معاشرہ اور ثقافت

لگی آگ سے کون بچائے!

ابراہیم جمال بٹ
مکان جل رہا تھا اور نہ صرف عام لوگ بلکہ وہ افراد بھی جنہوں نے اس گھر کی تعمیر کی تھی، اس کو ہر حیثیت سے مزین کیا تھا، بھی اس آگ کا تماشا دیکھ رہے تھے۔۔۔! کیا کبھی آپ نے ایسی حالت دیکھی یا سنی ہے۔۔۔؟ اگر دیکھی ہے تو آپ کو ضرور عجیب سا لگ گیا ہو گا۔ لیکن ایسی حالت سے آپ کو سامنا نہیں کرنا پڑا تو میری یہ بات ذرا غور سے سنئیے کہ ایسا ہونا آج کی دنیا میں کوئی عجیب واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسے واقعات اب آئے روز کا معمول بن گیا ہے۔ یہ نہ صرف وادئ کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی حالت زار ہے بلکہ یہ اور اس جیسے واقعات عمومی طور پر ہر ملک اور ہر مقام پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ (الاّ ماشاء اللہ) اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور ایسا کیوں ہو رہا ہے۔۔۔؟ یہ اور ان جیسے سوالات کا جواب ذی حس لوگ تلاش کریں تو کیا کچھ معلوم نہیں ہو سکتا۔
پوری دنیا کی بات کریں تو یہ ایک لمبی بحث ہو گی اور اگر برصغیر کی ہی بات کریں تو بھی اس کے لیے ورق ہا کی ضرورت پڑے گی۔ تاہم اگر ہم اپنی سرزمین کی بات کریں تو کسی حد تک سرسری طور پر سہی ان جیسے سوالات کا جواب معلوم کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسا کیوں اور کس لیے ہو رہا ہے۔۔۔؟ ایسے سوالات کو تشفی بخش جواب مل سکتا ہے، البتہ تڑپ ہونی چاہیے، انسانیت کے بابت دردِ دل ہونا چاہیے تب ہی یہ سب ممکن ہے۔
انفرادی حالت:
اپنے گھر کا معاملہ ہی دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے ہر فرد میں بس ایک چیز رچی بسی ہے کہ کس طرح مال وجائیداد میں اضافہ ہو، کس طرح نوکری ، گاڑی اور دیگر سامان عیش وعشرت میسر ہو۔۔۔ اس کے لیے ہر سطح کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن گھر کا نظام بگڑ رہا ہے۔۔۔ گھر جل رہا ہے۔۔۔ گھر کے ہر فرد میں الحاد جنم لے رہا ہے، ماں باپ ہی نہیں، بھائی بہن بھی گھر سے بے گھر ہو رہے ہیں۔ بیٹا بیٹی کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کی ملکہ ’’بیوی‘‘ بھی گھر سے بغاوت کر کے گھر میں فساد کی موجب بن رہی ہے، ہر طرف آگ ہی آگ ہے جو ہمارے گھروں میں لگ چکا ہے۔۔۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے مگر گھر کا بیدی لنکا ڈھائے کے مصداق گھر کا ذمہ دار بھی یہ سب کچھ دیکھ کر ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے بلکہ دور تماشائی بنا اس سب کا نظارہ کر رہا ہے۔ گویا گھر کا ذمہ دار اپنی بربادی پے لطف اندوز ہو کر دور سے ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔
اجتماعی حالت:
گھر کے بعد اپنے علاقے، اپنے محلے، اپنے گاؤں، اپنی ریاست اور اپنے آس پاس کے مجموعے پر دیکھتے ہیں تو اسی فساد کی بو ہر مقام پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ گھر میں فساد، علاقہ میں فساد، دفتروں میں لوٹ مار، قریہ قریہ خون خرابہ، دکانوں، کارخانوں، سرکاری وغیر سرکاری اداروں حتیٰ کہ ایسے اداروں جہاں انسان کے اخلاق کی تعمیر ہوا کرتی تھی، جہاں انسان کی نشوونما ہوتی تھی، جہاں انسان انسان بن کر رہنا سیکھتا تھا، وہاں بھی آگ ہی آگ، فساد ہی فساد۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر رہے ہیں،ایسے جیسے کہ کچھ ہوہی نہیں رہا ہے۔
