دیا سکہ پایا خزانہ

ابراہیم جمال بٹ

گھر کی دہلیز پر کچھ دیر سے کھڑا تھا کہ اچانک ایک ناتواں شخص پر نذر پڑی جو گھر کے باہری دروازے سے اندر آنگن میں ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا، جونہی اس کی نذریں مجھ پر پڑیں تو اس نے بے ساختہ مجھے وہیں سے آواز دی کہ ’’بیٹا اللہ کے لیے کچھ دو‘‘ چنانچہ اس کی آواز سن کر میں اس کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی بچی جس کی عمر زیادہ سے زیادہ پندرہ سال ہو گی بھی دروازے پر کھڑی تھی، سہارے کے لیے بزرگ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جسے زمین پر رگڑ رگڑ کر وہ اپنے قدم ڈال رہا تھا۔ میں اس کی یہ حالت دیکھ کر کچھ دیر دیکھتا ہی رہا تاہم اس کی بار بار آواز دینے پر میں اندر گھر میں داخل ہو گیا اور ایک کٹورا چاول لایا جسے دیکھ کر یہ لاچار ومعزور انسان اگرچہ خوش ہوا تاہم اس کے ہاتھ ابھی بھی پھیلے ہی ہوئے تھے، گویا ایسا لگتا تھا کہ وہ کچھ اور کہنا چاہتا ہے، تاہم اس کی بات سمجھتے ہوئے میں نے جیب سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور اس کے حوالے کر دیا جس کے بعد وہ اس قدر خوش ہوا کہ اس کی زبان سے میرے اور میرے اہل وعیال کے لیے دعائے خیر نکلی۔

اس کے منہ سے دعا نکل رہی تھی میرا دل شاد ہوتا جا رہا تھا… جی چاہتا تھا کہ اسے دیتا رہوں اور اس سے دعائیں لیتا رہوں تاہم اپنی وسعت کا خیال کرتے ہوئے اسے الوداع کرنا ہی پڑا۔ بزرگ دہلیز سے نکلا اور نکلتے ہوئے ’’خوش رہو… اللہ تعالیٰ خیر کرے‘‘ جیسے الفاظ دہراتا رہا۔ میں مکان کے باہری دروازے تک اس کے ساتھ گیا اور کچھ دیر تک مکان سے باہر اسے دیکھتا رہا، اس دوران وہ میرے قریبی پڑوسی کے صحن میں داخل ہوگیا اور میں بھی اپنے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں موجود ماں نے کہا ’’بیٹا چاول کا کٹورے کے ساتھ ہی اتنے وقت کہاں گئے…؟‘‘ میں نے سر ہلاتے ہی اشارہ کیا کہ باہر تک گیا تھا۔ ماں کی خموشی اور بیٹے کے اشارے کے درمیان میری پیاری سی، ننھی سی اور معصوم بیٹی ’’رقیہ‘‘ نے مجھے پیار سے ’’ابو‘‘ کہہ کر پکارا۔  میں نے اس کی یہ مدھر آواز سن کر اسے گود میں لیا اور پھر ایک بار مکان کے صحن میں نکلا۔ تھوڑی دھوپ نکلی ہوئی تھی… سردیوں کے موسم میں دھوپ کا نکلنا ہی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، میں صحن میں موجود کرسی پر اپنی بیٹی رقیہ لیے بیٹھ گیا۔ ابو ابو کہہ کر میری ننھی سے کلی خوش ہو کر میرے سینے سے لپٹ گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ شاید رقیہ کو کسی قدر سردی لگ گئی ہے، کیوں کہ وہ چند روز سے بہت بیمار تھی۔ تاہم اس کے علاوہ میں یہ اندازہ نہیں کر سکا کہ اور بھی کوئی بات ہو سکتی ہے جس سے رقیہ خوش ہوئی ہو گی۔چنانچہ بیٹی رقیہ اس قدر مجھ سے لپٹ گئی تھی کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج بہت دنوں بعد وہ مجھ سے ملی ہے۔ حالاں کہ حقیقت بھی یہی ہے کہ وہ مجھ سے بہت دنوں بعد اصل صورت میں مل رہی ہے کیوں کہ وہ کئی روز سے بہت بیمار تھی، ان دنوں اس کی حالت اس قدر خراب تھی کہ اس کے منہ میں صرف آہ آہ نکل رہی تھی، بخار کی وجہ سے وہ نہ ہی سو پا رہی تھی اور نہ ہی جاگ کر اطمینان محسوس کر رہی تھی، اس کی اس بے اطمینانی کی حالت میں اس کا اوڑھنا بچھونا، اس کا بستر اور اس کے آرام کی جگہ صرف اس کی ماں تھی… اس لحاظ سے بیٹی رقیہ نے مجھے آج بہت دنوں بعد اچھی طرح دیکھا۔  ہو سکتا تھا کہ اس وجہ سے بھی میری ننھی سی کلی رقیہ خوش ہو، کیوں کہ وہ مجھ سے بہت قریب رہتی ہے۔ اکثر بیمار ہونے کی وجہ سے اگرچہ اسے ماں کا سہارا ہی مل پاتا ہے تاہم جونہی وہ تھوڑی بہت صحت یاب ہو جاتی ہے اسے ماں سے کم مجھ سے زیادہ رغبت ہو جاتی ہے۔

