معاشرہ اور ثقافت

روزہ اور مہنگائی کا عفریت

اشیائے خوردونوش اور روزمرہ کے استعمال کی چیزوں میں رمضان کے آتے ہی دوگنا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

میم ضاد فضلی

ویسے تو رمضان المبارک کا مقدس مہینہ رحمتوں اور کرم کا مہینہ کہلاتا ہے۔ البتہ ہمارے ہاں مسلم محلوں میںیہ مہینہ منافع خوری ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کیلئے موزوں ترین بن جا تا ہے۔ رمضان سے متعلق مشروبات اورعید کے ملبوسات تیار کرنے اور بیچنے والی کمپنیوں کے اشتہارات کی بھرمارہوجاتی ہے اور غریب مسلمانوں کیلئے خوشی کے اس عظیم موقع کو نفع خوروں کی حرام خوری سوہان روح بنادیتی ہے اوریوں رمضان کے مہینے کی سادگی کے درس کا کھلے عام مذاق اڑایا جاتا ہے۔

اشیائے خوردونوش اور روزمرہ کے استعمال کی چیزوں میں رمضان کے آتے ہی دوگنا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مسلمان پرچون فروش سے لیکر ہول سیل ڈیلرتک مسلمان تاجر اس کام میں آگے آگے ہوتے ہیں یوں مہنگائی کا ایک طوفان ہے جسے کہ جان بوجھ کر اس مہینے میں پیدا کیا جاتا ہے اور عام آدمی کی زندگی کو ماہ رمضان میں بھی تکلیف دہ بنا دیا جاتا ہے۔غیر معیاری اور دو نمبر مشروبات کی بھرمار کر کے روزے داروں کی صحت سے کھیلنے کے بعد تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ڈالی جاتی ہے کہ حکومت کی نااہلی کے باعث مہنگی یا جعلی اشیا ء بکتی ہیں۔یہی نہیں کپڑے سینے والا درزی ہو یا جعلی مشروبات بیچنے والا دوکاندار سب اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے کام کے دام بڑھا دیتاہے اور یوں اس مقدس ماہ کو بھی نفع خوری کازرین مہینہ بنا لیا جاتا ہے۔

 پوری دنیا میں ایک اصول ہے کہ جب جب مذہبی تہوار آتے ہیں تو اشیاء سستی کر دی جاتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم لوگ اس مقدس مہینے کو اور زیادہ منافع خوری کیلئے استعمال کرتے ہیں۔یقین نہ آئے تو دہلی کے مسلم محلوں جامعہ نگر ،شاہین باغ ،پرانی دہلی ،جعفرآباد جیسے کثیر مسلم آبادی والے محلوں میں افطاری کیلئے پھلوں ،تیل ،چینی اور پکوڑوں میں استعما ل کی جانے والی اشیاء کی قیمتیں پوچھ کر دیکھ لیں اور موازنہ کرنے کیلئے انہیں اشیاء کی لسٹ لے جاکر کسی ہندو محلے کی دکان یا ’ایپل‘ ،’بگ بازار‘اور ریلائنس فریش جیسے بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں جاکر ایک مرتبہ بھاو معلوم کرلیں آپ کو خود اندازہ ہوجائے گا کہ رمضان میںٹوپی پہن کر خوبصورت داڑھی اور لمبی کرتی ،ہاتھ میں تسبیح لئے مکار آپ کی جیبیں کاٹنے کیلئے کس قدر تیز قینچی تیار رکھتے ہیں۔مرغ ،بوالر اور گوشت کی قیمتیں مسلم محلوں میں معلوم کریں اور اسی چیز کا بھاؤ ہندو محلے میں پوچھ کر دیکھ لیں۔صورت حال یہ ہوجاتی ہے عام دنوں میں یومیہ دیہاڑی مزدور جو کچھ اچھی چیزیں بھی کھالیتا ہے اور اپنے بچوں کے شوق بھی پورے کرلیتا  ہے ،اس رمضان کے طفیل اشیاء قیمتیں سن کر ہی ان مزدوروں کے ہوش اڑجاتے ہیں اور یوں رحمتوں برکتوں کا مہینہ رمضان ان کیلئے زحمتوں اور کبھی فاقوں کا سامان بن جاتا ہے۔

