معاشرہ اور ثقافت

سماجی اقدار پر سوشل میڈیا کے اثرات

مُبینہ رمضان
عصر حاضر میں ایک طرف سے ٹی وی نے مشاہدین کو پوری طرح اپنی گرفت میں لیا ہے تو دوسری طرف انٹرنیٹ نے پوری طرح نوجوان نسل کو جذب کرلیا ہے۔ ایک مشاہد ( Browser )اپنی ساری صلاحیت اسی کی طرف مبذول کرتا ہے تو کُلی طور پر اسکے اندر متغرق ہوجاتا ہے اور ددیگرکاموں میں دلچسپی لینے سے قاصر ہوتا ہے۔ چوبیس گھنٹے چلنے والے ملکی وغیرملکی نشریاتی چینلوں کے ذریعہ مغربی تہذیب و ثقافت کی تشہیر سے ہماری نوجوان نسل کے کردار سیرت پر جو منفی اثرات ظاہر ہوگئے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں نئی نسل ، ماہرین نفسیات آئے دن جدید تحقیقات کے ساتھ اپنے تاثرات پیش کرتے ہیں۔ ایک ماہر نفسیات لکھتے ہے کہ’’ ٹی وی بچوں میں پڑھنے کی مہارت میں انحطاط کی پوری طرح ذمہ دار ہے وہ کم علم، زیادہ بے چین اور پڑھائی میں کمزورپائے جاتے ہیں‘‘۔ بچے جتنا ٹی ویکھتے ہیں اتنا ہی لکھنے کی قدرت کمزور ہوتی ہے۔ ٹی وی کے اثرات براہ راست جسمانی و نفسیاتی صحت پر پڑھتے ہیں منفی کردار سازی کے لئے بھی ٹی وی کے مہلک اثرات ذمہ دار ہیں ۔ امریکہ واشنگٹن کے زیادہ ترما ہر نفسیات اس بات کو تحقیق سے ثابت کرچکے ہیں کہ معاشرہ میں پھیلے زہریلی جرائم کے پس پردہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کا بے جا استعمال ہیں۔ معاشرہ کے اعلیٰ ، متوسط وادنیٰ طبقوں پر میڈیا کے یہ رُکن اچھے سے اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہیں کہ ٹی وی مشاہدین اگر ساری باتوں کو بھول جاتے ہیں لیکن جوجرائم ٹی وی میں عملی طور پر دِکھائے جاتے ہیں وہ بچوں کے دل و دماغ پر عکس پزیرہوتے ہیں۔ بچوں کا دماغ تو کورے کاغذ کے مانند ہوتا ہے وہ نقش چاہیں گے چڑا سکتے ہیں۔ اگر ٹی وی ان عملوں کو اپنے شعور میں محفوظ کرتے ہیں تو اسکا رد عمل ضروری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوتا رہے گا۔
ٹی وی پروگراموں اور کہانیوں کو جس انداز سے پردے پر پیش کرتا ہے وہ تو ایک بالغ ذہن کوکشش کرتا ہے بچوں کی توبات ہی الگ ہیں دراصل مغربی ذرائع ابلاغ نے انسانوں اور مشینوں سے ہی مسلمانوں کے دماغ کی تطہیر کا کام لیتے ہیں بہت ہی نازک او اعلیٰ معیار کو مد نظر رکھ کر انہوں نے چھوٹے پردے کو اتنا خوبصورت بنایا جس کے لئے نئی نسل کے دل و دماغ کو ناسور سے بھر کر تہلکہ مچایا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے تو اب میڈیا اتنافحش ہوا ہے کہ اب لوگ انہی معیاروں پر کھڑے ہونا اپنا معیار سمجھتے ہیں۔
بڑے سکرین پرمشاہدین کو ایک زمانے میں پیسے لگتے تھے لیکن جدید دور میں وہ سارے مسئلے چھوٹی سکرین سے حل ہوگئے۔ اب ایک دو یا تین چینل نہیں بلکہ سینکڑوں میں چینل سامنے آتی ہیں اور انسان کو اب چینل سیلکشن کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا ۔ ذرائع ابلاغ کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ پانچویں دہائی کے لئے فلموں میں جنسی معاملات کی طرف اشارے کرنا ممکن نہیں تھا۔لیکن اسکے بعد اسطرح کے معاملات کو عملی طورفلموں کے ذریعہ متعارف کیا گیا اور ایسے ہی معاملات کو دِکھانا اب معمول بن گیا۔
نو خیز نسل سے متعلق کارٹونوں یا سیریز متحرک کارٹونوں یا ویڈیو کمپنی سب جس جانوروں کو اشرف المخلوقات کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے ۔ان میں دیووں، دیوتاؤں، جنوں، ستاروں، پہاڑوں کو طاقت کا مرکز دکھایا جاتا ہے ۔ اور بچوں کی ذہین سازی اسی انداز سے کی جاتی ہے ایسے کارٹون سیریز میں اخلاقیات کاکس نام و نشان بھی نہیں ہوتا بلکہ بچوں کو ایک سوچی سمجھی ترکیب سے ذہن سازی کا کام کارٹون ہی کرتے ہیں۔ بچوں کو دل لُبھانے کا مشغلہ تو دور کی بات ہے اب نئی نسل کے لئے بھی ایسے پروگرام بے شمار پیش ہوتے ہیں جن سے بچے کے دماغ پر خاص اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایسے بچے پھر کوئی دینی بات ، نماز، پردہ وغیرہ سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔
ہماری بہن جو کہ ماؤں کے مرتبے پر فائز ہیں اس بات کو نظر انداز کرتی ہیں کہ بچوں کو ٹی وی سے صرف منفی اثرات ہی حاصل ہوتے ہیں۔ میں جب بھی کسی ماں سے سوال کرتی ہوں کہ بچے کیسے دل گذارتے ہیں تو سادگی سے جواب دیتی ہیں’’ انکو تو نصف دن کارٹون دیکھنے میں گذر جاتا ہے‘‘۔ والدہ یہ بالکل نہیں سوچتی کہ یہ بچے کو کارٹون کے ساتھ وقت گذارنا بچے کو زہر پِلانے کے مترادف ہیں۔ ایسا بچہ آہستہ آہستہ عادی ہوجا تا ہے اور ایک وقت کے بعد اسے صرف فضولیات میں دلچسپی ہوتی ہیں اور صرف لغو چیزون کو چاہتا ہے اصل کی طرف اسے کوئی چاہت ہی نہیں اور والدین پھر کہتے پھرتے ہیں ہمارے بچے ہماری ایک بھی نہیں سُنتے۔ ٹی وی نے اگر چہ بہت ہی معلوماتی پروگرام بھی رکھے ہوئے ہیں لیکن کیا یہ سارے پروگرام صاف و شفاف ہوسکتے ہیں (بے حیائی اور عریانیت کے بغیر)۔ کیا ہم انہیں اپنے گھر کے افراد کے درمیان دیکھ سکتے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اگر کوئی اس بات کا منکر ہے تو اُسے ماننا چاہئیے کہ آپ کو اُس معلوماتی پروگرام کے معلومات حاصل کرنے کے لئے بے حیائی، عُریانیت کے سارے Ads کوبھی مشاہدہ کرنا ہوگا تو بہتر ہوتا آپ یہ معلومات کُتب بینی سے ہی حاصل کرتے اور بچے کسی بھی عمر کے جب اپنی کمانڈ سے ٹی وی کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ صاف چینل ڈھونڈ نا ان کے بس کی بات ہی نہیں بالغ کے لئے گیہوں کو چاول سے الگ کرنے کا عمل جتنا مشکل ہے اُتنا ہی نابالغ کے لئے ٹی وی میں معلوماتی پروگرام تلاش کرنا ہے۔اِسلئے والدین کی خیر خواہی اسی میں تھی کہ ٹی وی کو گھروں سے خیر آباد ہی کہتے ۔
دوسرے بڑے شیطانی رُکن (انٹر نیٹ یا فون) کو ہی دیکھتے ۔ نام نہاد ترقی کا نام دیا ہے وہ تو صرف فضولیات کی طر ف ہمیں دھکیل رہا ہے۔سیل فون سے جتنے رابطے بڑ ھ چکے ہیں کہ اب گھر میں سبھی افراد کے جیبوں میں فون موجود ہوتے ہیں تو اب اسی انٹر نیٹ اور فو ن کا بے جا استعمال ہورہا ہے اور اب انہی چیزوں کے پیدا کردہ فتنے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ تین سال پہلے جب مائسمہ میں ایک نوجوان کا قتل ہوا تو وجہ انٹر نیٹ کا غلط استعمال تھا اور تین سال کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ایک دوست نے دوسرے دوست کو قتل کیا ہے کیونکہ وہ اُسکی دوست(girl friend) سے گپ شپ کرتا تھا جو اسکے لئے ناقابل برداشت تھا حالانکہ جو قتل ہوا اُسے بھی اُس لڑکی کو نہیں دیکھا تھا اور جس نے قتل کیا وہ بھی اس نے لڑکی کوبھی نہیں دیکھا تھا اور والدین سارے معاملے سے بے خبر تھے سوشل نیٹ ورکنگ Teenagers کے لئے زیادہ ہی سِم قاتل ثابت ہورہا ہے۔ کوچنگ کی طالبات راستے میں گاڑیوں میں فٹ پاتھ پر، دُکانوں، ہر وقت ہر جگہ chating کرتی رہتی ہیں۔ اور ایسے مستی سے کہ صاف عیاں ہوتا ہے کہ والدین کی نہ کوئی تربیت ہے اور نہ ہی کوئی نظم و ضبط ۔ Carriarism کے لئے اتنی کھُلی چھوٹ تو جانوروں کے مالک بھی اُنہیں نہیں دیتے ہیں۔ والدین تفکر سے کام لیں کہ بچوں کو کھُلی چھوٹ دینے سے کہیں لینے کے دینے نہ پڑیں تو پھر بچھتائیں گے۔ کتنا اچھا تھا کہ ہم بچوں سے غیر ضروری فون واپس لیتے اور گر بے حد مجبوری ہو تو سیل فون کو چیک کریں ۔ خاص کر جب بیٹیوں کو سیل فون دیں تو اِسے ہفتہ میں ایک بار ضرور جانچ لیں۔ یہ تو والدین کی اولین ذمہ داری ہیں۔
اب اگر انٹر نیٹ کے استعمال پر ایک نظر ڈالیں تو اسکا بھی حد سے بے جا استعمال ہورہا ہے اب تو نیٹ پیک، اعلیٰ و ادنیٰ درجے کے پیشے کے لوگوں کے پاس رہتا ہے۔ ہرقسم کے نیٹ پیک(net pack) کی بازار میں بہتات ہے۔ بچے دس سال سے کم بھی اور زیادہ بھی انٹر نیٹ کا استعمال کرتے ہیں سیل فون و Android فون میں نیٹ بچوں کے لئے کسی زہریلی وائرس سے کم نہیں۔ والدین سوچیں اگر بچوں کو جسمانی بیماری لگی ہے تو علاج ممکن ہے لیکن اگر کوئی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تو علاج کبھی مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بن جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کااستعمال بھی بالغ ذہنوں کے لئے بہت مشکل ہے۔ آئے دن انٹرنیٹ پر قابل اعتراض پوسٹ اور غلط نظریاتی تفاوات و عجیب خیالات پیش ہورہے ہیں دُنیا بھر کے فتنے ، فساد، جرائم، بے حیائی، عریاں، تصویریں، اسلام کے خلاف تصویر یں، ویڈیوزکی سرکولیشن نے بے نام طوفان برپا کردیا ہیں۔ اور اس طوفان میں مارا معاشرہ ڈوبتا جارہا ہے۔ یادرہے جب بھی کسی ضرورت کا بے جا استعمال ہوتا ہے تو نتائج برعکس ہوتے ہیں۔ ہمارے طلباء و طالبات صبح کا ناشتہ سے لیکر رات کے کھانے تک نیٹ کے ساتھ ہی چپکے رہتے ہیں۔ اور اب طلباء کتب بینی کی عادت سے بے خبر ہورہے ہیں۔ اگر یہ کاش والدین اپنے بچوں سے سیل فون چھین لیتے اور انہیں غیر ضروری استعمال نہ کرنے دیتے اگر ہم تھوڑی کوشش کریں تو اب بھی اس سیلاب کو روکا جاسکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مُبینہ رمضان

مضمون نگار ’’جامعہ اسلامیہ مہدالمسلمات‘‘ کی سربراہ ہے اور ایک سماجی و دینی تنظیم ’’انصارُالنساء‘‘ کی چیئرپرسن ہیں

متعلقہ

Close