معاشرہ اور ثقافت

طلاق انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے

تحریر: علامہ یوسف القرضاوی

ترتیب : عبدالعزیز
علامہ یوسف القرضاوی دورِ جدید کے ایک دیدہ ور اور صاحب بصیرت عالم دین، محقق اور مصنف ہیں۔ قرآن و حدیث پر ان کی گہری نظر ہے۔ امت کے ائمہ، فقہاء اور ماہرین علوم اسلامیہ کے افکار و خیالات کا موصوف نے دقت نظر اور باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ دور حاضر کے مسائل اورپیچیدگیوں سے بخوبی واقف ہیں اور اسلام سے متعلق جو سوالات ابھر رہے ہیں ان کا جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔
طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ حلال چیز:
سوال: طلاق کے باب میں اہل علم و فقہ درج ذیل مشہور حدیث پر اعتماد کرتے ہیں: ابغض الحلال الی اللہ الطلاق۔ ’’اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے‘‘ تاہم بعض علمائے حدیث اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ کے علم میں کچھ دوسری ایسی دلیلیں ہیں جن میں طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کا ذکر ہو؟
جواب: میں اس سوال کا جواب درج ذیل نکات میں دینے کی کوشش کروں گا۔
۱) اس بات کا اثبات کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
۲) کتاب و سنت سے بعض دوسرے حوالے جن میں طلاق کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
۳) شریعت کے اصولوں سے اس ناپسندیدگی کی تائید۔
(۱) ابو داؤد، ابن ماجہ اور حاکم نے اس کی مرفوعاً روایت کی ہے۔ عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا: امام بیہقی اسے مرسل بیان فرماتے ہیں یعنی اس کی سند میں صحابی عبداللہ بن عمرؓ کا تذکرہ نہیں ہے۔ ابن جوزی نے اس حدیث کے ایک راوی عبیداللہ بن ولید الوصافی کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام سیوطی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
ان علماء کے اقوال کی روشنی میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہ حدیث صحیح کے رتبے تک نہ بھی ہو تو حسن کے مرتبہ سے کم نہیں۔
بعض علماء نے روایت کے پہلو سے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک ہی چیز بیک وقت حلال اور خدا کی نظر میں ناپسندیدہ دونوں کیسے ہوسکتی ہے؟
اس کا جواب بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ حلال کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو خدا کی نظر میں مکروہ ہے۔ امام خطابی کہتے ہیں کہ کراہت نفس طلاق میں نہیں بلکہ ان عوامل میں ہے جو طلاق کا موجب بنے۔ بعض نے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ طلاق توفی نفسہٖ حلال ہے، لیکن اس میں کراہت کا پہلو یہ ہے کہ طلاق کے بعد جو نتائج مرتب ہوتے ہیں وہ ناپسندیدہ ہوتے ہیں۔
(۲) کتاب و سنت میں ایسے شواہد موجود ہیں جن سے طلاق کی ناپسندیدگی ثابت ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے شوہروں کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ اپنی ان بیویوں کو جنھیں وہ ناپسند کرتے ہیں طلاق نہ دیں بلکہ ان کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں۔ اللہ فرماتا ہے:
’’ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو‘‘۔ (النساء:19)
قرآن مجید نے ان بیویوں کے بارے میں جو نافرمانی کی مرتکب ہوتی ہوں فرمایا:
’’اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کیلئے بہانے نہ کرو‘‘۔ (النساء:34)
ذرا غور کریں کہ جب نافرمان بیوی پر زیادتی کرنے سے منع کیا گیا ہے تو فرماں بردار اور نیکو کار بیوی پر طلاق کا ظلم کیسے روا ہوسکتا ہے؟
علامہ ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ طلاق اصلاً ممنوع ہے۔ محض بہ وقت ضرورت اس کی اجازت دی گئی ہے۔ جیسا کہ جابر بن عبدؓاللہ سے ایک صحیح حدیث مروی ہے کہ ابلیس اپنا عرش سمندر میں نصب کرتا ہے پھر اپنے کارندے پھیلاتا ہے۔ سب سے مقرب کارندہ وہ ہے جو سب سے زیادہ فتنہ پھیلائے۔ پھر وہ کارندہ ابلیس کے روبرو آکر کہتا ہے کہ میں اسے بہکاتا رہا، حتیٰ کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان علاحدگی کرادی۔ ابلیس اسے اپنے قریب بلاتا ہے اور فرط محبت سے گلے لگا لیتا ہے۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان علاحدگی ایک شیطانی عمل اور ناپسندیدہ فعل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جادو کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا: ’’پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں‘‘۔ (البقرہ: 102)
ایک دوسری حدیث میں حضور نے فرمایا: ’’خلع کرانے والی عورتیں منافق ہوتی ہیں‘‘۔
ایک اور حدیث اسی مفہوم کی ہے: ’’جس عورت نے بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے‘‘۔
ان سب دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طلاق فی نفسہٖ ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔
(۳) شرعی قواعد و اصول سے بھی کراہت طلاق کی تائید ہوتی ہے۔
’’ہدایۃ‘‘ جو احناف کی معتبر فقہی کتاب ہے اس میں طلاق کی تعریف یوں ہے: ’’طلاق نکاح کو ختم کرنے والا ذریعہ ہے، جس پر دنیوی اور دینی فوائد مرتب ہوتے ہیں‘‘۔
’’المغنی‘‘ میں حنابلہ کی طلاق کے بارے میں یہ رائے ہے: طلاق شوہر اور بیوی دونوں کیلئے باعث ضرر اور تکلیف دہ اور نقصان دہ ہے۔ اگر یہ بلا عذر ہو تو حرام ہے‘‘۔
ابن عابدین جو حنفی تھے فرماتے ہیں کہ طلاق اگر بغیر کسی عذر کے ہو تو اس میں کوئی فائدے کی صورت نہیں بلکہ بیوقوفی اور حماقت کا کام ہے، اور ایسی طلاق شرعاً ممنوع ہے۔
ان سب دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طلاق واقعی ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور وہ حدیث جس کا تذکرہ آپ نے اپنے سوال میں کیا ہے اور جو طلاق کو اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال شئے قرار دیتی ہے ، ایک صحیح حدیث ہے۔
شرابی کی طلاق:
سوال: میرے والد محترم نے میری شادی ایک ایسے مال دار شخص سے کردی جو شراب پینے کا عادی ہے۔ اب میرے اس سے بچے بھی ہیں۔ میں جب بھی اسے نصیحت کرتی ہوں اور اسے دین کی طرف راغب کرنا چاہتی ہوں تو وہ میرا مذاق اڑاتا ہے اور کبھی گالی گلوج پر اتر آا ہے۔ بعض اوقات اسی نشے کی حالت میں طلاق دے ڈالتا ہے، حالانکہ مجھے یقین ہے کہ طلاق دینا اس کا مقصد ہر گز نہیں ہوتا۔ بعض لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ طلاق تو ہوگئی گرچہ اس نے نشے کی حالت میں طلاق دی ہے اور طلاق دینا اس کا مقصد نہیں تھا، کیونکہ نشے کا استعمال اس نے اپنی مرضی سے کیا اور اپنی مرضی سے ہوش و حواس کھوئے، اس لئے اس کی سزا یہ ہے کہ طلاق واقع ہوجائے۔ لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ مجھے اس سے علاحدگی اختیار کرلینی چاہئے کیونکہ میں مطلقہ ہوں۔ علاحدگی اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ میرا سارا گھر اور میری ازواجی زندگی تباہ و برباد ہوکر رہ جائے گی۔ ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟
جواب: طلاق کے سلسلے میں شروع سے ہی علماء کے دو گروہ پائے جاتے ہیں۔
