معاشرہ اور ثقافت

ماں تجھے سلام

ممتا کی مورت،پیار کی دیوی، کائنات کی رونق، زندگی کی ابتداء، جانداروں کی جننی، نرمی کی مثال، بچوں کی ڈھال، جس کے احساس میں حفاظت، جس کی یاد میں سکون، جس کے دلار میں شفقت، ڈانٹ میں بھی نصیحت، جس کی عزت واحترام آسمانوں سے بھی بلند،جس کی آہ وبکاء عرش کو ہلادے، جو قدرت کے فیصلے کو جھکادے۔ اس میں خدا کا پرتو ہے۔ اسی لئے تو اس میں یہ طاقت ہے کہ وہ روتے کو ہنسا دے ہنستے کو رلادے۔ اس میں کمال کی بازی گری ہے، اس کی ہرادانرالی ہے۔ وہ لوری سناتی، نغمے گنگناتی ہے۔ بچوں کو سہلاکر اپنی آغوش میں سلاتی ہے۔ اس کی ہر بات میں مصوری ہے۔ ہرپریشانی میں وہی یادآتی ہے۔ زندگی میں بھلائے نہیں بھلاتی ہے اسی لئے وہ ’ماں‘کہلاتی ہے۔ اس کے قدموں میں جنت ہے۔ اسے جو خوش نہ رکھ سکے اس پر خدا کی لعنت ہے۔
عالمی سطح پر مدرس ڈے یعنی’ماں کا دن‘ منایاگیا۔ سوشل میڈیا پر دودن تک خوب’ماں‘ کا ڈنکا بجا۔ ایسی ایسی جذباتی نظمیں،باتیں، واقعات اور تجربات پوسٹ کئے گئے کہ ان کی ماں سے محبت پر رشک ہونے لگا۔ مدرس ڈے جس نے بھی شروع کیا ہو،اتنا توضرور ہے کہ اس بہانے سال میں ایک مرتبہ نئی نسل ماں کو یاد کرلیتی ہے، ورنہ آج کے دورمیں سال بھر کسے فرصت ہے کہ وہ ماں کی خبرلے۔ کتنے ہی ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ جب ماں کو سب سے زیادہ بچوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تواسے اولڈ ایج ہوم میں پہنچادیاجاتا ہے۔ ایسی بھی خبریں آتی ہیں کہ بہو بیٹے نے بوڑھی ماں کو کسی اجنبی جگہ بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور پیچھے مڑکر نہ دیکھا۔ شرون کماروں کی بھی خبر آتی ہے جو ماں کو پیٹھ پر بٹھاکر چار دھام کی یاترا کراتے ہیں۔ حج کے ارکان پورے کراتے ہیں۔
ادیبوں،شاعروں نے اپنے لب ولہجہ میں’ماں‘ کے موضوع پرخوب خامہ فرسائی کی ہے۔ فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں کی اہمیت کوسمجھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کی خصوصیات بیان کی ہیں، اس کے ایثاوقربانی کا تذکرہ کیا ہے۔ والد کی غیر موجودگی میں صرف ماں ہی ایسی ہستی ہوتی ہے جو اپنے بچوں کی محنت مشقت کرکے پرورش کرتی ہے۔ انہیں کسی لائق بنانے کیلئے اپنے دن رات ایک کردیتی ہے۔ خود گیلے میں سوکر بچوں کو سوکھے میں سلاتی ہے۔ خود روکھا سوکھا کھاتی ہے لیکن بچوں کوخودسے بہتر کھلانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ معاملہ صرف انسانوں تک محدود نہیں۔جانوروں و پرندوں میں بھی اسی طرح کا عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب تک بچے بڑے نہ ہوجائیں ماں انہیں اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی۔ بھارتیہ سنیما نے بھی ماں کی ممتا اور اس کی بیش بہا محبتوں کو دکھانے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہے۔ کئی فلمیں توایسی ہیں جنہیں دیکھ کر ہمیشہ ماں کے پاس رہنے کو دل کرتاہے۔ باغباں، تارے زمیں پر، بھوت ناتھ وغیرہ۔ کئی مرتبہ نوکری، کاروبار یا معاشی ضرورتوں کی وجہ سے ہم ان کے ساتھ نہیں رہ پاتے لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ ہم ان سے دور ہیں۔
ماں کی گود کوپہلا مکتب، درسگاہ، تربیت گاہ یا اسکول کہا جاتاہے۔ ذرا غورکرنے پر معلوم ہواکہ کتنے اہم سبق ہیں جوایک بچہ ماں کی گود اور اس کے سائے میں پڑھ،سیکھ کر جوان ہوتا ہے۔ یہ ایسے اسباق ہیں جوزندگی میںآخری وقت تک اس کے کام آتے ہیں۔ آئیے اس کو تفصیل سے سمجھیں۔ ماں کی گود میں بچہ پہلا سبق Caring Natureدیکھ بھال کا طریقہ سیکھتا ہے۔ ماں اسے سکھاتی ہے کہ کیا اس کے کھانے لائق ہے کیانہیں۔ کیا اس کیلئے مفید ہے اورکیوں، ماں کی اس تربیت سے ہی دیکھ بھال والا مزاج بنتاہے۔ بڑے ہونے پر بھی ماں اپنے بچوں سے ہمیشہ پوچھتی ہے کھانا کھایا یا نہیں؟ وقت سے کھانا کھارہے ہو یا نہیں؟ کوئی پریشانی تونہیں ہے۔ بڑے ہونے پر یہی عمل ہم اپنے بچوں کے ساتھ دوہراتے ہیں۔