آخر ایسا کیوں۔۔۔؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے اور کیا بھی جانا چاہیے، تب ہی ممکن ہے کہ ہم اس لگی ’’آگ‘‘ کو بجھا سکتے ہیں۔ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ آگ کی فطرت جلانا ہے، تب تک اس سے کوئی خوف اور غم لاحق نہیں سکتا۔ بچہ اس آگ سے ناواقف ہوتاہے، اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے، اس کا کام ہی خاک میں ملا دینا ہے۔اسی لیے بچہ اس کے سامنے بھی ہاتھ بڑھا دیتا ہے اور اس طرح خود ہی نقصان کا وجہ بن جاتا ہے۔جب یہی حالت ایک ذمہ دارشخص اور قوم کی بھی ہو جائے، تو برابر اسی صورت حال کا سامنا ہونا لگ بھگ طے ہے۔اس شخص کے اندرون میں ہی نہیں بلکہ بیرون میں بھی اسی آگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے۔ ہاں اگر پہلے سے معلوم ہو جائے کہ آگ کا کام جلانا ہے، آگ کا کام خاک میں ملانا ہے، آگ کا کام بادشاہی سے فقیری میں تبدیل کرنا ہے، آگ کا کام ہر بنائی ہوئی چیز کو نیست ونابود کرنا ہے، تو ہم انتھک کوشش کریں گے کہ اس آگ سے سابقہ ہی نہ پڑے۔ اس آگ کے نمودار ہونے کے بعد تماشا ئی نہ بنے۔ تو بات ہو رہی تھی اس سوال کا جواب تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ انسانیت فساد (لگی آگ) سے بچ سکے۔
ایک انسان جب صبح گھر سے کام، ملازمت، یا کسی اور غرض کے نکلتا ہے تو اس گھر سے نکلتے وقت معلوم ہونا چاہیے کہ گھر کے تئیں میری ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ وہ ساری ذمہ داریاں ادا کر کے اگر گھر سے نکل پڑے تو اس گھر میں فساد نہیں بلکہ اس گھر کا اندرون کے ساتھ ساتھ بیرون بھی باقی علاقہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے خوشبو پھیلانے کا باعث بن سکے گا۔ اور اگر اپنی ذمہ داریاں گھر کا مالک ہی بھول گیا تو اس گھر میں آگ نہیں تو اور کیا لگے گی۔۔۔؟ اسی طرح جو گھر میں چار پہر رہ رہی گھر کی ملکہ ہے اسے بھی اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ خاوند کے گھر سے نکلتے ہی میری ذمہ داریاں کیا کیا ہیں؟ میں اپنے گھر کی ہی نہیں بلکہ اس میں پل رہے بچوں کی بھی ذمہ دار ہوں ۔ اپنی عزت وعصمت کی حفاظت کرنا، اپنے خاوند کے مال وجائیداد کا خیال رکھنا، اپنے بچوں کی صحیح تربیت و نشوونما کرنا، یہ سب میری اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ جب بیوی ایسے انداز سے گھر کی ملکہ بنتی ہے تو وہ گھر آگ کی شکار نہیں ہو سکتی۔ برابر اسی طرح جب گھر سے بیٹا یا بیٹی سکول کالج کے لیے نکلے تو انہیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ وہاں جانے کا مدعا ومقصد کیا ہے؟ وہاں کس وقت تک رہنا ہے اور وہاں سے کب واپس گھر کی جانب لوٹ کر آنا ہے۔ ان میں جواب دہی کا احساس پیدا کرنا چاہیے۔ ان میں اپنی ذمہ داری کا خیال رکھنے کا احساس پیدا کرنا چاہیے، ان میں اس بات کا شوق وجزبہ پیدا کرنا چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ہی علم کے نور سے منور کرنے کے لیے نہیں بلکہ گھر ،اپنے آس پاس کے ماحول کو باخبر کرنے کے لیے، اپنے گھر سے نکلے ہیں۔ ہماری زندگی ایسی گزرنی چاہیے کہ ہمیں دیکھ کر باقی پڑوسی و دیگر لوگ ہماری طرف دیکھ کر محسوس کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
اپنی اپنی صحیح طور ذمہ داریاں ادا کرنے سے ہی بدامنی سے امن برپا ہو سکتا ہے۔خالی نعرے اور باتیں، خالی وعظ ونصیحت، خالی پریس بیانات وغیرہ سے نہ تو معاشرہ فساد سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی بدامنی کو امن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close