معاشرہ اور ثقافتنظریات

سماج اور معاشرہ لبرٹی کا شکار: اسباب اور گلوخلاصی

محمد عرفان شیخ یونس سراجی

لبرٹی میں آج جو فائق ہیں سب سے

بتائیں کہ وہ لبرل بنے ہیں کب سے

آزادخیالی، مطلق العنانی ، ماڈرن  طرز معاشرت اور اختلاطی نظام سے بہت سارے  اغلاط واوہام،خرافات  اور برہمنہ پن سوسائٹیوں میں درآئی ہیں۔ لوگوں کے اذہان وافکار میں یہ بات ثبت ہوگئی ہے کہ گردش زمانہ کے ساتھ اپنے فکرو عمل  اور تخیلات وتصورات کی دنیا میں تبدیلی لانی غایت درجہ ضروری ہے، نئی نسلوں کے نقطہ نظر سے مطابقت  رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ان کے افکار ونظریات  اور طریقہ طرز معاشرت کی رعایت  ہماری زندگی کا جزو لاینفک ہے۔ حالانکہ اگر ذکر کیا جائے تو ہندو دھرم  اور دیگر مذہبی   ودھارمک لوگوں  کے کچھ دینی وسماجی اصول وضوابط ہیں  جن کی رو سے  زندگی کا سفرطے کرتےہیں، تاہم لبرٹی اور آزاد خیالی سے متأثر ہوکر ان لوگوں  نے  اپنی مذہبی  ودینی کتابوں نیز اپنے شرائع  واحکامات میں تحریف وتبدیل  کرکے اپنی نفسانی ہوس اور خواہشات کے مطابق جدید ترہات وخرافات اور اخلاق باختہ  اختراعات اور ایجادات نیز بے حیائیوں اور فحاشیوں کو فروغ دینے والے محرکات واسباب  کواپنے دین کا حصہ بنا لیا، جیسے یہودونصاری نے اپنے من کی ہوس  کی خاطر اپنی مذہبی کتابوں میں ردوبدل کردیا، عیسائیوں نے حضرت عیسى علیہ السلام کو درجہ الوہیت پر فائز کردیا، اور یہودیوں نے عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔

 ہم لوگ بھی اسی سماج ومعاشرہ کے پروردہ ہیں جہاں دیگر مذہی ودینی  معتقدات اور خیالات  کے حاملین وجود پذیر ہیں۔ ایک وقت تھا جب  مسلمہ عورتیں  گھر سے باہر نکلتے وقت برقع، نقاب، حجاب اور ان جیسے پہناوے کا اہتمام کرتی تھیں۔ ہندو دھرم کی عورتیں  ساڑیاں، قمیص  وپاجامہ  اور بلاؤز زیب تن کرتی تھیں، گرچہ اسلامی نقطہ نظر ان ملبوسات میں وہ پردہ نہیں جو برقع اور نقاب میں ہے، البتہ پہلے کی پوشاکیں سردست کی پوشاکوں سے لاکھ گنا بہتر تھیں، ہندو عورتیں اپنی تہذیب وثقافت کے اعتبار سے سسر اورجیٹھ کے سامنے گھونگھٹ کا پاس ولحاظ رکھتی تھیں، شائستہ رہن سہن کاثبوت دیتی تھیں، بڑوں کی موجودگی میں نہایت ہی ادب واحترام  اور  نفاست سے پیش آتی تھیں، اپنے والد کے عزت  ووقار اور پگڑی کی لاج رکھتی تھیں۔

بعدازاں ایسی طغیانی سمندری لہریں اٹھیں کہ تہذیب وثقافت، نستعلیقیت وعمدگی اور حیاداریوں کو اپنے اندر سمولیا۔ سردست کی صورتحال نہایت ہی نازک اور  نا گفتہ ہے، لڑکیاں اپنے والدین اوربھائیوں کے سامنے ایسے حیا کش  ملبوسات اور پہناوے کا اہتمام کرتی ہیں کہ جن کی بابت ان کے باغیرت والدین ان پر اپنی نظریں نہیں ٹکا سکتے،بدن کا نشیب وفراز اس قدر  ہیجان کن اور بھڑکیلا ہوتا ہےکہ گویا  صاف شفاف پانی میں برھنہ اورننگے کھڑی ہوں۔

