صحتمعاشرہ اور ثقافت

مزہ تو جب ہے کہ نشہ سے باز آ ساقی!

نشہ مخالف مہم جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر 2 تا 8؍اکتوبر 2018

ڈاکٹر احمد عروج مدثر

اس وقت پوری دنیا میں منشیات کے استعمال کا جو عام رواج چل پڑا ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل جس بری طرح نشے میں مبتلا ہو رہی ہے اسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے تمام احتیاطی تدبیروں کے باوجود منشیات کی شرح میں کوئی کمی نہیں محسوس ہو رہی ہے دولت کی ہوس نے سماج کے سرمایہ داروں کو اندھا کر دیا ہے موجودہ دور میں منشیات کی ہزاروں قسمیں وجود میں آچکی ہیں  شریعت اسلامیہ نے دین، جان  نسل، اور مال کے ساتھ عقل کی سلامتی پر بھی زور دیا ہے۔

خالق انسان نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور پھر بےشمار نعمتوں سے انسان کو نوازا قدرت کی طرف سے عطا کردہ منجملہ نوازشات میں سے ایک نوازش عقل بھی ہے عقل نے انسان کیلئے ساری کائنات مسخر کردی عقل سے محرومی انسان کو جانوروں سے بھی بدتر بنا دیتی ہے منشیات کے استعمال کو شریعت اسلامیہ نے حرام قرار دیا ہے لیکن المیہ یہ ہیکہ آج سماج میں نشے کی لعنت بڑھتی ہی جارہی ہے خاص طور پر ہماری نوجوان نسل قابل رحم ہے صورتحال یہ ہے کہ آج ہزار ہا ہزار گھرانے تباہی اور بربادی کے دھانے پر ہیں خاندان بکھر رہے ہیں اخلاقی بےراہ روی بڑھتی جارہی ہے لوگ نشے میں دھت ہو کر روز مر رہے ہیں حادثات کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف احادیث میں علامات قیامت کے ذیل میں شراب نوشی کی کثرت اور منشیات کے استعمال کے رواج کے عام ہونے کا تذکرہ عام ملتا ہے یہ سلسلہ آج اپنے شباب پر ہے مختلف مشروبات، گولیوں، انجکشنوں، اور کیپسولوں اور نہ جانے کن کن شکلوں میں نشہ کا زہر آج کے نوجوانوں کی صحت اور کردار کو تباہ و برباد کر رہا ہے جو سب کے لیے خطرے کا الارم ہے آج تمام میڈیکل تحقیقات منشیات کے نقصان دہ ہونے پر متفق ہو چکی ہیں اور اسلام نے منشیات پر سخت بندش لگائی ہے پیغمبراسلام رسول اکرم کے ارشادات میں منشیات میں مبتلا افراد پر لعنت قباحت اور وعید کے الفاظ کثرت اور صراحت کے ساتھ ملتے ہیں ذیل میں چند احادیث کا مفہوم  پیش کرنے کی کوشش کررہا ہوں ….. شراب نوشی ایمان کے نور سے محرومی ہے  شراب نوشی کی عادت شرک کے مماثل عمل ہے۔ شراب تمام خبائث اور فواحش کی جڑ اور اصل ہے منشیات کے فروغ میں کسی بھی نوعیت کی حصہ داری ملعون حرکت ہے نیز شریعت میں دس طریقوں سے شراب کو لعنت قرار دیا گیا ہے بذات خود شراب، شراب بنانےوالا، شراب بنوانے والا، شراب فروخت کرنے والا، شراب خریدنے والا، شراب اٹھا کر لے جانے والا، جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی جائے شراب کی قیمت کھانے والا، شراب پینے والا، اور شراب پلانے والا، غرضیکہ شراب گمراہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے منشیات کی عادت اپنے کو شیطان کا مستقل غلام بنا لینا ہے نشے کے ساتھ دعائیں قبول نہیں ہوتیں مے نوشی خدا تعالٰی کی رحمت سے دوری کا سبب ہے شراب ونشہ کی لعنت دنیا ہی میں خدا تعالٰی کے عذاب کو دعوت دیتی ہے احادیث میں جابجا شراب نوشی کی اخروی سزاؤں کا ذکر آیا ہے ایک حدیث پاک میں تو یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ جو شراب کا عادی توبہ کیے بغیر مر جائے گا اللہ رب العزت اس کو جہنم کی ایک نہر  کا پانی پلائیں گے یہ وہ نہر ہے کہ جس میں بدکار عورتوں کی شرمگاہوں کا لہو بہتا ہے شرابیوں میں اس قدر بدبو ہوگی کہ اس سے اہل جہنم بھی پریشان ہو جائیں گے….. (مسنداحمد ).. مزید فرمایا گیا کہ خدا تعالٰی نے اپنے ذمہ کر لیا ہے کہ جو شخص دنیا میں نشہ آور چیز استعمال کرے اس کو قیامت میں اہل جہنم کی پیپ پلائی جائے گی ….(ابوداؤد ۰۸۶۳)

