معاشرہ اور ثقافت

عریانیت کا سیلاب

ہماری بہنوں میں حجاب کا رجحان اور ہماری بیٹیوں میں ردائے عفت کا چلن تھا، ان کے دلوں میں عریانیت وفحاشیت کی نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

عبدالکریم ندوی گنگولی

حالت ماضی:

 زندگی کی تصویر کتنی ہی تغیر پذیر ہوتی ہے، علم وفکر، سیادت وقیادت، تہذیب وثقافت میں کتنی تیزی کے ساتھ تبدلی آرہی ہے، رہن سہن، نشست وبرخاست، بول چال، سلوک وبرتاؤاور طورطریقہ میں بدلاؤ کا عنصر کتنی برق رفتاری سے بڑھتاچلاجارہا ہے ایک زمانہ میں مشرقی تہذیب وتمدن کا بول بالا تھا، خاتون مشرق عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی، مشرقی آنچل کے تقدس کی قسمیں کھائی جاتی تھیں، ہماری مائیں پردہ نشیں، ہماری بہنوں میں حجاب کا رجحان اور ہماری بیٹیوں میں ردائے عفت کا چلن تھا، ان کے دلوں میں عریانیت وفحاشیت کی نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

موجودہ حالت:

 حالات نے انگڑائی لی اور نظام حیات میں تبدیلی آنے لگی، مغرب سے نکلنے والی مسموم فضاء نے مشرق کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا اور زندگی کے ہر گوشہ میں پیوست ہوکر رہ گئی جس مغرب کا دنیا پر تین صدیوں سے سیاسی، عسکری، اقتصادی، تمدنی، علمی، فکری اور سائنسی غلبہ ہے، یہ غلبہ اور استیلاء اس قدر ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہے کہ اقوام عالم اور ملتوں کو الفاظ اور اصطلاحات اور ان کے معانی ومطالب بھی مغرب سے مستعار لینے پڑتے ہیں، دور حاضر کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عریانیت کے سمندر میں غوطہ زن ہیں اور اسی کو نصب العین بنائے بیٹھے ہیں جس کی آواز ایک مغربی فلسفی نے لگائی تھی، اس پر فتن دور میں مغرب کا ہر باشندہ اس نظریہ کو عملی جامہ پہنا نے میں سرگرادں ہیں، عبدالرحمن رافت الباشانے اپنی کتاب’’نحو مذھب اسلامی فی الأدب والنقد‘‘میں عیسائیت کے باطل نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے نظریۂ واقعیت کے تذکرہ میں مغربی فلسفی’’ہوبزتونس‘‘کے نظریہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ’’کہ انسان دراصل مبنی علی الشر ہے، سراپا شر کا پتلی ہے اوراس کے اندر بھیڑیا چھپا ہوا ہے، خواہش نفس کی تکمیل اور جنس پرستی ہی اس کی فطرت ہے اور انسان سے جن اعمال صالحہ کا ظہور ہوتا ہے وہ سب اتفاقی ہے‘‘۔

ایک خطرناک رجحان:

 کتنی ہی دل آزار بات ہے کہ نوجوان نسل عریانیت کے اس سیلاب میں خس وخاشاک کی طرح بہتے چلے گئے، بچہ، بوڑھے، ضعیف العمر ہر کوئی ا س کا شکار ہوگئے، پورا سماج متعفن اور پوری فضا مسموم ہوگئی، اس نے دنیا میں وہ تباہی مچائی جسے تاریخ بھلا نہیں سکتی، اس نے انسانی فطرت میں ایسی بہیمانہ چنگاری لگائی جس سے پوری دنیا خاکستر ہوچکی ہے، ہمارے بچوں اور بچیوں کی معصومیت، ان کا بھولا پن، ان کی شرافت وسادگی رخصت ہورہی ہے، فلموں نے عام طور پر اور ’’چینی کم ‘‘جیسی فلموں نے خاص طور پر ہماری بچیوں میں بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے قبل ہی ان کے احساسات وجذبات کو برانگیختہ کیا ہے، اب سات سال سے لے کر دس سال کی بچیاں بری لڑکیوں کی طرح زندگی گذارنے کی شوقین نظر آتی ہیں، اپنے ہیر اسٹائل (hire stayil)کا بھر پور خیال رکھتی ہیں، اپنی جسمانی ساخت اور اس کی نشوونما کے بارے میں فکر مند رہتی ہیں، بیوٹی پارلز()اور کاسمیٹک شاپ()کی جانب ان کے روزبروز برھتے قدم سے مارکیٹ میں ہلچل مچی ہوئی ہے، حسن کے اعلیٰ معیار کو پانے کی خوساہش بڑھتی ہی جارہی ہے، ان کم سن بچیوں میں عریانیت کی ایک وبا پھوٹ پڑی ہے، ایک میناکشی گیگی درہم’’Minakhsi Gigi Dorham‘‘نامی مصنفہ نے اس موضوع سے متعلق تین کتابیں (1)The lolita effect.  (3)The media sexualization of young girls(2) What we cando about?لکھیں جس میں انہوں نے کمسن لڑکیوں میں بڑھتے جنسی ونسوانی احساسات وجذبات، اس کے عوامل واسباب اور پھر اس کے مضر اثرات کا جائزہ لیا ہے، ایک حالیہ سروے کے مطابق دس سال کی لڑکیاں بے چینی اور قلبی اضطراب کا شکار ہیں کیوں کہوہ حسن کے ایک تصوراتی معیار تک پہنچنا چاہتی ہیں اور یہی خواہش ان کے جسم وجان میں بے قراری وبے چینی کی چنگاری کو بھڑکاتی ہے۔

ذمہ دار کون؟

 اس پوری صورت حال کا ذمہ دار کون ہے ؟اور وکونسے عوامل اس عریاں کلچر کے فروغ کے پیچھے کارفرما ہیں ؟اس پوری دل آزار صورت حال کا ذمہ دار ٹیلی ویژن ہے بلکہ اور عمومیت کے ساتھ الکٹرانک میڈیا ہے، ان چیزوں نے گھر گھر میں عریانیت وشیطانیت کا پرچم اتنی مضبوطی سے گاڑ رکھا ہے جس کو نکالے نہیں نکلتااور حالت اتنی ناگفتہ بہ بن چکی ہے کہ اگر کوئی اداکارہ کسی فیشن ڈیزائز سے کوئی خاص لباس تیار کراکر پہن لے تو ہماری بہن بیٹیاں اسی طرز کے لباس کا آرڈر دیتی نظر آتی ہیں گویا فحاشی وعریانیت کی نمائندہ شخصیات کے ہر قول وعمل کے گلے لگا کر سماج میں زناکاری وبدکاری کو عام کرنا چاہتی ہے۔

 ضرورت اس بات کی ہے کہ ذمہ دار حضرات رسول ﷺ کے اسوہ ٔ حسنہ کو مدنظر رکھ کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی نہ برتیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’کلکم راع وکلکم مسؤول عن رعیتہ‘‘کہ تم سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، والدین کو اپنی اولاد کی، گھر کے ذمہ دار کو اپنے اہل ِ خانہ کی غرض جس کے ماتحتی میں جن افراد کی تربیت اور ان کی نشوونما کی ذمہ داری ہے چائیے کہ اس پر فتن دور میں شریعت مطہرہ کے دائرہ میں رہ کر سیرت نبوی اختیار کرکے ان کی صحیح تربیت واصلاح کریں، اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ایک اچھا اور دینی معاشرہ وجود میں آنے کا سبب بنے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close