہے۔

امام محمد غزالیؒ نے احیاء  العلوم میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا، جو ہر وقت عبادت میں مشغول رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک جماعت اس کے پاس آئی اور کہا کہ یہاں ایک قوم ہے، جو ایک درخت کو پوجتی ہے۔ یہ سن کر اس کو غصہ آیا اور کلہاڑا کندھے پر رکھ کر اس کو کاٹنے کیلئے چل دیا۔ راستے میں اسے شیطان ایک پیر مرد کی صورت میں ملا۔ عابد سے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا فلاں درخت کو کاٹنے جارہا ہوں۔ شیطان نے کہا: تمہیں اس درخت سے کیا غرض، تم اپنی عبادت میں مشغول رہو۔ تم نے اپنی عبادت کو ایک مہمل اور بے کار کام کیلئے چھوڑ دیا۔ عابد نے کہا لوگوں کو شرک سے بچانا یہ بڑی عبادت ہے۔

شیطان نے کہا: میں تمہیں نہیں کاٹنے دوں گا، پھر دونوں کا مقابلہ ہوا، وہ عابد اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ شیطان نے اپنے کو عاجز دیکھ کر خوشامد کی اور کہا کہ اچھا ایک بات سن لے۔ عابد نے اس کو چھوڑ دیا۔ شیطان نے کہا: خدا نے تجھ پر اس درخت کو کاٹنا فرض تو کیا نہیں، تیرا اس سے کوئی نقصان نہیں تو اس کی پرستش و پوجا نہیں کرتا۔ خدا کے بہت سے نبی ہیں، اگر وہ چاہتا تو کسی نبی کے ذریعے اس کو کٹوا دیتا۔ عابد نے کہا میں ضرور کاٹوں گا۔ پھر دونوں میں مقابلہ ہوا، وہ عابد پھر اس کے سینے پر چڑھ گیا۔ شیطان نے کہا اچھا سن، ایک فیصلہ کن بات جو میں تیرے نفع کی کہوں گا۔ عابد نے کہا کہہ۔ شیطان نے کہا کہ تو غریب آدمی ہے۔ دنیا پر بوجھ بنا ہوا ہے تو اس کام سے باز آ۔ میں تجھے روزانہ تین دینار دیا کروں گا، جو روزانہ تیرے سرہانے کے نیچے رکھے ہوئے ملا کریں گے۔ تیری بھی ضرورتیں پوری ہو جایا کریں گی، اپنے اعزہ و اقارب پر بھی احسان کر سکے گا۔ فقیروں کی بھی مدد کرسکے گا اور بہت سے ثواب کے کام حاصل کرے گا۔ درخت کاٹنے میں تو فقط ایک ہی ثواب ہوگا اور وہ بھی رائیگاں جائے گا، وہ لوگ پھر دوسرا درخت لگالیں گے۔ عابد کو سمجھ میں آگیا (کسی نے پنجابی میں کیا خوب کہا ہے ’’جدوں رب رسے تے مت کھسے‘‘ یعنی جب رب ناراض ہو تو عقل ختم ہو جاتی ہے) اس عابد نے قبول کرلیا اور گھر آگیا۔ دو دن تک دینار تکیے کے نیچے سے ملے، تیسرے دن کچھ بھی نہ ملا۔ عابد کو پھر غصہ آیا اور اسی طرح کلہاڑا لے کر چلا، راستہ میں وہ بوڑھا اسے پھر ملا، تو پوچھا جناب کہاں جا رہے ہو؟ عابد نے کہا کہ اسی درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں۔ بوڑھے نے کہا تو اس کو نہیں کاٹ سکتا۔ دونوں میں لڑائی ہوئی اور وہ بوڑھا (یعنی شیطان) غالب آگیا اور عابد کے سینے پر چڑھ گیا۔ عابد کو بڑا ہی تعجب ہوا۔ اس سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ تو اس مرتبہ غالب آگیا؟ شیطان نے کہا کہ پہلی مرتبہ تیرا غصہ خالص خدا کیلئے تھا، اس لئے خدا نے مجھے مغلوب کردیا اور تجھے غالب۔ اس مرتبہ تیرے دل میں دیناروں کا دخل تھا۔ خدا کی رضا اور اخلاص نہ تھا، اس لئے تو مغلوب ہوا اور میں غالب۔

