معاشرہ اور ثقافت

لوگ کیا کہیں گے؟

یہ ایک جملہ ہے جو ہر اس انسان کو پریشان کرتا ہے

جمیل اخترشفیق

یہ ایک جملہ ہے جو ہر اس انسان کو پریشان کرتا ہے جس کی آنکھوں میں بڑے سپنے ہوتے ہیں، جس کی خواہشوں کی دنیا حسین ہوتی ہے اس کی ترقی کی راہ میں یہ جملہ دیوار بن کر حائل ہوجاتا ہے، اندرسے کمزوری کا احساس دلاتا ہے تو ہم کیوں نہ اس جملے ہی کو اپنے ذہن کے فرش سے کائی سمجھ کر کھرچ دیں تاکہ ہمیں کہیں کسی طرح کی دشواری پیش نہ آئے۔

بہت سارے لوگ اپنی ناکامی کے لیے حالات، ماحول اور فیملی کو ذمہ دار مانتے ہیں جبکہ میں اس طرح کے عذر کو سرے سے ہی خارج کرتا ہوں کیونکہ کامیابی اس انسان کو کبھی نصیب نہیں ہوسکتی جو کسی ادنی سی پریشانی کے سبب اپنے خوابوں کی کائنات کو ہی بھول جائے۔  میں اکثر کہتا ہوں "شوق اگر جنون کی شکل اختیار کر لے تو کامیابی کے آسمان پہ اپنی فتح کا جھنڈا گاڑنے سے دنیا کی کوئ طاقت آپ کو نہیں روک سکتی”۔

انسانی زندگی میں کشمکش، تذبذب، ہاں اور نا….. کی جو کیفیت ہے وہ بہت نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب تک کسی مکان کے نقشے کو حتمی شکل نہ دی جائے اس وقت تک وہ مکان مکمل بن کر تیار نہیں ہوپاتا  ….!

ہر انسان کی زندگی میں بار بار ایسا لمحہ آتا ہے جب وہ کسی نئے کام میں ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے یا کلیجے میں پل رہے انقلابی خواب کو حقیقت میں بدل دینے کا عہد کرتا ہے تو سماج کے کئ ایسے بارعب چہرے، فیملی کی کئ ایسی دقیانوسی صورت نگاہوں میں رقص کرنے لگتی ہے جس کے سبب ہمارے ارمانوں کی رسی ڈھیلی پڑنے لگتی ہے اور جب ہم ڈھیلی پڑ رہی رسّی کو مزید ڈھیلی ہونے کا موقع فراہم کردیتے ہیں تو پھر ہمارے دلوں میں موجود سینکڑوں سہانے خیالات کی کیاریاں سوکھنے لگتی ہیں جنہیں آنکھوں کے راستے دل کی زمین تک جگہ دینے میں مدتیں بیت جاتی ہیں اسی لیے آپ کو جو دل کرتا ہے، جس طرف رجحان بڑھتا ہے، جن راہوں پہ ممکنات دکھائ دیتے ہیں ان راستوں پہ دیوانہ وار چل پڑیے شرط یہ ہے کہ وہ راستوں حق کا راستہ ہو، انسانیت سے قریب کرتا ہو، اعلا تہذیب وثقافت کا پاسبان ہو، یہ مت سوچیے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ سماج کیا کہے گا؟ وغیرہ وغیرہ….. کیونکہ اس جملے نے میرا بھی بہت نقصان کیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جمیل اختر شفیق

جمیل اخترشفیق صاحب کا تعلق صوبہ بہار کے مشہور ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی بلاک کی ایک انتہائ پسماندہ بستی سنڈوارہ سے ہے۔ آپ شاعری کے علاوہ ملک کے درجنوں اخبارات ورسائل کے لیے زمانۂ طالبِ علمی ہی سے کالم لکھتے آئے ہیں اور خوب پڑھے جاتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف مذہبی، ادبی، سماجی موضوعات پہ منعقد ہونے والے پروگرام میں بھی ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے، ملک کے قد آور شعراء کی موجودگی میں وہ درجنوں آل انڈیا مشاعروں کی تاریخ ساز نظامت بھی کر چکے ہیں اور ایک کامیاب ناظم کی حیثیت سے بھی اُن کی شخصیت بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے۔ ممبئ سے نشر ہونے والا ٹیوی چینل "آئی پلس ٹیوی" جسے دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں اس پہ "رنگ ونور ایک دینی مشاعرہ" کے تحت نشر ہونے والے مشاعرے کی نظامت کرتے ہوئے بھی انہیں ناظرین ہر جمعہ کو دن میں 2.30بجے اور رات میں 7.30بجے متواتر دیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشبہ صوبہ بہار کی ادبی دنیا کے لیے فخر کی بات ہے۔

متعلقہ

Close