 ماڈرن اسلوب معاشرت اور طور طریقہ کی بنا پر سماج ومعاشرہ  کا ماحول خزاں دیدہ اور  آلائشوں  و ذہنی غلاظتوں سے  مکدر ہوگیا ہے۔ لبرٹی اور مطلق العنانی فکر وعمل  نے   بد اخلاقیوں  و بے کرداریوں کا دروازہ اورجنسی خواہشات کی تکمیل کی کشادہ ترین   کھڑکیاں وا کردیا ہے، رقص وسرود اور مغربی تہذیب وثقافت اور  گھٹیا چال چلن   کا رواج عام کردیا ہے،  حریت پسندی  ، دین بیزاری، جنس پرستی اوردنیا پرستی  کے دام میں جکڑدیا ہے، اسلامیات اور دینیات سے  غافل کردیا ہے،اور تو اور ویلنٹائن ڈے جیسے  ناسور، اخلاقیات  باختہ اور انسانیت سوز عمل کو  معاشرہ میں پیوست کردیا ہے، جس سے  لڑکوں اور لڑکیوں میں مروجہ رسم اختلاط پیداہو رہی ہے اور زناکاریاں وفحاشیاں  میں زور وشور  سے اضافہ ہورہاہے۔

شیطان  اپنی معاندانہ اور دشمنانہ  پالیسیوں اور لائحہ عمل کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لیے،انسانوں کو قعر گمراہی میں ڈھکیلنے کے لیےنت نئے حربے اختیار کرتا رہتا ہے،بنابریں اللہ  تعالى نے  شیطان کو  انسان  کاکھلم کھلا دشمن قرار دیا ہے ہے، جیساکہ اللہ تعالى کا فرمان باری ہے:

 ”إِنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ“.(سورہ یوسف:۵)

ترجمہ: ”یقینا شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے“۔

فرمان باری تعالى ہے :

إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُوْا حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيْرِ“. (سورہ فاطر:۶)

ترجمہ:”یادرکھو شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے دشمن جانووہ  اپنے گروہ کوصرف  اس لیے بلاتا ہےکہ وہ سب جہنم  واصل ہوجائیں“۔

 نیز فرمان باری تعالى:

 ”يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ“.(سورہ النور:۲۱)

ترجمہ:”ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جوشخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے، وہ تو بے حیائی  اوربرے کاموں ہی کا حکم دے گا“۔

مذکورہ بالا آیات سے مستنبط   احکام:

1۔ شیطان روزاول سے انسان  دشمنی  میں اس قدر متحر ک وفعال ہے کہ ہمہ وقت اسے عبادات وحسنات اور صدقات وخیرات سے روکنے کے لیے اپنی  دسیسہ کاریاں انجام دے رہا ہے۔

2۔ شیطانی نقش قدم کی اتباع  اور پیروی انسان کو بے حیائی اور بدکاری کی طرف  لے جاتی ہے۔

3۔ اللہ تعالى نے بے حیائی وبدکاری کو مذکورہ  بالاآخری  آیت میں "فاحشہ” سے  تعبیر کیا ہے۔

4۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، سوشل میڈیا، فلموں اور عشقیہ اور حیاباکش ڈراموں  کے ذریعہ  بدکاریوں  اور فحاشیوں کو فروغ دینے والے اسلامی کٹگھرے میں بہت بڑے مجرم ہے۔

5۔ شیطان کسی بھی صورت میں انسان کا دوست اور ہمدردنہیں  ہوسکتا۔

6۔ اسلام انہی چیزوں پر بندش  لگاتاہے جو انسانیت کے لیے مضر ہوتی ہیں، جیساکہ اللہ تعالى نے شیطان کے  قدم بقدم چلنے سے منع کیا ہے۔

حرف آخر:

بے حیائیوں   کے طوفان کو روکنے کے لیے ہمارے اوپر یہ ذمہ داری  عائد ہوتی ہے کہ اسلامی سانچےمیں ہم اپنے خانوادے کی تربیت کریں، نبی کریم ﷺ كے  فرمودات اور ارشادات کے  تناظر میں  اچھے  ماحول کی تشکیل کریں، بےجارسوم ورواج، بدعات وخرافات، ایجادات وترہات سے بچنے کی اپنی اولاد کو تعلیم دیں۔ اس پرفتن وپرآشوب دور کے بچھائے ہوئے ہوس کے جال سے سماج ومعاشرہ میں بودوباش  اختیار کرنے والے کو بچانے کی اسلامی تجاویز پیش کریں، قرآن وسنت سے رشتہ استوار کرنے، ان  کے مفاہیم اور مستنبطہ مسائل کو  سمجھنے  کی تلقین کريں۔

لبرٹی  اور آزاد خیالی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں، كيوں کہ اسلام تو مکمل ضابطہ حیات ہے، زندگی جینے کے سارے احکام ہمیں روشناس كرتا ہے، انہی بتائے طریقے سے اپنی زندگی کو پر لطف بنائیں اور دنیا اور آخرت میں کامران رہنے کا سامان پیدا کریں۔

الله  تعالى سے دست بدعا ہوں کہ ہمارے قلوب واذہان کو خرافات اور خزعبلات سے پاک کردے  اور  پنپ رہی برائیوں وبے حیائیوں سے کوسوں دور کھے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عرفان شیخ یونس سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

متعلقہ

Close