ذمہ داری کا احساس ماں کی گود میں سیکھاجانے والا دوسرا سبق ہے۔ بچوں کے ہوش سنبھالنے تک ماں ان کے کھانے پینے، اسکول جانے، یونیفارم ٹھیک سے رکھنے، اسکول سے واپس لانے، ٹیچرس پیرنٹس میٹنگ میں جانے، اسکول کے فنکشن کی تیاری کرانے، ہوم ورک کرانے کی ذمہ داریاں ماں بنا گھبرائے بغیر تھکے آرام سے اٹھاتی رہتی ہے۔ اسی سے بچوں میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنی چیزیں وغیرہ سنبھالنے لگتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ماں بچوں کو نظم وضبط سکھاتی ہے۔یعنی کس کے ساتھ کس طرح پیش آیاجائے۔ بڑوں سے کس طرح بات کی جائے۔ استاد کی کس طرح عزت کی جائے۔ ماں پڑھانے لکھانے کے ساتھ بچوں کو اچھا انسان بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ماں کی سکھائی ہوئی یہ باتیں ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں جو ہماری پروفیشنل اور ذاتی زندگی میں بہت کام آتی ہیں۔
سچا اور بے غرض ماں کا پیار حالات بدلنے یا موسم بدلنے سے کم نہیں ہوتا، وہ اپنے سبھی بچوں سے کم وبیش برابر پیار کرتی ہے۔ کبھی کسی بچہ کو کچھ زیادہ یا الگ دیتی ہے توباقی بچوں کو اس کی وجہ بتاکر اعتماد میں لیتی ہے تاکہ ان میں کسی طرح کی غلط فہمی یا احساس کمتری پیدا نہ ہو۔ ماں کا یہ عمل بچوں کو دوسروں سے پیار کرنا سکھاتا ہے۔ ساتھ ہی ان میں یہ احساس بھی جگاتا ہے کہ انہیں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے دوسرے میں غلط فہمی، احساس کمتری یا برتری پیدا نہ ہو۔ ماں کی یہ سیکھ انسان کو بڑا یا کامیاب آدمی بنانے میں مدد کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ ماں معاف کرنے کی بھی ٹریننگ دیتی ہے۔ مثلاً بڑوں کی باتوں کا جواب نہ دینا، چھوٹے کے بڑبولے پن کو ہنس کرٹال دینا۔ یہ معاف کرنے کی ہی تربیت ہے۔ خاندان کوباندھ کر رکھنے کیلئے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کیا نظرانداز کرنا ہے۔ کب بولنا ہے،اتنا ہی نہیں کئی بار بچے کے جواب دینے پر ماں خاموش رہ جاتی ہے۔ جب دیر رات تک بچے غصہ کرکے منھ پھلائے رہتے ہیں تو وہ انہیں مناکر کھانا بھی کھلاتی ہے۔ ایگوکو سائڈ میں رکھ کر کس طرح تعلقات نبھاتے ہیں ،یہ ماں سے بہتر کوئی نہیں سکھاسکتا۔
شادی کے بعد نئے گھرمیں جانا، وہاں کے ریتی رواجوں کو اپنانا، سب سے مل جل کر رہنا،یہ بھروسہ ہی ہے جوایک لڑکی کو نئے گھر سے رشتہ جوڑنے کا کام کرتا ہے۔وہ وہاں کی ساری ذمہ داریاں نبھاتی ہے اور سب کا بھروسہ جیتی ہے۔اسی طاقت کی بنیاد پر وہ اپنے بچوں کی غلطیوں کو معاف کر پھر سے ان پر بھروسہ کرتی ہے۔ دراصل ماں اپنے بچوں سے بھی بھروسے کی امید کرتی ہے تاکہ بچے اس طاقت سے دنیا کو جیت سکیں اور آنے والی پیڑھیوں میں اس بھروسہ کومنتقل کر سکیں۔یہ بھروسہ ہی قوت برداشت پیدا کرتا ہے، جس کے بل پر ماں بچے کو 9ماہ اپنے اندر پالتی ہے۔ اس کے بعد بھی کئی مہینے تک وہ اپناوقت بچے کی دیکھ ریکھ میں بتا تی ہے اور کسی سے اس کی کوئی شکایت نہیں کرتی۔ قوت برداشت کی اس سے بہتر کوئی مثال ہوہی نہیں سکتی۔ ماںیہ سکھاتی ہے کہ بہترکیلئے انتظار کرنا ہی پڑتا ہے۔ برداشت کا نتیجہ زیادہ تر اچھا ہی ہوتا ہے۔ ماں کے آغوش میں اس کی تربیت بھی بہت اچھی طرح ہوتی ہے۔
انسان کی کامیابی اس کی ماں کی قربانی اور تربیت کا ہی نتیجہ ہوتی ہے ، تمام ماؤں کو ہمارا سلام کیوں کہ انسانی زندگی میں ماں کا وہی مقام ہے جو پیڑ میں جڑ کا یا محل میں بنیاد کے پتھر کاکہ ماں فنا ہوکر ہی اپنے بچے کو گلزار کرتی ہے اسی لئے کہا جاتاہے کہ اگر پوری زندگی بھی ماں کی خدمت میں لگا دی جائے، تب بھی اس کے دودھ کی پہلی دھار کا حق بھی ادا نہیں کرسکیں گے۔ ماں اپنے بچوں سے بہت زیادہ کی امید نہیں کرتی وہ تو بس اتنا چاہتی ہے کہ وہ پھلیں پھولیںآگے بڑھیں اوراس کا خیال رکھیں۔ جب آپ اپنے بچوں کو کچھ دیر دیکھے بغیر بے چین ہوجاتے ہیں تو ماں کیسے آپ سے دور رہ کر خوش رہ سکتی ہے بقول شاعر؂
ایک مدت سے نہیں سوئی میری ماں
میں نے ایک بارکہاتھا مجھے ڈر لگتا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close