معاشرہ اور ثقافت

غریبوں کی مدد کریں،مگر عزت کے ساتھ!

محمد ریاض علیمی

معاشرے میں معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسلام بھی ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کرنے اور حاجتمندوں کی حاجت روائی کرنے پر زور دیتا ہے۔ معاشی توازن برقرار  رکھنے کے لیے اسلام نے مسلمانوں کو صدقہ، فطرا نہ اور زکوٰۃ کا نظام دیا تاکہ دولت صرف امیر اور مالداروں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوکر نہ رہ جائے بلکہ غریب بھی بآسانی گزر بسر کرسکیں۔اسی لیے اسلام میں سال میں ایک مرتبہ مخصوص شرح کے مطابق مالداروں پر زکوٰۃ فرض کی گئی جبکہ صدقات کے لیے کوئی قید نہیں لگائی گئی۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے مال میں سے صدقہ کرتے رہیں تاکہ اس کی برکتیں بھی حاصل ہوتی رہیں اور غریبوں کی مدد بھی ہوتی رہے۔

رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی مسلمانوں میں غریبوں کی امداد اور خیر خواہی کا جذبہ بڑھ جاتا ہے۔ بعض لوگ غریبوں کو راشن کی صورت میں زکوٰۃ دیتے ہیں اور بعض مالی مدد کرتے ہیں۔ یقینی طور پر معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے۔ لیکن فی زمانہ غریبوں کی مدد کرنے کے معاملے میں ایک خرابی پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث صدقہ یا زکوٰۃ دینے والا اپنے ثواب کے بجائے عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے۔ وہ خرابی ”ریاکاری“ اور ”دکھاوا“ ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک ہوا چل پڑی ہے کہ فلاں شخص نے اتنی زکوٰۃ نکالی، فلاں شخص نے اتنے راشن دیے، فلاں فیکٹری کا مالک پورا مہینہ راشن بانٹتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

 اسی طرح غریبوں کو راشن وغیرہ دینے کا جو انداز اپنایا جاتا ہے وہ بھی قابلِ مذمت ہے۔ کڑکتی دھوپ میں گھنٹوں گھنٹوں مرد، خواتین اور بچوں کو لائنوں میں کھڑا رکھنا، ان سے بد تمیزی کرنا، انہیں دھتکارنا  دھکم پیل اور بھگدڑ جیسا سماں باندھنا، اپنے گھر، دکان یا فیکٹری کے آگے رش لگوانا اور زیادہ سے زیادہ شہرت ملنے کی امید رکھنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ راشن دیتے وقت تصاویر اور ویڈیو بنوانا پھر ان کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر نشر کروانا اور سوشل میڈیا پر اس کی دھوم مچانابھی انتہائی مذموم فعل ہے۔گھر کی چار دیواری سے مجبوری کی حالت میں نکلنے والی خواتین کی تصویریں ایسے چھپوائی جاتی ہیں جیسے بہت بڑا نیک کام کیا جارہا ہو۔ ایسی حالت میں کوئی اس غریب  ماں سے پوچھے کہ اس کے دل پرکیا بیت رہی ہے؟ ایسے موقع پر راشن دینے والے کو سوچنا چاہیے کہ خدانخواستہ اگر یہ صورتحال اس کے کسی گھر والے پر پیش آجائے تو اس وقت اس کا خون کس قدر کھولے گا۔ غریب کی مدد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی غربت کا شور مچایا جائے۔ غریبوں کی مدد جوکہ بہت اچھا کام ہے لیکن ان خرابیوں کی وجہ سے یہ فعل بھی مذموم بن جاتا ہے۔ راشن کے لیے لائنوں میں کھڑے ہونے والے بزرگ اور خواتین پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھی کسی نہ کسی مجبوری کی خاطر مانگنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وہ لوگ بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ لائنوں میں لگنے والے ضرورتمند بزرگ بھی ہمارے بزرگوں کی طرح لائق تعظیم ہوتے ہیں، وہاں کھڑی خواتین بھی ہمارے گھر کی خواتین کی طرح قابلِ تکریم ہوتی ہیں۔ یتیم اور چھوٹے بچے بھی ہمارے گھر کے بچوں کی طرح لائق محبت ہوتے ہیں۔ ان سب کی بھی عزت نفس ہوتی ہے۔ زکوٰۃ دینے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ ان غریبوں کو دھتکارا جائے، ان کی عزتوں کا سودا کیا جائے، انہیں سر عام رسوا کیا جائے۔