حق یہ ہے کہ جو بھی کام اخلاص اور رب تعالیٰ کی رضا جوئی کیلئے کیا جائے تو اس میں بڑی قوت و برکت ہوتی ہے اور جس کام میں حرص و لالچ کا دخل ہو، اس عمل میں کوئی طاقت اور برکت نہیں ہوتی، جیسا کہ اس مذکورہ واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ (فضائل ذکر ص 514)

خلوص نیت کا مطلب یہ ہے کہ مطلوبہ کام صرف اور صرف رب تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا جائے، جس میں تصنع اور ریاکاری اور کسی قسم کے لالچ کا دخل نہ ہو۔ نیت میں اخلاص کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اعمال روشن، وزنی اور قابل قبول ہوں گے۔ بصورت دیگر اعمال صرف ڈھانچے بن کر رہیں گے۔ جس طرح اعضائے بدن کی کارکردگی روح پر منحصر ہے، اسی طرح اعمال صالحہ بھی خلوص نیت پر موقوف ہیں۔ حضور اقدسؐ کا فرمان مبارک ہے: اعمال کے زندہ ہونے کا مدار بلاشک نیتوں پر ہے۔ مسجد میں جاتے وقت اگر کوئی اپنے جوتوں کی حفاظت اس لئے کرتا ہے کہ مبادا کوئی اپنی عاقبت خراب نہ کر بیٹھے یا مکان بناتے وقت روشندان اس لئے رکھتا ہے کہ اذان کی آواز بھی سنائی دے، تو یہ عمل اس کیلئے عمل ثواب اور عمل بقا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ روز قیامت اعمال گننے کے بجائے اعمال تولے جائیں گے۔ علی ہذا القیاس اخلاص نیت کے ہوتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی بڑا اور عدم اخلاص کی صورت میں بڑا عمل بھی چھوٹا اور بے وزن ثابت ہو گا۔

وقت جب وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔حضرت شیخ سعدی کی حکایت سے اقتباس ہے۔ جس میں ایک بادشاہ اور درویش کاذکر ہے کہ ایک نیک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ ایک بادشاہ جنت میں ہے اور دوسرا درویش دوزخ میں پڑا ہے۔وہ سوچ میں پڑ گیا کہ لوگ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ بادشاہ دوزخ میں ہوگا اور درویش جنت میں۔ لیکن یہاں تو معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ معلوم نہیں اس کا سبب کیا ہے۔غیب سے آواز آئی ” کہ بادشاہ درویشوں سے عقیدت رکھتا تھا۔ اس لئے بہشت میں ہے اور اس درویش کو بادشاہوں کے تقرب کا بڑا شوق تھا اس لئے جہنم میں ہے ”۔ خوشامدیوں کا ٹولہ پرانے وقتوں سے چلا آرہا ہے۔مغلیہ دور میں اکبربادشاہ کے دربار میں بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس کی ہاں میں ہاں ملانا ایک روایت بن چکی تھی۔ایک دفعہ بادشاہ کے کھانے میں بینگن پیش کیا گیا۔ بینگن کھانے کے بعد بادشاہ نے اس کی بڑی تعریف کی۔ دربار یو ں نے بادشاہ کے منہ سے بینگن کی اتنی تعریف سنی تو درباریوں نے بھی تعریف کے پل باندھ دیئے۔ بینگن کو شاہی سبزی اور سبزیوں کا بادشاہ بنادیا۔کسی نے کہا کہ بینگن کے سر پر تاج ہے۔ رنگ کاسنی اور تاج سبز ہے۔ کیا اتفاق ہے۔ جبکہ اندر سے سفید ہے اور سفید گودہ کیا بات ہے۔دوسرے دن بادشاہ نے جب بینگن کھایا تو پیٹ میں گڑ بڑ شروع ہوگئی۔بادشاہ نے آکر درباریوں سے شکایت کی کہ تم لوگ بینگن کی بڑی تعریفیں کرتے تھے۔ یہ تو ایک خراب سبزی ہے۔درباریوں نے پھر ہاں میں ہاں ملانا شروع کی کہ جی بینگن بھی کوئی سبزی ہے۔اس کی کوئی شکل ہے۔کالا کلوٹا، پیٹ نکلا ہوا اور پیٹ کے اندر دانے یہ تو پیٹ میں مروڑ پیدا کرتا ہے۔بادشاہ نے درباریوں سے پھر مخاطب ہو کر پوچھا کہ کل تو اس کی تعریف کی جارہی تھی اور آج اس کی برائیاں کی جارہی ہیں۔ بیربل نے بادشاہ سلامت سے عرض کیا کہ ہم تو بادشاہ کے غلام ہیں بادشاہ نے کہا کہ اچھی سبزی ہے۔ہم نے تعریف شروع کردی۔بادشاہ نے فرمایا کہ بینگن ایک خراب سبزی ہے۔ہمیں بینگن سے کیا لینا دینا۔جہنم میں جائے بینگن۔وہ تو بادشاہ سلامت کی بات کی تائید کرینگے۔موجودہ دور میں بھی اس قسم کے خوشامد ی ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ جو تعریف کرنے پر آئیں تو تعریفوں کی کتاب پر کتاب لکھ دیتے ہیں۔ لیکن اہل قلم اورکالم نگار اپنی تحریروں میں خوشامد کرتے ہوئے زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے نہیں تھکتے۔یہ ایک رواج بن چکا ہے کہ ضرورت سے زیادہ تعریف کی جائے۔تاکہ سننے والے کے دل میں اْس کیلئے ایک نرم گوشہ پیدا ہو اور اس نرم گوشے سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابیاں حاصل کرے۔یا حکام بالا کی قربت حاصل کرے۔کچھ ہی دن پہلے اس کی ایک دو مثالیں سامنے آئی تھیں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے بزرگ چیئرمین نے ایک تقریب میں وزیر اعظم کی بیٹنگ کا کوئی واقعہ سنایا اور تعریف کی حد ہی پار کر دی۔ ایک خاتون پولیس افسر کا سیلوٹ تو سب کو یاد ہوگا۔ الغرض خوشامدی اپنی اداؤں سے وقتی طور پر تو چند معمولی قسم کے فائدے حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات حالات بدلنے پر یہی خوشامدی درباری ٹولے نقصان بھی اْٹھاتے ہیں۔ جیسے بادشاہوں کے دربار میں ذرا سی لغزش پر بادشاہ کے غضب کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

انسان جسم اور روح سے بنا ہوا ہے جس طرح انسانی جسم مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے بالکل اس طرح روح کو بھی کئی قسم کی بیماریاں لا حق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے مثلا غیبت،ّ تکبر، بغض، حسد اور خوشامد وغیرہ۔ ان میں سے اگر کوئی ایک بھی انسان کو لگ جائے تو تباہ وبربادہو جاتا ہے۔خوشامد بھی روح کی بیماریوں میں سے ایک ایسی بیماری ہے جو اگر انسان کو لگ جائے تو اس کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔۔اس بیماری میں انسان پہلے تو خود اپنی تعریف کرتا ہے پھر دوسروں سے اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی اس کی تعریف کریں 150 پھر وہ اپنے قریب اور اردگرد ایسے لوگوں کو جمع کرلیتا ہے جوہر وقت اس کے ہر چھوٹے موٹے کاموں کی بے جا تعریف کرتے رہیں۔ بس یہیں سے اس بیماری کا جنم ہوتا ہے اور انسان میں سوچنے سمجھنے اور صحیح فیصلے کرنے کی قوت ختم ہوتی جاتی ہے۔

