معاشرہ اور ثقافت

سماج میں پھیلتی تصویر کشی کی وبا اور بے لگام ہوتے لوگ

ندیم احمد انصاری

فی زمانہ ڈیجیٹل تصویر کا چلن ہے اور اس مسئلے میں بڑی طول طویل گفتگو کی گئی ہے، ہم نہایت اختصار کے ساتھ چند باتیں سے پیش کریں گے۔  ان شاء اللہ۔  اس بابت موجودہ دور میں دو موقف پائے جاتے ہیں :

 (۱)مجوزین کا موقف:

اسلامی شریعت میں جان دار اشیا کی تصاویر کھینچنے یا بنانے سے منع کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے، لہٰذا احتیاط کرنی چاہیے، اور اگر مکمل تصویر نہ بنائی جاتی ہو بلکہ ’الیکٹرانک‘ (electronic) طریقے سے فقط پائنٹ(point) اور نقطے ہی بنتے ہوں اور وہ دیکھنے میں تصویر جیسے نہ ہوں تو تصویر بنانے کا گناہ نہ ہوگا۔ (فتاویٰ دینیہ)جدیدٹیکنولوجی سے جب تک فتنہ فساد یا شرعی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو، وہاں تک استفادہ کرنا جائز اور درست ہے اس لیے ریڈیو، ٹی وی یا موبائل کے ذریعے بیان سننا جائز ہے، تصویر دیکھنے سے جو گناہ ہوتا ہے اس کا تحقق ہوگا تو گناہ ہوگا، ضرورت اور مجبوری کے بغیر تصویر رکھنا، بنانا گناہ ہے۔  موبائل میں بزرگوں کی تصویر رکھنا گناہ ہے، تقریر میں تو صرف سننا مقصود ہے، دیکھنا نہ ضروری ہے اور نہ مفید، پھر اس میں مبتلا ہونے کی کیا ضرورت ہے، بچنا چاہیے۔  (ایضاً) تصویر کھینچنا ناجائز ہے اور اس میں گناہِ کبیرہ ہے، البتہ موبائل میں ڈجیٹل طریقے پر تصویر کھینچی جاتی ہے، اس میں تصویر نہیں بنتی، اس لیے گناہ نہیں ہوگا، اس مسئلے میں خواص اور عوام کا حکم ایک ہی ہے۔  (ایضاً)

(۲)مانعین کا موقف:

حضرت تھانویؒفرماتے ہیں کہ تصویرجس کو اس زمانے کی اصطلاح میں مرقع کہتے ہیں، احادیثِ صحیحہ کی رو سے اس کا بنانا، رکھنا سب حرام ہے اور اس کا ازالہ محوکرنا واجب ہے۔  ( امدادالفتاویٰ) ٹی وی اور ویڈیو فلم کا کیمرہ جو تصویریں لیتا ہے وہ اگرچہ غیر مرئی ہیں، لیکن تصویر بہرحال محفوظ ہے او راس کو ٹی وی پر دیکھا اور دکھایا جاتا ہے، اس کو تصویر کے حکم سے خارج نہیں کیا جاسکتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہاتھ سے تصویر بنانے کے فرسودہ نظام کے بجائے سائنسی ترقی نے تصویر سازی کا ایک دقیق طریقہ ایجاد کر لیا ہے، تصویر تو حرام ہی رہے گی۔ (تصویر اور سی ڈی کے شرعی احکام)موبائل فون کے ذریعے تصویر کھینچنا اور اس کو محفوظ کرنا، پھر خود دیکھتے رہنا یا ایک دوسرے کو دکھانا، یہ عمل شرعاً جائز نہیں۔  اس میں تصویر کشی کا گناہ الگ جو کہ حرام عمل ہے، پھر تصویر دیکھنا دکھانا بھی ناجائز ہے، اس کے علاوہ فضول اور لا یعنی عمل کا گناہ بھی ہے۔  (ایضاً)