چنانچہ کچھ دیر بعد جب میں آنگن میں لگی کرسی سے کھڑا ہوا تو بیٹی رقیہ نے معصومیت سے باہری دروازے کی جانب اشارہ کیا… میں مین گیٹ پر پہنچا ہی تھا کہ رقیہ کی اماں نے اندر کھڑکی سے ہی آواز دی کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے پھر باہر کی جانب اشارہ کر کے اسے اگرچہ چپ کرادیا لیکن جونہی ہم باہر آگئے تو اسی بزرگ، اپاہج اور فقیر کو پڑوسی کے گھر سے نکلتا ہوا دیکھا… اس سے چند منٹ قبل ہی کی یادیں میں کچھ دیر بھول گیا تھا لیکن اسے دوربارہ دیکھتے ہی پھر اسی کی جانب متوجہ ہوا۔ بیٹی رقیہ نے اندر کرسی پر ہی میرے جیب سے چند نوٹ نکالے تھے جو دس دس کے تھے، تاہم یہ اس کا معمول تھا کہ وہ ان سے کھیلتی تھی اور پھر وقت گزرنے کے بعد مجھے واپس بھی دے دیتی تھی، لیکن اس بار جب ہم نے اس فقیر شخص کو دیکھا جسے اس سے قبل ہی میں نے ایک پیالہ چاول کے علاوہ دس روپے کا نوٹ دیا تھا، تو بلا پوچھے وبلا جھجھک رقیہ نے اسی ناتواں فقیر کی طرف اپنی معصوم زبان سے کہا کہ ’’آجائو‘‘ ناتواں فقیر کی بیٹی دوڑی دوڑی آئی اور اس کے ہاتھ سے دئے ہوئے وہ سارے نوٹ جو غالباً چار نوٹ یعنی چالیس روپے تھے لیے اور خوش ہو کر اپنے فقیر بابا کے پاس پہنچ گئی۔ فقیر بابا آگے جانے کے بجائے چھڑی گھسیٹتے گھسیٹتے ہمارے پاس پھر آگئے اور رقیہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر ایک ایسی بات کہہ گیا جو آج اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ’’بچی کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور اس کی ہر پریشانی کے موقعہ پر اسے آسانی کے ساتھ ساتھ شادمانی عطا فرمائے۔‘‘

بزرگ چلا گیا میں نے رقیہ سے نہیں بولا کہ اسے کیوں اتنے سارے پیسے دئے…تاہم اسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کیوں کہ آج اس کے چہرے پر بہت دنوں بعد خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے مٹھائی کی دکان کی طرف رقیہ کو اشارہ کیا لیکن اس نے سرہلاتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، اور اس طرح پھر ایک بار مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کا بار بار مجھ سے لپٹ کر رہنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ کیوں کہ وہ اکثر ماں سے لپٹ کر رہتی تھی، اس کا بار بار بیمار ہونا، اسے ماں کے قریب لا رہا تھا جس سے رقیہ کی ماں اچھی طرح سے کوئی بھی گھر کا کام نہیں کرپارہی تھی لیکن اس دوران میرے پاس اس کا آنا بہت مشکل تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ مجھ سے نابلد ہے، وہ مجھے پہچانتی ہی نہیں، اس لیے آج اس کا خوش ہونا میرے لیے فخر اور خوشی کی بات تھی……!

بزرگ کی دعا اور رقیہ بیٹی کا اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے دس دس کے لگ بھگ چار نوٹ دینا، جس کے بدلے میں بزرگ فقیر کے منہ سے اس کے حق میں دعائے خیر کرنا، یہ سب مجھے اندر سے کچھ کچھ اطمینان دلا رہا تھا۔

مہینے میں کم از کم دو بار بیٹی رقیہ کا بیمار ہونا میرے لیے شاق ہوتا تھا تاہم الحمد للہ جب سے اس فقیر کے دعا ئیہ کلمات کو لیا، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ شاید تب ’’ساعتِ حسنہ‘‘ کے لمحات گزر رہے تھے، جب وہ فقیر بابا بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دے رہا تھا۔ الحمد للہ تب سے لے کر آج تک اتنے سال گزر گئے… بیٹی رقیہ پانچ سال سے آج بائیس سال کی عمر کے قریب پہنچ گئی ہے لیکن اس بیماری سے آج تک محفوظ ومامون ہے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

فقیر کی دعا کا اثر اس قدر ہوا ہے کہ آج تک اس کی شکل میرے سامنے محسوس ہوتی ہے۔ ان فقراء ومساکین کی مدد کر کے کس طرح اپنی پریشانیوں سے نجات اور عاقبت درست ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ مجھے اچھی طرح ہو چکا ہے۔ ایک دعا کے بدلے میں میرے رب نے میری لاڈلی بیٹی کی بیماری کافور کر دی۔ گویا پچاس روپے کے بدلے میں مجھے ایسا خزانہ عطا کیا گیا کہ آج تک اس خزانے کو دیکھ دیکھ کر ہی خوشیوں کے پھول میرے آنچل میں نذر آرہے ہیں۔  … !

آہ خدایا !اس بزرگ کی دعا کا اثر تاعمر میری زندگی میں، میری بیٹی رقیہ کی زندگی میں اور میرے اہل وعیال کی زندگی میں باقی رکھ۔ آمین یارب العالمین۔



⋆ ابراہیم جمال بٹ

ابراہیم جمال بٹ
کشمیر کے کالم نگار ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے