معاشرہ اور ثقافت

زنا بالجبر اور عصمت دری سے کیسے بچا جائے؟  

عورتیں جب اپنے گھر سے نکل کر بازاروں اور اسپتالوں کا رخ کریں تو اکیلے نہ جائیں بلکہ اپنے ساتھ کسی محرم کو ساتھ لے جائیں

مفتی سراج احمد مصباحی

(سیتامڑھی بہار)

  ہندوستان کے اندر آئے دن ایسے ایسے حوادث وواقعات رونما ہورہے ہیں کہ انہیں دیکھ کر اور سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، دل خون کے آنسوں روتا ہے، پورے جسم پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔کہیں قتل وغارت اور جنگ وجدال کا ماحول بنایا جارہا ہے تو کہیں مساجد ومدارس پر حملے کئے جارہے ہیں تو کہیں مسلمان بچے اور بچیوں کو اغوا کیا جارہا ہے تو کہیں عزت وآبرو کی پامالی کی جارہی ہے۔ لیکن ایک حادثہ اور واقعہ بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے، ملک ہندوستان کے اکثر علاقے اس حادثے کے شکار ہیں وہ حادثہ زنا بالجبر اور عصمت دری کا ہے ہماری مائیں اور بہنیں اس سے اب محفوظ نظر نہیں آتی ہیں ، جہاں دیکھئے اخبار سے لیکر ریڈیو تک یہ بات سننے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہے کہ’’ فلاں جگہ ایک آٹھ سالہ مسلم بچی کا ریپ ‘‘۔’’فلاں جگہ پندرہ سالہ مسلم لڑکی کی عصمت دری‘‘۔

 ابھی ابھی تازہ واقعہ کشمیر کا آپ نے سنا کہ آٹھ نو سالہ آصفہ نام کی بچی کے ساتھ کچھ درندوں نے اس کے ساتھ زنا بالجبر اور عصمت دری کرکے مارڈالا۔ اب ہماری ماں اور بہنیں گھر سے نکلنے سے ڈرتی اور خوف کرتی ہیں کہ کہیں انہیں بھی وہ درندے اپنی ہوس کا شکار نہ بنالیں ۔ لیکن یہ واقعہ پہلے اتنا زیادہ رونما نہ ہوتا تھا۔ جب سے بی جی پی کی حکومت نے ملک ہندوستان کے نظام کا ذمہ لیا ہے تب سے ہماری ماں اور بہنیں کثیر تعداد میں زنا بالجبراور عصمت دری کے شکار ہوچکی ہیں اور ہورہی ہیں ایسے وقت میں حکومت پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان بیماریوں کو منقطع کریں اور مجرموں کو بھانسی کے پھندے تک لے جائیں اور جن کے ساتھ یہ گھنونا فعل کیا گیا انہیں انصاف دلائیں مگر افسوس کہ یہ حکومت مجرموں کا ساتھ دیکر خود مجرمین کی فہرست میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ان کی بے راہ روی اور بے احتیاطی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اب اس سے کچھ امید نہیں کی جاسکتی ہے۔

 اس لیے اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم غوروفکر کریں اور سوچیں کہ کس طرح کی تدابیر اپنائیں جائیں جن سے ہماری ماؤں اور بہنوں کی عزت داغدار ہونے سے بچ سکے اور وہ خودکو محفوظ محسوس کرسکیں۔

  ذیل میں کچھ تدابیر پیش کی جارہی ہیں ۔ پڑھیں اوراپنی ماں اور بہن کو حکم دیں کہ وہ ان تدابیر پر عمل پیرا ہوکر اپنے آپ کو زنا بالجبر اور عصمت دری جیسے ہولناک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔

زنا بالجبر اور عصمت دری سے بچنے کی چند تدابیراور طریقے

(۱)اوّلاََ ہماری مائیں اور بہنیں گھر سے نکلیں ہی نالیکن جب گھر سے نکلنے پر مجبور ہوں توبھرکیلے لہنگے، جالی دار کرتے، پنڈلی اور ران سے چپکا ہوا شلوار، جسم کے نشیب و فراز کو نمایاں کرنے والا اسکرٹ اور جنس پینٹ، ناگن نما اور ہپی کٹ زلفیں ،ایک بالشت سے کم بلاوز پہن کر نہ نکلیں بلکہ نقاب پہن کر نکلیں اور اپنی اپنی بہو اور بیٹی کو حکم دیں کہ وہ بھی نقاب پہن کر ہی نکلا کریں کیوں کہ عورت کہتے ہی اسے ہیں جسے پردے میں رکھا جائے نیز شریعت اسلامیہ نے بھی انہیں پردے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وقل للمومنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن ‘‘(النور، آیت:۳۰)اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں اور اپنی خوبصورتی ظاہر نہ کریں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور اپنے ڈوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں ۔

 تفسیر روح المعانی میں اللہ تعالی کے فرمان ولیضربن علی جیوبھن کی تفسیر کرتے ہوئے جاہلیت کے دور کی بے پردگی کے بارے میں لکھتے ہیں :اس آیت سے مراد جیسا کہ امام ابن ابی حاتم نے جبیر سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی گردنوں اور سینوں کو اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ چھپائیں تاکہ اس میں سے کوئی چیز نظر نہ آئے اور زمانۂ جاہلیت کی طرح عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے سروں کو چھپاتیں اور انہیں اپنے پیچھے کی طرف پشت پر چھوڑ دیتیں پس ان کی گردنیں اور کچھ سینے ظاہردکھتے رہتے۔(تفسیر روح المعانی ج:۱۸،ص:۱۲۸)اس تفسیر سے بھی یہ واضح ہوگیا کہ اسلام میں پردے کی اہمیت کس قدر ہے اس لیے ہم اپنی ماؤں اور بہنوں سے گزارش کریں گے کہ وہ خود کو اسلامی ماحول میں ڈھال لیں اور پردے کا ماحول بنائیں ۔

ْ(۲)عورتیں جب اپنے گھر سے نکل کر بازاروں اور اسپتالوں کا رخ کریں تو اکیلے نہ جائیں بلکہ اپنے ساتھ کسی محرم کو ساتھ لے جائیں، اگر ایسا کیا جائے تو ممکن حد تک عورتوں کی حفاظت وصیانت ہوسکتی ہے اور وہ زنا بالجبر(ریپ کیس سے )بچ سکتی ہیں ۔

(۳)باہر کا ہر کام مرد ہی انجام دیں بازار جانا ہوتو مرد ہی جائیں عورت کو قطعاََ نہ بھیجیں الا یہ کہ عورت ہی کے جانے سے وہ کام پورا ہوسکتا ہے تو اب اس عورت کے ساتھ مرد بھی جائیں۔

(۴)بس، ٹرین وغیرہ میں عورتیں اکیلے سفر نہ کریں بلکہ اپنے شوہروں یا کسی محرم کے ساتھ سفر کریں ۔کیوں کہ عورت کے تنہا سفر کرنے کواللہ کے رسول ﷺ نے حرام فرمایا ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا:’’لا یحل لامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الآخر ان تسافر سفرا یکون ثلاثۃ ایام فصاعدا الا ومعھا ابوھا او اخوھا او زوجھا او ابنھا او ذو محرم منھا‘‘ (جامع الترمذی)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے اور اس کے ساتھ اس کا باپ یا اس کا بھائی یا اس کا شوہر یا اس کا بیٹا یا اس کا کوئی محرم نہ ہو۔

ایک دوسری حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :’’لا تسافر المرأۃ مسیرۃ یوم ولیلۃ الا مع ذی محرم‘‘(جامع الترمذی)عورت ایک دن اور ایک رات کی مسافت کا سفر کسی محرم کے بغیر نہ کرے۔

  مذکورہ احادیث سے ہمیں یہ درس ملا کہ عورتوں کو تنہا سفر کے لیے نہ چھوڑا جائے بلکہ کسی محرم کے ساتھ ہی سفر کرنے کی اجازت دیں ۔اس لیے ہم اپنی ماں اور بہنوں سے ادبا اور احتراما گزارش کریں گے کہ آپ اکیلے سفر نہ کریں بلکہ کسی محرم کو ضرور ساتھ لے لیں۔

(۵)اپنی بیٹیوں کو تاکید کریں بلاوجہ باہر نہ جایا کریں ۔ بیٹیاں اسکول یا کالج پڑھتی ہیں انہیں خود سے اسکول یا کالج چھوڑیں کسی اجنبی یا غیر معتمد آدمی کے حوالے نہ کریں ۔ اسکول بس میں جانے سے بھی گریز کریں کیوں اب ان بسوں سے بھی اعتماد اور بھروسہ  اٹھ گیا ہے۔

  اخیر میں ہم اپنی ماؤں اور بہنوں سے اپیل اور گزارش کرتے ہیں کہ آپ اپنی عزت کی حفاظت کریں اور مذکورہ تدابیر کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ خود کو محفوظ تصور کریں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. پچھلے کچھ دنوں سے جنسی درندگی کے بے شمار واقعات سامنے آئے ۔ کشمیرکے کٹھوامیں جنسی درندگی تو محور رہا اور اب تک ہے کہ مسائل حل نہ ہوئے اور مجرم پکڑے نہ گئے ۔
    یہ تو معصوم بچیوں کے واقعات ہیں ۔ ننھی پریاں مار دی۔گئیں ۔ لیکن ہم نے ننھے معصوم بچوں کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہ دے پاۓ یا یہ موضوع زیر بحث آتا بھی ہے تو بہت اہمیت کے ساتھ نہیں ۔ اس بارےمیں ایک بہت اہم نفسیاتی مسئلہ یہ ہے کہ ایسے درندے شک سے بچنے کے لیے عموماًلڑکوں کا شکار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہندوستان میں جوان لڑکوں اور مردوں کی ایک بہت بڑی تعداد لواطت یا ہم جنس پرستی کا شکار ہو چکی ہے۔ وجہ اس کی یہ بھی ہے جو لڑکا پہلے شکار بنتا ہے اور اس فعل کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنی جوانی میں شکار اور شکاری دونوں کا کردار ادا کرتا ہے ۔
    اس بارےمیں ماہرین متفقہ تجاویز دیتے نظر آتےہیں کہ:
    اگر بچے میں آپ درج ذیل علامات دیکھتے ہیں تو ان پرتوجہ دیں۔
    بلا وجہ غیر معمولی غصہ،
    ڈپریشن،
    الگ تھلگ رہنا
    اور ایسی گفتگو کرنا جو ان کی عمر کے حساب سے مناسب نہ ہوں۔
    بلا وجہ ان کے کپڑے پھٹے ہوں یا ان پر مخصوص داغ،
    جسم پر نیل یا کھرونچوں کے نشانات جن کی وجہ بچہ آپ کو نہ بتا پائے۔
    ان کے اعضائے مخصوصہ کے پاس سرخی، سوجن، بار بار ہونے والے پیشاب کی نالی کے انفیکشن،
    پیٹ درد
    اور مستقل پریشان رہنا۔

    یہ ضروری نہیں کہ کہ ان میں سے ہر علامت اسی طرف جاتی ہومگر بچوں کی ان علامتوں کی سنجیدگی سے وجہ معلوم کریں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ اکثر صورتوں میں کوئی واضح علامت نہیں ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو ان کے جسم کے متعلق ابتدائی معلومات اس طرح دینی چاہئیے کہ انہیں یہ اندازہ ہو جائے کہ ان کے جسم کے کس حصے کو لوگ چھو سکتے ہیں اور کس حصے کو نہیں۔ یعنی ان میں ستر کا احساس نہ صرف پیدا کریں بلکہ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو بچے کو یہ اعتماد دیں کہ وہ آپ کو فوراً بتائے۔
    بچے ہمارا مستقبل ہیں یقیناً ہم میں سے کوئی نہیں چاہے گا ان نازک پھولوں کو کوئی اپنے سخت ہاتھوں اور حیوانیت سے مسل دے۔

متعلقہ

Close