   اسے جائز کہنے والے افراد اکثر حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا حوالہ دیا کرتے ہیں، جب کہ خود حضرت موصوف کا فتویٰ یہ ہے کہ فلم بلا شبہ تصویر کے حکم میں داخل ہے، البتہ براہِ راست پروگرام یا ویڈیو کیسٹ کا تصویر ہونا مشکوک ہے۔  ۔ ۔  ویڈیو کیسٹ کا غالب استعمال چوں کہ حرام کاموں میں ہو رہا ہے اور تبلیغی امور میں اس کے استعمال سے ویڈیو کیسٹ کے ناجائز استعمالات کی حوصلہ افزائی بہر حال ہوتی ہے، اس لیے تبلیغی امور میں بھی ویڈیو کیسٹ کو ذریعہ بنانا درست نہیں۔  اس کے علاوہ تصویر ہونے کا اگر یقین نہ ہو، تب بھی شبہ سے خالی نہیں۔  (اس لیے) تبلیغ کے کام میں بھی ٹی وی اور ریڈیو کیسٹ کا استعمال درست نہیں۔  خاص طور پر اگر علما ٹی وی پر جاکر تبلیغ کریں تو اس سے ٹی وی کے مذکورہ بالا مفاسد کی اہمیت ذہنوں سے ختم ہو جائے گی، اس لیے اس کا مشورہ نہیں دیا جا سکتا۔ (فتاویٰ عثمانی)

 نیز حضرت موصوف کی آرا کی وضاحت میں دارالعلوم، کراچی کے دارالافتاء نے ایک سوال کے جواب میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کے موقف کا مطلب یہ ہے کہ اس پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوں گے، لیکن اس کا یہ مطلب لینا ہرگز درست نہیں کہ ڈیجیٹل تصویر کے استعمال میں اگر شرعاً دیگر مفاسد پائے جائیں، تب بھی اس کا استعمال درست ہوگا، بلکہ ایسی صورت میں اگرچہ اس پر تصویر کے احکام جاری نہ ہوں، لیکن ان مفاسد کے پائے جانے کی وجہ سے اس کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے گا۔  صرف اس بات کا سہارا لیتے ہوئے کہ اس پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوتے، اس کے استعمال کے مفاسد کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہے۔

مساجد اور دینی اجتماعات پر ڈیجیٹل کیمرے کے ذریعے تصویر اور ویڈیو بنانے میں بھی بہت سے مفاسد ہیں، لہٰذا ان مفاسد کی بنا پر ایسے اجتماعات پر تصاویر اور ویڈیو بنانا، درست نہیں۔  وہ مفاسد درجِ ذیل ہیں :۱یہ مسجد کے ادب و احترام اور تقدس کے خلاف ہے ۲اس جیسی تقریبات پر ویڈیو اور تصاویر بنانے سے لوگ حقیقتاً تصویر کھینچنے اور دیکھنے کو جائز سمجھنے لگ جائیں گے، اس طرح ان کے دلوں سے تصویر کی حرمت نکل جائے گی، جو کہ ناجائز ہے ۳دینی تقریبات کی ویڈیو اور تصاویر دیکھنے کی آڑ میں غلط اور فحش قسم کے افعال پر مشتمل تقریبات کو دیکھنے کی راہ کھل جائے گی، جو کہ جائز نہیں ۴اسلامی تقریبات کی ویڈیو اور تصاویر کے استعمال سے ان کے ناجائز استعمال کی حوصلہ افزائی ہوگی، جو کہ درست نہیں۔  لہٰذا ان مفاسد کے پائے جانے کی وجہ سے اسلامی تقریبات پر مذکورہ طریقے سے تصویر اور ویڈیو بنانے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

