معاشرہ اور ثقافت

 سال 2018ء اور مسلمان!

محمد وسیم

نئے سال کی آمد آمد ہے، پورے ملک میں رنگا رنگ پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں، اور میں بحیثیتِ مسلمان یہ کهہ سکتا ہوں کہ نئے سال کی آمد پر منعقد سارے غیر اخلاقی پروگرام عذابِ الٰہی کو دعوت دے رہے ہیں، اس طرح کی خوشی کے اظہار کی ہمارے یہاں کسی بھی طرح کی گنجائش نہیں ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہر گزرتے لمحے میں ہم موت سے قریب ہو رہے ہیں، وقت جیسے جیسے گزرتا ہے زندگی کی مدت کم ہوتی جاتی ہے، مگر ہمیں اس چیز کا احساس تک نہیں ہوتا، آج جیسے ہی رات کے 12 بجیں گے ویسے ہی 2018ء کا سال شروع ہو جائے گا- اور ہم سب اپنی زندگی کے ایک اور سال پورے کر چکے ہوں گے، بحیثیتِ مسلمان ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہم سب کو ایک اور نیا سال عطا کیا ہے- اور دعا بھی کرنی چاہئے کہ 2018ء کا سال ہم سب کے لئے بخیر و عافیت والا ہو، کیوں کہ نئے سال کی خوشی میں پورے ملک میں ہو رہے پروگراموں سے ہم کو کسی بھی طرح کا سواےء نقصان کے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں سچا اور پکا مسلمان بنایا ہے- اور بہترین زندگی گزارنے کے لئے اس نے ہمیں اسلام جیسا بہترین نظام دیا ہے- جو ایک مکمل ضابطہء حیات ہے، مگر جب نیا سال، اور کافروں کے تہواروں کی بات آتی ہے تو ہم اسلام کی تعلیمات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں، اور نئے سال کی آمد پر ہم سارے کام غیروں والے کرتے ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ کتنے ہی مسلمان کافروں کے ذریعے سجاےء گئے پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں – اور ہر قسم کی بے ہودہ اور ناجائز محفلوں میں شرکت کو اپنے لئے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں، جب کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نئے سال کی آمد پر ہم غیروں کی طرح کا رویہ نہ اپناتے- بلکہ عالمِ اسلام کی بھلائی کے لئے منصوبہ بندی کرتے، نئے سال کی آمد پر جشن یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے، اس لئے نئے سال کے جشن میں شریک ہو کر کسی بھی طرح سے خوشی کا اظہار کرنا حرام ہے

آج 31 دسمبر کو پورے ملک میں نئے سال کی آمد پر پروگراموں کا اہتمام کیا جائے گا، فلم دیکھنے کی، پارٹی کرنے کی، مخلوط محفلوں کے انعقاد کی اور شراب و کباب کی ساری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں – جیسے ہی رات کے 12 بجیں گے سارے پروگرام شروع ہو جائیں گے، شراب کثرت سے پی جائے گی، فضول خرچیاں کر کے بے پناہ دولت صرف کی جائے گی، غرض کہ گناہ کے سارے ذرائع استعمال کئے جائیں گے، آج کے دن بے پناہ دولت خرچ کی جائے گی جس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہو جائے گا، ایک اندازے کے مطابق 2011ء میں صرف شراب نوشی پر دہلی میں ایک ارب روپےء خرچ کئے گئے تھے، آج رات روےء زمین گناہوں سے بھر جائے گی، انهیں حرام امور سے نئے سال کی شروعات ہوگی، مگر کافروں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بهی ایک بڑی تعداد اس طرح کے پروگراموں میں شرکت کر کے عذابِ الٰہی کے غضب کو دعوت دے گی، ہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ نئے سال کی مناسبت سے کسی بھی طرح کی خوشی میں شرکت سے دور رہیں۔

قارئینِ کرام ! نئے اسلامی سال کی آمد پر ہم کفار و مشرکین کی طرح خوشی میں ڈوب کر عذابِ الٰہی کو دعوت نہ دیں – آج پوری دنیا میں مسلمان درد بھری زندگی گزار رہے ہیں، عالمِ اسلام یہود و نصاریٰ کی سازشوں سے پریشان ہے، کئی اسلامی ممالک میں ہمارے مسلمان بھائی مظلومانہ زندگی گزار رہے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف لگاتار سازشیں ہو رہی ہیں اور ان کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں، تین طلاق کے بہانے ظالمانہ قانون بنا کر ہندوستانی مسلمان عورتوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، ان کی مدد کرنا ہم پر فرض ہے، مسلمانوں کی خوشی و غمی میں شریک ہونا ہی ہمارا دینی فریضہ ہے-

اس لئے نئے سال کی آمد پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی ساری طاقت و قوت عالمِ اسلام کے دفاع کے لئے اکٹھا کریں گے، اب آئندہ کی زندگی میں ہم عالمِ اسلام کی بھلائی کے لئے ہر قدم اٹھائیں گے- اور ہندوستان میں موجود مسلمانوں سے جھوٹی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والی منافق سیاسی پارٹیوں، جھوٹے مفاد پرست مسلم رہنماؤں اور فرقہ پرست طاقتوں کو بهی منہ توڑ جواب دیں گے….ان شاء اللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close