معاشرہ اور ثقافت

مدارس اسلامیہ میں صوفیانہ اَقدارکا فروغ

ممکنہ تجاویزاورچندتلخ حقائق

صاد ق رضا مصباحی، ممبئی

گھرمیں بچے سے اگردس روپے کی قیمت کابھی گلاس ٹوٹ جائے تووالدین یاسرپرست بچے کوسمجھاتے ہیں، اسے نقصان کااحساس کراتے ہیں، بسااوقات ڈانٹتے بھی ہیں اورآئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہیں۔ معاشرے کی یہ تصویرسامنے رکھیے اوردوسری تصویرکابھی باغور جائزہ لیجیے۔ معاشرے کی ٹوٹتی چٹختی اسلامی اقدار، نوحہ کرتی روایات اورملیامیٹ ہوتی مذہبی تعلیمات پرکتنے سرپرست ہیں جوچھوٹوں کوڈانٹ رہے ہیں،  انہیں متنبہ کررہے ہیں اورانہیں معاشرے کے بحران کااحساس دلارہے ہیں؟ یہا ں سوال یہ ہے کہ ان اقدارروایات کاماخذکیاہے اورمعاشرے کو زندگی سے بھرپوربنانے کے لیے ان کی بقااورتحفظ ضروری کیوں ہے؟

اس کاجواب اتناواضح اوربدیہی ہے کہ تاریخ کاادنی طالب علم بھی ا س سے ناآشنانہیں۔ دین کافروغ مدرسوں کی مرہون منت ہے اور مدرسوں کااستحکام صوفیانہ اقدارکامنت کش۔ مدرسے اس وقت تک شجرسایہ داربنے رہتے ہیں جب تک وہ صوفیانہ اقدارکے حامل ہوتے ہیں اور مذہبی تعلیمات کے اثرات ونتائج کو حقیقی نمواس وقت تک ملتارہتاہے جب تک ان کی جڑوں میں صوفیانہ اقدارکاپانی پہنچ رہاہوتاہے۔ اس حقیقت سے انکارکس منصف کوہوگاکہ مدارس اسلامیہ اپنی نہاد میں اسلامی احکام، مذہبی روایات اور صوفیانہ اقدارکے علم بردارہیں۔ مدارس اسلامیہ کی تاریخ دراصل تصوف کی تاریخ ہے،  اسلام کی تاریخ ہے، اس کے عروج کی داستان دراصل تصوف کے عروج کی داستان ہے اوراس کازوال دراصل صوفیانہ تعلیمات و اقدارکے زوال کی علامت۔  اسلا م کے پہلے مدرسے’’صفہ‘‘ کے نام پرغورکیجیے، اس میں بڑی دل چسپ حقیقت پوشیدہ ہے۔ اس نام سے صوفی کا لفظ وجودمیں آ یا۔  یہ اس بات کی اشارہ ہے کہ مدارس بنیادی طورپرصوفیانہ اقدارپرکھڑے ہوتے ہیں،  اس کے تحفظ کی ضمانت اوراس کے فروع کابہت قوی ذریعہ ہوتے ہیں۔ دنیامیں کوئی بھی معاشرہ، کوئی بھی قوم اورکوئی بھی مذہب ایسانہیں جس کی کچھ اقدار، کچھ روایات نہ ہوں، یہ اقدار و روایات ان کااہم حوالہ ہوتی ہیں۔  یہ اگرمسخ کردی جائیں یاہوجائیں توقوم، مذہب اورمعاشرے محض ڈھانچے بن جاتے ہیں۔  جیسے مغز کے بغیر چھلکا، روح کے بغیر جسم۔ اصل چیزروح یااسپرٹ ہے جوزندگی کی علامت کا پتہ دیتی ہے۔  حدیث نبوی انما الاعمال بالنیات یعنی عمل کا دارو مدار نیتوں پرہے، میں النیات سے مرادروح یا اسپرٹ ہے اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ جب روح یااسپرٹ رخصت ہوجاتی ہے توانسان ظاہری فارم پرزیادہ توجہ مرکوزکرلیتاہے اوراسی کواصل کام سمجھ کراپنی تسکین کا سامان پیدا کرتا ہے۔ چوں کہ اس کے اندراقداروروایات کی باقیات کاملبہ موجود ہوتا ہے اس لیے ظاہری فارم کھڑا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ اس سیاق میں آج کے اکثرمدارس اسلامیہ کے صوفیانہ اقدارکاتجزیہ کریں تو حقیقت بڑی آسانی سے واضح ہوجاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مدارس نہیں ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کثرت مدارس نے زیادہ ترارباب مدارس کے دماغوں میں بس ایک بات بٹھادی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عمارتیں تعمیرکی جائیں، شعبوں میں اضافہ کیاجائے، طلبہ کی تعدادبڑھائی جائے اورہرسال بلاناغہ جشن دستاربندی بھی کیاجائے۔ اس طرح دھیرے دھیرے مدارس کی توسیع ہوتی رہی اوران کا اندرونی استحکام کمزورپڑتاگیااوریہ اسی کانتیجہ ہے کہ  جب سے استحکام سے زیادہ توسیع پرتوجہ دی جانے لگی تب سے مدارس کے وہ فیوض وبرکات باقی نہیں رہے جوکبھی ان کا جزولاینفک تھے۔  اورجب سے ان فیوضات وبرکات کادروازہ بندہواتومعاشرہ اس کے اثرات سے کیسے محفوظ رہ سکتاتھا کیوں کہ ہمارامعاشرہ فرزندان مدارس کے زیر اثر ہوتاہے اور انہی کی تبلیغ سے عوام اپنے مذہبی احکام سے آشنااورعمل پیراہوتے ہیں۔

