صحتمعاشرہ اور ثقافت

صحت کے حوالہ سے بیداری لانے کے لئے میڈیا ورک شاپ

مظفر حسین غزالی

سب سے زیادہ ضروری ہے انسانی زندگی اور بہتر صحت۔ ہمیں نہ اس کیلئے بیدار رہنا چاہئے بلکہ معاشرے کی نچلی سطح تک لوگوں کو بیدار کرنا چاہئے۔ خاص طور پر ان بیماریوں کے تئیں روک تھام کے حوالے سے جو آج بھی دنیا بھر میں تشویش کی وجہ بنی ہیں ۔ میڈیا کی ذمہ داری اس وجہ سے بھی کافی بڑھ جاتی ہے کیونکہ گاؤں قصبوں تک لوگوں کو اس کیلئے بیدا کرنے میں میڈیاکا کردار سب سے اہم ہے۔

اسی خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یونیسیف نے ہیلتھ جرنلسٹ کو تربیت دینے کیلئے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔دنیا بھر میں صحت کو لے کر خدشات کی جو بنیادی وجوہات برقرار ہیں یا حال فی الحال دیکھنے کو مل رہی ہیں ، اس میں لوگوں کی صحت، مدافعت یعنی بچاؤ، متعدی بیماریوں کیلئے ویکسین کے کردار اور ان کولے کر لوگوں کے شکوک وشبہات، نوجوان پر ماں بننے کے دوران حمل میں پیچیدگیاں ، ماں اور نوزائیدہ بچے کی صحت جیسے مسائل شامل ہیں ۔ لہٰذا یہ تشویش کے نکتے ہیں کہ انہیں کس طرح دور کیا جائے، ان کے تئیں لوگوں تک صحیح معلومات پہنچائی جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ کیا صحیح اور کیا غلط۔اس بارے میں بتانا ضروری ہے کہ کون سی چیزیں ہیں جو متھ یا غلط فہمیوں پر بنی ہوئی ہیں یا کچھ باتوں کو لے کر جو خوف پیدا کر دیئے جاتے ہیں وہ کتنے غلط ہیں جبکہ اصل صورت حال یا یہ کہیں کہ اصل تصویر اس سے کتنی مختلف ہے۔

کئی بار میڈیا کے سامنے بھی یہ چیلنج سامنے آتا ہے کہ کسی آفت کا کیسے احاطہ کریں اور اس سلسلے میں خود بھی مکمل یا صحٰح معلومات سے لیس ہوں ؟ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی انجکشن یا صحت کے عمل کو لے کر منفی افواہ پھیلنے لگتی ہے، ایسے میں ان کی ذمہ داری صحیح بات تک پہنچنا اور افواہ کا حصہ بننے سے خود کو روکنے کا بھی ہوتا ہے۔ میڈیا اگر سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری اور جوابدہی سمجھے تو بہت سی باتوں اور منفی حالات تک پہنچنے سے روک سکتا ہے۔ ورکشاپ میں اس پر کافی عملی بحثیں ہوئیں ۔ کئی اخبارات کی رپورٹ پر غور کیا گیا۔ کئی ایسے حالات پر بحث ہوئی جب میڈیا کا کردار ضروری ہو جاتا ہے کہ کسی افواہ یا حقیقت کے درمیان خبر کو لے کر ان کا کردار کیا ہو۔ ورکشاپ میں آئے صحافیوں نے اس کاخود نوٹس لینے اور ایک ضابطہ اخلاق کو اپنانے کی بات کہی۔ صحت کی دیکھ بھال سے متعلق خبر کو تبھی دیں جب اسے مکمل طور پر اس کی تصدیق کر لیں اور ساتھ ہی اسے کئی قابل اعتماد ذرائع کی کسوٹی پر بھی پرکھ لیں ۔

ورکشاپ میں ماں -نوزائیدہ بچوں کی صحت اور ماں کے دودھ کو لے کر تفصیل سے بحث ہوئی۔اس پر سوال وجواب بھی ہواکہ یہ کیوں ضروری ہے؟آخر کیوں پہلے چھ ماہ تک نوزائیدہ کو پانی نہیں دینا چاہئے۔ پہلے گھنٹے میں ہی نوزائیدہ کو کیوں ماں کا دودھ ملنا چاہئے۔ اس سے بچے اور ماں کو کیا فائدے ملتے ہیں ؟ ان پر تحقیق اور سروے کیا کہتے ہیں ۔ کہنا نہیں چاہئے کہ جب ماں نوزائیدہ بچوں کے بارے میں بات ہو رہی ہو تو نوزائیدہ کی شرح پیدائش پر بات نہیں ہو۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ہندوستان اب بھی اس مورچہ پر ایشیا میں پچھڑا ہوا ہے، یہاں تک ہمارے پڑوسی ملک ہم بہتر پوزیشن میں ہیں ۔ اگرچہ یہ صحیح ہے کہ جب سے کم عمر کی شادیاں بند ہوئی ہیں ، غذائیت کی حالت ٹھیک ہوئی ہے اور صحت کی سہولیات بڑھی ہیں لیکن اب بھی فاصلہ ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔

سال 2015 میں یونیسیف نے لوگوں کی بہتر صحت کیلئے ایک مجموعی ترقی ہدف یعنی پائیدار ترقی کانشانہ مقرر کیا۔ اس کا مقصد سال 2030 تک ان مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔ یہ کیسے حاصل کیا جائے؟ خاص طور پر یہ دیکھتے ہوئے کہ اس سے پہلے بھی ملینیم ڈیولمیٹ گول جیسی اسکیموں کو یونیسیف نے لاگو کیا تھا لیکن وہ ان توقعات پر کھری نہیں اتریں ، لیکن جس طرح سے یونیسیف نے اب ایس ڈی جی کو لے کر عملی  ہدف طے کر ان سے نمٹنے کی تیاری کی ہے، اس سے لگتا ہے کہ سال 2030 تک دنیا کی تصویر صحت مند دنیا کی ہوگی۔

ورکشاپ کے دوران جب اینٹی بایوٹک پر بحث ہوئی تو ان کے صحیح وغلط اثرات کے ساتھ سپر بگ پر بھی بات ہوئی لیکن ان رپورٹیں پر شک بھی ظاہر کیا گیا، جو یہ کہتی ہیں کہ سپر بگ سب سے پہلے بھارت کے ہسپتالوں میں ملاکیونکہ مغربی ممالک اور امریکہ کی میڈیا میں اس بارے میں خبریں آئی تھیں لیکن ان رپورٹوں میں بھی مستند ذرائع اور معیار کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ بھی پتہ لگا کہ سپر بگ جیسا تصور کوئی نئی نہیں ہے۔ اس کے بارے میں پہلے بھی کئی بار کہا جاتا رہا ہے۔ورکشاپ میں تھامپ سن رائٹر فاؤنڈیشن کے راکسٹن مارٹن، یونیسیف کی سونیا سرکار اور ان کی ٹیم کے ساتھ سوپرٹرینر کے طور پر پرمود جوشی، سنجے ابھگیان، آرتی دھر اور مظفر حسین غزالی نے موجود صحافیوں کو ورکشاپ کے شکل، اس کے تجزیاتی نوعیت، پبلک ہیلتھ کے مختلف موضوعات اور چیلنجوں کو لے کر رہنمائی کی۔ تین دنوں تک سورج کنڈ کے تاج ووانتا میں چلنے والے اس ورکشاپ میں انگریزی، ہندی اور اردو کے مختلف جگہوں سے آئے صحافیوں اورصحت عامہ سے جڑے لوگوں نے موجود گی درج کرائی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close