معاشرہ اور ثقافت

شادی کی رسومات میں علماء کا کردار

اسامہ شعیب علیگ

شادی زندگی کا اہم ترین اور خوشگوار واقعہ ہے۔ مرد گرم جوشی سے اپنے گھر کو رونق بخشنے والی رفیقہِ حیات کا استقبال کرتا ہے اور اقرباء و احباب جوڑے کو مبارک باد دیتے ہیں ۔اسلام اس میں فطری امنگوں کو پورا کرنے کا سامان کرتا ہے اور اس نے شادی بیاہ کے ایسے طریقے بتائے ہیں جس میں اظہارِ مسرت ہے تو خوشنودیِ رب بھی ہے ۔مثلا نکاح پر مبارک باد،نکاح کے اعلان کے لیے دف بجانا ، گھر میں بچیوں کا مباح گیت گانا ، شوہر کی طرف سے مہر دینا اور دعوتِ ولیمہ وغیرہ ۔
لیکن ان امور میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ کوئی بات شرعی حدود سے متجاوز اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو اور لغو ، نمائشی ،اترانے اور فخر کرنے کی بری عادتوں سے پاک ہو اور سوسائٹی کے لیے مشکلات نہیں بلکہ آسانی پیدا کرنے والی ہو ۔شادی کے موقع پر انسان کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کون سا رویہ اختیار کرتا ہے آیا وہ جوخدا کو پسند ہے یا وہ جو شیطان کو پسند ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ہم مسلمانوں پر چار فرائض ہیں۔
1۔ ایمان2۔ تعظیم3۔ قرآن کریم پر عمل4۔آپؐ کے مشن میں مدد۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں جہاں دعوت و تبلیغ ہے وہیں معاشرے میں پھیلی ہوئی بدعات و رسومات کو ختم کرنا بھی ہے۔ان رسومات میں سے ایک شادی کے موقع پر ہونے والی بدعات و رسومات بھی ہیں جو کہ انسان کے لیے ایک بوجھ بن چکی ہیں ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
و یضع عنھم اصرھم و الاغلال التی کانت علیھم (الاعراف:157)
اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اوروہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔
’’اصر‘‘یعنی وہ بوجھ جسے انسان لے کرچل نہ سکے۔اس میں شادی کی مختلف رسومات بھی شامل ہیں اور یہ رسومات ایک بوجھ ہیں جن کو ہم مسلمانوں نے اپنے سروں پر لاد لیا ہے مثلا منگنی،ہلدی،مہندی،شادی کے شان دار کارڈ، ڈیکوریشن،بارات، سہرا،ویڈیو ریکارڈنگ اور فوٹو گرافی وغیرہ ،جو اب شادی کا لازمی جز بن چکی ہیں اور جس میں ہم مسلمان اسراف و تبذیر سے کام لیتے ہیں ۔
’اسراف‘کیا ہے ؟ ضرورت کی جگہ پر زیادہ خرچ کرنا۔دعوت میں جہاں تین یا چار ڈش سے کام پورا ہو سکتا ہے وہاں آٹھ دس طرح کی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں اور جہاں دو جوڑے کپڑے سے کام ہو سکتا ہے وہیں پانچ چھ جوڑے کپڑے بنوائے جاتے ہیں ۔ اسی کا نام اسراف ہے ۔
شادی میں آغاز رسمِ منگنی سے ہوتا ہے جس میں اب باقاعدہ دعوتِ طعام دی جانے لگی ہے جب کہ منگنی کی رسم اسلام میں ہے ہی نہیں۔منگنی نکاح نہیں بلکہ محض وعدۂ نکاح ہے ۔اسی طرح ہلدی کی رسم بھی ایک ہندوانہ رسم ہے اور مہندی یقیناًدلہن کے لیے باعثِ زینت ہے مگر اس میں عورتوں کا جمع ہونا ،محرم اور نامحرم کامخلوط ہونااور دعوتیں دینا محض دکھاوا اور مال کا بے جا خرچ ہے۔نکاح کے لیے شاندار کارڈ چھپتے ہیں جس میں ہزاروں روپئے خرچ کیے جاتے ہیں۔یہ تمام چیزیں اسراف میں شمار ہوں گی۔جب کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین ۔وکان الشیطان لربہ کفورا( بنی اسرائیل:27)
فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے ۔
