معاشرہ اور ثقافت

غیرت کا جنازہ ہے ذرادھوم سے نکلے!

عظمت علی

سورج کے ہو تے چراغ سے روشنی لیناانتہائی احمقانہ عمل ہے۔ اللہ کے عشق حقیقی کی موجود گی میں غیر اللہ کے وقتی جمال پر خطر پر فریفتہ ہوجانا انتہائی جاہلانہ اقدام ہے۔ انسان اشرف المخلوقات کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ بھی چمگادڑوں کی طرح تاریکی شب میں پڑا ہوا ہے اور آفتاب کے ہوتے مدہم چراغوں کاعاشق ہوچلا ہے۔

سلطان صلاح الدین کا یہ قول کہ جس قوم کو تباہ کرنا مقصود ہو تو اس قوم کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلادو، بالکل درست اور صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج اگر کسی قوم کو مفلوک الحالی کے کھنڈر میں تبدیل کرناہے تو اس کا سب سے سادہ اور کارآمدطریقہ نوجوانوں کی فکری مہار پر قبضہ کرنا ہے۔ حالیہ دور میں روزانہ نت نئے طرح سے مسلمانوں کا بیڑا غرق کرنے کی بدستور کوشش جاری ہے۔

١٤فروری کا پس منظر شدید الجھا ہوا ہے۔ مختلف قسم کی باتیں چلی آئی ہیں ۔ گوکہ جتنا منھ اتنی بات!بہر کیف، تاریخ میں ملتاہے کہ تیسری صدی عیسوی میں رومانی بادشاہ کلاڈیس ثانی (Claudious ll)اپنے زمانہ کا ایک سفاک بادشاہ تھا۔ اس کے دور میں جب سلطنت روم میں جنگ کا دور چلا تو اس نے لشکر تیار کرنے کو کہا۔ لیکن فوجی تھے کہ تیار ہی نہ ہوئے جنگ کے لیے سوا چند کے۔اس نے وجہ دریافت کی تو معلوم پڑاکہ شادی شدہ مرد اپنے اہل و عیال سے دور ہو کر شریک معرکہ نہیں ہوناچاہتے اورنوجوان بھی اپنی معشوقہ اور محبوبہ سے دوری کو برداشت کرنے سے رہے۔لہٰذا، اس نے حکم نافذ کیا کہ اب مزید کوئی شادی بیاہ نہیں کرے گا۔ لیکن ولنٹائن نے اس شاہی حکم نامہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شادی رچالی۔ جب بادشاہ کو اس بات کا علم ہواتو اس نے اسے پھانسی پر لٹکادیا۔ اسی بنا پر اس کی یاد میں اسے عید کا دن قرار دیا گیا۔

دوسری تایخ میں یوں ملتا ہے کہ ولنٹائن نامی ایک پادری تھا۔ وہ ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوگیاتھا۔ چونکہ عیسائی مذہب میں پادری اور راہبہ کے لئے نکاح ممنوع ہے۔اس لئے ایک روز وہ اپنی معشوقہ کے تسلی و تسکین کی خاطر اس سے ایک خواب  ذکرکیا۔ ١٤ فروری کا دن ایسا ہے کہ اگر اس میں کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے گناہ کے زمرے میں شامل نہیں کیاجائے گا۔راہبہ بھی اس کی میٹھی باتوں میں آگئی اور دونوں  عشق کے نشہ میں آکر کلیسا کی ساری روایات کو بالائے طاق رکھ کر وہ سب کچھ کر گزرے جو نام نہاد عشق و محبت میں ہوا کرتاہے۔کلیسا کی روایت کی یوں دھجیاں اڑا دینے پر اس کا بھی وہی حشر ہوا جوہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے یعنی اسے قتل کردیاگیا۔بعد میں کچھ منچلے اور مغرب زدہ حواس باختہ ٹولہ نے ولنٹائن کو شہید محبت کا لقب دے کر اس کی یاد منا شروع کردی۔

