ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

0

 ڈاکٹر عبدالکریم علیگ

26 جنوری 2018 بھوکمری کی شکار ماں نے سارا کھانا بچوں کو کھلایا اور خود بھوکی سونے سے انتقال کر گئیں۔ گذشتہ ۱۵ دنوں سے امیر جہاں اور انکی تین بیٹیوں کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بات کی ذمے دار حکومت نہیں ہم اور ہمارا سماج ہے،ایک ماں اپنے بھوکے بچوں کی بھوک برداشت نہ کر سکی۔۔۔اپنے حصے کا کھانا بچوں کو کھلا کر مسلسل کئی دن سے بھوکی رہنے کی وجہ سے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔۔۔

اے سماج زرا تو بھی کبھی غور کر لے۔۔۔

اے سماج کے طاقتور فرد۔۔۔۔

اے سماج کا غیور جوان۔۔۔۔

تمہارے مضبوط بازؤں ںسے کیا فائدہ؟؟؟

آج ہماری ایک دینی بہن بھوک کہ وجہ سے اپنی زندگی گنوا بیٹھی،اور ہم خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

اے میرے محترم اور عزیز نوجوانوں!

تمہیں ہواؤں کے رخ بدلنے ہیں،

تمہیں اپنے اندر فولادی قوت پیدا کرنی ہے

کہ جن سے تم مظلوموں کو انکے حقوق دلانے سکو۔

اے نوجوانو ذرا غور کرو! حضرت عمر فاروق جو وقت کے خلیفہ تھے،رات کو گشت کیا کرتے تھے تاکہ ضرورت مندوں تک براہ راست پہنچ کر انکی مدد کر سکیں۔۔۔اور دنیا نے دیکھا کہ آپ نے وہ وہ کام کئے کہ آج تک بڑا سے بڑا سوشل ورکر وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، ماں رو رہی ہے،برتن کو ہانڈی پر رکھ کر اس سے کنکریٹ ابال رہی ہے تاکہ معصوم بچے اس منظر کو دیکھ دیکھ کر سو جائیں کہ کھانا تیار ہو رہا ہے کھانا تیار ہو رہا ہے،حضرت عمر ہی منظر دیکھتے ہیں اور فی الفور اس ماں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔

آج ایک ماں اس انتظار میں کہ عمر آئیگا ۔۔۔۔عمر آئیگا۔۔۔خود رخصت ہو گئیں۔

آج ہم ہیں کہ ہمارا پڑوسی بھوکا سو رہا ہے اور ہم اپنے آپ میں مست ہیں۔۔

آج ہماری شادیاں ہوتی ہیں اسٹارٹر سے لیکر آئس کریم تک نہ جانے کتنے لاکھ روپے دستر خوان پر دے مارتے ہیں۔۔۔

آج اگر ہم اتنا خرچ کر سکتے ہیں تو کیوں نہیں ہم اپنے محلوں کے غریب افراد کی پرورش کر سکتے۔۔

اے نوجوانو اپنے اپنے علاقوں میں رہنے والے تمام ضرورت مند افراد کا خیال رکھو۔۔۔کون مجبور ہے۔۔۔کون بھوکا پیاسا ہے۔۔۔۔

ایسا کیا کرو یقینا بہت سکون پاؤگے۔۔۔

آؤ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ایسا ہی کرینگے۔۔۔

آئندہ ہماری کوئی بہن یا ماں اس طرح کے حادثہ کا شکار نہیں ھوگی۔۔

اے اللہ ہم نوجوانوں کو حوصلہ اور ہمت دے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے