معاشرہ اور ثقافت

عرب دنیا کا جدید ترین فیشن:  پردے کے پیچھے

وقاص چودھری

کچھ سال پہلے تک عرب خواتین اپنے فیشن کوصرف خواتین کی محفلوں تک ہی محدود رکھتی تھیں تاہم اب  نوجوان عرب خواتین ڈیزائنرز کی تیار کردہ ایسی عبائیں استعمال کر رہی ہیں، جن پر قیمتی موتی بھی جڑے ہوتے ہیں۔

خلیجی عرب ممالک کی خواتین چند سال پہلے تک عوامی مقامات پر طویل سیاہ عبایا اور سر ڈھکنے کے لیے اسکارف کا استعمال کیا کرتی تھیں اور ثقافتی طور پر یہی واحد قابل قبول لباس ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب نئی نسل کے عبایا ڈیزائنرز نے اس روایتی لباس کو کپڑے اور ڈیزائن کے حوالے سے کچھ تبدیل کرنا شروع کیا ہے، یہاں تک کہ کچھ عبائیں انتہائی مہنگے موتیوں سے مزین ہوتی ہیں تاکہ عرب خواتین کے پاس انتخاب کے لیے زیادہ سے زیادہ گنجائش موجود ہو۔

بظاہر عبایا کی روایتی شکل میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، ابھی بھی اُس کا سیاہ رنگ ہوتا ہے، لمبی آستینیں ہوتی ہیں اور یہ ڈھیلا ڈھالا لباس اوپر سے لے کر نیچے تک جسم کو ڈھانپتا ھے۔ خلیجی عرب حکومتیں اور عرب ثقافت دونوں جنسوں کے لئے اس لباس کی حو صلہ افزائی کرتی ھے۔

مرد حضرات طویل سفید لباس پہنتے ھیں جبکہ کبھی کبھی اُن کی عباؤں کا رنگ خاکستری اور نیلا بھی ہوتا ہے۔ ڈیزائنرز نے البتہ عبایا میں کچھ اضا فوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو محسوس کر لیا ہے۔ آستینوں پر کشیدہ کاری، قیمتی موتیوں اور پتھروں کا جڑاؤ عبای کو مزید دلکش بنا دیتا ہے۔

مشہور یورپی ڈیزائنر لیبلز، ڈیور، نینا رکی اور البرٹا فیریتی نے خلیجی عرب خواتین کی مہنگی گلف مارکیٹ میں اپنی اپنی عبائیں متعارف کروا دی ہیں۔

اب تک سب سے مہنگی عبایا برطانوی ڈیزائنر ڈیبی ونگم نے بنائی ہے، جس کی قیمت 17.7 ملین ڈالر بتائی جاتی ھے اور جسے مارچ میں دبئی میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ عبایا مہنگے ترین ہیرے جواہرات سے مزین تھی، جن میں سرخ ہیرے بھی شامل تھے، جوکہ نایاب اور مہنگے ترین تصور کیے جاتے ہیں۔

خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور بالخصوص دبئی عبایا کی صنعت کا خاص مرکز ہیں، جو اپنی عبائیں مشرق وسطٰی، شمالی افریقہ اور کچھ افریقی مسلم ممالک کو بھی برآمد کرتے ہیں۔ لیکن عرب ممالک میں انقلابی تحریکوں کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے مصر، تیونس، شام اور لیبیا جیسے ممالک کو ویزے جاری کرنا کافی حد تک کم کر دیے ہیں۔

بنگلہ دیشی ڈیزائنر کلیم خان کا کہنا ہے کہ ویزے نہ ملنے کی وجہ سے عبایا کی فروخت میں اندازاً ستر فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ باقاعدہ خریداروں کو متحدہ عرب امارات کے ویزے نہیں مل رہے۔

یورپی ڈیزائنرز کے تیار کردہ حجاب، برقعے اور عبایا کے نت نئے ڈیزائنز مسلم معاشروں میں بہت تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔ فیشن ویب سائٹ Style.com نے عرب ممالک میں خواتین کے نت نئے اور نام نہاد اسلامی ملبوسات کی تشہیر کا کام نہایت کامیابی سے کیا ہے۔ اس پیشرفت پر فرانس میں ایک گرما گرم اور متنازع بحث چھڑ گئی ہے۔

سب سے زیادہ تنقید کی زد میں اطالوی فیشن ڈیزائنر ڈولچے گبانا آ رہا ہے جس نے اپنے نئی کولیکشن میں نہایت فیش ایبل ہیڈ اسکارفس اور عبایا ڈیزائن کیے ہیں، جو خاص طور سے عرب ممالک اور دیگر مسلم معاشروں میں بھی تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔

 ڈولچے  گبانا کی طرح H_&_M اور  Uniqlo جیسے متعدد دیگر چینی اسٹورز بھی مغربی برانڈز اور ڈیزائنرز کے ملبوسات کی کولیکشن، خاص طور سے مشرق وسطیٰ کی مسلمان عورتوں کے لیے مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس سرمایا جاری کا مقصد صرف پیسے کمانا ہے فرانس کی خواتین کے حقوق کی وزیر لوراں روزینول نے اس منافع بخش مارکیٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس رویے کو نہایت غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔

فرانسیسی وزیر کے بیان کے بعد سے فرانس میں اس قسم کے فیشن ملبوسات کو ایک خاص تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی مغربی معاشروں میں عوامی رائے سازی میں اس کے کردار پر سوالات اُٹھنا شروع ہو چکے ہیں۔ اُدھر نیو یارک ٹائمز کی فیشن ناقد نے بھی یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا مسلمان خواتین کے لیے جدید، فیشن ایبل مگر اسلامی ضابطہ لباس کے تحت مارکیٹ میں لائے جانے والے فیشن ملبوسات مغربی معاشروں میں رواداری اور افہام و تفہیم کے فروغ اور مختلف عقائد ثقافتوں کی پہچان کو تسلیم کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں یا اس فیشن انڈسٹری کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ آزادی کے تصور کو مخصوص جمالیاتی اظہار کے ذریعے مختلف معاشروں تک پہنچائے؟

فرانسیسی وزیر کا اس بارے میں کہنا ہے، ’’فیشن برانڈز یا جدید ملبوسات سازی کی صنعت خواتین کے اسلامی لباس بنانے میں سرمایہ کاری کر کے مسلم خواتین کے جسموں کو قید کرنے کے تصور کی حمایت کر رہی ہے؟‘‘

اس تمام بحث نے فرانس میں مسلم خواتین کے برقعے پر لگی پابندی کے بارے میں متنازعہ بحث کو ہوا دی ہے۔ فرانس کی حقوق نسواں کی معروف سرگرم اور مفکر الیزابتھ باڈنٹر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مسلم خواتین کے لیے فیشن ملبوسات بنانے والے برانڈز کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔ کھیل سارا پیسوں کا ہے.

جرمنی کے شہر کولون میں جرمن فیشن انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر گیرڈ میولر تھومکنس کے بقول، ’’ڈیزائنرز اور فیشن انڈسٹری صارفین کو بلند معیار اور اُن کی توقعات کے مطابق مصنوعات مہیا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ساری بحث منافعے کے ارد گرد گھومتی ہے۔ سارا معاملہ پیسوں کا ہے۔‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close