معاشرہ اور ثقافت

شراب: ایک سماجی ناسور

ممنوع ہونے کے باوجود حکومت کی سرپرستی میں شراب کا کاروبار ناسور کی طرح معاشرے میں رائج ہے

مولانا عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

اسلام نے فرد سے لے کر معاشرے تک ہر ایک کی تعمیر کے حوالے سے وہ زریں اصول اور رہنما خطوط دیے، جن پر عمل پیرا ہوکر بہت جلد انفرادی و اجتماعی سطح پر صالح انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، جنہیں اپناکر ظلم و طغیان اور فتنہ و فساد سے بچاجاسکتا ہےاور اعلی انسانی اقدار کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ شریعت مطہرہ میں کچھ احکام وہ ہیں جو کرنے سے متعلق ہیں جنہیں اوامر کہاجاتاہے اور کچھ وہ ہیں جن سے بچنا ضروری ہے، جنہیں نواہی کہتےہیں، وہ احکام جن سے بچنے کی تاکید وارد ہوئی ہے ان میں ایک شراب نوشی بھی ہے؛جس کی قباحت وشناعت اور دنیوی و اخروی سزاؤں کو بیان کرنے کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی  کہ شراب سے دوری جہاں حفاظت صحت کی ضامن ہےوہیں  فلاح آخرت اور جہنم سے نجات کا سبب ہے۔

وطن عزیز ہندوستان میں بھی قانونی طور پر شراب کے ممنوع ہونے کے باوجود حکومت کی سرپرستی میں شراب کا کاروبار ناسور کی طرح معاشرے میں رائج ہے، جس سےہونے والی تباہی عیاں راچہ بیاں کا مصداق ہے، شراب کے کاروبار کو تجارتی و اقتصادی نقطۂ نظر سے بے حد مفید قرار دے کراس کے حق میں گنجائش کا پہلو توخوب بیان ہوتا ہے؛مگر اس کے تباہ کن مضر اور زہریلے اثرات و نتائج پر نظرہو تو چندمعمولی اور حقیر فائدے ان خطرناک نقصانات کے سامنے پرِکاہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے، اسلام نے اسی لئے اس پرحد متعین کی ہے، اور موجوددور میں اس کی سزا کی تنفیذ شراب نوشی پر روک لگاسکتی ہے، اس کا اعتراف انصاف پسند غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے اترپردیش اور اتر کھنڈ میں ایک ہی روز، دو مختلف واقعات میں غیر معیاری شراب پینے کی وجہ سے مجموعی طور پر متعدد ہلاکتیں ہوئیں جب کہ 27 افراد کی حالت غیر ہوگئی۔ متاثرین کے طبی معائنے اور میڈیکل ٹیسٹ میں موت کی وجہ غیر معیاری شراب ثابت ہوئی ہے جس کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئیں جب کہ ناسازی طبیعت پر 27 افراد زیر علاج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 46 افراد اترپردیش اور 24 اترکھنڈ میں ہلاک ہوئے، ان افراد نے ایک تقریب کے دوران یہ شراب پی تھی۔ پولیس نے غیر معیاری شراب بنانے اور فروخت کرنے والے 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ (ایکسپریس نیوز)

قارئین گرامی!شراب یا دیگر منشیات کے ہاتھوں ہلاکتوں کی خبر کوئی نئی نہیں ہے اور نہ ہی لیا جانے والا نوٹس کوئی پرانا ہے؛مگر یاد رکھیں کہ  اس طرح کی خبریں نظر انداز کرنے والی نہیں ہیں، اگرآج ہم نے شراب سمیت دیگرجان لیوا منشیات کے استعمال اور خریدو فروخت کے خلاف آوازاُٹھا کر اس لعنت کی روک تھام نہ کی تو کل یہ لعنت شدہ شدہ ہمارے گھر اور خاندان تک پہونچ سکتی ہےاور ہمارے افراد قبیلہ بھی  منشیات کی لت میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ زہریلی شراب پینے کی وجہ سے اتنے افراد ہلاک ہوگئے ہیں تو بہت عجیب لگتا ہے کہ شراب پینے والے فوری طور پر ہلاک ہوجائیں تو زہریلی شراب کا قہر قرار دیا جاتا ہے؛لیکن جب یہی زہر شراب نوشی کرنے والے افرادکودوتین سال بعد موت کی اندھیری وادی میں دھکیلتا ہے تب شراب کوزہریلی کیوں نہیں کہاجاتا ؟ٖ

شراب نوشی کی حرمت، قرآن و حدیث کی روشنی میں:

دور جاہلیت میں شراب نوشی عام تھی، ہر کوئی بنت عنب کا رسیا اور نشے کا دل دادہ تھا(البتہ مہذب اور شریف لوگ اس زمانہ میں بھی اس قسم کی بے ہودگیوں سےمحفوظ تھے)اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی نفسیات کے پیش نظر بہ تدریج حرمت خمر کے احکام نازل فرمائے، ابتدا میں لوگوں نے شراب کے بارے میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آیت کریمہ نازل ہوئی‘‘ لوگ آپؐ سے شراب اور جوے کے متعلق دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ تھوڑافائدہ ہے لیکن گناہ اس کے نفع سے بڑھا ہوا ہے۔ ‘‘ (البقرۃ)

