معاشرہ اور ثقافت

عورت اور ہمارا معاشرہ!

عزہ معین

 یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج تعلیم و ترقی کے میدان میں ہمارے معاشرے میں عورت نے مردوں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔لیکن عورت کو ابھی بھی ظلم و جبر سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔عورت کی ہر حرکت پر وہی پہرہ ہے جو کبھی دورِ جہالت کا خاصہ رہا تھا۔آج بھی تعلیم سے دور طبقات عورت کو اسی نظر سے دیکھ رہے ہیں جس نظر سے نذیر احمد کے ناولوں میں دیکھا گیا تھا ۔ آج بھی اسے تعلیم یافتہ مرد اسی پردہ اور خاموشی میں پسند کرتا ہے جس کی توقع توبۃ النصوح میں نصوح نے اپنے گھر کی عورتوں سے کی تھی ۔

یہ صورت حال ہمیں سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم پوچھیں :کیوں صاحب اپنے بھلے برے کی تمیز تم سے زیادہ کوئی اور کیوں نہیں کرسکتا ؟ کسی کام کی امید تم سے لگانے والی عورت آج اگر اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے تو کیوں اس بات کی تکلیف تمہیں سونے نہیں دے رہی ہے؟اپنی انا کا بھرم قائم رکھتے ہوئے تم آج بھی اسی جگہ کھڑے ہو جہاں ایک صدی پہلے تھے ۔ کیوں ؟اگر تمہیں نقصان کا ڈر ہے تو ہزاروں تجربوں میں تم بھی نقصان اٹھاتے ہو تو دوسروں کو برداشت کرنا تمھارے لیے ناممکن کیوں ہے ؟

تقریبا ً تمام ہی ادیب ،شعرا،صحافی اور مصنفین آج عورت کو موضوع گفتگو بنا رہے ہیں ۔عورت موضوع سخن پر تو ہر زمانے میں ہی حاوی رہی ہے ۔کیوں کہ جس طرح تصویر کائنات میں وجود زن سے رنگینی ہے اسی طرح کسی بھی تخلیق کو مکمل کرنا عورت کے بنا ناممکن ہے ۔اب وہ ذکر ہی تک محدود کیوں نہ ہو ۔ہر جگہ ،ہر محفل میں ،ہر تحریک میں ادب ہو یا سیاست ،عورت کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتی ہے۔

عورت کی اہمیت اور اس کی خدمات سے قطع نظر یہاں میرا مقصد موجودہ دور میں عورت کی حالت کی طرف ذہنوں کو متوجہ کرکے عہد حاضر کے ادیبوں ، شاعروں ، بڑے بڑے دعوے کرنے والوں وغیرہ سے ایک سوال کرنا ہے۔آپ سب عورت پر لکھ رہے ہیں ۔ ضخیم جلدوں میں لپٹے کاغذ سیاہ کر رہے ہیں ۔کبھی عورت کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں ۔کبھی اس کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھتے ہیں ۔کبھی اس کی بے وفائی سے نالاں نظر آتے ہیں کبھی ناقص العقلی کے تازیانے برساتے ہیں ۔کبھی تربیت پر کبھی اس کی صلاحیتوں پر زبان درازی شروع کردیتے ہیں ۔الغرض کسی نہ کسی شکل میں عورت آپ کے جذبات پر مسلط رہتی ہے ۔گھر میں ہیں تو کبھی ماں ،کبھی بہن ،کبھی بیٹی،کبھی دل بہلانے کاسامان اور کبھی آپ کے محال اور مشکل کاموں کو ممکن کرتی ہوئی آپ کی زندگی میں رونقیں بکھیرتی عورت ،لیکن کیا کبھی کسی بھی ادیب کے ضخیم ناولوں سے ،کسی شاعر کی خوبصورت غزلوں سے ، بہترین نظموں سے کسی عورت کے مسائل کا کوئی حل نکلا ہے؟کسی عورت کی زندگی میں ہو رہی ناانصافیوں میں کمی آئی ہے ؟

کیا وجہ ہے کہ اتنی ترکیبوں اور معاشرتی تدبیروں کے بعد بھی عورت اسی بدتر حال میں ہے جس میں صد ہا برس سے گھٹتی چلی آئی ہے ۔آج بھی عورت گھر میں سسک رہی ہے ۔بیوی پر بے جا ظلم و جبر کا ماحول آج بھی قائم ہے ۔اس کی قابلیت کو آپ ہضم نہیں کرپارہے ہیں ۔بیوی کو ورکنگ ومن دیکھ سکتے ہیں لیکن اس پر پہرے داری تک ہی اپنی فطرت کو محدود نہیں کرسکتے ۔شک اور اس کی قابلیت سے رنجیدہ خاطر رہنا آپ کی انا کی تسکین ہے ۔

ورجینا وولف کی زندگی کا المیہ دنیا کے سامنے ہے ۔خودکشی تک کا سفر کتنا کٹھن اور کانٹوں بھرا رہا ہوگا ۔یہ واقعہ الفاظ کا محتاج نہیں ہے۔کیا اس وقت سے آج تک کے درمیان کوئی تبدیلی دیش یا ودیش میں عالمی پیمانے ہر یا ملکی سطح پر نظر آئی؟ ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں رتی برابر بھی نہیں ۔ عورتیں ہمیشہ اپنے مقام کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں لیکن آج تک قابل ذکر مقام نہیں حاصل کر پائیں ۔جب کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مردوں سے ہر میدان میں سبقت لے جانے میں عورتیں ماہر ہیں ۔بلکہ دیکھا یہ جا رہا ہے کہ جو عزت وا حترام پہلے تھا وہ بھی گنوا چکی ہیں ۔ میں عورت کو برابری کا درجہ دینے کی قائل نہیں ہوں اور نہ دنیا کی کوئی طاقت برابری کا درجہ دے سکتی ہے ۔اس کی وکالت کرنے والا مجھے حد درجہ احمق نظر آتا ہے ۔آپ آزما لیں زمین اور آسمان ایک کردینا ممکن ہے لیکن عورت اور مرد کی مساوات نا ممکن ہے۔سماوی حقوق کی بات، جہاں تک مذہب کا تعلق ہے جہاں تک شریعت کا پیغام ہے اس سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتی ۔یہ قدرتی تفریق کوئی نہیں ختم کرسکتا ۔

عورت کو عورت رہ کر اپنی نسوانیت قائم رکھ کر ہی اپنی منزل کو پہنچنا چاہئے ۔اسے عورت ہی رہنے دیا جائے ورنہ مرد بننے کی دوڑ میں عورت کا ٹوٹ جانا لازمی ہے ۔عورت کو فیصلے لینے کی آزادی دی جائے ۔نہایت افسوس کی بات ہے تعلیم یافتہ طبقہ بھی عورت کے لیے گئے فیصلوں سے متفق نہیں ہے ۔کیوں ؟ کیوں بھئی تم عورت کے فیصلوں کو کیسے مسترد کر سکتے ہو؟کیا تم عورت کے مسائل کو عورت سے زیادہ جانتے ہو؟ کیا تمہیں اس کی ہر بات کا علم ہے ؟ اس کے مکالموں سے تمہیں اختلاف ہے تو کیا تم خود سے اس پر قید وبند کی صعوبتوں کو مسلط کرنے کے حقدار ہو!!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close