معاشرہ اور ثقافت

عید خوشیوں کاعنوان، قلوب پر غموں کے آثار

راحت علی صدیقی قاسمی
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ رخصت ہورہا ہے، سحر وافطار کی برکتیں مکمل ہوئیں، پل پل برستی رحمتیں اور فضائل وعنایات سے پر شب قدر کی راتیں اور ان کی برکات کا نزول ہو چکا، روزہ لذت سے بھرپور اور بے ریاء عبادت بھی پایۂ تکمیل کو پہونچ چکی، خدائی قانون کو ماننے والے افراد اللہ اور اس کے نبی آخرالزماں کا کلمہ پڑھنے والے انسانوں نے رحمتوں، برکتوں، نوازشوں سے بھرپور استفادہ کیا اور اپنے مجاہدوں کوششوں اور عبادات کی کثرت، انابت الی اللہ کے باعث انعام کے مستحق ہو چکے۔ اب وہ مقدس رات باقی ہے جس میں مزدوروں کو ان کی مزدوری دی جائے گی، ان کی محنتوں جدوجہد اور ان کے مجاہدوں کا صلہ عنایت کردیا جائے گا۔ سوکھتے حلق، ٹوٹتے جسم کا بدلہ دے دیا جائے گا، جذبات و خواہشات پر لگام کسنے کا انعام بھی عطا کیا جائے گا، تلاوت کلام اللہ کی کثرت اور شب بیداری پر نیکیاں عطا کردی جائیں گی، انعامات کے معیار کا اندازہ لگانا ہے تو اس ذات بابرکت وعظیم شخصیت کو جان لیجئے جو اس مقدس رات انعامات تقسیم کرے گی جس کی حاکمیت کا عالم ان الحکم الا للّٰہ بیان کرتی ہے، جس کی سلطنت کا عالم وھو اللّٰہ فی السموات والارض سے عیاں ہوتا ہے، جس کی طاقت کو عیاں کرنے کے لئے وھو علی کل شیء قدیر کافی ہے۔ اس عظیم ذات کا انعام بھی عظیم ہوگا جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ وما أخر آج مغفرت اور جنت کی بشارت کا پروانہ ملے گا، آج دوزخ سے آزادی کا روح پرور مژدہ سنایا جائے گا،بابرکت ایام کو خدا وحدہٗ لاشریک کی عبادت میں گذار کر بیش قیمت انعام سے سرفراز ہو کر صبح ہم خوشی خوشی غسل کریں گے اور خوشبو لگا کر جب خداوند قدوس کے دربار میں حاضری کے لئے عید گاہ کی جانب قدم بڑھائیں گے تو یقیناًہمارے قلوب پر غم کے آثار ہوں گے، تلخ یادیں ہوں گی، آنکھیں بھیگی ہوں گی، اسلامی ممالک کے حالات پر مسلمانوں کے بہتے خون پر مسلمانوں کی دنیا میں ہوتی تذلیل و رسوائی پر۔بے شک عید کی خوشی منانے کے لئے اللہ نے یہ دن ہمارے لئے خوشیاں منانے کے دیا ہے، زمانۂ جاہلیت میں میلے ٹھیلے لگتے تھے، ناچ گانا ہوتا تھا، شراب وشباب کی محفلیں ہوتی تھیں، مسرت وشادمانی کے نام پر لغویات ومنکرات، فحاشی وعیاشی کا بازار گرم کیا جاتا تھا، مظلوموں پر ظلم و جبر کیاجاتا تھا، انہیں تکالیف پریشانی مبتلا کرنا تکمیل خوشی کی علامت و دلیل تھی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں کو ختم کردیا، تمام رسوم و رواج کا جنازہ نکال دیا، برائی، فحاشی، شراب نوشی، زنا کاری وبدکاری پر قدغن لگا دی اور انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان اور ولا تقربو الزنا انہ کان فاحشہ اور والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس کے ذریعہ خداوند قدوس کے احکامات اور ان قبیح اعمال کی بدتری وابتری کا اظہار بھی کیا اور اپنے کردار و اطوار سے ایک پاکیزہ معاشرہ کی بنیاد رکھی اور پیار و محبت و اخوت ہمدردی وغم گساری کا پیغام عام کیا، قلوب کو جوڑدیا اور انما المومنون اخوۃ کا روح پرور مژدہ سنایا اور معاشرہ وسماج میں امن سلامتی پیار و محبت کا راج ہوا، انسانیت کی حکومت ہوئی اسلام کا پرچم بلند ہوا اور خوشی میں سب کو شریک کرنے کی وہ بے مثال تعلیم دی جس کا دوسرے مذاہب میں تصور بھی نہیں۔ غریب مسلمانوں کو زکوٰۃدینا تاکہ وہ غربت و افلاس تنگ دستی و فاقہ کشی کی صعوبتوں سے بچ جائیں، صدقۃ الفطر ادا کرنے کی تعلیم تاکہ غریب و مفلس نادار فقیر مسلمان بھی عید منا سکیں، آج جب خدا کے سامنے کھڑے ہوں تو خوشی کے ساتھ، کسی چہرے پر غم واندوہ کے آثار نہ ہوں، یہ ہے اسلام کی تعلیم، اسلام کا امتیاز، اس کی شان و شوکت جو کائنات انسانی کو اس کا گرویدہ بناتی ہے۔
