دیگر نثری اصنافمعاشرہ اور ثقافت

مادری زبان کی اہمیت

ڈاکٹر محمد عبدالعزیز سہیل

مادری زبان سے مراد ماں کی زبان ہے یعنی یہ وہ زبان ہے جس میں ایک ماں اپنے بچے کو لوری دیتی ہے اور اسے بولنا سکھاتی ہے۔ مادری زبان جوکہ بچہ اپنے گھر میں بچپن سے سنتا ہے اور وہ اس زبان کو پہلے پہل بولنا سیکھتا ہے اور یہ زبان بچے کو سکھائی نہیں جاتی بلکہ اس زبان کوبچہ اپنے ماں باپ بھائی بہن کی گفتگو کو سن کر خود ہی سیکھ جاتا ہے بچہ کو ہر ماں اپنی زبان میں بات کرنا سکھاتی ہے اچھے اور بری باتوں سے واقف کرواتی ہے۔ تہذیب اور اخلاق اسی زبان میں بچہ کو سکھائے جاتے ہیں اور اپنے اپنے مذاہب کی باتوں کو بتایاجاتاہے جس کے ذریعہ بچہ آہستہ آہستہ اس زبان کو سیکھتا ہے اور اسی زبان میں سوچتا اور سمجھتا بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے جذبات اور خیالات اپنی مادری زبان میں ادا کرتا ہے۔ اگربچے کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے تو وہ بڑی آسانی کے ساتھ زبان سیکھ جاتاہے اور باتیں بھی آسانی سے اس کی سمجھ میں آجاتی ہے اس لئے ماہرین تعلیم اور دانشور لوگوں کا کہنا ہے کہ بچہ کی ابتدائی تعلیم مادری زبان ہی میں ہونی چاہئے تاکہ بچہ آسانی سے علم سیکھ سکے اور ساتھ ہی ساتھ دیگر زبانوں سے بھی بچہ کو واقف کروایاجائے یا سکھایاجائے۔

ڈاکٹرحسن رضا کے مطابق انسان کی فطرت و جبلت کا جز مادری زبان ہوتی ہے وہ رقمطراز ہیں :

’’سند رہے کہ حافظہ اور یادداشت تک رسائی زبان کے وسیلے سے ہوتی ہے اور یہ زبان یقیناًمادری زبان ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ شعور، تحت الشعورکا سفر کرنے والا ذولسان، سنہ لسان یا ہمہ لسان ہو مگر اس کا یہ ذہنی سفر مادری زبان کی قیادت میں ہی ہوتاہے کیونکہ مادری زبان انسان کی فطرت و جبلت کا جزولانیفک ہوتی ہے البتہ انسان مصلحتاً یا ضرورتاً مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانوں کا بھی استعمال ترسیل و اظہار کے لئے کرتاہے۔‘‘ (لاشعور میں مادری زبان کی عمل داری،ماہنامہ اردو دنیا نئی دہلی، جنوری 2013ء ص23)

مادری زبان سے انسان کی فطرت کھلتی بھی ہے اور نکھرتی بھی ہے دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک میں بچہ کی ابتدائی تعلیم کے لئے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم لازمی قرار دے رکھاہے۔ دراصل ماں کی گود بچے کا پہلا مکتب ہوتی ہے اور بچہ اس مکتب کے ذریعہ وہی کچھ سیکھتا ہے جو ایک ماں اپنے بچہ کو سکھاتی ہے اس لئے کہایہ جاتاہے کہ مادری زبان انسان کی جبلت کاجز ہواکرتی ہے۔
انسانی سماج میں مادری زبان کی بہت زیادہ اہمیت ہے وہ فردواحد سماج کا ایک حصہ ہوتاہے فرد کے لئے مادری زبان ناگزیر ہے۔ مادری زبان سے متعلق انعام اللہ خاں شروانی لکھتے ہیں :

’’مادری زبان وہ زبان ہے جس سے انسان جذباتی طورپر منسلک ہوتاہے یہ وہ زبان ہے کہ اگر کوئی شخص اس زبان کو چھوڑ کر کسی دوسری زبان کو مادری زبان بنالے تو اس صورت میں وہ ذہنی طورپر تو زندہ رہ سکتاہے مگر جذباتی لحاظ سے مفلوج ،بنجر اور سپاٹ ہوجائے گا۔ ‘‘ (مادری زبان کی اہمیت ،تدریس زبان اردو ،ناشر انجلی گھوش کلکتہ ص24)

بچہ کی تعلیم و تربیت اور دیگر علوم سائنس وحکمت، فلسفہ ،منطق، علوم ،سماجیات ومذہبیات کے معاملے میں بھی مادری زبان زیادہ معاون اور کارگر ثابت ہوگی۔ مادری زبان صرف تعلیم ہی کا ذریعہ نہیں بلکہ بچہ کی زندگی اور اس کا مستقبل ہے ایک انسان اپنی مادری زبان سے ہی سماجی، قومی اور انفرادی زندگی کے تقاضوں کی حفاظت کرسکتاہے۔ کہایہ جاتاہے کہ بچہ کا تعلیم حاصل کرنے کیلئے مادری زبان کی حیثیت مسلم ہے۔ لکھنا پڑھنا، سوچنااور تخلیقی کام انجام دینا دراصل بچہ یہ سب کام اپنی مادری زبان میں آسانی سے کرتاہے۔

ذہنی نشوونما اور مادری زبان:

دور حاضر میں انسان کی ذہنی نشوونما کیلئے مادری زبان ایک لازمی عنصر ہے۔ آج نہ صرف امریکہ بلکہ تقریباً تمام ہی ترقی یافتہ ممالک کا نعرہ مادری زبان میں تعلیم دینے کا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اپنی اولاد کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دلوانے کے بجائے انگریزی تعلیم کو ہی بچہ کامستقبل قرار دیتے ہیں جبکہ بچہ اپنی مادری زبان ہی میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مقصد کو آسانی سے حاصل کرسکتاہے چونکہ بچہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے تمام علوم کو بڑی آسانی سے سمجھتے ہوئے حاصل کرتاہے۔ آج اس ترقیاتی دور میں سائنس اور ٹکنالوجی کی مددسے ماہرین دانشور اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی ذہنی نشوونما صرف اور صرف مادری زبان کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور مادری زبان میں تعلیم بچے کو بے شمار ذہنی اور جسمانی امراض سے بچاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کو ذہنی طورپر اور خصوصی طورپر کسی فن کا ماہر بنانا چاہتے ہیں تو مادری زبان کو اختیار کرتے ہوئے بے شمار فائدے حاصل کرتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں گے۔

انسان کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے بچہ اپنی ماں سے گود میں جو بھی باتیں سیکھتا ہے وہ عمر بھر اس کے ذہن میں پختہ رہتی ہیں اور اس کے اثرات بچے کے ذہن پر نقش ہوکر پختہ ہوجاتے ہیں مادری زبان صرف بولنے تک ہی محدود نہیں ہوتی بلکہ حالات، پس منظر تہذیب اور ثقافت اور ان کی روایات پر محیط ورثہ بھی موجود ہوتاہے۔ زبان دراصل کسی بھی تہذیب کا سب سے بڑا اظہار ہوتی ہے مادری زبان کی تراکیب انسان کی زبان کے علاقائی پس منظر کا اندازہ لگانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں ۔
عالمی سطح پر بچہ کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیئے جانے کا انتظام ہوتاہے جس کی اہم وجہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان عام فہم اور زود اثر تفہیم کاتعلق پیدا کردیتے ہیں ۔ مادری زبان اگر بچے کا ذریعہ تعلیم ہوتو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہتی ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنے چارٹر میں طئے کردیا ہے کہ بچے کی ا بتدائی تعلیم اس کی مادری زبان کے ذریعہ سے بچے کا حق ہے۔ ماہرین تعلیم، تحقیقاتی اداروں اور اہل علم اور دانشوروں نے بچے کو تعلیم دینے کا جو طریقہ بتلایا ہے وہ یہ ہے کہ معلوم سے نامعلوم تک سفر کے اصول کو رہنما بنایا جائے۔ ایک انسان جب اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلے لیکن جب وہ کسی مسئلہ پر اپنے ذہن کو حرکت دے کر سوچتا پرکھتا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس وقت صرف اور صرف اپنی مادری زبان کے سہارے ہی یہ کام کرتاہے۔

لاشعور میں مادری زبان کی کارفرمائی سے متعلق ایک واقعہ کوڈاکٹر حسن رضا اپنے مضمون میں بیان کرتے ہیں :

’’جرمن چانسلر ایڈولف ہٹلر1936-45ء نے اپنی جاسوسی تنظیم گیسٹاپو بڑے پیمانے پر خواتین کی تقرری کی تھی اور ان جرمن خواتین کو انگریزی زبان اور ثقافت کی خاطر خواہ تربیت دلوائی تھی تاکہ برٹش کے درمیان رہ کر ان کے لائحہ عمل اور دیگر اہم اطلاعات سے وہ ہٹلر کو آگاہ کرتی رہیں ۔ برٹش اہل کار اور افسران یہ جان کر بے حد متوحش اور متفکر تھے کہ ہٹلر ان کے ہر اقدام سے قبل ہی واقف کیسے ہوجاتاہے محکمہ سراغ رسانی کے برٹش سربراہ نے ایک مشکوک خاتون کے امتحان کیلئے یہ لسانی ترکیب نکالی کہ اگر فلاں خاتون واقعی برٹش ہوگی تو مطلوبہ تقریب میں پن چبھانے پر بے ساختہ کوئی انگریزی فجائیہ یافجائی صوتی علامت نکلے گی کیونکہ شدائد کی کیفیت میں ساری احتیاط دھری کی دھری رہ جاتی ہے اس کا یہ حربہ آزمودہ اور کارگر ثابت ہوا۔ ایک تقریب میں پن چبھوتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ ایک مروجہ جرمن گالی نکل گئی اور وہ گرفتار کرلی گئی یعنی وہ جرمن خاتون مادری زبان کی لاشعور عمل داری سے ہی بے نقاب ہوئی۔‘‘(لاشعور میں مادری زبان کی عمل داری، اردو دنیا ،نئی دہلی ص23)

اکتساب:

اکتساب کے معنی سیکھنا یا آموزش کے ہیں ۔ اکتساب ایک ایساعمل ہے جو ماں کی گود سے گور تک جاری رہتاہے بچہ بچپن میں جو بھی سیکھتا ہے وہ اپنی مادری زبان ہی میں سیکھتا ہے۔ انسان سماجی حیوان ہے اس کو سماج سے مطابقت اور ہم آہنگی پیدا کرنا ہوتا ہے سماج کی تمام ضروری صلاحیتوں کو اور قابلیتوں ، ضرورتوں کو حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو اطمینان بخش اور پرسکون بناسکے یہ ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے اس کے لئے فردکو تمام صلاحیتوں کوحاصل کرنا ہوتاہے۔حاصل کرنے کا عمل ہی اکتساب کہلاتاہے۔

مادری زبان سکھانے کے مقاصد:

انعام اللہ خاں شیروانی نے اپنی کتاب تدریس زبان اردو میں مادری زبان سکھانے کے چند مقاصد کوبیان کیا ہے ملاحظہ ہو؂

(۱) طلباء کو ذہنی اور دماغی طورپر آزاد کرنا۔ مادری زبان کے ذریعہ بچہ اپنی زندگی کے متعلق آزادی سے سوچ سکتاہے اور اپنے خیالات کو آزادی سے دوسروں تک پہنچاسکتاہے۔

(۲) تہذیب وتمدن ،فنون لطیفہ اورتجارت و صنعت کی طرف بچوں کو مائل کرنا اور ان کی خوب صورتی اور ترقی میں اضافہ وتکمیل۔

(۳) طلباء میں نجی، انفرادی،سماجی اور قومی زندگی سے دلچسپی پیدا کرنا۔

(۴) بولنا، پڑھنا، لکھنا، تحریر و تقریر میں صلاحیت، قواعد پر عبور،زبان میں سلاست وسادگی ،قوت مشاہدہ، فکر ونظر کی نشوونما اور خیالات کا بہتر اظہار۔

(۵) ایک اچھا شہری بنانے کے علاوہ عمدہ لیڈرشپ کی تربیت اور انفرادی صلاحیتوں کا مالک بنانا۔

مادری زبان کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر محسن عثمانی رقمطراز ہیں :

’’دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ بنیادی تعلیم مادری زبان میں دی جانی چاہئے دنیا کے ہر ملک میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بناناایک فطری اصول سمجھاگیاہے اور غیر ملکی اور اجنبی اور غیر مادری زبان کے ذریعہ ابتدائی تعلیم کے حصول کو غیر فطری غیر ضروری قرار دیاگیاہے اس وسیع عرصہ کائنات میں ہزاروں قومیں آباد ہیں ۔ ایک قوم کی بھی نشان دہی نہیں کی جاسکتی ہے جس نے غیر مادری زبان میں تعلیم کے ذریعہ ترقی اور عروج کی منزلیں طئے کی ہوں ۔ مسلمانوں نے تاریخ میں اپنے عروج کے زمانہ میں دنیا کی بہت سی قوموں کے علوم سیکھے تھے لیکن اس طرح نہیں کہ انہوں نے دوسری قوموں کی زبانوں کی درسگاہیں کھول لی ہوں اور دوسری زبانوں کو اپنا ذریعہ تعلیم بنالیاہو۔ آج بھی چین میں چینی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ انگریزی زبان یا کوئی غیر ملکی زبان کاسیکھنا بہت مفید ہے اور ایک زبان کی حیثیت سے اس کا پڑھنا اور پڑھانا اوراس میں مہارت پیدا کرلینا بہت اچھی بات ہے اور قومی ترقی کیلئے ناگزیر بھی ہے۔ ‘‘(اردو کے مسائل، قومی زبان، ڈسمبر؍جنوری2007-08ء حیدرآباد)