شیطان کا بھائی کیوں کہا گیا؟کیوں کہ شیطان مومنوں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے ۔ ظاہر سی بات ہے ایک سیٹھ کی بیٹی کی شادی ہواور پوری کوٹھی کو ڈیکوریشن کر کے سجایا گیا ہو اور لاکھوں روپئے خرچ کیے گئے ہوں تو اس میں کام کرنے والے چوکیدار،باورچی اور دوسرے نوکر چاکر بھی یہ تمام فضول خرچیاں دیکھیں گے، جن کی بیٹیاں جہیز نہ دے پانے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہوں گی تو ان کے اندرحسد اور بغض پیدا ہوگا اور یہ لوگ موقع ملنے پر سیٹھ کو لوٹیں گے یا کہیں اور ڈاکہ ڈالیں گے۔
حدیث ہے ’کل مومن اخوۃ‘(ہر مسلمان بھائی بھائی ہے)۔ مگر شادیوں میں جو دولت کا اظہار ہوتا ہے وہ ’دولت مندوں ‘کے لیے تو محض ایک کھیل ہے مگر وہی شادی’ سفید پوشوں‘ کے لیے ایک بوجھ بن جاتی ہے اور ان کو بھی سماج اور محلوں میں اپنی ناک بچانے کے لیے تمام رسومات و لوازمات کو پورا کرنا پڑتا ہے۔اور کچھ نہیں تو اس وجہ سے کہ میری بیٹی کیا سوچے گی کہ میرے والد مجھ سے محبت نہیں کرتے اور غریبوں کی طرح مجھے رخصت کر دیا ۔چنانچہ جن کی تین یا چار بیٹیاں ہو جاتی ہیں تو ان کی تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے کہ وہ ان کی شادیاں کیسے کرے گا؟چنانچہ وہ قرض،زکوۃ اور مدد مانگ کر ان تمام رسومات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اکثر لوگ اس میں تباہ ہو جاتے ہیں۔
اس لیے شادی ’سادگی‘سے ہونی چاہیے مگر سادگی کا پیمانہ کیا ہے؟؟ ظاہر سی بات ہے کہ ایک امیر کی سادگی کچھ اور ہو گی اور ایک غریب کی سادگی کچھ اور ہو گی ۔تو ایک ایسی بنیاد ہونی چاہیے جس پر امیر اور غریب سب عمل کر سکیں ۔ایک اصول طے ہو کہ جو بھی رسم یا تقریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت ہو اسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور اس کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق پورا کیا جائے اور جو رسم یا تقریب آپﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہ ہو اس کی جڑ کاٹ دی جائے ۔اس کوکم نہ کیا جائے کیوں کہ وہ پھر بڑھ جائے گی اس لیے سرے سے جڑ ہی کاٹ دی جائے۔
علمائے کرام کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ اس سلسلے میں مسلمانوں کو بیدار کریں مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ امیروں اور بااثر لوگوں کی بیٹیوں کی شادیاں بڑی شان و شوکت سے ہوتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ نکاح تو مسجدوں میں ہوتے ہیں مگر لڑکی کا ’ولیمہ‘ شاندار ہال میں دیا جاتا ہے ۔اور علمائے کرام مسجدوں میں نکاح کرنے پر تعریف کرتے ہیں اور لڑکی کے ولیمے میں نہ صرف شریک ہوتے ہیں بلکہ اس کے لیے گھنٹوں کی زحمت بھی گوارہ کر لیتے ہیں۔
علمائے کرام اور صاحبِ مال اپنا اپنا فرض ادا کریں تو شادی کی بہت سی رسمیں انشاء اللہ ختم ہو جائیں گی ۔اگر علمائے کرام اپنے ’اسٹیٹس‘ سے نکل آئیں اور اپنی شرائط پر سنت پر عمل کرتے ہوئے نکاح پڑھائیں تو معاشرے میں شادی بہت آسان ہو جائے گی۔شرائط درج ذیل ہو سکتی ہیں:
مسجد میں نکاح : ترمذی شریف میں ایک حدیث ہے :
’’ نکاح کا اعلان کرو اور مسجدوں میں کرو‘‘۔
