معاشرہ اور ثقافت

شراب اور سماج

راحت علی صدیقی قاسمی

شراب کی مضرت اور قباحت سے ہر ذی شعور واقف ہے، یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس کو ثابت کرنے کے لئے دلائل مہیا کرنے، توانائیاں صرف کرنے کی ضرورت ہو، انسان کا عقل و شعور شراب پوری طرح نگل لیتی ہے اور نشہ کی حالت میں انسانی زندگی وسماج جس بدتر صورت حال کا مشاہدہ کرتے ہیں، وہ خوف زدہ کرنے والے ہیں، اور انتہائی تکلیف دہ ہے، شرابی جس طرح اپنی بیوی کو زدو کوب کرتے اور گالیاں دیتے ہیں، شرم و حیا عفت و عصمت کی قدر و قیمت سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں، وہ بھی عیاں ہے، معاشرہ میں شرابیوں کا وجود ہی سینکڑوں قسم کی برائیوں کو پیدا کرنے کے لئے کافی ہے، ان سب چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شراب انسانوں کے استعمال کی چیز نہیں ہے، اس کا استعمال معاشرہ کی تباہی کی تمہید ہے۔ اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال پر حد مقرر کی ہے، جو 80 کوڑوں کی شکل میں ہے، شراب کے علاوہ وہ تمام اشیا جو نشہ آور ہیں، اسلام کی رو سے قابل استعمال نہیں ہے اور ان کے استعمال پر سزا دی جاتی ہے تاکہ معاشرے کو برائی سے بچایا جا سکے، اخلاقیات کا تحفظ کیا جا سکے، عفت و عصمت کا تحفظ کیا جا سکے، شرم و حیا کی چادر کو محفوظ رکھا جاسکے، انسانیت کے وقار کا تحفظ ہو سکے، قرآن نے شراب کو گندی چیزوں میں شمار کیا ہے، اور یہ بھی واضح کردیا کہ اگر کوئی شراب کی اہمیت و افادیت اور اس نفع رسانی پر دلائل پیش کرتا ہے، تو یاد رکھئے اس کا نقصان نفع پر سبقت لے گیا ہے۔

شراب کی خرابی اور گندگی جہاں سماجی اور مذہبی پہلو سے عیاں ہے، وہیں طبی نقطئہ نظر سے بھی اس کی قباحت واضح ہے، جس طرح وہ انسان کے جسم کو کھاتی ہے، اس کا ادارک تقریبا ہر انسان کو ہے، شراب کا استعمال اعضاء رئیسہ کوبالکل ناکارہ بنادیتا ہے، اطباء تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شراب کا استعمال کرنے والوں کے پھیپھڑے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں اور چالیس سال کی عمر میں ان کی صورت حال 80 سالہ شخص کی سی ہوجاتی ہے، ہر سال لاکھوں مریض اطباء کے پاس ایسے پہونچتے ہیں، جن کو شراب کے استعمال کی وجہ سے ٹی بی ہوجاتی ہے، یاتمام اعضاء رئیسہ کام کرنا بند کردیتے ہیں، اور وہ زندگی جیسی قیمتی شئے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اور بسا اوقات زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے، اور اہلِ خانہ پل پل تڑپتے ہیں، اور اس کے علاج معالجے میں شب و روز لگے رہتے ہیں، اور تڑپتے رہتے ہیں، یہ تو عام شراب کی صورت حال ہے اور کچی شراب غرباء کی بستیوں میں جس کا چلن عام ہے، اس کی تباہی  انتہائی ہولناک ہے، بسا اوقات بستیوں میں لاشیں اٹھانے والے کم پڑجاتے ہیں، آنسوؤں کا سیلاب آجاتا ہے، اس صورت حال کے باوجود ہمارے ملک میں کوئی شہر نظر نہیں آتا، جس میں شراب کی دوکانیں نا ہوں۔

’’شراب کا سرکاری ٹھیکا‘‘یا’’کچی شراب یہاں ملتی ہے‘‘ یہ الفاظ بہت سے شراب خانوں پر لکھے رہتے ہیں، شراب کے اشتہارات بھی دیکھے جاسکتے ہیں، بالی ووڈ سے متعلق اداکار بھی شراب کا اشتہار کرنے میں گریز نہیں کرتے، شراب کی تشہیر کرتے ہیں، اپنی جیبیں گرم کرتے ہیں، سماج و معاشرے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ہے۔ شراب کی خرید و فروخت پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے، سر عام شراب بیچی اور خریدی جاتی ہے، اور بس اس پر ایک جملے (شراب جان لیوا ہے)کو لکھ کر سمجھ لیا جاتا ہے، کہ ہم نے اپنا حق ادا کردیا ہے، حکومت اس سلسلے میں کبھی بھی متفکر نظر نہیں آتی ہے، ریاست بہار کی حکومت نے شراب بندی کرکے اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کیا تھا، حالانکہ اس کے بعد بھی وہاں شراب نوشی کے واقعات کی خبریں موصول ہوئیں اور شراب سے جاں بحق ہونے کے معاملات بھی سامنے آئے، البتہ ان میں کمی ضرور واقع ہوئی ہے اور سب سے زیادہ باعث تکلیف کچی شراب کا چلن ہے، جس میں شراب مافیا نفع کمانے اور اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے شراب میں زہر تک کا استعمال روا رکھتے ہیں اور شراب میں متھائیل نامی الکحل کا استعمال کرتے ہیں، جو انسانوں کے لئے جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اور اس طرح کے واقعات ملک بھر میں کئی مرتبہ رونما ہوچکے ہیں، جن میں کثیر تعداد میں لوگوں نے جان گنوائی ہے۔

ماضی قریب میں اتراکھنڈ اور ضلع سہارن پور کے مختلف علاقوں میں میں انتہائی درد انگیز صورت حال رونما ہوئی ہے، جس میں 124 لوگ زہریلی شراب کی نظر ہوگئے، اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی سانس کی ڈور ٹوٹ گئی، اور بہت سے افراد ابھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان افراد میں بہت سے ایسے بھی ہیں، جو پورے پریوار کے کفیل تھے، ان کی موت صرف ایک جان کی موت نہیں ہے بلکہ پورے پریوار کی ہلاکت ہے، پورا خطہ حکومت کے خلاف احتجاج کررہا ہے، سیاسی جماعتیں بھی اس واقعہ پر افسوس کر رہی ہیں اور موجودہ حکومت پر طنز کس رہی ہیں، حکومت نے اس واقعہ کے بعد کثیر تعدا میں ملزمین کو گرفتار کیا ہے، اور اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، اس سے پہلے بھی جب اس طرح کے واقعات رونما ہوئے تو انتظامیہ نے پروزور کوشش کی اور ملزمین کو گرفتار بھی کیا، لیکن پھر اس صورت حال کا پیدا ہونا  بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، کیا واقعتاً ملک بھر میں شراب مافیا کے خاتمے کے لئے خاطر خواہ کوشش کی گئی؟ اتنی کثیر تعداد میں کچی شراب بن رہی تھی یا اتراکھنڈ سے لائی گئی اس سے انتظامیہ کیسے بے خبر تھی؟ کیا انہیں اپنے علاقوں میں چلنے والی شراب بھٹیوں کا علم نہیں ہے؟ کیا ان کے ہاتھ شراب مافیا کی گردن تک نہیں پہنچتے ہیں ؟

اگر ان سوالوں کے جوابات اثبات ہیں، تو کاروائی کرنے کے لئے ہلاکت کا انتظار چہ معنی دارد اور اس واقعہ کے بعد بھی اتر پردیش حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے اور شراب مافیا کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے انتظامیہ کو کمربستہ کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسی تباہ کن صورت حال وقوع پزیر نا ہو، انسانی جانوں کا تحفظ ہمارے لئے ہمیشہ اول مقام پر ہونا چاہیے، تمام مفادات انسانی جانوں کے مقابلے میں ہیچ ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اس صورت حال کو منظر رکھتے ہوئے، ہندوستانی میں شراب کی خرید وفروخت بھی بڑا سوال ہے، ملک میں غربت وافلاس فاقہ کشی تنگدستی کا اثر نمایاں ہے، بہت لوگوں کو علاج میسر نہیں آتا، روٹی کے لالے ہیں، اس کے باوجود اس زہر کا کھلے عام استعمال ہونا باعث افسوس ہے، حکومت ہند کو اس جانب مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذاتی اعتبار سے اس طرح کی مہلک اشیا کا استعمال ترک کردے، اور شراب کا قطعاً استعمال نا کرے، بلکہ شراب کے ساتھ ساتھ وہ تمام اشیاء جو نقصان دہ ہے، مثلا بیڑی، سگریٹ، پان مسالہ وغیرہ کے استعمال کومکمل طور پر ترک کردیا جائے، ان اشیاء کے خلاف سماج میں تحریک چلائی جائے، لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے اور ان شیاکی قباحت لوگوں کے قلوب میں پیوست کردی جائے، صحت کا خیال رکھا جائے، زندگی کی قیمت اور حیثیت کو سمجھا جائے، اگر سماج کا ہر فرد پختہ ارادہ کرلے کہ وہ شراب اور دیگر نشہ آور اشیا اور مہلک اشیاء کا استعمال نہیں کرے گا، تو اس کے خوش کن نتائج سامنے آئیں گے، جرائم کی شرح میں کمی ہوگی، شراب کے ذریعے ہلاکتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جانوں کا اتنا بڑا نقصان نہیں ہوگا، سماج سے بہت سی قباحتیں خود بخود ختم ہوجائیں گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close