اس آیت کریمہ میں شراب کی حرمت صاف طور پر بیان نہیں کی گئی بلکہ ایک اشارہ کردیا گیا کہ عنقریب اس کو کلی طور پر قطعاً حرام کیا جائے گا، اسی وجہ سے حضرت عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو سن کر فرمایاتھا:ائے اللہ ہمارے لیے کافی و شافی بیان نازل فرمائیے! چونکہ قطعی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی اس لئے پینے کا معمول جاری تھی۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی صحابی کے گھر دعوت تھی، صحابۂ کرام نے کھانے کے بعد شراب بھی پی لی، پھر نمازِ مغرب میں کھڑے ہوئے تو امام صاحب نے سورۂ کافرون تلاوت کی اور ’’لآَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ‘‘ میں لا چھوڑ دیا تو معنی بالکل بگڑ گئے کہ اے کافرو! جس کی تم عبادت کرتے ہو ہم بھی اسی کی عبادت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے دوسری مرتبہ یہ حکم نازل فرمایا‘‘ اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ!۔ ‘‘

تو اس آیت کریمہ میں نماز سے اتنا پہلے شراب پینے کی ممانعت کی گئی کہ جس سے نشہ باقی نہ رہے، پھر حضرت عمرفاروق  رضی اللہ عنہ نے وہی لفظ دہرایا:ائے اللہ ہمارے لیے کافی و شافی بیان نازل فرمائیے! پھر سورۂ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی جس میں چار چیزیں حرام قرار دی گئیں:‘‘اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندے شیطانی کام ہیں سو اِن سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو۔ ‘‘

جب صراحت کے ساتھ حرمت کا حکم نازل ہوا تو حضرت عمر  رضی اللہ عنہ پکار اٹھے ’’ ہم باز آگئے ہم باز آگئے۔ ‘‘ آناً فاناً لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ دئیے، مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب بہنے لگی، سارے عرب اس گندی شراب کو چھوڑ کر معرفت ربانی اور محبت واطاعت نبویؐ کی شرابِ طہور سے مخمور ہوگئے۔

سورہ مائدہ کی اس آیت کریمہ کے تحت علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں: اس میں شراب کی حرمت پر دس دلیلیں ہیں:

(1)شراب کا ذکر جوئے بت اور جوئے کے تیروں کے ساتھ کیا ہے اور یہ سب حرام ہیں۔

(2) شراب کو ناپاک فرمایا اور ناپاک چیز حرام ہوتی ہے۔

(3)شراب کو عملِ شیطان فرمایا، اور شیطانی عمل حرام ہے۔

(4)شراب سے بچنے کا حکم دیا، اور جس سے بچنا فرض ہو اس کا ارتکاب حرام ہوتا ہے۔

(5)فلاح(کام یابی) کو شراب سے اجتناب(بچنے) پر معلق کیا، اس لیے اجتناب فرض اور ارتکاب حرام ہوا۔

(6)شراب کے سبب سے شیطان آپس میں عداوت میں ڈالتا ہے۔ اور عداوت حرام ہے اور جو حرام کا سبب ہو وہ بھی حرام ہے۔

(7)شراب کے سبب سے شیطان بغض ڈالتا ہے اور بغض حرام ہے۔

(8)شراب کے سبب شیطان ؛اﷲ کے ذکرسے روکتا ہے اور اﷲ کے ذکر سے روکنا حرام ہے۔

(9)شراب کے سبب شیطان نماز سے روکتا ہے اور جو نماز سے رکاوٹ کا سبب ہو اس کا ارتکاب حرام۔

(10)اﷲ تعالیٰ نے صیغۂ استفہام کے ساتھ نہی بلیغ کرتے ہوئے فرمایا : تو کیا تم باز آنے والے ہو، اور نہی بلیغ سے بھی حرمت کا پتا چلتا ہے۔ (شامی، ج۵، ص۹۷۔ ۳۹۶)

قرآن مجید کی ان آیتوں کے علاوہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جابجا حرمت خمر کو واشگاف انداز میں بیان کیا ہے، ارشادنبوی ہے:شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا۔ (بخاری شریف)

ایک روایت میں وارد ہوا ہے :جوشخص زنا کرتا ہے اور شراب نوشی کرتا ہے، اللہ اس سے ایمان کو اسی طرح نکال لیتا ہے جیسے انسان اپنے سر سے کپڑا اتارتا ہے۔ (مستدرک حاکم )

حضرت ابو ہریرہ سے منقول ہے :جو شراب پیتا ہے اس کے اندر سے ایمان کا نور نکل جاتا ہے۔ (کنز العمال)