مدارس اسلامیہ کے فارغین کی ذمے داری زمین پراترکرکام کرنا، اصلاح امت کابیڑہ اٹھانا اور لوگوں کے مسائل حل کرناہے اوریہ صوفیانہ اقدارکے بغیرممکن ہی نہیں۔ صوفی کابنیادی کام اللہ ورسول کی رضاجوئی اور خالق اوراس کے بندوں کے درمیان صلح کراناہے یعنی وہ انہیں اللہ کے قریب کرتاہے،  ان کے روحانی مسائل حل کرتا ہے۔ وہ اپنے قریبی کوخودسے جدابھی نہیں ہونے دیتا اوردوسرے کو دور بھی نہیں ہونے دیتا۔ اس کی نظر محض ظاہرپرنہیں ہوتی بلکہ وہ باطن پربھی نظررکھتاہے۔  تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے صوفیااورعلمانے جہاں جہاں بھی اسلام کے چراغ روشن کیے انہی خصوصیات کی بنیادپرکیے۔ وہ ہمیشہ انسانوں کو خداے تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکاتے اوراسے نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاسچاعاشق بناتے تھے۔ یہی کام ان کی حیات کاکل اثاثہ ہوتاتھا اوراسی اثاثے کووہ سفر آخرت میں زادراہ کے طورپرلے گئے اورمنزل مقصود پرپہنچ کرکامیاب وکامران ہوگئے۔ ان علماو صوفیا کا مقصد صرف اورصرف ایک تھایعنی عوام کی اصلاح اوراسلامی تعلیمات کافروغ واستحکام لیکن جب سے اس نقطہ نظرکاقبلہ تبدیل ہواتونتائج بھی بدل گئے الاماشاء اللہ۔ اب باستثنامقصدفقط اتنارہ گیا کہ اپنی شخصیت، یااپنے قریبی استاذکی شخصیت یااپنے کی شیخ کی شخصیت کافروغ واستحکام، اورجب مقصدجب اپناشخصی ارتقاہوگیاتو صوفیانہ اقدارپس پش چلے گئے اوریوں معاشرہ ہولناک خلاسے دوچارہونے لگا۔ اس کی سب سے بڑی و جہ یہی ہے کہ اب اکثر مدارس افراد پیداکرنے والے ’’کارخانے‘‘ بن کررہ گئے ہیں۔ ان کی حیثیت تربیت گاہ کی کم ہوگئی اورکارخانے کی زیادہ۔  ظاہر ہے کہ کارخانوں میں چیزیں ڈھالی جاتی ہیں اورپھرمارکیٹ میں پہنچادی جاتی ہیں۔

 مدارس اسلامیہ تربیت گاہوں سے زیادہ ’’کارخانوں ‘‘ کی تصویراس لیے پیش کررہے ہیں کہ دعوت وتبلیغ، اصلاح وارشاد، وعظ و نصیحت،  پند و موعظت، ترحم وتکرم اورموانست ومحبت جیسی صفات پہلے ایک مشن تھیں،  اب پروفیشن میں ڈھلتی جارہی ہیں الاشاء اللہ۔ اب یہ صفات خودبخودظاہرکم ہوتی ہیں، ان کامظاہرہ زیادہ ہوتاہے۔  جیسے تجارت میں گراہک کو مال خریدنے پرمجبورکے لیے ہرممکن طریقہ آزمایاجاتاہے۔  اس کے لیے تجارت میں ایک اصطلاح بھی وضع کرلی گئی ہے Coustomer Freindly Beheviorیعنی گراہک سے دوستانہ سلوک کامظاہرہ کروتاکہ وہ سامان خریدنے پرآمادہ ہوجائے۔  ہماری کم نصیبی کہ ہمارے مذہبی معاشرے میں کچھ اسی طرح کے حالات پیداہوچکے ہیں۔ ظاہرہے کہ جب یہ ساری خصوصیات پروفیشن بن جائیں گی تو لوگ ایک دوسرے کے قریب کیسے آئیں گے، غلط فہمیاں کیسے ختم ہوں گی، لوگ عملی تصوف سے کیسے وابستہ ہوں گے کیوں کہ جوحضرات عوام الناس کی تربیت کرنے والے ہیں،  جواصلاح معاشرہ کے علم بردارہیں وہ اکثروبیشترغیرمربیٰ ہیں۔

 صوفی وہ نہیں ہوتاکہ جس کامعمول صرف چلہ کشی ہو، وہ عزلت نشیں نہیں ہوتا، وہ مخلوق سے اپنا رشتہ کبھی منقطع نہیں کرتا، وہ محض وظیفوں کی مالا جپنے کاعادی نہیں ہوتابلکہ حقیقی صوفی وہ ہوتاہے جس کادل خشیت ربانی کے نورسے معمور ہو۔ خشیت ربانی تصوف کی بنیادہے، یہ اگرنہیں ہے توکچھ نہیں۔  سارے عمدہ خصائل اورتصوف کے دیگرارکان اسی وصف سے پھوٹتے ہیں۔ اگرخشیت ربانی کاوصف انسان کے اندرموجودہے تووہ ہراس کام سے رکارہے گاجس میں اللہ ورسول کی ناراضی ہو اور ہر وہ کام کرے گاجس سے اللہ اوراس کے رسول خوش ہوں لہٰذاہروہ انسان صوفی ہے جوخداترس ہو،  اطاعت شعارہو، اس کے دل میں مخلوق کی محبت سمائی ہوئی ہواوروہ اس کی اصلاح کے لیے بے چین رہتاہو۔ ایک زمانہ تھا کہ جب مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ بیک وقت صوفی بھی ہوتے تھے، حکیم بھی، مفکربھی، مدبربھی،  دانشوربھی، ویژنری بھی۔  اس تناظرمیں دیکھیں تواندازہ ہوگاکہ مدارس کاماحول کیساہوناچاہیے اوراس کے فارغین کس سطح کے ہوناچاہیے۔

پہلی تجویز:

مدارس میں ایساماحول بپاکرناہوگاکہ طلبہ خوبخودعمل کی طرف راغب ہوجائیں۔ اساتذہ کاانتخاب ایساہوکہ طلبہ اپنے اساتذہ کودیکھیں اورانہیں اپنارول ماڈل قراردیں۔ ایسانہ ہوکہ طلبہ کو ڈنڈالے کرنمازکے لیے دوڑایاجائے تبھی وہ مسجدکارخ کریں بلکہ ماحول ایساتیارکیاجائے کہ اذان سن کروہ خودہی نمازکی طرف دوڑ پڑیں۔  یہاں توہویہ رہاہے کہ بھاری بھاری رشوتوں کے ساتھ اساتذہ کی تقرریاں کی جارہی ہیں حتی کہ بعض بڑے مدارس میں بھی یہ بیماری پیداہوچکی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پندرہ پندرہ بیس بیس لاکھ روپے لے کراساتذہ کی تقرریاں کی گئی ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ یہ کتنی بری وباہے اوراس کی وجہ سے کتنی ہی صلاحتیں ضائع ہورہی ہیں اورکتنے ہی بے صلاحیت افراددرس گاہوں پرقابض ہیں۔ اس طرح کی سودے بازی سے کیاآپ کو لگتا ہے کہ مدارس میں صوفیانہ اقدارفروغ پاسکیں گے ؟رشوت کے پیسے نہ ہونے کے سبب جوبے چارے مخلص ہیں،  خداترس ہیں،  باصلاحیت ہیں وہ دھیرے دھیرے کنارے ہوتے جارہے ہیں اورجوچالاک ہیں وہ اپنی ’’صلاحیتوں ‘‘کے بل پرآگے بڑھ رہے ہیں۔ جہاں ا س طرح کے ناجائزوحرام کام طلبہ کے سامنے کیے جارہے ہوں اورپیسوں کی بدعنوانیوں کی وجہ سے مدرسوں کے مسائل کورٹوں کچہریوں تک پہنچ چکے ہوں توکیاطلبہ اس سے ذہنی طورپرمتاثرنہ ہوں گے ؟

دوسری تجویز:

پہلے کے مدارس کے طلبہ امت پراس لیے اثراندازہوتے تھے یاان کی اثراندازی کے نتائج سامنے آتے تھے کہ مدارس یا تو خانقاہوں میں چلتے تھے یا پھر مساجدمیں لیکن جب سے مدارس کارشتہ خانقاہوں سے منقطع ہوا تب سے یہ خلامحسوس کیاجارہاہے اوریہی وجہ ہے کہ اب مدارس کے فارغین کااپنے عوام پروہ اثرنہیں رہ گیاہے جوکبھی ان کاطرۂ امتیازہواکرتاتھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مدارس کارشتہ خانقاہوں سے مضبوط سے مضبوط ترہویااہل خانقاہ خودبھی مدارس قائم کریں۔  خانقاہوں کے مدارس سے طلبہ کو یقینی طورپرروحانی غذاحاصل ہوتی رہے گی اوروہ روحانی وباطنی طورپربھی مضبوط ہوتے رہیں گے۔

تیسری تجویز:

مدارس کے طلبہ کوفارغ التحصیل کرکے اورڈگری ان کے ہاتھوں میں تھماکریہ نہ سمجھ لیاجائے کہ ابھی وہ زمین پراترکرکام کرنے کے اہل ہوچکے ہیں۔ مدارس کا عرصہ تعلیم دس سال پرمحیط ہوتاہے اوریہ مدت دنیاوی تعلیم میں ہائی اسکول کے مساوی ہوتی ہے۔ مجھے بتائیے کہ کیاہائی اسکول کاطالب علم عملی زندگی کے لائق ہوجاتا ہے ؟ کیادس سال کاعرصہ تعلیم کیاطالب علم کواس لائق بنا دیتا ہے کہ وہ مسائل کاگہرائی سے جائزہ لے سکے ؟ کیا اس کے اندرگہرائی وگیرائی پیداہوجاتی ہے ؟اس کے لیے ضروری ہے کہ فراغت کے بعد ان کی تربیت کی جائے اورتربیت کی یہ مدت بھی نصاب کا ہی حصہ سمجھی جائے۔ اس عرصے میں انہیں صوفیانہ احوال ومقامات اور درجات وحسنات کی سیرکرائی جائے، وظائف کرائے جائیں، انہیں روحانی طور پر طاقت وربنایاجائے اوران نوافل کابھی سختی سے اہتمام کرایاجائے جن کوعام طور پر درخور اعتنانہیں سمجھاجاتا۔ اللہ کے یہاں تقرب کادرجہ پانے میں ان نوافل کا نہایت اہم رول ہوتاہے۔ روحانی تربیت انسان کواندرسے بہت مضبوط کرتی ہے اوراس کے اندرکی ساری کثافتیں دھودیتی ہے۔  اس نصاب میں طلبہ کوبتایاجائے کہ اصلاح امت کاکام کیسے انجام دینا ہے۔ انہیں خاص طورپراس بات کی تلقین کی جائے کہ صوفیاے کرام کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں لوگوں کوجوڑناہے،  توڑنا نہیں ہے، بلکہ ٹوٹے ہوئے لوگوں کوپھرسے واپس لانا ہے۔ یہ تصوف کاایک اہم عنوان ہے۔ تربیت کا یہ مرحلہ مشائخ اورصوفیاکے ذریعے ان کی زیرنگرانی انجام پائے۔ جب نصاب کی یہ مدت مکمل ہوجائے تب انہیں میدان عمل میں اترنے کے لائق سمجھا جائے اوراس کی بھی سندجاری کی جائے۔

 طلبہ کے ذہنوں میں یہ حقیقت راسخ ہونی چاہیے کہ نظریات اورعملیات میں بہت فرق ہوتاہے، ہاں عملیات کی ڈورنظریات سے بہت مضبوطی کے ساتھ بندھی ہوتی ہے۔  طالب علم ۹، ۱۰سال تک مدرسے میں درس نظامی کاکورس پوراکرنے کے بعدابھی علم کی ایک ہی شاخ تک رسائی حاصل کر پاتاہے یعنی ابھی وہ میدان عمل میں اترنے کے لیے کارآمدنہیں ہوتا۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تجربہ کارحضرات جومیدان عمل کے شہ سواررہ چکے ہوں، ان کی تربیت میں کچھ دن گزارے اور جب شخصیت کندن بن جائے جب کھوٹاسکہ کھناکھن بجنے لگے تب سمجھاجائے کہ اب یہ بازارمیں چلنے کے لائق ہوگیاہے۔ اس کوایک مثال سے سمجھتے چلیں۔  آج دنیاکی چھوٹی بڑی کمپنیاں جب کسی امیدوارکوملازمت کے لیے بلاتی ہیں تو پہلے اسے ٹریننگ دیتی ہیں۔ اس کاایک طریقہ یہ ہوتا ہے ٹریننگ کی مدت کے دوران اسے مستقل ملازم کی حیثیت نہیں دیتیں بلکہ پہلے اسے اپنی کمپنی کے لائق بناتی ہیں اورجب وہ اچھی طرح پختہ ہوجاتاہے تب اسے مستقل ملازم بنالیاجاتاہے، اس کی حیثیت بھی بڑھ جاتی ہے اورمشاہرہ بھی۔ پہلے ڈگری کوئی نہیں دیکھتا، اچھے اچھے مارکس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ ہاں اگرامیدوارTraindہے توپھروہ کمپنی میں کام کرنے کا اہل قرار دیا جاتا ہے۔ جب دنیاوی معاملات حل کرنے کے لیے Traindامیدواروں کوہی قابل اعتبارسمجھاجاتاہے توہمارے دینی معاملات کے حل کے لیے Traind اشخاص کی ضرورت کیوں نہ ہوگی جب کہ دینی معاملات دنیوی معاملات سے زیادہ حساس ہیں توکیا غیر تربیت یافتہ Untraindشخص سے خاطرخواہ کامیابی کا حصول متوقع ہوسکتاہے ؟

چوتھی تجویز:

طلبہ کویہ بتایاجاناضروری ہے کہ اخلاقیات واقداردراصل ہیں کیا، ان کی ہمارے دین میں اہمیت کیاہے اورہمارے دین میں اخلاقیات و معاملات کے احکام عبادات کے احکام سے زیادہ کیوں ہیں۔ ان کے دماغوں میں یہ بات گہرائی کے ساتھ پیوست ہوکہ صوفیوں کی طرح القاب لگانے، کسی خانقاہ سے وابستہ ہوجانے، کسی شیخ طریقت سے خلافت مل جانے اورکسی شیخ طریقت کی قربت حاصل ہو جانے سے کوئی بھی انسان صوفی نہیں بن جاتا، اس کے اندرصوفیانہ اقدارنمونہیں پاتے بلکہ ا س کے لیے عملی بنناپڑتاہے کیوں کہ تصوف کوئی فکری ونظریاتی چیزنہیں، خالص عملی چیزہے، یہ احساس کانام ہے، شعورکانام ہے، باطن سے عبارت ہے، یہ قال نہیں حال ہے، یہ جذبہ ہے۔ صوفیانہ قدروں کاحامل انسان تصوف کامظاہرہ نہیں کرتابلکہ اس کی عادات واطوار خود بخود تصوف کے رنگ میں ڈھتی چلتی جاتی ہیں۔

