تبصرۂ کتبمعاشرہ اور ثقافت

زندگی گلزار ہے!

اشرف لون

(فراڑ سے جیو گے تو خار ہی خار ہے)

 زندگی گلزار ہے، ہاں زندگی گلزار ہے لیکن یہ تب ہی گلزار ہے جب ایک آدمی اسے انسان کی طرح جیے لیکن یہ اُن لوگوں کے لیے خار ہی خار ہے جو اس کو فراڑ کے طور پر جیتے ہیں اور پھر ان کی پوری زندگی دھوکہ دہی اور فراڑ ہی بنتی ہے۔

’’زندگی گلزار ہے ‘‘  نام کا ایک پاپولر لٹریچر کا ناول عمیرہ احمد نے لکھا جو عوام و خواص میں اتنا مقبول ہوا کہ اس ناول پر اسی نام سے ایک انتہائی مقبول ٹی وی سیریل بنا۔اور اس سیریل نے ناول کی مقبولیت کو بھی پیچھے چھوڑ کر پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کی جو آج تک برقرار ہے اور جس کی معنویت ہمارے سماج میں ہمیشہ برقرار رہے گی۔

اس ناول کی کہانی بنیادی طور پر دو ایسے افراد (کرداروں )کی کہانی ہے جنہوں نے دو مختلف ماحول میں پرورش پائی ہیں۔ جن کا رہن سہن، اٹھنا بیٹھنا،  سوچ مختلف ہے۔عموماََ کسی بھی ناول یا افسانہ یا سیریل کا ایک مرکزی کردار ہوتا ہے لیکن یہاں اس کے برعکس دو مرکزی کردار ہیں۔ زارون جاوید اور کشف مرتضیٰ۔۔۔زارون ایک اعلیٰ طبقے کا کردار ہے جس کو ہر چیز بنا کسی محنت و مشقت کے مل گئی ہے یا  کہ سکتے ہیں کہ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوا ہے۔ جس کی زندگی عیش و عشرت میں گزری ہے زارون ایک ماڈرن آدمی کی طرح ہر چیز کو ہلکے میں لیتا ہے۔ایک بے فکرا نوجوان۔ وہیں کشف مرتضیٰ جوو ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے جس کے باپ نے دوسری شادی اس وجہ سے کی ہے کہ اس کی پہلی بیوی’’لڑکے کو جنم دینے سے قاصر تھی‘‘۔ کشف اور زارون کا اندراج(ایڈمشن) نیا نیا یونیورسٹی میں ہوا ہے اور یہیں پر ان کی پہلی ملاقات ہوتی ہے۔اور پہلی ہی ملاقات صحیح انداز میں نہیں ہوتی یا یوں کہیے کہ پہلی ہی ملاقات میں دونوں کی آپس میں توتو میں میں ہوتی ہے۔یہیں سے کہانی ایک نیا موڑ اختیار کر لیتی ہے اور زارون،  کشف مرتضیٰ سے بدلہ لینے کی ٹھان لیتا ہے اور اُس کو اپنے دام محبت (جو فریب پر مبنی ہے) میں اتارنا چاہتا ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور زارون اپنا جال پھینکتا رہتا ہے۔مختلف حربے اور بہانوں سے وہ کشف کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے یا یوں کہیے کہ اُسے اپنے جال میں پھنسالیتا ہے۔ لیکن عین اُس وقت کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے جب زارون اور اس کے دوست کشف مرتضیٰ کی نادانی اور جال میں پھنسانے کی باتیں کرتے ہیں اور اپنی کامیابی کے جشن کا پراگرام ترتیب دیتے ہوتے ہیں کہ کشف ایک طرف چھپ کر ان لوگوں کی یہ تمام باتیں سُن لیتی ہے۔ اور زارون کی تمام چالوں اور فریب کاریوں پر پانی پھر جاتا ہے۔

 ’’زندگی گلزار ہے‘‘ جیسی کہانیاں آج ہمارے سماج میں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں لیکن ان کہانیوں کا خوشحال اختتام Happy Ending) خال خال ہی ہوتا ہے۔خصوصاََ ہماری یونیورسٹی اور کالجوں میں ایسی کہانیاں اب ہزاروں میں ہیں،  جہاں دھوکہ دہی اور فریب ہر طرف ہورہا ہے۔ سچی محبت اب صرف داستانوں اور قصوں تک محدود ہوگئی ہے۔ہمارے سماج کے ہر شعبے میں بالخصوص محبت کے نام پر فراڈ اور دھوکہ اتنا سماگیا ہے کہ اب ان کے خلاف بولنے والوں کوبے وقوف اور احمقوں کی دنیا میں رہنے والا کہا جاتا ہے۔یہ صرف تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ اس ’’فریب دام محبت‘‘ میں جب کوئی معصوم پھنس جاتا ہے تو حقیقت سامنے آنے پر ن  فراڑ پر مبنی کہانیوں کا اختتام جرائم پر ہورہا ہے۔

ہمارا سماج دن بہ دن جدید ہوتا جارہا ہے اور فون،  انٹرنیٹ اور دوسری جدید صہولیتوں کے ساتھ ان سے وابستہ جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چند لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سماج اب پوری طرح (عام سطح پر )بکھر گیا ہے۔رشتوں کی معنویت دن بہ دن ختم ہوتی جارہی ہے۔مادیت اور زر پرستی نے آدمی کو انسان کے بجائے جانور میں تبدیل کر دیا ہے۔خونی رشتوں میں جیسے اب پانی بھر گیا ہے۔آخر کیا وجہ ہے اس کہ رشتوں کی معنویت دن بہ دن ختم ہوتی جارہی ہے۔ جدید معاشرتی جرائم وجود میں آرہے ہیں ؟؟؟؟ان سوالوں کا جواب یہی ہوسکتا ہے زر پرستی اور مغرب کے مادی کلچر کا بیج جو دھیرے دھیرے یہاں وقفے وقفے سے بویا جاتا رہا ہے اس نے اب ایک تناور پیڑ کی شکل اختیار کی ہے اور ہم اس کا پھل بھی اب کھا رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مغر ب سے اچھی چیزیں لینے کے بجائے ہم نے زیادہ تر غلط  اثرات ہی لیے ہیں۔

’’زندگی گلزار ہے‘‘ کا اختتام تو کشف اور زارون کی شادی پر ہوتا ہے۔ وہ اس لیے کہ زارون ایک ایسا نوجوان ہے جو عیش و عشرت کے ماحول میں پلنے کے باوجود ان معنوں میں مختلف سوچ کا مالک ہے کہ اُس کو اعلیٰ طبقے کی زندگی کا براہ راست مشاہدہ ہوتا ہے اور وہ اس سوسائٹی کی فریب کاریوں اور کھوکھلے پن سے پوری طرح واقف ہوتا ہے اور اس کھوکھلے پن سے اُکتا گیا ہوتا ہے اورزندگی میں پہلی بار کسی خود دار اور باغیرت لڑکی سے مات یا چوٹ کھانے کے بعد اُس کی سوچ میں اور زیادہ بدلائو آتا ہے اور اُس کے ذہن میں کشف کا خیال مٹانے سے بھی نہیں مٹتا۔اور یوں پھر یونیورسٹی تعلیم کے اختتام کے بعد اُن کی ملاقات ایک بار پھر ایک کمپنی میں نوکری کے دوران ہوتی ہے اور اپنے ا ستاد پروفیسر( اورزارون کے والد کے دوست)کے ذریعے ان کی شادی طے پاتی ہے جن کا سماجی پس منظر بھی مختلف ہوتا ہے اور اقتصادی طور پر بھی ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔لیکن یہ رشتہ تبھی ممکن ہوپاتا ہے کہ زارون اعلیٰ طبقے کی کھوکھلی زندگی یا ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس طبقے کی لڑکیوں سے مایوس ہو جاتا ہے۔ اتنا مایوس کہ ایک اعلیٰ طبقے کی فیشن پرست لڑکی اور سابقہ دوست کے ساتھ کی ہوئی اپنی منگنی بھی توڑ دیتا ہے اور پھر ایک غیرت مند اور خود دار لڑکی کواپنی لیے شریک حیات کے بطور چُنتا ہے۔

ناول میں متوسط طبقے کی ایک عورت اور ایک نوجوان لڑکی کو زندگی کے مسائل بالخصوص اقتصادی مسائل سے جھوجتے ہوئے دکھایا گیا۔اور ساتھ ہی اس نام نہاد روایتی مگر جہالت پر مبنی ذہنیت کا بھی پردہ فاش کیا گیا ہے جہاں مرد اب بھی لڑکیوں کو لڑکوں سے کم رتبہ گر دانتا ہے۔ کشف کی ماں کو لڑکا نہ ہونے پراس کا والد دوسری شادی کرتا ہے اور اپنی نئی بیوی  کے ساتھ نئے گھر میں رہنے لگتا ہے۔ اس  واقعہ کے بعدکشف اور اس کی ماں کس طرح مصیبتوں کا مقابلہ کرتی ہیں اور اس کی ماں اپنی لڑکیوں کی پرورش اور تعلیم کا انتظام  کس طرح کرتی ہے وہ قابل رشک بھی ہے اور سبق آموز بھی۔

’’زندگی گلزار ہے ‘‘ ناول کا اختتام جس طرح ہوتا ہے ویسے اختتام کا تصور کرنا ہمارے سماج میں اب احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔جس سماج میں فریب،  مکر،  دھوکہ دہی،  زر پرستی،  رشوت ستانی، ہوس پرستی اب کار ثواب سمجھا جاتا ہو۔ جس کے بارے میں پہلے ہی پیشن گوئی ہوئی ہو کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سماج میں گناہ کو گناہ تصور نہ کیا جائے گا بلکہ اسے فخریہ طور پر انجام دیا جائے گا،  ایسے سماج میں کسی کہانی کا خوشحال اختتام کا تصور کرنا ہی فضول ہے۔

 ہمارے سماج میں سچی محبت کا جنازہ تو کب کا نکل چکا ہے لیکن اب رشتوں میں بھی غلاظت بھر گئی ہے۔یونورسٹی اورکالج میں اب ایسا فراڑ کلچر پنپ رہا ہے جس کا تصور کرنا اب سے کچھ سال پہلے محال تھا لیکن جو اب حقیقت بن گئی ہے  بہت سے افراد اس جال میں پھنس جاتے ہیں یا اس فراڈ کلچر کا شکار ہوتے ہیں اور یہ جال بالآخر ان کے رشتوں کے ٹوٹنے پر ہی کٹ جاتا ہے۔ایسے بہت سے معاملات اب یونوسٹیوں میں سامنے آرہے ہیں جہاں پر ایک لڑکے یا لڑکی کی منگنی ہوئی ہے لیکن اپنے منگیتر اور گھر والوں سے دور پاکر وہ نئے رشتے قائم کرتی  یا کرتاہے۔دوسرے لفظوں میں ہم ’’غیر ازدواجی رشتے‘‘ (extra marital affairs) اور غیر منگنی رشتے

  (extra engagement affairs)  اور’ متعددفراڑ رشتے‘ (Multiple fraud affairs) بھی کہہ سکتے ہیں اور یہ رشتے’ ہالی وُڑ‘ اور ’بالی وُڑ‘ سے ہمارے سماج میں درآمد کیے گئے ہیں۔ کچھ غلطیاں تو  وہ حالات سے مجبور ہوکر کرتے ہیں لیکن ایسے زیادہ تر رشتوں کی بنیاد  فریب اور دھوکہ پر ہوتی ہے۔اس میں صرف ان لڑکے لڑکیوں کا زیادہ تر منشا یہی ہوتا ہے کہ وقت گزاری ہوجائے اور اپنا کام نکالا جائے۔لیکن اب جب کہ دھیرے دھیرے ہمارے سماج نے پوری طرح کایا کلپ کر لیا ہے تو کوئی اچھنبا نہیں کہ اب ایسے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جہاں ان فریب پر مبنی رشتوں کا اختتام کسی بڑے جرم پر ہو۔کیوں کہ ہر بار سامنے والا فریبی نہیں کہ وہ اس ’’فریب پر مبنی ‘‘ رشتے میں اس طرح ملوث involve)) ہوتا ہے کہ اس کے لیے اس سے باہر آنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ پھر کوئی بڑا جرم۔حال ہی ایک مشہور یونیورسٹی میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس میں ایک منچلے عاشق نے پہلے اپنی ’’فریبی‘‘ معشوقہ کو  یہ پتہ چلنے پر کہ وہ کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ بھی رشتہ میں ہے (یا اس کی منگنی پہلے ہی طے ہوگئی تھی)گولی ماردی اور پھر خود زہر کھا کر موت کے منہ میں چلا گیا۔

 آج رشتوں کی معنویت ختم ہوتی جارہی ہے۔پیسے کی ریل پیل سے خون، پانی میں تبدیل ہوچکا ہے۔قدروں کا زوال  ہورہا ہے۔ اس سماج میں بالی وڑ اور ہالی وُڑ کا پُرفریب کلچر اب پوری طرح سماچکا ہے۔مغربیت نے ہمیں پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اذانیں تو ہر طرف ہورہی ہیں لیکن ان اذانوں میں اب وہ’ روحِ بلالی‘ ختم ہوچکی ہے۔ ہم  نے اب بہت سے نقاب اپنی جیب میں رکھے ہیں جہاں جیسا موقع ملا وہاں ویسا نقاب پہن لیا۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب انسان کے باطن کا زنگ اور میل ان نقابوں پر اتر آتا ہے جو انسان کو شرمشار کرکے چھوڑ جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close