۱) پہلا گروہ وہ ہے جن کا فتویٰ طلاق سے متعلق بڑا سخت ہے۔ اس میں وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک پاگل کی دی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے۔ زبردستی دی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے۔ بھول چوک سے طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ خواہ کتنے بھی غصے کی حالت میں طلاق دی گئی ہو طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ طلاق کا استعمال نہ بھی کیا ہو اور کسی دوسرے لفظ کے ذریعہ سے طلاق دی جب بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ طلاق کا استعمال نہ بھی کیا ہو اور کسی دوسرے لفظ کے ذریعہ سے طلاق جب بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اس گروہ کے نزدیک نشے کی حالت میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کا یہی قول ہے۔ ان کی دلیل درج ذیل ہے۔
الف: نشے کی حالت میں بھی وہ شخص مکلف ہے، کیونکہ نشے کی حالت میں اگر وہ کسی گناہ یا جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ گناہ گار اور مجرم کہلاتا ہے اور اس جرم کی اسے سزا ملتی ہے۔ نشے میں ہونا اس کیلئے معافی کا سبب نہیں بن سکتا۔ اسی طرح نشے میں ہونا اس کیلئے عدم طلاق کا سبب نہیں ہوسکتا۔
ب: اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے نشے کا استعمال کیا ہے اس لئے بطور سزا طلاق واقع ہوگئی۔
۲) دوسرا گروہ وہ ہے جس کے نزدیک طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب کامل ہوش و حواس کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر طلاق دی گئی ہو، چنانچہ ان کے نزدیک نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ یہ رائے جمہور صحابہ کرامؓ مثلاً عثمانؓ اور ابن عباسؓ اور تابعین کی ہے۔ امام بخاری کی بھی یہی رائے ہے۔ انھوں نے بخاری شریف میں اس سلسلے میں علاحدہ باندھا ہے اور احادیث سے ثابت کیا ہے کہ نشے کی حالت میں یا زبردستی دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ذیل میں چند دلیلیں پیش کرتا ہوں۔
الف: حدیث ہے: ’’یعنی عمل کا دارو مدار نیت پر ہوتا ہے‘‘۔
ظاہر ہے کہ شرابی جب نشے کی حالت میں طلاق دیتا ہے تو طلاق دینا اس کی نیت نہیں ہوتی ہے۔
ب: حضرت ما عز اسلمیؓ سے جب زنا کا ارتکاب ہوا اور پھر اس کا اقرار حضورؐ کے روبرو کیا تو آپؐ نے بعض صحابہؓ کو حکم دیا کہ ان کا منہ سونگھ کر پتا کریں کہ کہیں وہ نشے کی حالت میں تو اقرار نہیں کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نشے کی حالت میں کیا ہوا اقرار حضورؐ کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔
ج: اس بات پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ نشے کی حالت میں نماز نہیں ہوتی کیونکہ اس سلسلے میں اللہ کا صریح حکم موجود ہے، جس طرح مدہوشی کی وجہ سے یہ نماز نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ تصرفات بھی واقع نہیں ہوتے جن میں براہ راست عقل کا استعمال ہو مثلاً نشے کی حالت میں کی گئی خرید و فروخت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
د: ابن عباسؓ، عثمانؓ اور عمر بن عبدالعزیزؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ انھوں نے پاگل اور شرابی کی طلاق کو کالعدم قرار دیا۔
ان سب دلائل کی روشنی میں یہی بات صحیح تر معلوم ہوتی ہے کہ نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اس لئے میں اپنی دینی بہن سے کہنا چاہوں گا کہ وہ مطمئن رہیں کیونکہ ان کے شوہر کے منہ سے نکلا ہوا لفظ طلاق در اصل نشے کی حالت میں او ر طلاق کے ارادے کے بغیر ہوتا ہے اس لئے یہ طلاق سرے سے واقع نہیں ہوتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close