یقیناہرطالب علم کے شعورمیں یہ باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں لیکن کسی چیزکاعلم اورشی ہے اوراسے برتنادیگرشی ہے۔  جو اخلاقیا ت واقدارہمارے مذہبی اشرافیہ کے دماغوں میں عموماًجاگھسی ہیں کیاوہ واقعی ہماری اخلاقیات ہیں ؟کیاان پرصوفیانہ رنگ چڑھا ہواہے ؟کیایہ تصوف کی اقدار ہیں ؟بات بات پرفتاوے صادر کرنا،  اختلاف کومخالفت کے ہم معنی تصورکرنا، فروعی مسائل پرآسمان سرپراٹھالینا، سنی سنائی بات پرطوفان کھڑاکردینا اور محض غلط فہمی کی بنیادپرآپے سے باہرہوجانااوران جیسی منفی حرکات کوکس زمرے میں رکھاجاسکتاہے؟ جس معاشرے میں اخلاق کی یہ سطح ہو وہ زوال کے بدترین راستے سے گزررہاہوتاہے۔ ہمارے رویوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے اخلاقیات کی اک نئی تعریف گڑھ رکھی ہے۔  اس تناظرمیں ہمیں اخلاقیات واقدارکوRidifene کرناچاہیے۔ اخلاقیات واقدارکے اس قحط اورکر دار کے اس بحران میں اگرہم اسے Ridifeneنہ کرسکے تواس کے بڑے بھیانک نتائج برآمدہوں گے۔ Ridifeneکے لفظ سے کسی کویہ شبہہ نہ ہوکہ اخلاقیات کی کوئی نئی تعریف ازسر نووضع کی جائے بلکہ کہنے کامطلب یہ ہے کہ جوتعریف سیرت وحدیث کی کتابوں میں ہے یاجواس سے ماخوذہے اسی کوApplyکیاجائے۔

ہم جسے اقداروروایات کہہ رہے ہیں یہ دراصل ہمارے تصوف کی اقدارہیں اورانسانی فطرت سے متعلق ہیں اوریہ پہلے ہی عرض کیا جا چکا کہ ان اقدار کا ماخذ یا تو خانقاہیں ہیں یامدارس۔ گویابالواسط یابلاواسطہ ہمارے زوال کاسرا، ہمارے اخلاقی ادبار کا رشتہ مدارس سے جڑاہواہے مگرہم کو اس ہلاکت خیزبحران کااندازہ اس لیے نہیں ہورہاہے کہ یہ معاملہ اخلاقیات کاہے،  صوفیانہ اقدارکاہے۔ یہ جب زوال پذیرہوتے ہیں تو۹۹فی صد لوگوں کااحساس ہی نہیں ہوتا۔ یہ سیاسی، عسکری اوراقتصادی معاملات کی طرح نہیں ہوتاکیوں کہ یہ معاملات جب زوال پذیرہوتے ہیں تواس کے نتائج بھی جلدسامنے آنے لگتے ہیں مگراخلاقیات دھیرے دھیرے اپنااثردکھاتی ہے۔ کم سے کم سوسال، زیادہ سے زیادہ تین سوسال اوراستثنائی صورت میں چھ سوسال۔ یہ تاریخ کا اصول ہے۔ اخلاقیات نہ ہوتومعاشرے اورقومیں، معاشرے اور قومیں رہتی ہی نہیں کیوں کہ ان کی روح نکل چکی ہوتی ہے۔  ہمیں احساس تب ہوتاہے جب بہت دیرہوچکی ہوتی ہے اورجب چڑیاں کھیت چگ جائیں توپھرپچھتانے سے کچھ نہیں ہوتا۔

ایک نمونہ:

ہم میں سے اکثرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنے صحابہ کے بارے میں ارشادفرمائے گئے اس قول : اَشِدّ ائُ عَلَی الْکُفَّارِوَرُحَمَائُ بَیْنَہُم (یعنی صحابہ کی خصوصیت یہ ہے کہ منکرین پرسخت اوراپنوں پررحم دل ہیں )کوپیش کرتے ہوئے اسے دین کے ساتھ شدت کونتھی کرنے کی سندتصورکرتے ہیں۔  ہمارے فہم ناقص میں یہاں مطلب کچھ اورہے۔ صحابہ کی یہ خصوصیت دراصل اسلام کاایک اصول اوران کی معاملاتی زندگی کاشفاف آئینہ ہے۔  کافروں پرسختی کامطلب یہاں یہ ہے کہ وہ کسی کادبائوقبول نہیں کرتے، کسی کی لالچ میں نہیں آتے۔ اگراس ارشاد کامفہوم ظاہری الفاظ سے مستعار لیا جائے تویہ خلافِ عقل اورخلافِ فطرت بات ہوگی۔  دنیامیں انسان کاہرایک سے واسطہ پڑتاہے اپنے بھی، غیربھی، موافق بھی مخالف بھی، مومن بھی کافر بھی۔  اگر کوئی انسان غیروں،  مخالفو ں اور کافروں سے اچھا سلوک نہیں کرتا تو معاشرے میں اس کی ساکھ تومتاثر ہوگی ہی، دین میں بھی وہ نہایت غیر اخلاق قرار دیا جائے گا۔ یہاں پر اخلاق کی معنویت اور اہمیت بھی سامنے آتی ہے کہ انسان اپنوں کے ساتھ تو اچھا سلوک کرتا ہی ہے مگرکیا غیروں کے ساتھ بھی اچھا برتائو اور اچھے تعلقات برقرار رکھتا ہے ؟ اسلام نے اخلاقیات کا ادارہ اسی لیے قائم کیا تاکہ اس کے ذریعے انسان کے اچھایا برا ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے لہٰذاجو حضرات اس حدیث کاحوالہ دیتے ہیں اولاً وہ اس حدیث کے مفہوم کوسمجھنے سے قاصر رہے ہیں اور ثانیاًوہ اس پر عمل پیراہوہی نہیں سکتے کیوں وہ دنیا میں رہتے ہیں، انسانی آبادی میں رہتے ہیں، معاملاتی زندگی میں جکڑے ہوئے ہیں۔  وہ کسی صحرامیں نہیں رہتے، کسی جنگل میں بسیرا نہیں کرتے۔ یہ فطری با ت ہے کہ جب تک مخاطب کے ساتھ محبت کامعاملہ نہیں کیاجاتاتب تک وہ کسی کی بات سننا تودرکنار اس کے پاس بیٹھنابھی گوارانہیں کرتا۔  یہی وجہ ہے کہ دین کو فطرت سے نہایت قریب تراورآسان بناگیا، اس کاکوئی بھی حکم کسی بھی انسان پرتکلیف مالایطاق  نہیں بنتا۔  اگریہ سخت ہوتاتو تیئس سال کے کم عرصے میں جزیرۃ العرب سے نکل کرعجم کی سرحدوں میں نہ داخل ہوپاتا مگر جب سے دین کے احکام کوشدت کے غلاف میں لپیٹ کرپیش کیاجانے لگا اس کی نمورک گئی۔

