دعوتمذہبمعاشرہ اور ثقافت

دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک (پانچوی قسط)

تحریر: عبدالرب کریمی… ترتیب: عبدالعزیز

 مشہور ادیب اور شاعر کعب بن زہیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنے اشعار کے ذریعہ زہر افشانی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اپنے بھائی کے قبول اسلام پر اسے بھی لعن طعن کیا۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد ہی اسلام دشمنی بنالیا تھا۔ اسلام کے خلاف اس کی سرگرمیوں کی وجہ سے فتح مکہ کے وقت رسولؐ اللہ نے اسے جان سے مارنے کا حکم دیا، لیکن وہ کہیں روپوش ہوگیا تھا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد بھائی کے کہنے پر مدینہ پہنچ کر اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اللہ کے رسولؐ نے اسے بھی معاف فرمادیا۔

 قبیلہ بنو حنیفہ کا شمار ان قبائل میں تھا جو اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا۔ ثمامہ بن اثال اس قبیلہ کے با اثر سرداروں میں سے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مخالف اور دشمن تھا۔ نجد کے ایک سفر سے واپسی پر صحابہ کرامؓاسے گرفتار کرکے مدینہ لائے اور مسجد نبویؐ کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ آپؐ کو خبر ملی تو وہاں پہنچے اور ثمامہ کا حال دریافت کیا۔ اس نے جواب دیا میں ٹھیک ہوں ، اگر آپ مجھے قتل کئے جانے کا حکم دیتے ہیں تو یہ درست فیصلہ ہوگا۔ اگر میرے اوپر احسان کرتے ہیں تو ایک شکر گزار پر رحم فرمائیں گے۔ اگر میری رہائی کے بدلے میں مال درکار ہو تو بتائیں ۔

دوسرے دن بھی آپؐ نے ثمامہ سے یہی سوال کیا۔ اس نے کہا اگر آپ احسان کرتے تو ایک شکر گزار پر رحم فرمائیں گے۔ تیسرے دن بھی آپؐ نے سوال کیا۔ اس کا جواب اب بھی یہی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔

 ثمامہ نے رہائی ملنے کے بعد قریب ہی کھجور کے ایک باغ میں جاکر غسل کیا اور واپس آکر مسجد نبویؐ میں مشرف بہ اسلام ہوا۔ ثمامہ نے قبول اسلام کے بعد کہا: اے اللہ کے رسولؐ! اللہ کی قسم دنیا میں آپؐ سے زیادہ مجھے کسی سے نفرت نہ تھی، مگر اب آپؐ دنیا میں سب سے زیادہ محبوب بن گئے ہیں ۔ اللہ کی قسم! آپؐ کے شہر سے مجھے سخت نفرت تھی مگر آج میری نظر میں یہ شہر دنیا کے تمام مقامات سے اچھا ہوگیا ہے۔ اللہ کی قسم؛ آپؐ کے دین (اسلام) سے مجھے حد درجہ عداوت و دشمنی تھی لیکن آج آپؐ ہی کا دین مجھے محبوب تر ہوگیا ہے۔

 سفر طائف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مشکل ترین دن تھا۔ آپؐ بڑی امیدیں لے کر وہاں گئے تھے لیکن طائف کے سرداروں اور عوام نے نہ صرف آپ کی نبوتؐ کی تکذیب کی، بلکہ پتھروں سے مار مار کر لہولہان کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد یہی اہل طائف اور عبد یالیل (سردار) آپؐ کی خدمت (مدینہ) میں پہنچ کر داخل اسلام ہوئے اور آپؐ انھیں معاف فرما دیتے ہیں ۔        (رحمۃ للعالمین، جلد سوم، ص:303)

 خیبر کی ایک یہودی خاتون زینب بنت حارث نے گوشت میں زہر ملا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلایا اور بعد میں اس نے اپنا جرم قبول بھی کرلیا۔ اس کے باوجود آپؐ نے اسے معاف فرما دیا۔

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں ، آپؐ نے اپنے دشمنوں سے جس طرح حسن سلوک کیا وہ انسانی تاریخ کی بہت روشن اور تابناک مثال ہے۔ اپنے ساتھ برا کرنے والوں کو نہ صرف معاف کر دیا بلکہ ان کے ساتھ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ اختصار کے ساتھ چند واقعات اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں ۔

 یہود کے ساتھ حسن سلوک اور معاہدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر ہجرت کے پہلے سال ہی یہودیوں اور مسلمانوں کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور امن و شانتی کے قیام کیلئے ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ معاہدہ میں کل بارہ شرطیں تھیں ۔ ان میں دو شرائط بہت واضح تھیں ۔

(1  معاہدہ کرنے والی قوموں (یہود اور مسلمانوں ) کے ساتھ کوئی بیرونی طاقت جنگ کرے تو فریقین ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

