معاشرہ اور ثقافت

فطرت کے تقاضے

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

اللہ رب العزت نے تمام انسانوں کی تخلیق فطرت سلیمہ پر کی ہے ،تاکہ انسان خود چین وسکون سے رہے اور دوسرے انسان کے لیے بھی چین وسکون کا باعث بنے،خود سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرے اوردوسرے انسانوں تک بھی سلامتی پہنچائے۔ اس کے برخلاف شروفساد پھیلانا چاہے وہ دینی سطح پر ہو،یادنیوی سطح پر ہو بہرحال قابل نفرت اور لائق ملامت ومذمت ہے ،کیوں کہ شروفساد فطرت سلیمہ کے لیے نقصان دہ ہونے کےساتھ قدرت الٰہی کے بھی خلاف ہے۔
لفظ’’ انسان‘‘،’’اُنس‘‘ سے بنا ہے جس کا معنی ’’اُنسیت‘‘(لگاؤ،اپنائیت)ہے ۔چوں کہ انسان لفظاً،معناًاور فطرتاً’’ محبت کرنے والا ہے‘‘، پیاربانٹنے والاہے‘‘ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص انسان بھی ہواورفسادی بھی ہو،محبت کرنے والابھی ہو، اورنفرت پھیلانے والا بھی ہو۔اس لیے اب اگرکوئی انسان امن وسلامتی کے خلاف عمل کرتا ہے تو واضح طوپر سمجھ لینا چاہیے کہ وہ فطرت سلیمہ و قانون الٰہی دونوں کا باغی ہے اور شیطان وابلیس کا یارومددگارہے۔

پھر اس کے ساتھ ہی وہ انسان، مومن ومسلمان بھی ہو،دین اسلام کا ماننے والا ہوتو اُس کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ قطعاً شروفساد کا سبب نہ بنے اور بہر صورت اپنی ذات سے کسی بھی مخلوق کو،چاہے وہ مومن ہویا غیر مومن تکلیف ونقصان نہ پہنچائے،بلکہ ہمیشہ خیرونفع پہنچائے اوردینی ومذہبی اورملکی وعالمی ہر دوسطحوںپر اَمن وشانتی قائم رکھےکہ یہی شعاراسلام ہے اور یہی ایک مومن کی پہچان ہے۔

دینی ومذہبی سطح پر اس حدیث پاک کو پیش نظر رکھے جس میں مسلمانوں کوتحفظ و سلامتی پہنچانے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام مسلمان محفوظ رہیں۔(مسلم،باب تفاضل الاسلام،حدیث:65)

ملکی وعالمی سطح پر اس حدیث پاک کو پیش نظر رکھے جس میں عام انسانوں کو تحفظ وسلامتی پہنچانے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام انسان محفوظ رہیں۔(مسند احمد،مسندفضالۃ بن عبید انصاری،حدیث:23958)

چوں کہ کوئی بھی شخص کسی بھی شخص کونفع یا نقصان پہنچا نا چاہتاہے تو بالعموم اپنےہاتھ اور زبان کا استعمال کرتا ہے، اس کے بعد ہی دوسرے اعضا کا نمبر آتا ہے، اس لیے ان دونوں احادیث کریمہ میں ہاتھ اورزبان کا ذکر بطور خاص آیاہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ہاتھ اورزبان سےکس طرح تکلیف پہنچاتاہے؟اس سلسلے میں غور کیا جائے تویہ اصلیت سامنے آتی ہے کہ سامنے والا جب غصہ دلاتا ہے تو بندہ اپنے ہاتھ کی طاقت کا ہی استعمال کرتا ہے ،مثلاًطمانچہ جڑناہو،گھونسا مارناہو،اورلاٹھی چلاناہو،اِن تمام تکلیف رسا اعمال کے لیے پہلےپہل ہاتھ ہی کام میں لایاجاتاہے۔زبان کی بات کی جائےتوغیبت و چغلی،الزام وبہتان، گالی گلوج اور لعن وطعن کی شکل میں مختلف اعمال سامنے آتے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تکلیف پہنچاتاہے،جب کہ غیبت وچغلی اور الزام وبہتان سخت حرام ہے ،بلکہ اسے زناسے بھی بدتر قراردیاگیاہے۔گالی گلوج کی بھی سخت ممانعت آئی ہے کہ اس کی وجہ سےعزت نفس پر سوال اٹھتاہے اور کسی مسلمان کی بےعزتی بھی جرم عظیم ہے،اسی طرح لعن وطعن کی وجہ سے بھی ذلت ورسوائی ہاتھ آتی ہےجوتکلیف کا ذریعہ ہے۔ پھر یہ تمام چیزیں غیرمسلم کے لیےبھی روا نہیں ،کیوں کہ یہ تمام باتیں غیرانسانی اور بداخلاقی میں شامل ہیں، اور اسلام میں نہ تو غیرانسانی حرکتوں کی اجازت ہے اورنہ بداخلاقی کے لیے کوئی جگہ، اس لیےہر اُن عمال سے پرہیزکرنا انتہائی لازم ہےجن سے انسانیت کو تکلیف پہنچے۔ بلکہ لوگوں کے لیے ہمیشہ نفع بخش بننے کی کوشش کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جولوگوں کے لیے سب سے زیادہ فیض رساں ہو۔(معجم کبیرازطبرانی،عبداللہ بن عمر،حدیث:13646)

اس کے دوفائدے ہیں:

1۔ ایساکرنےسےہرمسلم خودبھی گناہوں سے محفوظ رہےگا اوراُس کی تکلیف سے دوسرے مسلمان بھی محفوظ رہیں گے،اس طرح حق دینی بھی اداہوگا اور حق اخوت بھی پوراہوگا۔

2۔ یہ عمل ایک مسلم جب غیرمسلموں کے ساتھ روا رکھےگا تو اُن کےدلوں میں اسلام ومسلمان کی عظمت بیٹھےگی اورجونفرتیں اور عداوتیں مسلمانوں کے تعلق سے اُن کے دلوں میں ہیں وہ ختم ہوں گی۔

اس کے علاوہ اوربھی طرزعمل اپناناچاہیے جس سے دوسروں تک سلامتی پہنچائی جاسکے، وہ اس طورپر کہ اگر اللہ رب العزت نے مال وزر سے نوازاہےتوبندہ اپنےدونوں ہاتھوں سے صدقات وعطیات کرے اورحاحت مندوں کی حاجتیں پوری کرے کہ جہاں اس عمل سےاللہ رب العزت اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاو خوشنودی حاصل ہوگی وہیں حاجت مندوں کی حاجتیں بھی پوری ہوں گی۔ ساتھ ہی یہ فائدہ بھی ہوگا کہ جو لوگ جانے انجانے میں اپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیےمختلف جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں وہ ان جرائم میں ملوث ہونے سےبچ جائیں گے،غرض کہ ایسا کرنا بھی ایک طرح سےسلامتی پہنچاناہےکہ ملکی اور معاشرتی سطح پر جرم سے محفوظ رکھناہے۔ یہی معاملہ غیرمسلموں کے ساتھ بھی اپناناچاہیے کہ اگر وہ حاجت مندہوں توتالیف قلب کے لیے اُن کی بھی حاجتیں پوری کی جائیں،تاکہ اُن کے قلوب واذہان میں اسلام کے لیے نرم گوشہ پیداہو،اوروہ قبول حق کی طرف راغب ہوسکیں۔

پھراگربندہ اس قابل نہیں کہ وہ صدقات وعطیات کرسکےتو وہ اپنے کرداروعمل سے لوگوں کو سلامتی پہنچانے کی کوشش کرے،مثلاً:اگر سفرمیں ہے توٹرینوں اور بسوں میں ضعیفو ں کو بیٹھنے کے لیے جگہ فراہم کرے،عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کوسڑک پار کرانے میں اُن کی مددکرے،عوامی مقامات اورعام شاہراہوں پراگر کوئی ایساشخص نظرآئے جس کی مدد کرناانتہائی ضروری ہوتو ایسے شخص کا معاون ومددگار بنے، اس کے علاوہ ہر وہ عمل کرنے کی کوشش میں رہے جس سے مخلوق کو فائدہ پہنچے۔بالخصوص دوران سفر ٹریفک نظام کا خیال ضرور رکھناچاہیےکہ سڑکوں پر جام نہ ہونے پائے،کیوں کہ بسااوقات ایک انسان کی تھوڑی سی لاپرواہی یا خودغرضی سیکڑوں انسانوں کی پریشانی اور تکلیف پہنچانےکی وجہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طورپر تیزی سے نکلنے کے فراق میں نہ ختم ہونے والا جام کاسلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور نتیجے کے طورپرجنھیں ٹرین پکڑنی ہوتی ہے،یا جنھیں اسپتالو ں میں جانا ہوتا ہے یا پھرجنھیں ڈیوٹی پر جانا ہوتاہے اُنھیں کافی مشقتوں کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ ان باتوں سے پرہیز بھی لازم ہے کہ یہ تمام باتیں بھی انسانوں کو سلامتی پہنچانے اور کارِ ثواب میں شامل ہیں۔

اس کے علا وہ علم وہنرسےبھی عوام وخواص کو فائدہ پہنچایاجائےکہ جو لوگ صحیح دینی معلومات نہیں رکھتے،یا جو لوگ حلال وحرام کے درمیان فرق نہیں جانتے یا پھر معاملات وتجارت میں امانت ودیانت داری کو اہمیت نہیں دیتے اور زیادہ سے زیادہ منافع کے لیے غلط طریقے اختیارکرتے ہیں۔ ایسے لوگوں تک دین کی صحیح جانکاری پہنچائی جائے،تاکہ وہ پورے طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں اور ہلاکت وگمراہی کے گڈھے میں گرنے سے محفوظ رہیں، اُنھیں بتایاجائے کہ حلال کیا ہے اورحرام کیا ہے، تاکہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرانے کی وجہ سےوہ جہنم کا سزاوارہونے سے محفوظ رہیں ،اور پھر معاملات وتجارت میں خرد بُرد کرنے کے انجام سے اُنھیں آگاہ کیا جائے،تاکہ وہ ان بُرے اعمال کے ضرر سے بچ سکیں۔

چنانچہ اس طرح کے بہت سے اعمال ہیں جن کے ذریعےایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلامتی اور فائدہ پہنچاسکتاہے اور اپنے مومن بھائیوں کے حق میں مفید ہوسکتاہے، پھر یہی معاملہ غیروں کے ساتھ بھی روا رکھاجاسکتاہے، تاکہ حسن انسانیت کے ساتھ حسن تبلیغ کے لیےبھی راہ ہموار ہوسکے۔ اس لیے حضرت انسان بالخصوص مسلمانوں کو نہ تو اپنی فطرت سلیمہ چھوڑنی چاہیے اورنہ ہی حق تعالیٰ سے بغاوت مول لینی چاہیے کہ فطرت سلیمہ چھوڑدینا حیوانیت ہے اور حق تعالیٰ سے بغاوت اللہ رب العزت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور یہ دونوں ایک انسان ومسلمان کے لیے دین ودنیا دونوں میں سخت نقصان دہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جہاں گیر حسن مصباحی

ڈاکٹریٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی۔ مدیرمسئول: ماہنامہ’’خضرراہ‘‘ الہ آباد۔ استاذ:جامعہ عارفیہ، سیدسراواں، الہ آباد۔ متعدد اسلامی سماجی سیاسی اور ادبی مقالات ومضامین اشاعت پذیر۔

متعلقہ

Back to top button
Close