اس نمونے کوپیش کرنے کامقصدیہ ہے کہ ا س ارشادکوپیش کرنے والے ہم ہی لوگ ہیں یعنی مدارس کے پروردہ۔ ہم اگراپنی عقل کاتھوڑاسابھی استعمال کریں توبہت سارے معاملات میں ہمیں محسوس ہوگاکہ ہمیں اپنی قوم کی اصلاح کیسے کرنی ہے، دوسروں کوقریب کیسے کرناہے اوراسلامی تعلیمات اورمتوارث عقائدکے تحفظ کے لیے کیاپالیسی بنانی ہے۔

ہماراایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم غلط کوصحیح سمجھ رہے ہیں اوراسے صحیح سمجھ کرعمل میں بھی لارہے ہیں۔ انسان اگرغلط کرے اوراسے اس کااحساس بھی ہوتواس کی واپسی کاامکان ہوتاہے لیکن جب احساس ہی مردہ ہوجائے توپھرواپسی کاسوال ہی نہیں ہوتا۔  د انشور کہتے ہیں کہ غلط پریکٹس کچھ بھی پریکٹس نہ کرنے سے بہترہے۔ کچھ نیاسیکھناآسان ہوتاہے لیکن اگرآپ نے غلط سیکھ لیا ہے تواسے Unlearnکرنابہت مشکل ہوجاتاہے۔  ہم آج اسی عذاب میں مبتلاہیں۔ ساری تحریریں، ساری تقریریں،  ساری کتابیں اسی لیے شایداپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں کہ اس Wrong Learningکو Unlearn کریں تو کیسے ؟یہ توہمارے شعورکی حدتک بس چکی ہیں۔

تاریخ کااصول:

کسی بھی قوم کے زوال کامطلب یہ نہیں ہوتاکہ وہ سیاسی، عسکری اور اقتصادی حیثیت سے کمزور ہوگئی ہو۔ وہی قومیں ترقی کے مینارپرچڑھتی ہے جنہیں اخلاقی برتری حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے مصنفین و مقررین عام طورپرلکھتے اوربولتے رہے ہیں کہ ہمارے زوال کی بنیادی وجہ قرآن و حدیث سے ہماری دوری ہے توپھرسوال یہ ہے کہ پھروہ اقوام کیوں ترقی پرہیں جومسلمان نہیں ہیں بلکہ جوملحدبھی ہیں۔ کیاان کی ترقی ان کے علمی اور ذہنی بلندیوں کی وجہ سے ہوئی ہے ؟نہیں۔ بلاشبہہ قرآن کریم سے دوری بھی ہمارے زوال کی ایک وجہ ہے مگر ضمنی اور فروعی، سب سے بڑی وجہ اخلاقی زوال ہے۔ الناس علی دین ملوکھم۔ جب معاشرے کے سربرآوردہ اورنمائندہ حضرات اس بیماری میں پھنسے ہوں توعوام الناس بدرجہ اولیٰ پھنس جائیں گے۔ ہمیں اس حقیقت کاگھونٹ پی لیناچاہیے کہ مغربی اقوام کو اخلاق ومعاملات میں ہم سے برتری حاصل ہے۔ جن معاشروں کوہم بے راہ روقراردے کران میں کیڑے نکالتے رہے ہیں وہ توخلائوں کاسفرکررہے ہیں، وہ مریخ کے ساتھ ا ٹھکھیلیاں کررہے ہیں اورہم ان کی اخلاقیات میں کیڑے نکالنے کے باوجودان کی مصنوعات سے استفادے پر مجبور ہیں۔

ہمارے اندراخلاقی برائیوں کے پیداہوجانے کامطلب ہے کہ ہم عملی تصوف سے بہت دورہوگئے ہیں، ہم نے صوفیانہ اقدارکوکنارے رکھ دیاہے۔ ہم اس وقت تک عروج کی سیڑھی نہیں چڑھ سکے یایوں کہہ لیجیے کہ ہماری ملت اس وقت ترقی کے قدم آگے نہیں بڑھاسکتی جب تک ہم تصوف کوگلے نہ لگائیں اوریہ کام صرف اورصرف فرزندان مدارس ہی صحیح طورسے کرسکتے ہیں اس لیے ان کوعملی تصوف سے مزین ہوناکس قدرضروری ہے، اب یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔

پانچویں تجویز:

قرآن کریم باربارانسان کوتعقل وتفکرپرابھارتاہے، درجنوں آیات میں مختلف حوالوں سے غوروفکرکی دعوت دی گئی ہے۔  تصوف کے مراحل پراگرآپ غورکریں گے توپتہ چلے گاکہ انسان تصوف کے اعلیٰ معیارپراسی وقت چڑھتاہے جب وہ غوروخوض کاعادی ہوجاتاہے، کائنات کی نشانیوں میں تدبروتفکرکرتاہے۔ گویاتفکروتعقل تصوف کی بنیادٹھہرا۔ صوفیاکے مطابق یہ خداے تعالیٰ کی قربت کاذریعہ ہے،  رب کی حقیقی معرفت کاوسیلہ ہے۔  جو انسان غوروفکرکاعادی ہوجاتاہے وہ واقعی حقیقت پسند بن جاتاہے اورجب وہ Rialitiesکھڑاہوجاتاہے تواس کاذہن تخلیقی ہوجاتاہے، وہ ہرکس و ناکس کی بات من وعن قبول نہیں کرلیتا اور اسے یہ اصول ازبر ہوجاتا ہے Changing rules for changing needs and unchanging rules for unchanging needsاورجسے یہ اصول ازبر ہو جاتاہے تواس کے اندرقائدبننے، فاتح زمانہ کا اعزاز پانے اور صحیح عالم دین ودانشوربننے کاشرف حاصل ہوجاتاہے۔ انگریزی کے اس مفہوم کوہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس طرح بیان فرمایا:علی العاقل ان یکون بصیرابزمانہ (مسنداحمدابن حبان:حدیث نمبر361)یعنی عقل مندکے لیے ضروری ہے کہ وہ زمانے کے حالات سے باخبرہو۔ حقیقی صوفی وہی ہوتا ہے جولوگوں کی نفسیات سے آشناہوتاہے اوراسی کے مطابق اس کاعلاج کرتاہے۔ جب انسان کاتذکیہ ہوجاتا ہے اس کانفس مزکی ہوجاتاہے تووہ صحیح معنوں میں تقوی شعاربن جاتاہے اورعمدہ اخلاق کے اسلحوں سے لیس ہوجاتاہے پھروہ خداکی شاہ کارتخلیق انسان سے ویساہی معاملہ کرتا ہے جیساخداچاہتاہے، وہ ان کی بھلائی کاہروقت خواہاں رہتاہے۔ وہ ولوں میں محبت پیداکرتاہے، انہیں قریب کرتاہے، ٹوٹے ہوئے کوجوڑتاہے،  اگرانسان بگڑجائے تووہ یکلخت اسے بھگاتانہیں اسے قریب کرتاہے، اسے سمجھاتاہے، اس کی غلط فہمی دورکرتاہے۔ وہ معاشرے کوامن وامان کاتحفہ دیتا ہے، وہ اضطراب نہیں پیداکرتا، نفرت نہیں پیداکرتا، کسی کے درپے آزارنہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف جوانسان تقوی وپرہیزگاری کے منصب پر فائزنہیں بلفظ دیگرجس انسان کا دل تذکیروتذکیہ سے خالی ہوتاہے وہ خداکے تخلیقی پلان کے نقشے کونہیں سمجھ سکتا، اسے سواداعظم کی معنویت کاادراک نہیں ہوتا، اسے اجتماعیت سے ناآشنائی ہوتی ہے۔  ایسا انسان اپنے معاشرے میں پنپ رہے رجحانات سے ہی غذاحاصل کرتارہتاہے اوریہ غذا کھاتے کھاتے ایک وقت ایسابھی آتاہے کہ وہ عالم وصوفی ہونے کے باوجودعالم وصوفی نہیں ہوتا بلکہ عالم نمااورصوفی نماہوتاہے۔ ظاہرہے ایسا انسان بلکہ یوں کہیے کہ ایساعالم ہمارے معاشرے کے لیے کیسے کارگرہوسکتا ہے۔  اس لیے طلبہ میں غوروفکرکی عادت شروع ہی سے ڈالنی چاہیے، اختلاف رائے ہوجانے پرانہیں حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ ان کاتخلیقی ذہن برابرارتقاپذیررہے۔ حالات بڑی تیزی سے پلٹاکھارہے ہیں، روزنئے نئے رجحانات کاسامناہورہاہے۔ اس ماحول میں تخلیقی فکرکاحامل انسان ہی معاشر ے کی اصلاح کے حقیقی فرائض انجام دے سکتاہے۔

چھٹی تجویز:

اگرمدارس اسلامیہ میں صوفیانہ اقداراورتذکیروتذکیہ پربھی زوردیاجانے لگے تودعوت وتبلیغ کاکام جوعرصے سے بندپڑاہے، ایک بارپھرچل نکلے۔ ارباب نظرجانتے ہیں کہ اصلاح امت اورتبلیغ ودعوت دوالگ الگ چیزیں ہیں۔ ہماری فکری بے کسی کاحال تویہ ہے کہ ہم میں سے بیشترآج تک اصلاح امت اورتبلیغ ودعوت میں فرق ہی نہیں کرسکے۔ اصلاح کافریضہ اپنوں میں انجام دیاجاتاہے اوردعوت کافریضہ غیروں میں جواسلام سے دورہیں۔ نفس کاتذکیہ انسان کواندرتک بدل دیتاہے وہ اسے مصفی ومجلی کردیتاہے۔ اسلام ظاہری تبدیلی سے زیادہ اندرونی تبدیلی کا خواہا ں ہے۔  قرآن کریم اس کاواضح طورپراعلان فرماتاہے :ان اللہ لایغیرمابقوم حتی یغیرمابانفسہم یعنی اللہ عزوجل اس وقت تک کسی قوم کوتبدیل نہیں فرماتاجب تک کہ وہ خوداپنے آپ کوتبدیل نہیں کرتی۔ یہاں انفسہم سے مرادداخلی وروحانی اورباطنی تبدیلی ہے کیوں کہ باطنی تبدیلی ہی کے ذریعے انسان معراج کمال پرپہنچتاہے ورنہ ظاہری تبدیلی توانسان کومنافق بنادیتی ہے، اسے کسی کام کوانجام دینے میں تکلف سے کام لیناپڑتاہے جب کہ باطنی تبدیلی کے حامل انسان کی عادات اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں۔ یہ اصولی سبق بھی فارغین کویاد رکھنا چاہیے۔