 (2  دونوں فریق کے درمیان معاہدہ کی کسی شرط یا کسی نئی بات پر اختلاف ہوجائے، جس سے فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تو فیصلہ کیلئے اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

رسولؐ اللّٰہ کی دل آزاری: معاہدے کے باوجود یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیتیں پہنچاتے رہے اور اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہے۔ قرآن مجید نے ان کے بارے میں واضح الفاظ میں کہا ہے:

 ’’مسلمانو؛ تمھیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور تقویٰ کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے‘‘۔ (آل عمران: 186)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے کا کوئی موقع یہود اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ان کے خواص کی اخلاقی صورت حال یہ تھی کہ جب آپؐ سے ملتے تو ’السام علیکم‘ کہتے؛ یعنی آپ کو موت آئے۔ جب یہ فقرہ حضرت عائشہؓ نے سنا تو غصہ میں فرمایا: تمھیں ہی موت آئے۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ نرمی اور محبت سے کام لو۔ میں ا س کے جواب میں ’علیک‘ (تم پر بھی)کہہ دیتا ہوں ، بس یہ کافی ہے۔

یہودی کی سازشیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے بعد انصار کے دو اہم قبائل اوس و خزرج کی باہم لڑائی جو سالوں سے جاری تھی ختم ہوگئی۔ یہود نے اپنی سازشوں سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے واسطے دونوں قبائل کے درمیان نفرت و عداوت کو بڑھانے کیلئے پرانے زخموں کو کریدنے میں اہم رول ادا کیا ہو۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر دونوں قبائل میں لڑائی دوبارہ شروع ہوجائے تو اسلام خود بہ خود دونوں کی خانہ جنگیوں کی نذر ہوجائے گا۔ انھوں نے اس جنگ کو ہوا دینے کیلئے ’جنگ بعاث‘ کا تذکرہ شروع کر دیا تاکہ دونوں کے پرانے زخم تازہ ہوجائیں ۔ یہود کی کوششوں سے عداوت و دشمنی کی دبی ہوئی چنگاری شعلہ بن گئی اور قریب تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہوجائیں ۔ جب اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو آپؐ اوس و خزرج کے ذمہ داروں کے پاس گئے اور دونوں کو وعظ و نصیحت کرکے مشتعل ہونے سے بچایا۔ قرآن مجید نے اس واقعہ کو اس انداز سے بیان کیا ہے۔

’’اے ایمان لانے والو؛ اگر تم نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ (یہود) کی بات مانی تو یہ تمھیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے‘‘۔ (آل عمران:100)

 یہود کے ساتھ رواداری: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ یہود کے ساتھ حد درجہ نرمی اور حسن سلوک کا تھا۔ آپؐ بہت سے مذہبی امور میں ان سے اتفاق رکھتے تھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ جن امور کے بارے میں شریعت کا کوئی خاص حکم نہیں ہوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی موافقت کرتے تھے۔

 مدینہ میں یہود عاشورہ کے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملنے کی خوشی میں روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ وہ بھی عاشورہ کا روزہ رکھیں ۔ ایک بار آپؐ کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپؐ اس کی تعظیم میں کھڑے ہوگئے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول؛ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا وہ انسان نہیں ہے؟ کسی موقع پر ایک یہودی نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰؑ کی فضیلت اس طرح بیان کی کہ وہ (حضرت موسیٰؑ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں ۔ اس بات پر ایک صحابیؓ کو غصہ آگیا اور انھوں نے اس یہودی کو تھپڑ رسید کر دیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کر دی۔ آپؐ نے صحابیؓ سے فرمایا: مجھ کو دوسرے نبیوں پر ایسی فضیلت نہ دو، جس سے کسی نبیؑ کی حیثیت کم ہوجائے۔ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہوں گے۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا، اس وقت میں دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰؑ عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں ۔

یہود کی شرارتیں : یہود کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ انتہائی نرمی اور محبت کا تھا، لیکن ان تمام رواداریوں اور اخلاق حسنہ کا صلہ جو انھوں نے دیا وہ آگے کے سطور میں ملاحظہ فرمائیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کرنے کے بعد بھی یہود اپنی اسلام دشمنی کو پس پردہ جاری رکھے ہوئے تھے ۔ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے اکابر قریش سے ساز باز رکھتے تھے۔ معاہدہ کے ایک سال کے بعد ہی ان کی شرارتیں کافی بڑھ گئیں ۔ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت سے انھیں اپنا سماجی اور مذہبی سامراج خطرے میں نظر آنے لگا۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی کامیابی نے انھیں مزید بے چین کر دیا تھا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھوں نے مسلمانوں کے خلاف قریش کو ہر طرح کی مدد کرنے کا یقین دلایا۔ یہودی سردار کعب بن اشرف نے مکہ میں جاکر قریش کو جنگ بدر کا انتقام لینے کیلئے اکسایا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close