زکوٰۃ دینے والا اگر زکوٰۃ دے رہا ہے تو وہ کون سا احسان کررہاہے۔ یہ توسب وہی مال دے رہا ہے جو اسے اللہ نے دیا ہے۔ اسے ہر حال میں زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی حکمِ خداوندی ہے۔ زکوٰۃ نہیں دے گا تو وہی مال اس کے لیے وبال ِ جان بن جائے گا۔ جب یہ حکمِ خداوندی کی تعمیل ہے تو پھر اس پر غرور، تکبر اور گھمنڈ دکھانے کی کون سی وجہ ہے۔ بعض لوگ اس موقع پر کہتے ہیں کہ یہ سب پیشہ ور ہیں، ضرورتمند نہیں ہیں۔ ٹھیک ہے اگر سب پیشہ ور ہیں بھی تو ہمیں ان کی عزتوں کا سودا کرنے کا حکم کس نے دیا ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مواقع پر پیشہ ور لوگ زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ سب کے سب پیشہ ور ہوتے ہیں۔ ان میں وہ معصوم یتیم بچے بھی ہوتے ہیں جن کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ بچے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی عید کی خوشیاں نہیں دیکھی ہوتیں۔ ان میں وہ مجبور اور بیوہ خواتین بھی ہوتی ہیں جو پُر فتن دور میں اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے صرف دو وقت کی روٹی کی تگ وو و میں ہوتی ہیں۔ ان میں وہ مائیں اور بیٹیاں بھی ہوتی ہیں جنہیں گردشِ حالات نے آگھیرا ہوتا ہے۔ ان میں وہ بوڑھے اور معذور لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اس لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ ان کے بچے بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں۔ ہر مانگنے والا بلا ضرورت کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ کس کے گھر کی کیا مجبوری ہے ہم نہیں جان سکتے۔ بعض لوگ سفید پوش ہوتے ہیں جو کسی کے آگے سوال نہیں کرتے۔ جبکہ بعض ایسے ہوتے ہیں جو اپنی مجبوری ظاہر کرکے اپنی ضرورت پوری کرلیتے ہیں۔اور بعض نہ تو ضرورتمند ہوتے ہیں اور نہ ہی مستحق ہوتے ہیں لیکن پھر بھی مانگتے پھرتے ہیں۔

لہٰذا فی زمانہ زکوٰۃ اور صدقات دیتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ آپ کا مال اور زکوٰۃ مستحقین تک پہنچے۔ اگر آپ کے اندر غریبوں کی مدد کرنے کا جذبہ ہے تو اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ خود تھوڑی سی محنت کرکے ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ عرف میں جنہیں سفید پوش کہاجاتا ہے۔ جو پانی پی کر روزہ رکھتے ہیں اور پانی پی کر ہی روزہ کھولتے ہیں لیکن کسی آگے دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔ جو کچھ گھر میں میسر ہوتا ہے کھاپی کر گزارہ کرلیتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو اپنی مجبوری اور غربت کا احساس تک نہیں ہونے دیتے۔وہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں صرف عید الاضحی کے مو قع پر گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے اور بعض لوگوں تک تو عید الاضحی کے موقع پر بھی گوشت نہیں پہنچتا لیکن وہ پھر بھی نہیں مانگتے۔ اگر واقعتاً اللہ کی رضا کے لیے غریبوں کی مدد کرنی ہے تو نمودو نمائش کا کیمپ لگانے اور جانوروں کی طرح بھیڑ لگانے کے بجائے اپنے رشتہ داروں، گلیوں اور محلوں میں سفید پوش لوگ تلاش کریں اور ان کی اس طرح مدد کریں کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔انہیں ذلت محسوس نہ ہو۔ خاموشی کے اس عمل سے شہرت تو نہیں ملے گی لیکن قلبی و روحانی تسکین ضرور ملے گی۔اور حقیقی ضرورت مندوں کی باعزت طریقے سے مدد کرنے پر ان کے دل سے جو دعائیں نکلیں گی تو وہ جلد ہی قبولیت کے درجے پر فائز ہوں گی۔ ویسے بھی صدقہ دینے کا حکم تو یہ ہے کہ صدقہ چھپا کر دیا جائے یہاں تک کہ بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ کتنا صدقہ کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں چھپاکر صدقہ کرنے کے بجائے تشہیر کرکے صدقہ کیا جاتاہے۔ زکوٰۃ کو تو احسان سمجھ کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ریاکاری کہلاتا ہے۔ اس سے خلوص ختم ہوجاتاہے اور سارا اجر ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔اس کا صلہ نہ دنیا میں ملے گا اور نہ آخرت میں، بلکہ آخرت میں اس فعل پر ثواب کے بجائے عذاب ہوگا۔ کیونکہ ریاکاری نہایت قبیح فعل ہے۔

اسلام کی تعلیمات میں اس بات کو بڑی اہمیت دی گئی ہے کہ بندہ ئ مومن جو بھی کام کرے وہ اللہ کے لیے کرے، اس کا دل اخلاص کے جذبے سے سرشار ہو، اس کا مقصد اللہ کی رضاجوئی اور خوشنودی کا حصول ہو۔ خاص طور پر غریب کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ مختصر یہ کہ غریبوں کی مدد کریں، ضرور کریں، مگر با عزت طریقے سے کریں۔ انہیں غربت کا طعنہ نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close