روحانیت اورباطنیت کے باب میں ایک بات اورخاص توجہ کی طالب ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے صوفی حضرات مل جاتے ہیں جوروحانی طور پر بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے کام لیتاہے، عوام الناس کی ایک کثیرتعدادان سے مستفیض ہوتی ہے۔ ہمارے ہندوستان کے عوام الناس کی زبان میں انہیں بابا کہاجاتاہے۔ ہم یہاں اچھے اورسچے بابائوں کاتذکرہ کررہے ہیں، جھوٹے اورجعلی بابائوں کانہیں۔  سچے اوراچھے بابابلاشبہہ روحانی شخصیت ہوتے ہیں لیکن یہ علم وفن میں کامل نہیں ہوتے، یہ اپنے معتقدین کے لیے طمانیت قلب کاسامان توکرسکتے ہیں، انہیں روحانی غذاتوفراہم سکتے ہیں لیکن انہیں دینی معلومات سے آشنانہیں کراسکتے۔ یہ چھوٹے موٹے مسائل توبتاسکتے ہیں مگرمذہبی معاملات کو گہرائی سے نہیں سمجھ سکتے۔ اس کے برعکس مدارس اسلامیہ کے فارغین اس کے اہل ہوتے ہیں کہ وہ مسائل شرعیہ کونہایت گہرائی سے سمجھ سکیں۔ وہ عوام الناس کی علمی تشنگی دورکرسکتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کواگرروحانی طورپربھی مضبوط کردیاجائے توایک ہی شخص سے عوام کی دونوں ضرورتیں پوری ہوجائیں گی، علمی بھی، روحانی بھی۔ طلبہ کویہ سبق بھی یادکراناضروری ہے کہ اسلام صرف مذہب نہیں دین ہے۔  مدارس کے طلبہ صرف مساجدومدارس کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے ہرشعبے میں رہنمائی کے لیے ہوتے ہیں۔

مدارس میں تصوف کی روایتو ں کوفروغ دینے کے لیے الگ سے تصوف کی کتابیں بھی شامل کرنے کی ضرورت پر بعض لوگ زوردیتے رہے ہیں۔ ہمارے فہم ناقص میں یہ ایک لایعنی مشورہ ہے۔ مدارس کے نصاب میں الگ سے تصوف کی کتابیں داخل کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن کریم، حدیث، تفسیر، سیرت کیاہے؟اسے تصوف نہ کہاجائے تو اور کیا کہا جائے۔ یہی چیزیں توتصوف کاماخذہیں۔  گویا مدارس میں نظری تصوف پڑھایاجاتاہے بس کسریہ باقی رہ گئی ہے کہ یہ وہاں کے ماحول میں عام طورپرApplyنہیں ہورہاہے اس لیے ضرورت صرف ایساماحول پیداکرنے کی ہے۔

 مدارس میں صوفیانہ اقدارکافروغ کامسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں یہ کہ اسے بس موضوع سخن بناکریوں ہی چھوڑدیاجائے۔  اس مسئلے کی جڑیں سماج کی تشکیل، افکارکی تطہیر، قوموں کی تقدیراورامت کے مسائل کی تدبیرسے وابستہ ہیں۔  مساجدومدارس پر جتنے گہرے اثرات معاشرے پرہوتے ہیں اتنے اورکسی کے نہیں ہوتے اورہوبھی نہیں سکتے۔ مساجدکے ائمہ بھی مدارس ہی سے آتے ہیں اس لیے مدارس ہی ہیں جومعاشرے کی روح ہیں اورمدارس کی روح صوفیانہ اقدارہیں۔  اگراپنے معاشرے کوبچاناہے تو مدارس کوبچانا ہوگا اور اگر مدارس کوبچاناہے تواس کی روح یعنی صوفیانہ اقداراوراس کی روایات کو بچاناہوگا۔ صوفیانہ اقداراسلام کی اقدارہیں، اسلامی تہذیب کی اقدارہیں، ہمارے اسلاف کی اقدار ہیں اور ہمارے معاشرے کی اقدارہیں اورہمارے مذہب،  ہمارے معاشرے، ہماری تہذیب کی بقاکادارومدارصرف اورصرف مدارس پرہے اس لیے ہمارے مدارس کی روح کا فنا ہوجا نا گویا ہماری تہذیب وثقافت کابھی فناہوجاناہے اورہماری قوم ومعاشرے کابھی۔ یقین نہ آئے تومعاشرے میں جھانک کردیکھ لیجیے۔  ایسامعلوم ہوتاہے کہ ہمارامعاشرہ مردارہوچکاہے، اس کی روح نکل چکی ہے، اس کی جڑیں کٹ چکی ہیں۔ پانی ابھی سرسے اونچا نہیں ہوا ہے لیکن ہمارامعاشر ہ جس سمت بہ رہاہے اس سے بآسانی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ ہمارامعاشرہ کس سمت جارہاہے اس لیے مدارس میں صوفیانہ اقدارکافروغ وقت کااہم تقاضاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close