معاشرہ اور ثقافت

شادی کے شرعی اور غیر شرعی طریقے (دوسری قسط)

  جہیز: جہیز ایک تو وہ ہے جو دولھے کی طرف سے دلہن والوں سے مطالبہ کی صورت میں ہوتا ہے اور جس میں ہزاروں روپئے کا سامان اور بعض مرتبہ لاکھوں روپئے کی اشیاء طلب کی جاتی ہیں ۔ جہیز کی یہ شکل شہروں میں عام ہے اور جہیز دینے کی استطاعت نہ ہونے کی بنا پر کتنی ہی لڑکیوں کی شادی ہو نہیں پاتی۔ اس جہیز کو حرام ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، کیونکہ شریعت نے شوہر کو دینے کی پوزیشن میں رکھا ہے نہ کہ لینے کی پوزیشن میں ۔ اسی لئے اس پر مہر فرض کر دیا ہے، خواہ اس کی مقدار کم ہو یا زیادہ۔ پھر یہ کیسی بے غیرتی کی بات ہے کہ شوہر بیوی کو تحفے تحائف دینے کے بجائے الٹا اس سے زبردستی تحفہ وصول کرلے! ایساتحفہ ظاہر ہے تحفہ نہیں ہوگا، کیونکہ جو مال صاحب مال سے اس کی حقیقی رضامندی کے بغیر دباؤ ڈال کر حاصل کرلیا گیا ہو وہ لینے والے کیلئے ہرگز جائز نہیں ہوسکتا۔

 دوسری صورت یہ ہے کہ دلہن کے والدین اپنی لڑکی کو کسی خارجی مطالبہ کے بغیر اس کی رخصتی کے موقع پر سازو سامان دیں ۔ اپنی لڑکی کو خوش دلی کے ساتھ تحفے تحائف دینا ناجائز نہیں ہے، لیکن یہ چیز سادہ شکل میں موجود نہیں ہے بلکہ اس نے ایک رسم اور تکلف کی شکل اختیار کرلی ہے؛ چنانچہ جہیز کا سامان شادی خانہ میں سجاکر اس کی باقاعدہ نمائش کی جاتی ہے اور لوگوں کو دعوت دے دیکر داد حاصل کرلی جاتی ہے۔ جہیز میں پلنگ، الماری، فرنیچر، خانہ اری کے برتن، ٹی وی، الیکٹرک مشینیں اور اسراف کی حد تک قیمتی ملبوسات و زیورات دیئے جاتے ہیں ۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر اور بعض مرتبہ قرض لے کر ان چیزوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ تحفے خلوص پر مبنی ہیں تو ان کا مظاہرہ کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا اس سے اپنی شان و شوکت کا اظہار مقصود نہیں ہوتا اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کا نام ہی فخر ہے، جس کی قرآن نے سخت مذمت کی ہے:

  ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ‘‘ (سورہ لقمان)… (اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اِترانے والا فخر کرنے والا ہو)۔

 اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ہر کام کو نمائش اور فخر سے پاک دیکھنا چاہتا ہے مگر عام طور سے مسلمان اس گھناؤنی بیماری میں مبتلا ہیں ۔

 والدین اگر اپنی لڑکی کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ شادی کے دن ہی دیں ۔ اس کے چند دن بعد دے کر وہ مظاہرہ اور نمائش سے بچ سکتے ہیں ۔ پھر یہ تصور بھی صحیح نہیں کہ جہیز دے کر والدین نے اپنی ذمہ داری پوری کرلی۔ نہیں بلکہ اگر ان دونوں کو یا ان میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ نے مال و جائداد سے نوازا ہے اور ان کے بیٹے بیٹیاں بھی ہیں اور اگر وہ اپنی زندگی میں ان کو کچھ ہبہ کرنا چاہیں یعنی تحفہ (Gift) دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ، بشرطیکہ سب کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے۔ اور باپ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں بیٹی کو جہیز دے چکا ہوں ، لہٰذا اب اس کا کوئی حق نہیں رہا۔ ماں باپ کے ترکہ میں بیٹیاں بھی وارث ہیں اور جہیز دینے سے ان کا وراثتی حق ختم نہیں ہوجاتا۔

 جہیز کی قباحت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اگر کسی غریب کے پاس جہیز دینے کیلئے کچھ نہیں ہوتا تو وہ زکوٰۃ مانگ کر جہیز کا سامان فراہم کرتا ہے، جبکہ لڑکی والوں پر کچھ دینے کی ذمہ داری شریعت نے ڈالی نہیں ہے۔

