معاشرہ اور ثقافت

لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

عبدالعزیز

 جب کوئی مسلمان ہوتا تھا تو اس پر یہ حقیقت ظاہر کی جاتی تھی کہ جھوٹ سچائی کی ضد ہے۔آج سے تم سچائی اپنا رہے ہواور جھوٹ جیسی لعنت کو چھوڑ رہے ہو۔جھوٹ کفر کی چھوٹی شکل نہیں ہے بلکہ بڑی شکل ہے۔جب کوئی جھوٹ چھوڑتا ہے تو وہ سچائی اپناتا ہے اور جب کوئی سچائی چھوڑتا ہے تو جھوٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے۔ جھوٹ کو اسلام یا حق کی ضد کیوں بتایا گیا ہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ جھوٹا سب کچھ ہو سکتا ہے مگر وہ قابل اعتبار نہیں ہوتاجب قابل اعتبار نہیں ہوتا تو اس سے کوئی اچھا کام لیا جانا کار محال ہے۔جھوٹا جھوٹا ہوتا ہے وہ حق کے خلاف محاذنہیں سنبھال سکتاہے حق کی ہر بات اس پر ناگوار گذرتی ہے۔حق سے وہ نفرت کرتا ہے۔حق سے منہ چھپاتا ہے بلکہ حق کو منہ چڑھاتاہے ا س کے باوجود وہ اپنے آپ کو نا مسلمان کیوں نہیں کہلاناپسند کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس ڈگری کے بغیر وہ اپنے سماج سے کٹ جائیگا ۔لہٰذا وہ اس کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور زندگی بھر جھوٹ کو گلے لگائے رکھتا ہے جب کوئی اس سے کہتا ہے کہ میاں (مسلمان) ہوکر تم جھوٹ بولتے ہوتو وہ صاف کہتا ہے کہ ’’ ـــ ــــــمیں جھوٹ نہیں بولتاـ‘‘وہ اس حد تک گر جاتا ہے کہ جھوٹ کو لعنت کے طور پر اختیار کر لیتا ہے ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے سو جتن کرتا ہے بلکہ سو جھوٹ بولنا گوارا کر لیتا ہے مگر سچائی کو اپنے سے دور رکھنا پسند کرتا ہے۔

جو لوگ صورت شکل کے لحاظ سے تو مسلمان دکھائی دیتے ہیں مگر جھوٹ  ان سے بھی زیادہ بولتے ہیں جو صورتاََ مسلمان تو نہیں ہوتے مگر جھوٹ کو اپنانا پسند نہیں کرتے۔ایسے لوگ کفر جیسی چیز جھوٹ کو اپناتے ہیں مگر صورت کو بھلی رکھتے ہیں تاکہ دوسروں کو دھوکہ دے سکیں بڑی عمر کے لوگ جب اس مرض میں مبتلا نظر آتے ہیں تو لوگ گوارا کرتے چلے جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ یہ صاحب اب جھوٹ کو نہیں چھوڑ سکتے مگر جب کم عمر کے لوگ اس کام میں لگے ہوتے ہیں یعنی جھوٹ کو اپنائے ہوتے ہیں تو سچوں پر یہ بات بہت شاق گذرتی ہے کیونکہ چھوٹوں سے توقع سچ بولنے کی زیادہ ہوتی ہے مگر ان بیچاروں کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ خاندان میں جب سچ کا چلن نہیں ہوتاتو وہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ سچ بولنے سے کویٔ فائدہ نہیں ہوگا۔

 جھوٹ کتنی بیماریوں کی جڑ ہو تی ہے اس کا شمار کرنا مشکل ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ جھوٹ ساری بیماریوں کی جڑ ہے.۔اسی لئے دنیا کے سب سے سچے اور اچھے انسان پیغمبر اعظم ﷺ اور نبی آخر الزماں ﷺ جنہیں نبوت سے پہلے ہی لوگ امین کے لقب سے پکارتے تھے آپﷺکی زبان مبارک سے یہ نکلے ہوئے الفاظ کتنے سچے اور اچھے ہیں کہ ’’ مومن بزدل ہو سکتا ہے اس میں اور کمزوریاں بھی ہو سکتی ہیں مگر خدا کی قسم وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا‘‘ ۔

جھوٹ بولنے والا وعدہ خلاف بھی ہوتا ہے اور خائن بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے سرور کائنات ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو’’ امانت کا خیال نہیں رکھتا اس کا کوئی ایمان نہیں اور جو وعدہ کا پاس نہیں رکھتا اس کا کوئی دین نہیں ۔‘‘ جھوٹ ، خیانت اور وعدہ خلافی کی حدیث شریف میں منافقوں کی پہچان بتائی گئی ہے ایک اور پہچان ہے کہ کسی سے ان بن ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر گاتا ہے یعنی ساری حدیں پار کر جاتا ہے۔جب کسی شخص میں یہ چاروں بری عادتین جمع ہو جاتی ہیں تو وہ پکا منافق کہلاتا ہے جب ان ساری بری عادتوں کو ترک کرنے والے کی جان بھی چلی جاتی ہے جب بھی جھوٹ نہیں بولتا تووہ پکا مومن کہلاتا ہے اور ایسا شخص عزیمت کی زندگی گزارتا ہے ۔ عظمت اور عزت صرف اسی کا حصہ ہوا کرتی ہے اسی لئے قرآن مجید کا اعلان ہے :

   ’’عزت تو صرف اللہ رسول اور مومن کے لئے ہیــ‘‘  یہ عزت دائمی ہوتی ہے۔ زندگی جو دو حصوں میں تقسیم ہے ایک عارضی اوردوسری مستقل وہ دونوں زندگیوں میں فلاح یاب اور کامیاب ہوتا ہے اورعزت و عظمت سے ہمکنار ہوتا ہے۔

جھوٹ اگر کسی معاشرے میں نہ ہو تو وہ معاشرہ کیسا ہو سکتا ہے اسی حقیقت کوبیان کرکے میں اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں ۔دعا کیجئے کہ یہ مضمون جس حصہ پر ختم کرنے جا رہا ہوں اسے پڑھ کر کچھ لوگ جھوٹ بولنا بند کردیں سچائی اور صداقت کو گلے لگالیں اور جھوٹ بولنے سے سچی توبہ کر لیں کہ اب زندگی بھر جھوٹ نہ بولیں گیں چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

 دیکھئے سماج میں جھوٹی گواہی کا چلن عام ہے۔ جھوٹی گواہی کے لئے کیرائے کے لوگ عدالتوں کے دروازوں پر کھڑے رہتے ہیں کوئی مقدمہ گواہی کے بغیر مظبوط نہیں ہو تااگر جھوٹے گواہ سماج میں نہ ملیں تو وارداتیں کم ہو جائیں اور سچے گواہ ملنا آسان ہو جائیں تو وارداتوں میں اور بھی کمی ہو جائے سچائی عام ہو جائے تو وارداتوں کا خاتمہ ہو جائے۔ دیکھئے جھوٹ کی لعنت سے پاک سماج کتنا اچھاہو سکتا ہے۔

لوگ سچ اس لئے کم بولتے ہیں کہ سچائی پر ان کا یقین کمزور ہوتا ہے ۔جھوٹ اس لئے زیادہ بولتے ہیں کہ اس کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ فائدہ مند ہے۔اسی عارضی فائدہ پرجان دیتے ہیں اور حق سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔حق بھی ان سے دور رہتا ہے حق پرستی کے بجائے ہرپرستش کو گلے لگائے رہتے ہیں ۔دنیا پرستی، دولت پرستی،منصب پرستی،تعصب پرستی ،خود پرستی،خاندان پرستی،ملک پرستی سب میں انھیں عزت ہی عزت دکھائی دیتی ہے۔حق پرستی ان کے لئے گھاٹے کا سودا ہوتا ہے جبکہ حق یہ ہے کہ حق سے دور رہنے والا اللہ سے دور رہتا ہے ۔شیطان سے قریب ہوتا ہے اور بسا اوقات شیطان سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔اسی لئے دنیا کی سب سے مقدس کتاب میں اعلان کیا گیا ہے کہ: لعنت اللہ علی الکٰذ بین(سورہ عمران۔61) (جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہو)۔ غور کیجئے کوئی جھوٹا مر جائے اور لوگ آیت 61 کے اسی ٹکرے کو پڑھکر ثواب پہچانا چاہتے ہوں تو اس پر کیا گذرے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close