گوشہ خواتینمعاشرہ اور ثقافت

عصمت دری کے واقعات: پس پردہ حقائق! (دوسری قسط)

آصف اقبال

9؍مارچ2015بی بی سی ہندی ویب سائٹ پر ایک مضمون سُدِ ھیتی ناسکر کا شائع ہوا تھا۔ جس میں عصمت دری کے واقعات پر خاموشی کی پانچ وجوہات بیان کی گئیں تھیں۔ گرچہ مضمون تین سال پرانا ہے اس کے باوجود جن وجوہات کو اس مضمون میں بیان کیا گیا ہے وہ اہم ہیں اور بیشتر واقعات میں بیان کردہ وجوہات آج بھی برقرار رہیں۔ مضمون نگا ر نے مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کا دورہ کیا جس میں بتایا کہ وہاں تعلیم اور صحت سے وابستہ سہولیات برائے نام ہیں۔ ضلع میں جن خواتین سے ملاقات ہوئی ان میں کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ ہوئی زیادتی و عصمت دری کے واقعات کی رپورٹ درج نہیں کرائی۔ مضمون نگار نے جب اس سلسلے کی وجوہات مقامی لوگوں سے جاننے کی کوشش کی تو نتیجہ میں پانچ اہم باتیں سامنے آئیں۔ پہلی بات یہ تھی کہ ہمیں لڑکیوں کی شادی کرنی ہے۔ لہذا جس فرد نے یا جن افراد نے عصمت دری کی ہے اگر ہم اس کی رپورٹ لکھواتے ہیں تو واقعہ  عام ہو جائے گا اور ہم لڑکی کا شوہر نہیں ڈھونڈپائیں گے۔ کیونکہ عام ہونے کے نتیجہ میں لوگ ہماری لڑکی سے شادی نہیں کریں گے۔ متاثرہ لڑکی کالج جا رہی ہے اور اپنے بدترین ماضی کو بھول کے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

دوسرا واقعہ ایک شادی شدہ عورت کا ہے جو حددرجہ نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہے اور ایک کسان کی بیوی ہے۔ گرچہ وہ اپنی عصمت بچانے میں کامیاب ہوگئی لیکن جب مجرم کو کیفرکردار تک پہنچانے کی بات آئی تو پہلے تو گائوں والوں ہی نے اس عورت کو روک دیا اور بعد میں اسے بدچلن کہا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ عورت ہی دراصل ایک اچھے آدمی کو برے کام کے لیے ورغلا رہی تھی۔ متاثرہ کہتی ہے یہاں کے معاشرہ میں مظلوم کے سر ہی الزام لگانے کا رواج ہے۔ ان متاثرہ خواتین کیسے مسائل کا سامنا کریں؟

تیسرا واقعہ ایک ساٹھ سالہ بیوہ کی 19؍سالہ چھوٹی بیٹی کا ہے۔ یہ بچی بھی اپنی عصمت بچانے میں کامیاب ہوگئیلیکن جن فرد نے اس پے حملہ کیا تھا وہ معاشرتی اعتبار سے طاقت ورہے۔ لہذا اس کے سامنے وہ اپنے آپ کو مجبور پاتی ہے۔ پولیس میں جانا، شکایت درج کرانا بوڑھی اور کمزور عورت کے لیے دشوار گزار عمل ہے وہیں معاشرتی اعتبار سے طاقت ور لوگوں کے خلاف شکایت درج کرانا اپنے لیے مزید دشوار یاں پیدا کرناہے۔ لہذا ظالم کھلے عام گھوم رہاہے اور مظلوم اپنی عزت بچانے کی خاطر خاموش ہے۔ چوتھی وجہ ان معاملات میں خاموش رہنے کی جو سامنے آئی ہے وہ بالکل ہی عجیب و غریب ہے۔ اور وہ ہے پورے گائوں کی عزت بچانے اور برقرار رکھنے کی فکر۔ جس میں گائوں کے بڑے اورعزت و رسوخ رکھنے والے لوگ مظلومین کوخاموش رہنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اور سمجھاتے ہیں کہ اگر ظلم کے خلاف وہ آواز اٹھائیں گے، شکایت درج کرائیں گے تو پورا گائوں بدنامی کا شکار ہوگا لہذا خاموشی اختیار کی جائے۔ نتیجہ میں کوئی آپسی تنائو نہیں ہوگا اور امن و امان برقرار رہے گا۔ لیکن سوال یہ اٹھنا چاہیے کہ یہ کیسا امن ہے اور یہ کیسا آپسی بھائی چارہ ہے جہاں مجرم کو بچایا جاتا ہے اور مظلوم کو خاموش رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے؟جہاں برائیوں کو مزید بڑھنے کے مواقع میسر کیے جاتے ہیں اور ظلم و زیادتیوں میں اضافہ کے لیے سوچے سمجھے انداز میں حمایت کی جاتی ہے؟

آخری اور پانچواں واقعہ وہ ہے جس میں عصمت دری کے واقعہ کو پولیس نے آپسی رضامندی پر مبنی قرار دیا اور پھر قتل کے واقعہ کو درج کیا۔ لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ اُس کی تردید کرتی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ عورت کے ساتھ زبردستی عصمت دری کی گئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔ مظلومہ کا شوہر دہلی اور کلکتہ میں انسانی حقوق کے لیے دوڑ رہاہے وہیں اس کے ساتھ انصاف کے حصول میں شامل ایک اور شخص کا کہنا ہے کہ پولیس پر عصمت دری کے واقعات کو کم دکھانے کاسیاسی دبائو ہے۔

