معاشرہ اور ثقافت

رشتوں کا تقدس اور صلہ رحمی

ابوفہد

اللہ تو بے نیاز ہے، پاک ہے اور اسے کچھ حاجت لاحق نہیں ہوتی۔ حالانکہ اللہ نے اپنی کتاب میں یہ بھی  فرمایا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿الذاریات:٥٦﴾

میں نے تمام جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘‘

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے جن و انس کی تخلیق کا مقصد ’’عبادت ‘‘ قراردیا ہے۔ اس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اللہ کو عبادت کی احتیاج ہے۔ لیکن

 قرآن کے اس بیان میں مزید غورکرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ  اس میں انسان کی ذمہ داری اور جاب   کابیان ہے نہ کہ اللہ رب العزت کی احتیاج کا اظہار۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ کو انسان کی عبادتوں کی ضرورت ہے، بلکہ یوں ہے کہ اللہ نے انسان کو دنیا میں عبادت کی سوغات (ہدیہ) دے کر بھیجا ہے   تاکہ جن وانسان عبادت و اطاعت سے اپنا تزکیہ کرسکیں اور اللہ ان  کو آزماسکے کہ وہ دنیا کے نصف اختیاری اور نصف غیر اختیاری ماحول میں رہ کر اللہ سے کتنے قریب رہ پاتے ہیں یا کتنے دور جا پڑتے ہیں۔ بیشک اللہ کو انسان کی عبادت کی کوئی حاجت نہیں۔ پھر بھی اللہ نے عبادت کا ایک پورا نظم دیا۔ اس سے یقینی طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عبادت سرتا سر انسان کے حق کی چیز ہےاس کی افادیت کی نسبت انسان کی طرف ہے، عبادت سے انسان کی ذہنی ،جسمانی، روحانی اور معاشرتی افادیت وابستہ ہے۔اور یہ بات انسان اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر جانتا اور سمجھتا بھی ہے ۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھیں تو عبادت سرتا سر انسانوں کا کیس بن جاتی ہے، یعنی ایسا کیس جس میں انسانوں کی دنیا وآخرت اور جسم وجان  ہر طرح کی خیر اور بھلائی  مضمر ہے۔ اگر اس سے آگے والی آیت(مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ)  پربھی نظر رہے تو یہ مزید واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ایک جوابی بیانیہ ہے جو مشرکین کے اس تصور یا وہم کی رد میں آیا ہے کہ اللہ بھی (نعوذ باللہ) رزق کا طلبگار ہوسکتا ہے، جیسا کہ وہ  اپنے دیوتاؤں کے متعلق تصور رکھتے تھے کہ انہیں کھانے پینے کی حاجت ہے اور وہ ان کی پیش کردہ قربانیوں سے کھاتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔بذات خود اسی تصور کی نفی سورۃ الحج آیت نمبر37 میں کی گئی ہے: (لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ)

بالکل اسی طرح اسلام کے دیگر تمام ارکان اوراوامر ونواہی کی نسبت بھی اسی قسم کی ہے۔ موضوع بحث عنوان  ہی کو لیے لیتے ہیں۔ جب اللہ نے رشتے بنائے ہیں اور پھر ان رشتوں کو نبھانے کی تاکید کی ہے تو اس کی افادیت کا  کچھ بھی تعلق اللہ کی ذات سے نہیں ہے، بلکہ یہ سرتا سر انسان کے لیے نفع کا سودا ہے۔ بیشک ایسا نہیں ہے کہ کوئی انسان، مسلمان یا تمام انسان اگر رشتوں کے تقدس کا لحاظ نہیں رکھیں گے اور انہیں اس طرح نہیں نبھائیں گے جس طرح  انہیں نبھانے کا حکم ہے تو اللہ کا کچھ نقصان ہوجائے گا،بلکہ ایسا ہے کہ  یہ سرتا سر انسان کے اپنے ہی خسارے کی بات ہوگی۔اور انسان اس بات کو بھی اپنے علم اور تجربے ومشاہدے کی بنیاد پر جانتا ہے بلکہ مانتا بھی ہے۔