 شریعت میں کسی بات کے جائز ہونے کے لیے دو باتیں ضروری ہیں، اول یہ کہ کام کا مقصد درست ہو اور خلافِ شرع نہ ہو، دوسرے اس مقصد کے لیے جو ذریعہ اختیار کیا جائے، وہ بھی جائز ہو۔  اگر مقصد نیک ہو، لیکن اس کے حاصل کر نے کے لیے طریقہ غیر شرعی اختیار کیاجائے، تو یہ بھی گناہ ہے۔  مثلاً کوئی غریبوں کی مدد کے لیے ڈکیتی کرے، بیماروں کو علاج میں مدد دینے کے لیے رقص کر کے پیسہ وصول کرے، تو گویا مقصد نیک ہے، لیکن چوں کہ اس کے لیے ناجائز اور غیر شرعی ذریعہ اختیار کیا گیا ہے، اس لیے یہ گناہ ہی کا باعث ہوگا نہ کہ ثواب کا۔  لوگوں کو دین کی باتیں سکھانا اور سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب دینا یقیناً نہایت نیک کام اور اجر و ثواب کا باعث ہے، لیکن اس کے لیے تصویر کشی اور فوٹو گرافی جائز نہیں، بلاضرورت شرعی تصویر کھینچنا اور کھنچوانا گناہِ کبیرہ ہے اور مسجد جیسی مقدس اور مبارک جگہ میں تصویر کشی تو گناہ بالاے گناہ ہے۔  دین کو سیکھنے سکھانے کا مقصد تصویر کے بغیر بھی زیادہ بہتر اور مؤثر طریقہ پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔  (کتاب الفتاویٰ، ملخصا)

 نیز جب کسی مسئلے میں دو موقف ہوں ‘ اورایک میں حرمت کا احتمال ہو، تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور بلا شدید مجبوری کے ہرگز اس کے در پہ نہ ہوا جائے۔  حدیث میں وارد ہوا ہے : شعبی نعمان بن بشیر سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا اور میں اب آپﷺ کے بعد (اس مسئلے میں ) کسی شخص کی بات نہیں سنوں گا؛ آپ ﷺفرماتے تھے کہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے۔  (جیسے زنا، چوری وغیرہ) اور ان دونوں کے درمیان میں بعض اس قسم کے کام ہیں کہ جن میں شبہ ہے یعنی حرام اور حلال دونوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں (اس سے مراد ایسے کام ہیں جن کے حلال اور حرام ہونے میں اختلاف ہے )اور میں تم لوگوں سے ایک مثال بیان کرتا ہوں۔  اللہ تعالیٰ نے ایک روش بنائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی روش حرام اشیا ہیں، اس میں داخل ہونے کا حکم نہیں ہے۔  (یعنی اللہ تعالیٰ نے حرام اور حلال کی حدود مقرر فرما دی ہیں ان ہی حدود میں رہنا ضروری ہے ) پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی روش کے اندر داخل ہوجائے (یعنی اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرے)، اسی طرح جو شخص مشتبہ کاموں سے نہ بچے، تو قریب ہے کہ وہ حرام کاموں سے بھی نہ بچے، قریب ہے کہ وہ شخص حرام اور ناجائز کاموں میں مبتلا ہوجائے گا اور جو شخص مشکوک کاموں میں مبتلا ہوجائے گا، تو قریب ہے کہ وہ شخص ہمت کرے یعنی جو کام حرام ہیں ان کو بھی کرنے لگ جائے۔  (نسائی، مسلم)

 اس کے بعد دل پر ہاتھ رکھ سوچیے کہ ہم اور آپ میں سے کتنے ایسے ہیں، جو اس بابت مجوزین کی باتوں کو ان کی بتائی ہوئی حدوں میں محدود رکھتے ہیں ؟ اجازت دیں تو عرض کروں کہ ہماری کوتاہیوں کے سبب نہایت دین دار سمجھے جانے والے لوگوں کے دلوں سے بھی تصویر کی حرمت نکلتی جا رہی ہے۔  اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک سمجھ عنایت فرمائے۔  آمین

٭٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close