نشوونما:

نشوونما سے مراد کسی فرد کی صلاحیتوں ، اخلاق، آداب اور دلچسپی ،رویئے میں تبدیلی کو کہتے ہیں نشوونما فرد کے پورے جسم میں واقع ہوتی ہے یہ ایک مسلسل عمل ہے جو تاحیات جاری جاری رہتاہے۔بچے کی ذہنی نشوونما کیلئے مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہئے تاکہ بچے آسانی سے علم حاصل کرسکیں اور ساتھ ہی ساتھ ترقی کی منزلیں طئے کرتے ہوئے سماج میں نمایاں مقام حاصل کریں اور ملک اور خاندان کا نام روشن کرسکیں ۔

مذکورہ بالا تحریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسانی ذہنی نشوونما میں مادری زبان کی اہمیت مسلمہ ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اردوجس کے الفاظ شیریں اور اس کی خاصیت ہر فرد کو گرویدہ کرنے کی ہے ،کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دلائیں اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کے مادری زبان سے فرار نا ممکن ہے کیونکہ مادری زبان سے متعلق ماہرین نے کئی تجربات کئے ہیں اور آخر میں اس بات کو متفقہ طورپر تسلیم کیا ہے کہ بچہ کی ذہنی نشوونما صرف اور صرف مادری زبان ہی میں ممکن ہے اکیسویں صدی میں ہر فرد کی ترجیح انگریزی زبان اپنے بچوں کو سکھانے کی ہے لیکن یہ بات ہمیں نہیں بھولنی چاہئے کہ انگریز بھی اپنے بچوں کومادری زبان ہی میں تعلیم دلواتے ہیں ہمیں چاہئے کہ اپنے بچوں کو مادری زبان اردو میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں ساتھ ہی ساتھ دیگر علوم کو بھی سکھائیں تاکہ دور حاضر کے تقاضوں کی تکمیل ممکن ہو۔

اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغؔ

۔سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے 

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. ۔ اقوام متحدہ کے سائنسی و ثقافتی ادارے ‘یونیسکو’ کا کہنا ہے کہ بچوں کو بنیادی علمی تصورات سکھانے کا بہترین ذریعہ ان کی مادری زبان ہے۔
    2003 میں یونیسکو نے ‘بین الالسانی دنیا میں تعلیم’ کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ لوگوں کو ان کی مادری زبان کی اہمیت سے روشناس کرانا کیونکر ضروری ہے۔ اس سے کئی دہائیاں پہلے 1953 میں یونسیکو نے اپنی رپورٹ میں مادری زبان کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیسی زبانوں میں دی جانے والی تعلیم کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔
    جدید ہوتی دنیا میں کمزور مادری زبانیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے نظام، میڈیا اور نوکریوں میں طاقت ور زبانوں کی ہی اہمیت ہے۔ یہ وہ زبانیں ہیں جو مقتدر حلقوں جیسے انتظامیہ، حکومت، فوج، تجارت، تعلیم اور میڈیا وغیرہ میں استعمال ہوتی ہیں اور لوگوں کو اپنے مفاد میں یہ زبانیں سیکھنا پڑتی ہیں۔
    عالمگیریت میں اضافے کے ساتھ زبانوں کی موت ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو انگریزی بہت سی زبانوں کی ‘قاتل’ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا اور کاروباری شعبے میں یہی زبان استعمال ہوتی ہے۔
    21 فروری کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری مادری بولیوں اور مقتدر زبانوں میں طاقت کے عدم توازن کے باوجود ہمیں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں اپنی مادری زبانوں کی اہمیت کا احساس رہنا چاہیے جنہوں نے ہمیں شناخت عطا کی ہے، جو ہمارا ثقافتی مخزن ہیں اور جو ہماری شخصیت تعمیر کرتی ہیں۔
    اگر ہم دوسری زبانیں بولنا شروع کر دیں اور اپنی ماں بولی بھول جائیں تو پھر ہم ‘ہم’ نہیں رہیں گے بلکہ اجنبی لوگوں کی نقل بن جائیں گے۔ ایسے میں ہم اپنے آپ سے بھی اجنبی ہوں گے۔

متعلقہ

Close