  درج بالا واقعات اور حقائق کے علاوہ عصمت دری کے واقعات میں زیادتی کی کئی اور وجوہات بھی بیان کی جاتی ہیں۔ کچھ نکات کی شکل میں انہیں بھی درج کیا جا رہا ہے، ان پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ نمبر ایک؛زیادہ تر متاثرہ خواتین اپنی شکایات اس لیے درج نہیں کراتیں کیونکہ پولیس تھانوں میں خواتین پولیس کی کمی ہے۔ مرد پولیس والے ان سے ایسے سوال کرتے ہیں جس کے جواب دیتے ہوئے انہیں حد درجہ شرم کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہذا وہ خاموش رہتی ہیں۔ نمبر دو؛ پولیس عام لوگوں کی حفاظت کرنے کی بجائے وی وی آئی پی لوگوں کی حفاظت میں زیادہ مصروف رہتی ہے، نتیجہ میں جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نمبر تین؛خواتین جو کپڑے زیب تن کرتی ہیں اس میں اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ مرد اُن کی جانب متوجہ ہوں گے۔ کم کپڑے، کھلے ہوئے جسم، اور جسم کے پوشیدہ حصوں کی نمائش، مردوں کو برائی پر ابھارتے ہیں۔

ایک سروے کی روشنی میں 68%فیصد مردوں کا ماننا ہے کہ خواتین کے فحش اور جذبات بھڑکانے والے کپڑے عصمت دری کے واقعات میں اضافہ کا سبب ہیں۔ نمبر تین؛خواتین کے ساتھ ہونے والاگھریلو تشدد عام ہے۔ پندرہ سے انیس سال کے 53%فیصد لڑکے اور 57%فیصد لڑکیاں مانتی ہیں کہ گھروں میں خواتین کو پیٹنا، ان کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات عام بات ہیں۔ خواتین کو پیٹا جا تا ہے اور ان کے ساتھ گھریلو تشدد بھی کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں جب لڑکے جوان ہوتے ہیں اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں کو وہ اپنے گھر اور خاندان میں عام سمجھتے ہیں تو پھر سماج میں بھی خواتین کے ساتھ زیادتیوں میں وہ شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ جرائم اور عصمت دری کے واقعات ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے، ساتھ ہی ان کی نظر میں خواتین کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ نمبر چار؛خواتین اور بچوں کے ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کی روشنی میں معاشرہ میں خواتین کی حفاظت کے انتظامات میں کمی ہے۔ بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن، اسکول، محلہ اورگلیاں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ نمبر پانچ؛ انفرادی و اجتماعی عصمت دری میں مبتلا خواتین و بچیوں پر خاندان اور معاشرہ کی سطح پرسمجھوتہ کرنے کا دبائوہوتا ہے۔ کئی بار پولیس والے بھی متاثرہ پر دبائو ڈال کر کیس درج نہیں کرتے۔ نتیجہ میں عصمت سے کھیلنے والوں کی ہمت بڑھ جاتی ہے اور وہ ایسے ہی گھنائونی حرکات کو انجام دینے سے گریز نہیں کرتے۔ نیز لا اینڈ آڈر کی کمزور صورتحال بھی ان واقعات کی زیادتی کا سبب ہیں۔ عدالتوں میں جج صاحبان کی کمی کے باعث زیر التوا مقدموں میں حد درجہ وقت درکار ہوتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں ساتھ ہی فیصلہ آنے میں دیر لگتی ہے۔ اس دوران مجرمین مختلف طریقوں سے کیس کو کمزور کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں اور ثبوت مٹانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

درج بالا واقعات اور حقائق کی روشنی میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں عورت کو جو مقام ملنا چاہیے تھا وہ آج تک کیوں نہیں ملا ؟سوال یہ بھی کیا جانا چاہیے کہ آخر عورت جس کو ہندوستانی معاشردیوی کہتا اور لکھتا ہے، یہاں تک کہ بہت ساری خواتین کے نام کا حصہ ــ”دیوی "ہوتا ہے، نیز دیوتائوں کے ساتھ ساتھ دیوئوں کی پوجا کی جاتی ہے، ایسے معاشرہ میں عورت کے ساتھ اس قدر ظلم و زیادتیاں کیوں عام ہیں ؟گرچہ عورت کمزور ہے، مظلوم ہے، عزت بچانے کی خاطر خاموش ہے، لیکن مرد حضرات کو کس نے اجازت دی ہے کہ وہ اِن مظلوم، کمزور اور عزت نفس کے ماری خواتین کی عفت و عصمت سے کھلواڑ کریں ؟کیا اس کے پیچھے کوئی نظریہ اورفکر وعمل کارفرما ہے؟یا پھر ہندوستانی معاشرہ میں کچھی ایسی کہانیاں رائج ہیں جنہوں نے انسانوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کردیا ہے؟انہیں حقیر اور ذلیل قرار دیا ہے، ان کے ساتھ ہونے والے ظلم اور زیادتیوں کو صحیح ٹھہرایا ہے؟یا پھر ہمارے ملک کا عدل و انصاف کا نظام ہی حد درجہ کمزور ہے؟

برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی تکریم لازم قرار دی ہے چاہے وہ مرد ہوں یا خواتین، نیز زنا کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا قانون سخت ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ اور روزآخر پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔”(النور:۲)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close