اللہ نے رشتوں کا تقدس اس لیے رکھا ہے تاکہ دنیا کی زندگی آسان ہوجائے۔ چونکہ فطرت کے اصول بہت سخت واقع ہوئے ہیں  اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعیت کی ضرورت ہے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر زندگی کے دو مراحل بہت زیادہ نگہداشت چاہتے ہیں ۔ زندگی اپنے ابتدائی اور انتہائی سروں پر بہت زیادہ نگہداشت چاہتی ہے، ایک طرح سے یہ کہنا درست ہے کہ وہ مکمل طورپر دوسروں کے تعاون کی محتاج ہوتی ہے۔ ایک بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو ہم سب جانتے ہیں کہ اسے کس قدر نگرانی اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کتنا کمزور  اور بے بس ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک آدمی جب عمردراز کو پہنچ جاتا ہے تووہ بھی تقریبا اتنا ہی لاچار اور بے بس ہوجاتا ہے جتنا کہ ایک نوزائدہ بچہ ہوسکتا ہے،اسے بھی  دوسروں کے سہارے کی تقریبا اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی ایک نوزائدہ کو ہوتی ہے ۔ اور اللہ نے اپنے تکوینی امور میں اس کا انتظام کیا ہے، اللہ نےزندگی کے ابتدائی سرے پر بچے  کو والدین عطا کئے جو اس کی نگہداشت کرتے ہیں اور  زندگی کے انتہائی سرے پر اس کو اولاد عطا کی کہ وہ اس کی نگہبانی کرے۔ اللہ نے اسی لیے فیملی سسٹم بنایا کہ انسان  ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ کیونکہ اللہ نے انسان کی زندگی کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ انسان  تنہا نہیں رہ سکتا ۔اسے لامحالہ دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور زندگی کے ابتدائی و انتہائی سروں پر یہ ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے سائنسدانوں نے انسان کی تعریف معاشرتی حیوان سے کی ہے۔انسان معاشرے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔اور اسی لیے اللہ نے ہر انسان کو ایک خاندان دیا ہے ،معاشرہ دیا ہے اور پھر اس معاشرے کے لیے سرچشمۂ رشدو ہدایت قرآن دیا ہے۔تاکہ وہ اس دنیا کے سخت ترین حالات میں زندہ رہ سکے۔اور نہ صرف زندہ رہ سکے بلکہ علم وعمل اور اطاعت وریاضت کے  ذریعے روحانی مدارج بھی طے کرسکے۔

اللہ نے انسان کی اس معاشرتی ضرورت کا دو طرح سے نظم کیاہے ۔ ایک یہ کہ اس نے  تکوینی طورپر خاندانی سسٹم جاری کیا ، کہ کوئی کسی کا والد ہے اور کوئی کسی کا بیٹا ہے۔اور دوسرے شرعی طورپر والدین کو حکم  دیا کہ وہ بچوں کی پرورش اور تربیت کریں اور بچوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کی  اطاعت اورخدمت کریں ، خاص کر بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں۔قرآن میں ہے:

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ  (سورۂ احقاف: 15، سورۂ لقمان:14)

’’اور ہم نے انسان کو  یہ حکم کیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے‘‘

رشتوں کا تقدس روحانی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ رشتوں کا تقدس انسانی ضروریات کے اعتبار سے ہے۔ جب تک رشتوں کا تقدس قائم رہے گا انسانی زندگی آسان ہوگی اور جیسے جیسے یہ تقدس اوراحترام  ختم ہوتا جائے گا انسانی زندگی دشوار سے دشوار تر ہوتی جائے گی۔یہاں تک کہ وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ جس نسبت سے  کرہ ّٔارضی پر انسانوں کی آبادی بڑھتی چلی جائے گی او رہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے کرّوں تک بھی پھیل جائے ، انسان  اسی نسبت سے تنہا ہوتا چلا جائے گا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانیت کو اسی دکھ سے بچانے کے لئے شریعت دی ہے اور رشتوں کے حوالے سے مختلف عنوانات سے تاکید ہے۔ حتیٰ کہ رشتہ داروں کے ساتھ غیر رشتہ دار جیسے پڑوسی  اور غریب ونادار لوگوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرنے کی تاکید کی ہے۔اور جیسا کہ میں نے اوپر کہا عبادت کی افادیت کی نسبت بندے کی طرف ہے، ایسے ہی ’صلہ رحمی ‘ کی افادیت کی نسبت بھی بندوں ہی کی طرف ہے۔حدیث شریف میں تو اس تعلق سے بالکل انتہائی بات کہی گئی ہے، بالکل آخری درجے کی بات کہ اس سے بڑھ کر کچھ اور نہیں کہا جاسکتا۔ یہاں دنیا میں ہر آدمی تقریبا یہی کہتا ہے کہ جو ہم سے رکھے گا ہم اس سے رکھیں گے۔ اور جو ہم سے نہیں رکھے گا ہم بھی اس سے نہیں رکھیں گے،مگر اس کے بالکل برعکس  حدیث میں کہا گیا ہے کہ تم اس سے بھی اپنے تعلقات استور رکھنے  کی کوشش کرو جو تمہارے درپے آزار ہے اور تم  سے الگ رہنے اورکٹنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