ظلم بالائے ظلم یہ کہ  رمضان کے مہینے میں ہم سر پر ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح لے کر یوں مومن بنے پھرتے ہیں گویا کہ ہم سے بڑاپارسا کوئی اور ہے ہی نہیں یا گویا کہ  ہم اتنے پکے سچے ایماندار مسلمان ہیں کہ جھوٹ بولنے اور جھوٹی قسمیں کھانے کا تصور بھی ہم سے نہیں کیا جاسکتا۔شاطر جبہ پوش نفع خور دکاندار آپ سے ڈھٹائی کے ساتھ بولے گا کہ ’آپ یہ کیلے لے جائیں، ایک نمبر مال ہے ،خداکی قسم صرف ایک روپیہ فائدہ رکھ کربیچنا پڑرہاہے ،اس لئے کہ ہمارے پھل فروٹ آگے سے ہی مہنگے آرہے ہیں‘ ،اس مکار نفع خور سے پوچھئے کہ جب یہ چیزیں آگے سے مہنگی آرہی جسے تو قسم کھاکر بول رہاہے تو وہی چیزیں ہندومحلوں میں مہنگی کیوں نہیں بک رہی ہیں۔

 ایک اورطبقہ ہمارے ہاں ماہ رمضان کو نمود و نمائش کیلئے بھی خوب پیش کرتا ہے۔جس نے پورا سال صارفین اور اپنے ملازمین و مزدروں کا خون چوس کر ڈھیروں جمع کئے رہتا ہے، اس کے یہاں خیرات اور سخاوت کے چشمے ابلنے لگتے ہیں ،اس ظالم سے پوچھئے کہ آج توافطار اور سحر پر دعوتوں کے نام پر یوں کھانے اور روپوں کا ضیاع  کررہاہے یہ رقم تو نے اپنے کتنے بے بس و لاچار مزدوروں کے حق مار کر اور ان کے خون چوس کر جمع کی ہے۔حالانکہ افطار میں اس قسم کی نمائش و سخاوت بھی اس مقدس ماہ کی اصل روح ہے جو کہ قربانی اور اپنی خواہشات کو مارنے سے متعلق ہے ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یوں ایک غریب یا متوسط مسلمان کیلئے یہ ماہ رمضان بھی اپنی سفید پوشی کا بھرم بچانے کی تگ و دو میں گزر جاتا ہے۔خیر ہمیں اس سے فرق ہی کیا پڑتا ہے، ہمیں تو دکھاوا اور لوٹ مچانے سے فرصت ملے تو کچھ آخرت کی فکر کر یں ۔غرضیکہ رمضان میں چونکہ شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے اس لئے جہاں شیطان چھٹی کے لئے کمر باندھتا ہے، وہیں مسلمان کاروبار کے لئے کمر کس لیتے ہیں اور غریب ومزدور مسلمان روزہ دار وں کو اس نفع خوری کی وجہ سے کیسے خون کے آنسو روناپڑتاہے یہ تواسی غریب کا دل جانتاہے۔

اس کے برخلاف یورپ میں عیسائیوں کے تہواروں کی آمد سے پہلے ہی دکانوں میں قیمتوں میں کمی شروع ہو جاتی ہے جو کہ پچیس فیصد سے لے کر پچھتر فیصد تک ہوتی ہے یعنی سو روپے کی چیز پچیس روپے تک آسانی سے مل جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرسمس اور ایسٹر کے موقعوں پر صرف کرسچن ہی خریداری کے لئے نہیں نکلتے بلکہ مسلمان بھی عید کی پیشگی تیاری کر لیتے ہیں۔یہی صورت حال وطن عزیز میں برادران وطن کے تہواروں کی بھی ہے ،جس میں ڈسکاؤنٹ اور آفرس کی باڑھ آجاتی ہے اور برادران وطن کے تہواروں کے طفیل مسلمانوں کے متمول اور غریب گھروں میں آفراور ڈسکاؤنٹ کے توسط سے روزہ مرہ استعمال کی اشیاء جیسے برتن ،کٹورے ،پیالے حتیٰ کہ ریفریجریٹر،مکسر گرائنڈر اوراچھے ودیدہ زیب ملبوسات بھی غریبوں کی قوت خرید میں آجاتے ہیں،آپ اسی کپڑے کو مسلمان محلے کے جیب کترے دکاندار سے خریدیے اور اسی کو ہندومحلوں کی دکانوں مثلا چاندنی چوک ،گاندھی مارکیٹ وغیرہ سے خرید کر دیکھئے ۔فرق خود بخود آپ کو معلوم ہوجائے گا۔یہی وجہ ہے کہ برادران وطن کے محلوں میں عموعی طور پر بھی امیر اور غریب کے طرز زندگی میں زیادہ فرق دکھائی نہیں دیتا اور خصوصاً اسطرح کے تہواروں پر قیمتوں میں کمی معاشرے کے ہر طبقے کو ان تہواروں کو بھرپور طریقے سے منانے میں مدد دیتی ہے اور تہوار کی خوشیاں پورا معاشرہ یکساں طور پر محسوس کرتا ہے۔جب کہ ہمارے مقدس مہینوں اور تہواروں کے موقعوں پر امیر وغریب کی کھائی اورزیادہ گہری ہوجاتی ہے ۔