تعریف سننے والے کو خوشامد پسند اور تعریف کرنے والے کو خوشامدی کہتے ہیں۔ سنئیر صحافی جناب شہزاد چوہدری صا حب کی ڈکشنری میں خوشامدی چمچوں کو بوٹ پالشیا بھی کہتے ہیں۔ خوشامد عقل و دانش کوختم کرکے انسان کو عقل ودانش سے محروم کر دیتی ہے۔رفتہ رفتہ انسان کے اپنے حواس ختم ہو جاتے ہیں اور وہ وہی کچھ دیکھتا، سنتا، بولتا،اور محسوس کرتا ہے، جو چاپلوسی لوگ اس سے چاہتے ہیں۔ وہ صرف ان خوشامدی لوگوں کی چاپلوسی باتوں میں مصروف رہتا ہے۔جو اسے صحیح بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے وہ اسے اپنا دشمن سمجھتا ہے اور اس طرح اس کے غلط فیصلے ملک وقوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن حکمرانوں نے خوشامد جیسی بیماریوں کو اپنے دربار کا حصہ بنایاوہ ناکامیوں کے سمندر میں ڈوب گئے اور صر ف وہی لوگ کامیاب ہوے کو جنہوں نے اپنے آپ کو خوشامدی چمچوں سے بچایا اور مخلص لوگوں کو اپنے قرب میں رکھا۔

خوشامد کے بارے میں ایک حدیث شریف میں نبیؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ:’’حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو کیونکہ یہ توذبح کرنے کے مترادف ہے۔اس فرمانِ رسولؐ سے واضح ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح یعنی ہلاک کرنے کے مترادف ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص خودپسندی اور تکبر کا شکار ہوجائے اور شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے‘‘۔

اسلام میں خودپسندی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اس کی جہاں ممانعت بھی وارد ہوئی ہے وہاں ہی کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے کہ کہیں شیطان اس بندے کو مغرور، متکبر نہ بنادے، اسلام ایک انسان کی ہر معاملے میں بہترین رہنمائی کرنے والا دین ہے اسلام نہیں چاہتا کہ ایک انسان اپنی حدود کو پار کرئے کہ جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں خرابی آئے،اسلام نے ہر معاملے میں بہترین رہنمائے اصول دیئے ہیں اگر ان اصولوں کو فراموش کرکے ان کے خلاف اقدام کیئے جائیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے جو آخر کسی بڑے فتنے کا سبب بن جاتا ہے اور انہی اصولوں میں سے ایک اصول ہے کسی انسان کے سامنے اس کی تعریفوں کے پل باھندنا کہ جس کی وجہ سے وہ بندہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے انسان کے اندر تکبر کا بیج بو دینا ہے اور جس انسان میں تکبر آگیا تو سمجھ لو کہ اس کی آخرت تباہ ہو گئی۔