حدیث شریف میں صلہ رحمی کرنے والے کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:

   لَيْسَ الوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا (صحيح بخارى حديث نمبر : 5645)

’’ رشتوں کو جوڑنے والا (یعنی صلہ رحمی کرنے والا) وہ  نہيں ہےجو صرف انہیں لوگوں سے  جڑنے کی کوشش کرے جو اس سے جڑ کر رہنا چاہتے ہوں، بلکہ  رشتوں کوجوڑنے والا حقیقت میں تو وہ ہے جو ایسے لوگوں سے بھی تعلقات استوار رکھنے کی کوشش کرے جو اس سے کٹ کر رہنا چاہتے ہیں اور اس کے درپیے آزار ہوں۔‘‘

دوسرے لفظوں میں جو صرف دوستوں سے دوستی کرے اور اپنوں سے اپنائیت رکھے وہ اللہ کی نظر میں جوڑنے والایعنی صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے بلکہ اللہ کی نظر میں تو وہ شخص جوڑنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا ہے جو دشمنوں سے اور غیروں سے بھی محبت کرے اور ان سے بھی جڑنے  اور انہیں بھی خوش رکھنے کی کوشش میں لگا رہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس معاملے میں بڑی واضح ہدایات دی ہیں، اللہ نے حکم دیا ہے کہ دوسروں کا حق خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کرنے کی فکر کرو ۔ اللہ کا فرمان ہے:

وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ﴿الاسراء: ٢٦﴾

’’اور اہل قرابت، مساکین اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور فضول خرچی سے پرہیز کرو۔‘‘

ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا ہے:

وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ﴿٣٦﴾

’’  اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کر ے(سورۃ النساء: 36)

اس معاملے میں صرف یہی نہیں ہے کہ صلہ رحمی کرنے کا حکم، ترغیب اور تاکید کی گئی ہے بلکہ اسلوب بیان بدل کر یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو قطح رحمی کر ے گا وہ  جنت میں نہیں جائے گا۔ سیدھے سیدھے فرمادیا گیا کہ قطع رحم کرنے والا جہنمی ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے:

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ (صحیح مسلم: 2556)

’’رشتوں ناتوں کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘

ایک حدیث میں ہے کہ کسی بھی مسلمان کے لیےیہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔ اگر کوئی تین دن سے زیادہ ناراض رہتا ہے اور اسی حال میں اس کا  انتقال ہوجاتا ہے  تو اسے  جہنم میں ڈالا جائے گا۔حدیث کے الفاظ ہیں:

لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، فَمَنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ)أبو داود:4914 وأحمد: 9092 (

حدیث شریف میں تو یہاں تک بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کوئی ایک سال تک اپنے بھائی سے بات نہ کرے تو اس کا یہ عمل اپنے بھائی کو قتل کرنے کے برابر ہے۔

مَنْ هَجَرَ أخَاه سَنَةً، فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِه (رواه أبو داود وصححه الألباني في صحيح الجامع رقم: 6581)

یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صلہ رحمی کریں، دوستیاں اور تعلقات نبھائیں۔ اگر کسی سبب سے، لگائی بجھائی کی وجہ سے، معاشرے اور خاندان کی سیاست کی وجہ سے ، بدگمانیوں کی وجہ سے یا پھر نفرت وتعصب کی وجہ سے، آپس کے تعلقات منقطع ہوجائیں، تو انہیں شعوری کوشش کرکے دوبارہ بحال کیا جائے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے مگر ہمارے مسلم معاشروں میں اس کے بالکل برعکس ہو یہ رہا ہے کہ ہم دوستی اور رشتہ داریاں نبھانے کے بجائے دشمنیاں نبھارہے ہیں۔جی ہاں ! ہم دشمنیاں نبھارہے ہیں۔ شاید اس بات پر آپ کو یقین نہ آئے مگر سچ یہی ہے۔ آپ ذرا اپنے اردگرد کا جائز لیں ، آپ کے رشتہ دار، بھائی بند اور دوست واحباب میں سے نہ جانے کتنے ایسے ہوں گے جو ایک دوسرے سے خفا ہوں گے اور ان کی یہ خفگی سالہا سال سے چلی آرہی ہوگی۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایک بھائی کی دوسرے بھائی سے ، ایک بہن کی دوسری بہن سے، ساس کی بہو سے یا بہو کی ساس سے اور نند سے کسی ذراسی بات پر ان بن ہوگئی اور دونوں ایک دوسری کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ گئیں اور پھر اس پر اتنی پابندی کی کہ ساری عمر پیٹھ سے پیٹھ ملائے بیٹھی رہیں۔ ہوسکتا ہے کہ خود آپ بھی ایسا ہی کچھ کررہے ہوں۔ اپنے کسی بھائی سے ، بہن سے یا قریب ودور کے رشتہ دار سے ناراض ہوں اور سالہاسال سے ناراض ہوں اور اس ناراضگی کو دور کرنے کے لیے پہل کرنا اپنی کسر شان سمجھتے ہوں۔ بلکہ یوں  بھی  ہوسکتا ہے کہ دوسرا جو آپ سے بڑا ہے یا چھوٹا ہے وہ تعلقات بحال کرنا چاہ رہا ہے مگر آ پ نہیں چاہتے، آپ اس سے بچ کر نکلتے ہیں اور کنی کاٹ جاتے ہیں، وہ دعوت دیتا ہے اور آپ ٹھکرا دیتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا ہے تو اپ کے خاندان اور اہل محلہ سے کئی لوگوں کو آپ نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا یا سنا ہوگا۔ اس معاملے میں بڑے خطرے کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں اس چیز کو بہت ہلکے میں لیا جاتا ہے ، اسے سرے سے کوئی گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔

مسلم شریف کی حدیث میں ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے چھے حقوق بتائے گئے ہیں:

حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتْبَعْهُ( رَوَاهُ مُسْلِمٌ)

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھے حقوق ہیں۔ جب تم اپنے مسلمان بھائی سے ملو تو اسے سلام کرو، جب وہ کھانے پر بلائے تواس کے یہاں کھانے پر جاؤ، جب وہ کوئی مشورہ طلب کرے تو اسے صحیح مشورہ دو، جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہو، جب وہ بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرو اور جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازے کی نماز میں شرکت کرو۔‘‘

صحیح مسلم میں ایک حدیث یہ بھی ہے:

إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُجِبْ، فَإِنْ كَانَ صَائِمًا، فَلْيُصَلِّ، وَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا، فَلْيَطْعَمْ(رواہ مسلم)

’’اگر کسی کو کھانے پر مدعو کیا جائے تو وہ دعوت قبول کرے۔ اگر وہ روزے سے ہو تو دعوت دینے والے کے لیے خیر وبرکت کی دعا کرے اور اگر روزہ نہ ہو تو اس کے یہاں کھانا تناول کرے۔‘‘

اس کا پس منظر یہی ہے کہ دعوت کو مت ٹھکراؤ، محض اس وجہ سے کہ آپ دعوت دینے والے سے ناراض ہیں اور اسے خود سے کمتر سمجھتے ہیں اور اس کے دسترخوان پر بیٹھنا آپ کی گویا بے ادبی ہے۔ دعوت قبول کرنے کے فرمان ِ رسولﷺ کا پس منظر یہی ہے ، اس فرمان میں پیٹ پوجا والی ترغیب نہیں ہے، کہ مل رہا ہے تو کھالو۔ ’’مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے‘‘ والی بات نہیں ، بلکہ ٹوٹتے بکھرتے  رشتوں کی پیوند کاری مقصود ہے۔اور یہ مطلوب ہے مسلم معاشروں میں آپسی تعلقات مستحکم رہیں اور انہیں اس قسم کے چھوٹے چھوٹے اعمال سے حرارت اور زندگی ملتی رہے۔

مشکل یہ بھی ہے کہ ان حالات کو ختم کرنے کے لیے کوئی بھی پہل نہیں کرنا چاہتا۔ ہر کسی کے من میں یہی چل رہا ہوتا ہے:

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو

جیسے اگر پوچھ لیں گے تو شان چھوٹی ہوجائے گی یا بہت بڑا نقصان ہوجائے گا۔

عجیب وغریب بات تو یہ بھی ہے کہ ہم سب اتحاد کی بات کرتے ہیں مگر جونقطہ اتحاد ہے ، جہاں سے اتحاد کا آغاز ہوتاہے ہم اسی سے غافل ہیں ۔ دو افراد اور پھر ایک خاندان، یہی وہ پوائینٹ ہے جہاں سے اتحاد کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر یہاں اتحاد نہیں ہے تو پھر کہیں بھی اتحاد نہیں ہوگا۔اگر خاندان کی سطح پر اتحاد نہیں ہے تو پھر کسی بھی سطح پر اتحاد نہیں ہوسکتا، پھر چاہے ہم امت میں دینی وسیاسی اتحاد کے لیے خواہ کتنی بھی چیخ وپکار کرلیں، کیسی بھی تدبیریں کرلیں اور خواہ کتنی بھی عبادتیں اور ریاضتیں کرلیں، کچھ نہیں ہونے والا۔کیونکہ

خشت اول چوں نہد معمار کج

تا ثریا می رود دیوار کج

یہ تو خاندان کی سطح پر با ت ہوئی یہی بات مسلکی سطح پر بھی درست ہے ، یہاں تو صورت حال اور بھی زیادہ  نازک ہے، ایک پوری جماعت دوسری جماعت سے گریزاں رہتی ہے۔ یہاں تک کہ مصیبت  اور آفتوں کے وقت بھی ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ہچکچاتی ہے۔ جب اپنے من کی سطح پر ، انسانیت کی سطح پر مسلمانوں کی دو جماعتیں اور د وگروہ ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، سمینار کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے تو پھر اتحاد کی بات بھی زبا ن پر لانا گناہ کبیرہ  ہوسکتا ہے۔

اس حوالے سے یہ بات بھی کتنی اہم ہے کہ یہ دنیا مکامات عمل کی دنیا ہے، یہاں وہی ہے جو ہم بوتے ہیں اور کہتے اور کرتے ہیں ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ والدین کی خدمت کی حوالے سے غور کریں  اور سوچیں کہ جب آپ خود اپنے والدین کی خدمت نہیں کریں گے اور آپ کے بچے آپ کو اپنے والدین کی خدمت کرتے ہوئے ، ان سے محبت وہمدردی جتا تے ہوئے نہیں دیکھیں گے تو وہ یہ کیسے جانیں گے کہ  کل کو انہیں بھی اپنے والدین کا یعنی خود آپ کا اسی طرح خیال رکھنا ہےاوراسی طرح خدمت کرنی ہے۔جب ہم  خود اپنے بچوں کے سامنے اس طرح کا کوئی نمونہ نہیں رکھیں گے تو ہمارے بچے محض اپنی صوابدید پر اس جیسا کوئی نمونہ پیش کرنے سے قاصر رہیں گے۔  مکافات عمل کی اس دنیا میں یہ تو ہوسکتا ہے کہ ہم خدمت کریں اور ممکن ہے کہ ہمیں خدمت کا احسن بدلہ نہ ملے مگر یہ نہیں ہوسکتا  کہ ہم خدمت نہ کریں اور ہمیں خدمت مل جائے۔ یہ دنیا جس طرح قانون واخلاق کی دنیا ہے اسی طرح مکافات عمل کی بھی دنیا ہے۔

کچھ جدید تہذیب کی ہوا میں اور نقالی میں  اور کچھ معاشی ومعاشرتی مسائل  کے تحت  پنپنے اوربڑھنے والی مجبوریوں اور ذمہ داریوں کی وجہ سے  مسلمانوں میں بھی نیوکلیر فیملی کا تصور ابھرنے لگا ہے، جس کا نتیجہ یہ ظاہر ہورہا ہے کہ والدین بے سہارا ہوتے جارہے ہیں۔اور یہ ہر طر ح سے سم قاتل ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ یہ کرنا ہے کہ اپنے معاشروں کی از سر نو قرآن وحدیث کے مطابق تنظیم کرنی ہے۔مغرب اور جدید تہذیب کی نقالی سے کام نہیں چلنے والا، بلکہ کام ا س سے چلے گا کہ ہم اپنے معاشروں کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close