اسی طرح حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے شراب کے معاملہ میں دس آدمیوں پر لعنت بھیجی شراب نچوڑنے والے پرنچڑوانے والے پراٹھانے والے پراٹھوانے والے پرلے جانے والے جس کے لئے بیچی جائے پینے والے پر جس کی وجہ سے پلائی جائے یہاں تک کہ آپ نے دس آدمی شمارکیے۔ (سنن ابن ماجہ)

ایک اورحدیث میں آیا ہے :جب بندہ شراب کا جام اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے اندر کاایمان اسے قسم دیتا ہے : اسے میرے پاس مت لاؤ، میں اور یہ جام شراب ایک جگہ نہیں رہ سکتے، پھر اگر بندہ نہیں مانتا اور شراب پی لیتا ہے تو ایمان اس سے اس طرح بدکتا ہے کہ چالیس دن تک واپس نہیں لوٹتا، پھر اگر بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، شراب سے اس کی عقل کا ایک حصہ سلب ہوجاتا ہے جو کبھی اسے دوبارہ حاصل نہیں ہوپاتا۔ (کنزالعمال بہ حوالہ دیلمی)

چنانچہ جو شخص شراب کو جائز سمجھ کر پیتا ہے وہ واقعی ایمان سے خارج ہوجاتا ہے، اور جو حرام سمجھتا ہے پھر بھی پیتا ہے وہ ایمان کے کمال سے محروم ہوجاتا ہے، اور من جانب اللہ نور ایمان اس سے سلب کرلیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طاعات سے اس کی طبیعت اچاٹ اور معاصی کی طرف راغب ہوجاتی ہے، پھر اس کا تعارف صاحب ایمان اورنیک انسانوں کے بجائے مے نوش او رشرابی کے لقب سے ہونے لگتا ہے۔

شراب کے مضرات و نقصانات:

شراب کو احادیث میں ام الخبائث سے بھی تعبیر کیا گیا، جو ہر فساد کی جڑ اور ہر فتنہ کی بنیاد ہے، یہ دماغ میں فتور پیدا کرتی ہے، عقل و خرد کو مفلوج کر دیتی ہے، ہوش و حواس سے بیگانہ بنادیتی ہے، برے بھلے کی تمیز مٹا دیتی ہے۔ اس لیے نہ صرف اسلام ؛بل کہ عیسائیت اور یہودییت میں بھی اس کا استعمال قطعاً حرام ہے۔

شراب کا سب سے  بڑا نقصان تمدنی  ہے؛جس کی وضاحت خود قرآن مجید میں بھی موجود ہے کہ وہ اکثر لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی ہے اور پھر یہ بغض و عداوت دور تک انسان کو نقصان پہنچاتی ہے، سورہ مائدہ میں خصوصیت کے ساتھ اﷲ پاک نے اس فساد کا ذکر فرمایا ہے۔ ترجمہ: ’’ یعنی شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کر دے‘۔ شراب انسان کو کھلونا بنا دیتی ہے کہ جس کی ناگفتہ بہ حالت کو دیکھ کر بچے بھی ہنستے ہیں۔ کیونکہ شرابی کا کلام اور اس کی حرکات سب غیر متوازن ہو جاتی ہیں، شراب کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان کو خطرناک و خوف ناک جرائم پر آمادہ کرتی ہے، زنا  اور قتل اکثر اسی کے نتائج ہوتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ عام شراب خانے زنا اور قتل کے اڈے ہوتے ہیں، شراب انسان کی روحانی حس کو کچل کر رکھ دیتی ہے کیونکہ نشہ کی حالت میں نہ نماز ادا ہوسکتی ہے‘ نہ اﷲ کا ذکر ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری عبادت۔

شراب کے طبی نقصانات تو حساب و شمار سے باہر ہیں۔ امریکہ میں منعقد ایک سروے کے مطابق شراب پی کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد دیگر منشیات سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا میں ہونے والے ٹریفک کے نصف سے زائد حادثات کا سبب شراب نوشی ہے اور نصف تعداد سے زیادہ جرائم کی وجہ بھی یہی شراب ہے۔ بہ کثرت طلا ق کی  وارداتوں میں بھی اضافہ کا سبب یہی بتلایا جارہاہے۔

نصف صدی پہلے ایک جرمن ڈاکٹر نے یہ بات کہی تھی:”تم شراب کی آدھی دکانیں بند کروادو تو میں تمہیں آدھے اسپتال، جرائم کے اڈے اور جیلوں کے بند ہوجانے کی ضمانت دیتا ہوں۔ “

شراب نوشی سے ہونے والی ان ہلاکتوں کے پیش نظراس بات کی اشدضرورت ہے کہ اس سلسلہ میں مستقل تحریک کے طور پر کام کیا جائے، اس کے ان گنت نقصانات اجاگر کیے جائیں اور عوام کو اس کی تباہی و زہرناکی سے ڈرایا جائے ؛تاکہ  منشیات کا یہ سیلاب بلاخیز تھم سکے اور انسانیت احترام وتوقیر کے مقام بلند تک پہونچ سکے۔ وماتوفیقی الا باللہ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عبدالرشیدطلحہ

مولانا عبد الرشید طلحہ نعمانی معروف عالم دین ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close