اسلام! جو ہمیں مساوات کا سبق دیتا ہے، اسلام! جو ہمیں قربانی کا سبق دیتا ہے، اسلام جو کہتا ہے کہ آپ کا پڑوسی بھوکا نہ سوئے۔ ہمارے یہاں رمضان میں کیا ہوتا ہے؟

رمضان شروع ہوتے ہی امّتی ناجائز منافع خوری کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ پچیس روپے کی چیز ایک سو پچیس تک پہنچ جاتی ہے۔ سبزیاں، پھل اور عام اشیائے خورد و نوش کی چیزیں اتنی مہنگی ہو جاتی ہیں کہ اچھا خاصا کمانے والوں کے بجٹ بھی بگڑ جاتے ہیں۔ متوسط اور غریب طبقات کے دستر خوان پر جو کبھی پھل دکھائی دے جاتے تھے، رمضان مقدس کی ہوش ربا مہنگائی کی وجہ سے وہ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔رمضان کا سب سے زیادہ اثر اس طبقہ پر پڑتا ہے جن کے لئے زندگی پہلے ہی مشکل اور ضروریات زندگی پہلے ہی شجر ممنوعہ ہوتی ہیں۔ یہ وہ غریب دیہاڑی دار لوگ ہیں جو روز کماتے اور روز کھاتے ہیں، جنہیں ایک دن کام نہ ملے تو دوسرے دن گھر میں فاقہ ہو جاتا ہے۔ ان کیلئے روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب فاقوں میں اضافہ ہے۔

سیاسی لوگ اور مذہب کے ٹھیکیدارتنظیموں کے قائدین رمضانوں میں افطار پارٹیاں کرتے ہیں اور اس میں ایک وقت میں جتنے لاکھ خرچ کردیے جاتے ہیں اتنیمیں ہزاروںغریبوں کے مہینہ بھرکی افطا ر ی کا انتظام ہوسکتا ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہی ناجائز منافع خور رمضان میں زیادہ سے زیادہ خیرات و صدقات بھی کرتے ہیں مگر ناجائز منافع کما کر اس میں سے خیرات کرنے سے وہ مال پاک نہیں ہو جا تا ۔ ایسے لوگوں سے صرف اتنی ہی استدعا ہے کہ لوگوں تک صدقات و خیرات پہنچانے کے بجائے مساوات پہنچائیں۔ زیادہ منافع کمانے کے بجاتے قیمتوں میں کمی کر کے صدقہ دیں تاکہ چیزیں لوگوں کی پہنچ میں ہوں اور ان کی عزت نفس بھی محفوظ رہے اور آپ کا نامہ اعمال بھی۔ان نفع خور صدقات بانٹنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ عام غریب مسلمانوں کا خون نچوڑ کر خیرات بانٹ رہے ہیں مگر یہ خیرات وہی لے سکتے ہیں جو انتہائی مجبور ہوچکے ہوںاور ہاتھ پھیلانے کے علاوہ زندہ بچنے کیلئے ان کے کوئی چارہ باقی نہ رہا ہو یا بھیک مانگنے کے عادی ہوں ،جبکہ جولوگ خود دار اور کسی کے سامنے دست سوال دراز کر نے سے زیادہ بہتر یہ سمجھتے ہیں کہ اجتماعی خودکشی کرکے اس ظالم مسلمان سماج سے چھٹکارہ حاصل کرلے ایسے خوددارغریبوں تک تمہارے خیرات مدد کیسے پہنچ پائے گی۔سوچئے اس کا ذمہ دار کون ہوگا اجتماعی خوکشی کرنے والا خوددار یا مہنگائی اور نفع خوری کے عادی جنہوں نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے وہ بھی کہیں نہ کہیں اللہ کی گرفت میں آئیں گے۔ اللہ کریم ہمیں شعور کی دولت نصیب فرمایے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close