 بعض لوگ جہیز کے جواز میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنا کو جہیز دیا تھا، لیکن یہ بات حقیقی واقعہ کو غلط رنگ دے کر پیش کی جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو شادی کے موقع پر کیا کیا چیزیں دی تھیں وہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، البتہ طبقات ابن سعد (ج8، ص25) میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو ایک چادر، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں (آٹا پیسنے کی چکی)، ایک مشکیزہ اور دو گھڑے دیئے۔ اس کی اسناد میں ایک راوی عطاء بن السائب ہیں جو ضعیف ہیں ۔ اور اس روایت میں جن چیزوں کا ذکر ہے وہ گھر میں استعمال کرنا ناگزیر اشیاء ہیں ؛ چونکہ حضرت علیؓ کے پاس گھر کا اسباب نہیں تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت کی چیزیں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو عنایت فرمائیں ۔ جس سے زیادہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر لڑکی کسی نادار شخص کے رشتہ دار میں منسلک ہورہی ہو تو باپ اپنی بیٹی کو گھریلو ضرورت کا سامان مہیا کرسکتا ہے تاکہ اس کو کسی تکلیف کا سامنا کرنا نہ پڑے۔ اگر آج بھی کوئی شخص اپنی لڑکی کے ساتھ اس کی ضرورت کی بنا پر یہ معاملہ کرتا ہے تو اس میں شرعاً کوئی بات قابل اعتراض نہیں ہے، لیکن اس کا مروجہ جہیز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہیز دینا ہوتا تو آپ حضرت فاطمہؓ ہی کو نہیں بلکہ اپنی دوسری بیٹیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ کو بھی دیتے جو حضرت عثمانؓ سے بیاہی گئی تھیں ، لیکن چونکہ حضرت عثمان کی مالی حیثیت اچھی تھی اس لئے آپؐ نے ان کو کوئی رخصتی کا سامان نہیں دیا اور حضرت فاطمہؓ کو اس لئے ضرورت کی چند چیزیں مہیا کردیں کہ حضرت علیؓ کی مالی حالت نہایت کمزور تھی، لہٰذا اسے ’’جہیز‘‘ کیلئے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

ریکارڈنگ بجانا اور ناچنا: شادی گھر پر ایک تماشا یہ ہوتا ہے کہ صبح سے رات دیر تک خوب کیسٹ بجائے جاتے ہیں ۔ عورتوں کے گانے جن میں وہ خوب خوش گلوئی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور بے حیائی پھیلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتیں ۔ مردوں کے گانے بھی ایسے بے ہودہ ہوتے ہیں کہ آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے، مگر ان اخلاق سوز گانوں کو پیش کرنے والوں کی شرافت پر نہ کوئی حرف آتا ہے اور نہ اس سے محظوظ ہونے والوں کی شرافت پر۔ پھر یہ گانے لاؤڈ اسپیکر پر اتنے زور سے سنائے جاتے ہیں کہ کانوں کو سخت تکلیف ہونے لگتی ہے۔ گھروں میں نماز پڑھنے والوں کی نمازوں میں خلل پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کا سکون درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریکارڈ بجاکر بہت اچھا کام کر رہے ہیں ؛ حالانکہ وہ بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ عورتوں کا گانا اور اجنبی مردوں کا ان کی سریلی آواز کو کان لگاکر سننا اور گانے بھی ایسے جو شہوت کو ابھارنے والے ہوں ، نہ صرف حرام ہیں بلکہ ان کی حرمت بھی شدید ہے۔ اسی طرح جو مرد بے ہودہ اور شہوت میں ہیجان پیدا کرنے والے گانے گاتے ہیں اور جو لوگ شوق سے ان کو سنتے ہیں وہ سب صریح حرام کاری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

 اسلام کی تعلیم نہایت معقول، اصولی اور جامع ہے۔ اس نے ہر قسم کی بے حیائی کو حرام قرار دیا ہے، خواہ وہ گانے کی شکل میں ہو یا عریانیت کی شکل میں یا شرمناک تصویروں کی شکل میں ۔ فحش افسانے ہوں یا ناولیں ، رسائل ہوں یا فلمیں اور فحش باتوں کو ریکارڈنگ کے ذریعہ نشر کیا جائے یا ویڈیو گرافی کے ذریعہ، سب شیطانی کام ہیں ۔ قرآن مجید نے صرف زنا ہی کو حرام نہیں ٹھہرایا ہے بلکہ زنا کے قریب بھی جانے سے منع فرمایا ہے۔

  ’’وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنٰی (بنی اسرائیل:32)… (زنا کے قریب بھی نہ جاؤ)۔

 ظاہر ہے شہوت انگیز گانے ذہن میں شہوانی خیالات و جذبات پیدا کرتے ہیں اور آدمی اجنبی عورتوں سے میل ملاپ کی باتیں سوچنے لگتا ہے جو بالآخر زنا کی طرف دھکیلتے ہیں ۔ اسلام نے تو اجنبی عورت کو دیکھنے سے بھی منع کیا ہے اور نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے، پھر یہ بات کیونکہ جائز ہوسکتی ہے کہ عورت کی خوش گلوئی سے مرد لطف اندوز ہوں ؟ قرآن نے مزید صراحت کے ساتھ حکم دیاہے:

 ’’بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی‘‘ (سورہ الانعام:151)۔

اس آیت میں بے حیائی کے پاس پھٹکنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور بے حیائی خواہ کھلی ہو یا چھپی دونوں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عورتوں کے شہوت انگیز گانے تو کھلی بے حیائی ہے، لیکن اگر وہ ناز و ادا کے ساتھ کوئی نعتیہ کلام بھی پیش کریں تو یہ بھی بے حیائی ہوگی مگر چھپی ہوئی؛ کیونکہ مقصود اپنی آواز کی حلاوت سے مردوں کو لذت سماعت بخشنا ہے، اس لئے اس کے باطنی گناہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ قرآن نے ایک مقام پر فرمایا ہے:

 ’’لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو لہو الحدیث (غافل کر دینے والا کلام) خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے اللہ کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کریں ‘‘ (سورہ لقمان:6)۔

’لہو الحدیث‘ سے مراد خدا اور آخرت سے غافل کر دینے والا کلام ہے اور خریدنے کا مطلب اس کو قبول کرنا اور اختیار کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مقابلہ میں لوگ جن چیزوں کو اپنا مشغلہ بناتے اور لوگوں کی گمراہی کا سامان کرتے ہیں وہ دنیا کے عیش و عشرت پر آمادہ کرنے والی اور عشق و محبت کی آگ بھڑکانے والی شاعری ہے۔ اور شہوت کا ہیجان پیدا کرنے والے گانے ہیں ۔ قرآن اور گانا بالکل ایک دوسرے کے مقابلے کی چیزیں ہیں ۔ ایک ذریعہ ہدایت ہے تو دوسرا ذریعہ گمراہی اور ضلالت۔ جمہور مفسرین نے لہو الحدیث سے گانا ہی مراد لیا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو قسم کھاکر فرماتے تھے کہ اس سے مراد غناء یعنی گانا ہے۔

 کہاں اسلام کی یہ تعلیم کہ عورتیں لوچ کے ساتھ مردوں سے بات نہ کریں ۔ اور یہ ہدایت کہ وہ اس طرح نہ چلیں کہ ان کے زیوروں کی جھنکار لوگوں کو سنائی دے۔ اور کہاں عورتوں کا موجودہ زمانہ میں مردوں کے سامنے آکر ناچنا گانا اور ان کیلئے لذتِ گوش و چشم کا سامان کرنا، نتیجہ یہ کہ حیا اٹھ گئی اور حیا کے اٹھ جانے سے ہر قسم کی برائی کا ارتکاب آسان ہوگیا۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد برحق ہے: ’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو‘‘ (بخاری، کتاب الادب) ۔

  جو لوگ زیادہ ماڈرن ہوتے ہیں اور جن کے پاس روپئے کی ریل پیل ہوتی ہے وہ شادی کی تقریب میں ڈسکو ڈانس اور ڈی جے کا اہتمام کرتے ہیں ، جس میں لڑکیاں گاتی اور رقص کرتی ہیں ۔ شر کا یہ مظاہرہ کھلی معصیت اور فسق ہے۔ لیکن جب احساسِ گناہ جاتا رہا تو شرمناک کام کرنے میں رکاوٹ ہی کیا! کاش؛ شادی کی خوشیاں منانے والے یہ جان لیتے کہ ان کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ان کے ہر عمل اور ان کی ہر حرکت کا ریکارڈ فرشتے تیار کر رہے ہیں اور ایک دن لازماً آنے والا ہے، جب وہ اپنے ہی آئینہ میں اپنی تصویر دیکھ لیں گے۔ اس وقت ان کی یہ خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوجائیں گی۔ اگر ان میں یہ احساس ہوتا تو وہ گناہوں سے ضرور بچتے۔

 اگر شادی کی تقریب میں ایسے کیسٹ یا ریکارڈ سنائے جائیں جن میں قرآن مجید کی آیتیں ترجمہ کے ساتھ پیش کی گئی ہوں ۔ حمد و ثنا کے گیت ہوں ۔ نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو غلو اور بدعت سے پاک ہو، ایسا کلام جو خیر پر ابھارنے والا ہو تو یہ اچھا اصلاحی قدم ہوسکتا ہے۔ لیکن اس موقع پر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ حاضرین اسے سننے کیلئے آمادہ ہوں ، خاص طور پر کلام الٰہی کا احترام ضروری ہے۔ اگر لوگ مشغول ہوں اور سننے کے موڈ میں نہ ہوں تو انھیں قرآن سنانا نہ مناسب ہے اور نہ مفید۔ ایسی صورت میں وعظ و نصیحت کی باتیں بھی بے اثر ہوجاتی ہیں ۔

تحریر: مولانا شمس پیر زادہؒ … ترتیب: عبدالعزیز

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close