معاشرہ اور ثقافت

سوشل میڈیا کے اثرات: ایک جائزہ

مسرور احمد عین الحق

 (کٹیہار)

  ٹیلی ویژن سنیما اور ریڈیو بے پر دگی
 ہیں سر محشر یہ فتنے باعث شرمندگی
 بے حیائی عام ہے دنیا میں ان سے آج کل
چھن گئی ہے اب شر کی راحت و آسودگی

موجودہ دور تفوق و برتری، مظاہرہ قوت و سطوت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کا دور ہے، آج دنیا میں نئی نئی اور حیرت انگیز چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں ، ان میں بہت سی چیزیں مفید اور کار آمد ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ان سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے، پہلے تو سنیما شروع ہوا جس میں پردہ پر ناچ گانے دکھائے جاتے تھے اور دیندار بڑے بزرگ ایسی جگہوں پر جانے سے شرم وجھجک محسوس کرتے تھے، لیکن جب سے ٹی وی کی ایجاد ہوئی ہے، تب سے بے حیائی اور بے شرمی کا گویا سیلاب سا گیا ہے، اور رہی سہی کسر موبائل اور انٹرنیٹ نے پوری کردی ہے، اب تو  تقریبا ہر گھر ایک سنیما ہال  بن گیا ہے۔ باپ،  بیٹے، بھائی، بہن، بچے، بوڑھے سب ایک ساتھ مل بیٹھ کر بے حیائی و بے شرمی والے پروگرام دیکھتے ہیں، اور خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ الغرض ہر کس و ناکس اور ہر خاص وعام دین سے بیزار ہو کر موبائل پر ناچ گانے دیکھنے اور ایک دوسرے سے عشق لڑانے میں مست نظر آتے ہیں۔ جبکہ فرمان خداوندی ہے: ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن( سورۃ الانعام آیت نمبر 152) تم لوگ فواحش یعنی بے حیائی و بے شرمی کے قریب بھی نہ جاؤ۔

لیکن آج اگر ہماری آنکھوں کو کوئی چیز سب سے زیادہ پسند ہے، تو وہ ٹی وی و موبائل کی اسکرین ہے، آج ہمیں اگر کوئی مشغلہ سب سے زیادہ محبوب ہے، تو وہ موبائل بجانا اور گانا سننا ہے،  آج اگر ہم سب سے زیادہ کسی چیز کو دیکھتے ہیں، تو وہ ننگی تصویریں اور وہ عریاں فلمیں ہیں۔     کسی شاعر نے کیا خوب زور دی ہے۔

 کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
 وہ کیا گردوں تھا جس کا تو ہے ٹوٹا ہوا تارا
 تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

  کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا

میں یہ نہیں کہتا کہ موبائل و انٹرنیٹ صرف برائی اور بدکاری کا آلہ کار ہے، وہ فائدہ مند چیز ہی نہیں بلکہ ایک مفید اور کارآمد چیز ہے، بشرطیکہ اس کا استعمال صحیح ڈھنگ سے کیا جائے۔ موبائل جس کے ذریعے ہم اپنے رشتہ داروں کے حالات چند منٹوں میں معلوم کر سکتے ہیں۔ حدیث و قرآن کی باتیں لکھ کر اپنے دوست و احباب کو ایس ایم ایس کر سکتے ہیں۔ ریکارڈ کی ہوئی دین اسلام کی باتوں کو سن کر عمل کر سکتے ہیں۔