ابلیس، شیطان،بھی اسی تکبر کی وجہ سے برباد ہوا تھا، تکبر اللہ کو بہت ناپسند عمل ہے اس لیئے اسلام نے اس تکبر کو ایک انسان کے اندر آنے کے رستے بند کرنے کی طرف توجہ دی ہے جیسا کہ ایک حدیث شریف میں نبیؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو کیونکہ یہ توذبح کرنے کے مترادف ہے۔سنن ابن ماجہ:جلد سوم:باب:آداب کا بیان۔ :خوشامد کا بیان۔اس فرمانِ رسولؐ سے واضح ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح یعنی ہلاک کرنے کے مترادف ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص خودپسندی اور تکبر کا شکار ہوجائے اور شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے۔اسی طرح کی ایک حدیث مسند احمد میں بھی ہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ۔۔۔۔۔۔۔ منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے۔مسند احمد:جلد ہفتم:باب: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مرویات اس ارشاد رسولؐ کے ہوتے ہوئے بھی ہمارے معاشرے میں کچھ عجیب سی حرکات ہورہی ہیں اگر کوئی دین کے علم سے نابلد انسان ایسی حرکت کرئے تو دْکھ نہیں ہوتا کہ وہ جاہل ہے مگر افسوس کہ ہمارے اہلِ علم حضرات بھی اس مرض کے شکار ہوچکے ہیں کہ جب وہ کسی فورم پر تشریف فرما ہوتے ہیں تو ان کے سامنے ان کی خوب تعریف کی جاتی ہے اور وہ صاحب اْس تعریف کرنے والے کو منع بھی نہیں کرتے کہ بھائی منہ پر تعریف نہ کرو اس سے ہمارے پیارے نبیؐ نے منع فرمایا ہے اور اس مرض میں سیاسی اور مذہبی سبھی طرح کے لیڈران شامل ہیں، میں سبھی پر اس کا اطلاق نہیں کرتا مگر اکثریت اس کا شکار ہوچکی ہے، مثلاً جب کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ ہوتا ہے تو وہاں پر موجود امیدوار برائے پارلیمنٹ کے سامنے اس کی خوب تعریف کی جاتی ہے اور اس کے نام وہ وہ کام لگائے جاتے ہیں جو اس نے کیئے بھی نہیں ہوتے ہیں اور وہ صاحب اس خوشامدی پر پھولے نہیں سماتے چلو یہ لوگ تو دین کے علم سے بیبہرہ ہیں ان کو ان احادیث کا علم نہیں ہوگا::ویسے یہ احادیث پرائمری کے نصاب میں شامل ہیں مگر افسوس کہ ہمارے اکثر حکمران جاہل اور ان پڑھ ہیں جعلی ڈگڑیاں لے کر ہم پر مسلط ہو جاتے ہیں :: مگر دوسری طرف مذہبی رہنماء￿  بھی کم نہیں ہیں ان کے سامنے ان کو ایسے ایسے خطاب سے نوازہ جاتا ہے کہ جو خطاب کسی صحابی رسولؐ کے نام کے ساتھ بھی نہیں لگاتے ان کی ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں مولانا، رہبر ملت، رہبر طریقت، رہبر معرفت، شیخ المشائح، مفکر اسلام، سند المفسرین، فیض ملت، ملک التحریر، امام المناظرین، شمس المصنفین، عمدۃ المفسرین، استاد العرب و العجم، غواث بحر حقائق، محدث وقت، ریئس التحریر، ولی نعمت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانہ شمع رسالت، مجدد دین و ملت، عالم شریعت، پیر طریقت، حامی سنت، ماحی بدعت، باعث خیر و برکت، امام عشق و محبت، حضرت شیخ الفضیلت، آفتاب رضویت، ضیاء￿  ملت، مقتدائے اہلسنت، شیخ العرب والعجم اورقطب مدینہ۔ یہ صرف ایک مثال کے طور پر ہیں ورنہ اس سے بھی بڑے بڑے القابات سے نوازہ جاتا ہے مگر مجال ہے کہ وہ صاحب جن کو یہ القاب نوازے جارہے ہوں وہ ان لوگوں کو منع کریں کہ بھائی آپ کیوں میرے منہ پر میری تعریف کیئے جا رہے ہو؟ اس سے میرے پیارے رسول? سے منع کیا ہے، میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا ان حضرات کے سامنے سے یہ حدیث بھی نہیں گزری؟؟؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ؐ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسرں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسیمنہ لے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔۔۔۔۔الخصحیح مسلم:جلد سوم:باب:امارت اور خلافت کا بیان :جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔ایک اور حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خودپسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔مسند احمد:جلد پنجم:باب:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویاتان واضح احکامات کے ہوتے ایک مسلم کبھی بھی خودپسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اپنے سامنے کسی کو تعریف کرنے کی اجازت دینی چاہیے، مگر افسوس کہ اہلِ علم طبقہ بھی اس مرض کا شکار ہوچکا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ جس بندے نے اللہ کی رضا کے لیئے دین کا علم حاصل کیا ہوگا وہ ایسی حرکت کسی کو بھی کرنے نہیں دے گا اور جس نے علم حاصل ہی اس لیئے کیا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اس کو القابات سے نوازیں وہ بلا کیونکر لوگوں کو منع کرئے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر کیسا عمل تھا؟

ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان کے منہ پر تعریف کرنا شروع کردی۔ تو مقداد بن الاسود نے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور اس کے چہرے پر پھینک دی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دیا کرو۔سنن ابوداؤد:جلد سوم:باب:ادب کا بیان :چاپلوسی وخوشامد کی برائی کا بیان اور آج ہم کیا کررہے ہیں ؟کیا آج تک مَیں نے آپ نے اس حکمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل کیا ہے؟اگر اتنی ہمت نہیں کہ مٹی منہ پر پھینک سکیں تو کم از کم کسی کو منہ پر تعریف ہی کرنے سیہی روک دیا کریں میرے خیال سے اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہوگی۔اب تعریف کرنے کا مسنون طریقہ بھی آپ بھائی لوگ نوٹ فرما لیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن بکرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی دوسرے آدمی کی تعریف بیان کی تو آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دہرایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ساتھی کی تعریف ہی کرنا چاہئے تو اسے چاہئے کہ وہ ایسے کہے میرا گمان ہے اور اللہ خوب جانتا ہے اور میں اس کے دل کا حال نہیں جانتا انجام کا علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے۔صحیح مسلم:جلد سوم:باب: زہد و تقوی کا بیان :کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔اس حدیث میں بھی اس بات کا خدشہ پیش کیا کہ تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی یعنی تو نے اپنے بھائی کو ہلاک کردیا یہ الفاظ چھوٹے نہیں ہیں جو ان کو اگنور کردیا جائے بلکہ ہمارے پیارے رسولؐکے ہر حکم میں ہزاروں دانائیاں پوشیدہ ہوتی ہیں اور اس میں ایک یہ دانائی کی بات بھی ہے کہ کہیں وہ بندہ غرور و تکبر کا شکار نہ ہوجائے۔اور اس حکمِ رسولؐ سے بات بالکل واضح ہوئی کہ اگر تعریف کرنی ہے تو پہلے وہ کہے کہ میرا گمان ہے اور اصل حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ ایسے ایسے ہے یعنی اس میں فلاں فلاں اچھائی ہے۔

’’خوشامد‘‘

وہ ناسور جو معاشرتی نظامی ڈھانچے کو

دیمک بن کر چاٹ جاتا ہے

سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

دنیا میں جسے دیکھو خوشامد کا ہے بندہ

(علامہ اقبال)

خوشامدوہ میٹھا نشہ کہ زہر ہلاہل کو ایسا قند بنادے جو آدمی کیرگ و پے میں اتر کر ایسا نشہ طاری کردے کہ پھر وہ ساری سدھ بدھ بھلا کر زندگی کو جھوٹ سچ کی تلوار پر ترازو کردے کچھ لوگ خوشامدی ہوتے ہیں اور کچھ خوشامد پسند کہیں جو، مقدر سے ان کا ملاپ ہو جائے تو بہتوں کے مقدر پر پانی پھر جائے یہ وہ بیماری ہے جو دیمک بن کر تمام اخلاق اور معیار کا سودا کرکے معاشرے کو جہنم رسید کر دیتی ہے جس سے ناصرف گھریلو، معاشرتی، سماجی اور طبقاتی بگاڑ پیدا ہوتا ہے بلکہ اور آگے۔۔۔ملک و قوم کی تقدیر داؤ پر لگ کربالآخر پوری دنیا کا امن و چین ہڑپ کر جاتی ہے خوشامد بظاہر تو محض چھوٹا سا لفظ مگرنتائج اتنے سنگین کہ نسل در نسل، اس کا خمیازہ بھگتی ہے میرٹ کی جگہ رشوت سے بھی زیادہ خطرناک شئے چاپلوسی اور خوشامد ہے جو، اہل کو نااہل اورنااہل کو اہل بنا کروہ خرابہ کرتی ہے کہ پھر ہر چیزاس طرح داؤ پر لگ جاتی ہے کہ جس کا مداوہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا خوشامد ایک لعنت ہے اللہ تعالیٰ! لوگوں کو اس سے محفوظ و مامون رکھے اور ہمارے معاشرے سے اس بیماری کا خاتمہ فرمائے اور زبان سے حق اور سچ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین مبلغ اور خطیب حضرات اس موضوع پر مسلسل بیان کرتے ہوئے عوام کو اس کے نقصان سے آگاہ کریں اساتذہ اور امراء اپنے اردگرد نظر رکھتے ہوئے ماحول کو حقیقت کے رنگ میں ڈھالنے کی جد و جہد کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close