خود آپﷺ کی بیٹی کا نکاح مسجد میں ہوا تو کون مسلم ہے جو یہ کہہ سکے کہ میری بیٹی حضرت فاطمہؓ سے زیادہ افضل ہے ؟؟ جب یہ مستحب ہے تو ہم لوگ اس پر عمل کیوں نہیں کر رہے ہیں ؟کمی ہمارے علمائے کرام اور مولوی حضرات کی بھی ہے ۔بلانے پر انکار کیسے کردیں؟’انتظامیہ‘ نکال دے گی یا ’متولیان‘ ناراض ہو جائیں گے ۔اس لیے جہاں بلایا جاتا ہے چلے جاتے ہیں ۔جب کہ عیسائیوں میں یہ ہے کہ شہزادے کی شادی ہو یا شہزادی کی اس کو نکاح کے لیے چرچ میں آنا ہی پڑے گا۔اور ہمارے یہاں غیرت کی بات ہے کہ ہمارے’ علمائے کرام یا مولوی حضرات‘کتاب یا رجسٹر لیے پنڈال میں بیٹھے رہتے ہیں ۔نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے مگر بیٹھے سوکھ رہے ہیں ۔
نکاح سے ایک خاندان وجود میں آتا ہے تو دعا مانگی جاتی ہے۔جس کے لیے ایک ماحول ہوتا ہے جس میں انسان اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو دعاؤں میں اثر ہوتاہے جس کے لیے مسجد بہتر ہے ۔ورنہ ہوتا یہ ہے کہ اعلی قسم کے شامیانے لگے ہوتے ہیں اور شور و غل کا ایک طوفان برپا ہے ،قہقہے بلند ہو رہے ہیں او ر سگریٹیں پی جا رہی ہیں اور ایک کونے میں مولوی بیچارہ بن کر بیٹھا نکاح کا کچھ مِن مِن کرکے پڑھ رہا ہوتا ہے جیسے صرف دلہا کو سنا رہا ہو اور پھر اچانک سے کہتا ہے کہ دعا مانگ لیں۔ کیا خاک دعا مانگ لیں ؟؟کچھ دعا کا ماحول ہے؟پھر مسجد میں نکاح سے لڑکی والوں کے پیسے کی بچت ہو جاتی ہے۔فضول خرچی نہیں ہو پاتی ہے کیوں کہ مسجد میں ساری چیزیں موجود رہتی ہیں۔
بارات کی نفی:مسجد میں نکاح سے بارات کی بھی نفی ہو گئی ۔یہ ’بارات‘ لفظ نہ تو قرآن کریم میں ،نہ حدیث میں اور نہ ہی عربی زبان میں استعمال ہوا ہے۔یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔ ہندؤں میں جہیز کی حفاظت کے لیے لڑکے والوں کی طرف سے بہت سارے لوگ دلہا کے گھر والوں کے ساتھ جایا کرتے تھے کیوں کہ اس زمانے میں ڈاکوؤں وغیرہ کا ڈر رہتا تھا اور اسی کو بارات کا نام دیا گیا۔
رسمِ رخصتی کی نفی: اسی سے رخصتی کی رسم کی نفی ہو گئی ۔دلہا اور دلہن کے گھر والے مسجد میں جمع ہوئے اور نکاح ہو گیاتو ختم بات اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو جائیں۔مگر اس میں بھی مسلمانوں نے ہندوؤں کی تقلید میں رخصتی کی رسم بنا لیااور اس میں کیا کچھ ہوتا ہے آپ سب کو بخوبی معلوم ہے ۔حضرت فاطمہؓ کو آپﷺ کی مستورات انصاری صحابہ کے دیئے ہوئے مکان میں چھوڑ آئی تھیں اور حضرت علیؓساتھ نہیں تھے۔کیا یہ ہمارے لیے یہ قابلِ اسوہ نہیں ہے؟؟ اگر رخصتی کی رسم ہوگی اور لڑکے والے آئیں گے تو دعوتیں ہوں گی اور ساری رسومات ہوں گی۔بھلا بغیر کھلائے پلائے کون جانے دے گا؟
جہیز کی نفی: جہیز کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے یہ بھی ہندوانہ ہی رسم ہے ۔ہندوؤں میں وارثت صرف لڑکوں میں تقسیم ہوتی ہے اورلڑکیوں کو وراثت میں کوئی حصہ نہیں ملتا ہے لھذا جب وہ لڑکی کو رخصت کرتے ہیں تو لڑکی کو کچھ دے دلا دیتے ہیں یہی دان یا جہیز کہلاتا ہے ۔
اسلام میں تو لڑکی کا باقاعدہ وراثت میں حصہ ہے۔اور وراثت میں ان کو حصہ نہ دینا کفر ہے ۔ جہیز کا جواز یہ پیدا کیا گیا کہ آپﷺ نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا جب کہ جس نے بھی حضرت فاطمہؓ کے لیے لفظ جہیز کا استعمال کیا ہے اس نے امتِ مسلمہ پر ظلم کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ آپﷺ نے جب حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے کرنے کا ارادہ کیا تو آپﷺ نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ مہر میں دینے کے لیے کچھ ہے؟حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ نہیں،بس زرہ ہے تو آپﷺ نے فرمایا اسی کو بیچ دواور حضرت عثمانؓ نے اس کوتیس درہم میں خرید لیا(حضرت علیؓ کی خودداری کی وجہ سے) اور پھر آپ نے حضرت علیؓ کووہ زرہ ہدیۃ واپس کر دی تھی۔انہیں تیس درہم کو حضرت علیؓ آپﷺ کے پاس لائے اور ان پیسوں سے آپﷺ نے ایک گدا،دو تکیہ ،ایک چکی اور ایک مشکیزہ وغیرہ حضرت فاطمہؓ کے لیے خریدااور یہ بھی اس وجہ سے کہ حضرت علیؓ آپﷺ کی ہی سرپرستی میں تھے ۔یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی دوسری بیٹیوں کے نکاح میں ہمیں جہیز کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ آپﷺ اپنی بیٹیوں کے درمیان نا انصافی کریں گے؟؟ایک بیٹی کو دیں اور بقیہ بیٹیوں کو نہ دیں؟؟
پھر بھی جہیز کی جڑ کاٹنا آسان نہیں ہے ۔دولت بہت پیاری ہوتی ہے اور لڑکے والے منہ کھول کر مانگتے ہیں ورنہ لڑکی ہمیشہ کے لیے گھر پر بیٹھی رہ جاتی ہے۔تو دینا بھی ہے تو اس کی نمائش نہ کی جائے ۔پہلے دے دیں یا بعد میں دیں اور اس کو وراثت کی جگہ نہ سمجھ کے دیں ۔وراثت تو تقسیم کرنی ہی ہوگی چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔
لڑکی کے ولیمہ کی نفی: باراتیوں کو کھانا کھلانا ہی ایک طرح سے لڑکی کا ولیمہ ہے ۔لڑکی والوں کی طرف نکاح کی کوئی دعوت نہیں ۔شادی کی دعوت صرف ایک ہے اور وہ صرف ولیمہ ہے ،جو کہ لڑکے والوں کی طرف سے ہوتا ہے کیو ں کہ لڑکے والوں کے یہاں خوشی ہے اس کا گھر آباد ہو اہے ۔لڑکی والوں کے یہاں زیادہ سے زیادہ سکون ہے کہ لڑکی اللہ تعالی کی مدد سے آج اپنے گھر کی ہو گئی۔سوچنے کی بات ہے کہ نکاح کے موقع پر چھوہارے کون لائے گا؟؟لڑکے والے ۔اور باراتیوں کو مرغ پلاؤ کو ن کھلائے گا ؟؟ لڑکی والے۔ کیا لڑکی والے جب مرغ پلاؤ کھلا سکتے ہیں تو کیا ذرا سے چھوہارے نہیں بانٹ سکتے تھے؟؟اس لیے دعوت صرف ایک ہے اور وہ ہے ولیمہ ۔آپﷺ نے فرمایا:
ولیمہ ضرور کرو چاہے ایک بکری ہی کیوں نہ ہو۔
ایک حدیث میں فرمایا :
ولیمہ کی دعوت ضرور قبول کرواور ساتھ میں یہ بھی فرما دیا کہ ولیمہ کا کھانا برا کھانا ہے اگر اس میں غریبوں کو نہ بلایا جائے۔
جب آپﷺ نے ولیمہ کی اتنی زیادہ تاکید کی ہے اوراس میں غریبوں کا بھی خیال رکھا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپﷺ نے لڑکی کے گھر کھانے اور ایسی دعوتوں میں جانے کو کہنے سے بخل سے کام لیا ہو؟؟اور اس کے لیے تاکید نہ فرمائی ہو؟؟ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔
ان تمام بدعات و رسومات کی اصلاح کرنے کا سب سے اچھا ذریعہ خطبہِ نکاح ہے۔جس کے ذریعہ ہم اپنی بات آسانی سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔یہ تعلیم و تربیت کی ایک شکل ہی ہے جو کہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا ، قرآن کریم کی بعض آیات اور بعض احادیث پر مشتمل ہے تاکہ اس کے ذریعے مرد کو جو کہ اپنی ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جا رہا ہے اس کی رہنمائی ہو سکے ۔ مگر ہمارے یہاں عربی زبان سے ناواقفیت ہونے کی وجہ سے مسنون خطبہِ نکاح رسمی طور سے پڑھا جاتا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی لوگوں کے سامنے نکاح کے مقصد اور شادی میں ہونے والی بدعات و رسومات سے بچنے کی تلقین کی جائے کہ اسلام کے نزدیک شادی اس خوشی کا نام نہیں ہے جس میں انسان اللہ تعالی کو بھول جائے بلکہ اس خوشی کا نام ہے جس میں انسان خدا شناسی اور خدا خوفی کا ثبوت دے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close