معاشرہ اور ثقافت

ظالم کون؟

محمد رضی الاسلام ندوی

           ہندوستانی عورت صدیوں سے مظلوم رہی ہے _ وہ مردوں کے لیے سامانِ تعیّش، جنسی بھوک مٹانے کا ذریعہ اور کھلونا تھی_اس کی اپنی کوئی شخصیت نہ تھی _ اسی وجہ سے ‘پتی دیو’ (شوہر) کے مرنے کے بعد اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہ تھا_اسے لازماً مرنا تھا_بس اتنا اختیار اسے دیا گیا تھا کہ وہ ہنسی خوشی، اپنی مرضی سے، شوہر کی ‘چتا’ پر بیٹھ کر، اس کی نعش کے ساتھ جل مرے، یا اسے مجبور کرکے تڑپا تڑپا کر مار دیا جائے _اسے ‘ستی’ کا نام دیا گیا تھا اور اسے مقدّس رسم کی حیثیت حاصل تھی_آج بھی ہندوستان کے مختلف مقامات پر ‘ستی مندر’ کےنام سے،اس مظلومانہ اور دردناک موت مرنے والی بہت سی عورتوں کے مقبرے قائم ہیں_
زمانہ نے بہت ترقی کرلی، لیکن مرنا عورت کا مقدّر ٹھہرا_ پہلے شوہر کے مرنے کے بعد شوہر کے گھر والے اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے_اب شوہرِ نام دار اپنی زندگی میں ہی، نگاہِ التفات ہٹ جانے کے بعد، اس کا قصہ تمام کردیتے ہیں_ کچھ عرصہ پہلے اچانک اسٹو پھٹتے تھے، اب ان کی جگہ سلنڈروں نے لے لی ہے_ پتہ نہیں کیسے، اچانک ساڑی کے پلّو میں آگ پکڑ لیتی ہے اور تھوڑی دیر میں عورت بھسم ہوجاتی ہے _ اب زمانہ اور ایڈوانس ہوگیا ہے_فاییو اسٹار ہوٹلوں میں دادِ عیش دیتے ہوئے، کسی معزز خاتون کی لاش مشتبہ حالات میں ملتی ہے اور ہزار تحقیق کے بعد بھی پتہ نہیں چل پاتا کہ یہ طبیعی موت تھی، یا ہوشیاری اور مہارت سے اسے راستے سے ہٹایا گیا ہے؟
اسلام نے عورت کو مستقل بالذات شخصیت قرار دیا_نکاح کے بعد شوہر کو پابند کیا کہ اگر وہ کسی وجہ سے بیوی کو ناپسند کرتا ہو تب بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اسے نہیں معلوم کہ اللہ نے عورت میں بہت خوبیاں رکھی ہیں_ (النساء:19) اس نے مردوں کو تنبیہ کی کہ طاقت و قوت،جاہ و اقتدار اور مال و دولت کے نشے میں عورت کو نہ ستائیں اور اچھی طرح جان لیں کہ اللہ تعالی کی ذات ان سے بالاتر ہے_ (النساء:34) اس نے مردوں سے کہا کہ اگر کسی وجہ سے عورتوں سے نباہ ممکن نہ ہو تو نہ تو انھیں ستاؤ، نہ لٹکا کر رکھو، نہ ان کی جان کے درپے ہو، بلکہ انھیں طلاق دے کر الگ کردو_اللہ تعالی ان کے لیے ضرور زندگی گزارنے کی کوئی سبیل پیدا کردے گا_
ظالم کون ہے؟
شوہر کے مرنے کے بعد، یا اس کی زندگی میں ہی، عورت کو تڑپا تڑپا کر مارنے والے؟
یا عورت کو طلاق دے کر، اسے زندہ رہنے اور ممکنہ طور پر آئندہ خوش گوار زندگی جینے کا حق دینے والے؟
آج بہت لوگ آخر الذکر لوگوں کو ظالم کہہ رہے ہیں اور اوّل الذکر لوگوں کو کلین چٹ دے رہے ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close