آج اسلامی ممالک کی حالت زار تکلیف دہ ہےِ وہاں رونما ہونے والے حادثات و واقعات خون کے آنسو رلا رہے ہیں اور اس رشتہ کی بنیاد پر جو نبی اکرم صلی اللہ کا قائم کردہ ہے رنج وملال کے آثار تمام مومنین کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ ترکی جو شام کی حمایت میں کھڑا ہے، شامیوں کی عید کے لئے تحائف بھیج رہا ہے، شجاعت وبہادری اور بے باکی کی وجہ سے دنیا کی آنکھوں میں کھلتے ہیں، وہاں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اتاترک ہوائی اڈے پر شدت پسندوں نے حملہ کر دیا، 42افراد جاں بحق ہوگئے اور سلسلہ یہی نہیں رکا بلکہ مقدس شہر یمن میں حملے ہوئے، مرنے والوں کی تعداد 40 تک پہنچی اور بنگلہ دیش میں ایسا واقعہ ہوا کہ روح انسانی کانپ اٹھی، حیوانیت شرمسار ہوگئی 20لوگوں کی گردنیں کاٹ دی گئیں، کائنات انسانی ایسے واقعات کی آخر کب تاب لاپاتی اور مسلم اکثریتی ممالک میں ایسے خوفناک واقعات کب تک ہوتے رہیں گے؟ یہ بھی بڑا سوال ہے، اس کے بعد نمبر آتا ہے عراق کے مقدس شہر بغداد کا، ایک زمانہ تھایہ مقدس سرزمین علم وتصوف کا مسکن ہوا کرتی تھی، تصوف وسلوک کے سونتیں اس سرزمین سے پھوٹے، صحابہ کا مدفن، بزرگوں کا مسکن رہی ہے یہ عظیم سرزمین بھی آج خون سے لال ہے، وہاں عید کی خوشیاں کافور ہوگئیں، غم کا ماحول ہے، آنسوں کی برسات ہورہی ہے، اپنوں کی لاشوں کو تلاش و جستجو بے چین کررہی ہے، حالات کی سنگینی کا اندازہ لگائیے جو بچے منتظر تھے عید کے تحا،ئف عید کے کپڑوں کے ان بچوں کو ماں باپ کی جلی پھونکی لاشیں دیکھنے کو ملیں، ان نکے قلوب چکناچور ہوگئے، ان کے خواب تعبیر نہ پاسکے، ان کی خوشیاں پل بھر میں غم میں تبدیل ہوگئیں اور بہت سے والدین جو بچوں کے منتظر تھے مگر ان کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے، کیا وہ عید کی خوشی منا سکیں گے؟ بغداد کے دھماکوں میں 165افرادہلاک ہو چکے ہیں 200افراد زخمی ہیں، پورا ملک سوگ منارہا ہے اور سلسلہ یہی نہیں رکا بلکہ حرمت پامال ہوگئی اس عظیم سرزمین کی جہاں کائنات کا سردار شافع محشر سرور کونین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں، جس کا رتبہ بہت بلند ہے، جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھٹی کی مانند کہا ہے کہ جس طرح بھٹی میل کو لوہے کے میل کو دور کرتی ہے اسی طرح مدینہ گناہوں کو دور کرتا ہے۔ اس عظیم شہر کے تقدس کو بھی پامال کردیا گیا، وہاں بھی خودکش دھماکہ ہوا یہ روداد سال بھر کی نہیں بلکہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی ہے، جس میں خدا تعالی انسانوں کو دوزخ سے خلاصی کا پروانہ عطا کرتا ہے، اس میں اسلامی ممالک کے یہ حالات تکلیف دہ ہیں، کہاں سوئی ہوئی ہیں وہ طاقتیں جو دنیاکی ٹھیکیداری کا دعویٰ کرتی ہیں؟ جنہوں نے تیسری عالمی جنگ میں سپرپاور کو تباہ کیا، اس سے ایک چھوٹی سی طاقت کا قلع قمع نہیں کیا جاسکتا؟ کیوں آج تک اس جماعت کی بیخ کنی نہیں کی جاسکی؟ کیا ہے درپردہ؟ کیا اس جماعت کے نام پر تمام مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے؟ اسلام کو امن مخالف قرار دیاجاتا ہے، مرنے والے تمام مسلمان اور مجرم بھی مسلمان؟ کیا دنیابھرکی طاقتیں ان کا خاتمہ نہیں کرسکتیں یا کرنا نہیں چاہتیں؟ اس عید پر ان کا درد ہر مسلمان محسوس کررہا ہے مگر یہ امن پسند انسانوں کے بہتے خون پر کس درجہ غم زدہ ہیں اس کا علم بھی تو ہو۔ اس عیدپر ہمارے قلوب پر غم کے آثار ہیں جو چہروں پر بھی عیاں ہوں گے اور مالک حقیقی کے سامنے امن طلب کریں گے اور ان امن کے ٹھیکیداروں کو حقیقت سے روبرو خدا کرائے اور ہمارے انعام و مزدوری میں ان کا حصہ خدا تعالی رکھے اور حالات سازگار کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close