اس تہوار کے متعلق کہا یہ جاتاہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کیلیا(Luper Calia)”بھیڑیا کا تہوار”کی صورت میں ہوا۔ یہ ١٣ سے ١٥فروری تک منایا جانے والا تہوارہے۔اس روز قدیم رومی باشندے اپنے دیوتاؤں سے بدی کی طاقت سے نجات اور معاشرے کو اچھا ئی کی طرف راغب کرنے اور خوشحالی و زمین کی زرخیزی کی دعائیں مانگتے تھے۔رومی حضرات اس تہوار کو لوپا (Lupa)نامی دیوی کی نسبت سے منایا کرتے تھے۔کہاجاتا ہے کہ یہ ایک مادہ بھیڑیا تھی جس نے دو شیر خوار یتیم بچوں ؛رومولس (Romulus)اور ریمس (Remus)کو اپنا دودھ پلایاتھا۔ رومیوں کی تاریخ کے مطابق بعد کے زمانہ میں نہیں دونوں نے روم کی بنیاد رکھی تھی۔

اسی طرح اس تہوار کے پس پردہ نہ جانے کتنی کہانیاں موجود ہیں ۔ یہ بات بھی سننے میں آئی کہ اس روز قدیم روم میں لڑکیاں پرچیوں پر اپنا نام لکھ کر ایک صندوق میں ڈال دیا کرتیں اور لڑکے آتے اور اسے نکالتے۔ اس میں جس لڑکی کا نام آجا تا تو وہ اس کی دوست ہوجاتی اور پھر عشق ومحبت کا دور شروع ہوچلتا اور وہ سب کرتے جو نہیں کرناچاہیے ہوتا!

لیکن ان سب واقعات میں ایک واقعہ جو سب سے زیادہ مشہور ہے اور اسے تقریبا تقریبا سبھی نے لکھا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ اس کا آغاز ”رومن سینٹ ولنٹائن ”کی مناسبت سے ہوا جسے محبت کا دیوتا بھی کہتے ہیں ۔ اسے مذہب تبدیل نہ کرنے کی جرم میں قید وبند کی صعوبتوں میں رکھا گیا۔ قید کے دوران اسے جیلر کی لڑکی سے پیار ہوجاتاہے …۔سولی پر چڑھانے سے پیشتر اس نے جیلر کی بیٹی کو الوداعی محبت نامہ لکھا جس میں دستخط سے پہلے ”تمہارا ولنٹائن ”تحریر تھا۔ یہ واقعہ ١٤ فروری ٢٧٩عیسوی کو پیش آیا اور اسی یادمیں اس دن کو منایا جاتاہے۔بعداز ایں یورپ کے مختلف مقامات پر اس دن لڑکوں کی طرف سے لڑکیوں کو کارڈ بھیجنے کا رواج چل پڑا۔ اس موقع کی مناسبت سے کارڈ ارسال کئے جاتے ہیں ۔ خصوصاًگلاب کے پھول پیش کئے جاتے ہیں ۔رقص و سرور کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں اورنہ جانے کیا کیا گل کھلائے جاتے ہیں ۔

گذشتہ برسوں میں اس کا کوئی وجود نہیں ملتا۔ لیکن ابھی یہی کوئی چند برسوں سے مغربی میڈیااس اباحیت اور اخلاقی باختگی کی نشر و اشاعت میں پانی کی طرح دولت بہارہی ہے۔ جس کا اصل مقصداچھے بھلے معاشرہ کو آلائش سے تر کرناہے۔ لوگ سرخ رنگ کے گلاب، سرخ رنگ کی مٹھائیاں اور دیگر سرخ رنگ کے تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں ۔

غرض کہ اس روز غیر جائز طریقوں سے لڑکیوں کا ایک دوسرے نامحرم سے میل ملاپ ہوتاہے۔ جس میں مسلمان لڑکے اور لڑکیاں بھی ملوث نظر آتی ہیں ۔ خود تصور کریں کہ کیا آپ اس بات کو برداشت کرسکتے ہیں کہ ایک اجنبی آئے اور آپ کی ناموس کو تحفہ پیش کرے اور وہ بھی بلااجازت اور غیرشرعی طریقوں سے ؟

ہر گز نہیں ! یقینا ہر حیا ء پسند اور عزت دار فرد کی یہی رائے ہوگی۔ اگر اس صنفی ملاقات کو فحاشی اور زناکاری کا مقدمہ کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ چونکہ ایسا مشاہدہ میں آیا ہے اور آپ کے علم میں بھی ہوگا۔آپ اس کی عالمانہ تائید کریں گے۔ لہٰذا، خود بھی ان جیسے سماجی خرافات سے دور رہیں اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے رہیں ۔مبادا دیر نہ ہوجائے۔ ۔۔!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close