اب آئیے انٹرنیٹ کے ذریعے پہنچنے والے فائدے کا ہم مختصر طور پر جائزہ لیں۔انٹرنیٹ کے ذریعے ہم دین اسلام کی نشرو اشاعت کر سکتے ہیں۔ہم گھر بیٹھے دنیا کی کسی بھی ایسی لائبریری کی کتابوں کا  پورا پورا ریکارڈ اور کسی بھی ایسی کتاب کا مطالعہ کر سکتے ہیں،جس کی اپنی ویب سائٹس ہو۔تعلیم کے مقصد کے لئے سافٹ وئیر پر بہت ساری سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اب دنیا کے اندر تعلیم حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے، یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور علم و تحقیق کا دور ہے، انٹرنیٹ کوئی سہولت یا صرف ایجاد ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ایک مکمل طرز حیات ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دفتری مصروفیات اور  شہری سہولیات کا حصول، خرید و فروخت، تفریحی یہ تمام کام جس کو انجام دینے کے لئے لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا ہے، انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے آپ گھر بیٹھے انجام دے سکتے ہیں، تازہ ترین خبروں اور حالات حاضرہ سے آسانی کے ساتھ واقف ہو سکتے ہیں۔ اب آپ خبرنامہ کے وقت کے پابند اور مخصوص ٹی وی، چینل، اور ریڈیو کے محتاج نہیں رہے، آپ جب چاہیں آن لائن یا دوسری پروگراموں کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے میں اپنے احباب و اقارب سے گفتگو کر سکتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ، مواصلات اور بلاغت تشہیر کا سب سے آسان اور ارزاں ذریعہ ہے، لیکن یہ ایک آزادانہ مواصلاتی نظام ہے، جس پر کوئی قانون گرفت نہیں ہوتی، اس لیے بے شمار ایسے مذاہب یا اسلام سے منسلک فرقہ باطلہ جن کے پیروکاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے، جن کا کوئی وجود نہیں تھا۔ انٹرنیٹ کی سہولت کے بعد دوبارہ مساوی سطح پر اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس میدان میں کھڑے کھونٹے کا امتیاز کرنے والی ویب سائٹس اسی فیصد  (80%) اسلام کے نام پر من مانی تعبیرات پیش کر رہے ہیں۔ لوگوں کو اسلام کے نام پر گمراہ کیا جارہا ہے، لہذا اس کے تدارک کے لیے یہ پیش قدمی ہونی چاہیے، کہ صحیح اسلامی ویب سائٹس میں درست اسلامی تعمیرات پر مبنی روایات و  روابط  کو جمع کریں،  تاکہ ان سے استفادہ کرنے والے حضرات اگر جدید معلومات کے خواہاں ہوں، تو صحیح معلومات حاصل کرسکیں، اور اسلام کے سچی تعلیمات سے واقف ہو سکیں۔

انٹرنیٹ پر ایک اور گھمبیر مسئلہ فحاشی و عریانیت اور مغربی کلچر کے فروغ کا ہے،  مغربی دنیا تہذیب و ثقافت اور حیا و شرم کے تمام حدود و قیود پار کرچکی ہے،  اور اخلاقی پستی کے اتھاہ سمندر میں گر چکی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام دنیا بالخصوص عالم اسلام میں عریانیت پر مبنی کلچر کو فروغ دیا جائے، اور اس لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت انٹرنیٹ کے ابتدا ہی سے ساٹھ فیصد  (60%) سے زیادہ فحاشی کی اشاعت میں مصروفیت ویب سائٹس کی اجارہ داری ہے، ان سائٹس پر ایسی عریاں تصاویر، جنسی استحصال کی صورت میں پیش کی جاتی ہے کہ اشرف المخلوقات کی اس حیوانیت وشیطانیت کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے، اور ہر شریف انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، اور انسان بد کردار قوم کی بے ضمیری پر لعنت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور اللہ کے رسول کا فرمان: اذا لم تستح فاصنع ما شئت جب تمہارے اندر حیا ہی باقی نہ رہے تو تمہارے لئے کچھ بھی کرنا مشکل نہ ہو گا، یعنی با حیا باش ہر چہ خواہی کن کا مصداق ہوجاتا ہے۔

ان یہودی سازش کو پہچانو، جو ہمارے ذہن، اخلاق و کردار اور دین و ایمان کو بگاڑنے لئے کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین کا فرمان: ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشہ الذین آمنوا عذاب الیم. فی الدنیا و الآخرة و اللہ یعلم وانتم لا تعلمون (سورة النور:۱۹) جو لوگ یہ  چاہتے ہیں کہ ایمان والوں کے درمیان بے حیائی کو فروغ حاصل ہو،  ان کے لیے دنیا و آخرت دونوں جہاں میں دردناک عذاب ہے اور اللہ رب العالمین سب کچھ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ قوا انفسکم واهلیکم نارا کے تحت اپنے آپ کو اور اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر کے مطابق اپنے آپ کو اور دیگر لوگوں کو برائی سے روکو اور بھلائی کا حکم دو، تبھی ہمارے معاشرے سے برائے رخصت ہو سکتی ہے۔کسی شاعر نے کیا یہ خوب منظر کشی کی ہے۔

سوئے ہوئے جذبات کو جگاؤ یارو
 احساس کی لو اور بڑھاؤ یارو 
 ادراک کی بستی میں اندھیرا ہے ابھی
 سینے کا لہو اور  جلاؤ یارو

 اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ٹی وی، موبائل، انٹرنیٹ کے ذریعہ ہونے والی برائیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close