نشہ آور چیزوں کے استعمال کے ساتھ نمازیں قبول نہیں ہوتیں قرآن کریم کے علاوہ دیگر آسمانی کتابوں میں بھی شراب کی ممانعت کا ذکر واضح الفاظ میں ملتا ہے چنانچہ عہدنامہ عتیق کی کتاب امثال میں ذکر ہوا ہے کہ شراب ایک فریبی مشروب ہے جو شخص بھی اس کے فریب میں آتا ہے یہ انسان کو دیوانہ کردیتی ہے اور صاف بات یہ ہے کہ نشے کی لعنت سے انسان دینی روحانی اخلاقی جسمانی مالی اور معاشرتی ہر لحاظ سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے منشیات کا سب سے بڑا ضرر انسان کی صحت جسم و قوت کو پہنچتا ہے یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی صحت جسم اور طاقت اس کی اپنی ملکیت نہیں بلکہ یہ اس کے پاس خدائے واحد کی امانت ہے جس میں خیانت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے

طبی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے نیز تجربات اور مشاہدات اس پر شاہد ہیں کہ انسان کا جسم منشیات کی وجہ سے مختلف ہولناک امراض کا مجموعہ بن جاتا ہے ایک امریکی ڈاکٹر کے مطابق امریکہ میں ایڈز کے چالیس فیصد مریض ایسے ہیں کہ جن کو منشیات کے بے تحاشا استعمال نے اس اسٹیج تک پہنچایا ہے امریکی لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودی ہے مذہبی اخلاقیات سے ان کا رشتہ بالکل ختم ہو چکا ہے اور یہ سب کچھ نشے کی لعنت کے عام ہوجانے کا وبال ہے یورپ کے اخلاقی دیوالیہ پن اور بے راہ روی کا اصل سبب یہی ہے (روزنامہ منصف کے ایک مضمون کے حوالے سے)

منشیات کی لعنت انتہائی پیچیدہ و نفسیاتی امراض کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور یہ امراض نشہ باز کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کی زندگی کو بھی اجیرن کر دیتے ہیں منشیات کے مضر ہونے کا ایک پہلو مالی نقصان بھی ہے منشیات کا فروغ امت کی معاشی اور اقتصادی قوت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے مرادف ہے نشے کے سماجی نقصانات بھی بڑے خطرناک ہوتے ہیں قرآن کریم نے منشیات کے سماجی نقصانات کو بطور خاص بیان فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے بغض و عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں لڑائیاں اور تنازعے شروع ہوتے ہیں زوجین کے تعلقات بگڑتے ہیں خاندانوں کے رشتے بکھرتے ہیں گھر برباد ہوجاتے ہیں اور فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ سماجی مضرات سے شرابیوں کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔ منشیات کے بے شمار نقصانات کا سب سے اہم حصہ دینی و اخلاقی نقصانات ہیں۔ مختصر یہ کہ منشیات ہزاروں برائیوں کا سرچشمہ ہے منشیات ابلیس لعین کا ایک ہتھکنڈا ہیں جو انسان کو فطرت سلیمہ سے ہٹاتا اور اشرف المخلوقات کے درجہ سے اسفل السافلین کے درجہ میں پٹخ دیتا ہے اور اسے حیوانوں سے بھی بدتر اور کمتر بنا دیتا ہے۔

معاشرہ میں منشیات کی لعنت کے اسباب و محرکات میں سے چند مندرجہ ذیل نمایاں امور یہ ہیں ایمانی جذبہ اور خوف خدا کی کمی، اخلاقی تعلیم و تربیت کا فقدان، بیکاری اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری، یورپ کی اندھی نقالی اور غلامی، بے شعوری میں نشہ آور گولیوں کا مقوی دوا سمجھ کر استعمال، ذہنی پریشانیاں اور خانگی جھگڑے، فلمی ایکٹرس کی نقل وغیرہ۔

ایک اہم سروے WHO کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق 2020 سے 2030 کے درمیان سو کروڈ لوگ تمباکو نوشی کی وجہ مرسکتے ہیں ان میں متوقع 40 فیصد ہندوستانی ہیں ایک اور سروے کے مطابق دنیا میں منشیات سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ 2.5 میلن ہوگئی ہے اور ہندوستان میں نشے کی وجہ سے روزانہ 15 لوگوں کی موت واقع ہوتی ہیں غیر سرکاری NGO کے سروے کے مطابق ہندوستان میں عصمت دری کے واقعات % 81 نشے کی وجہ سے رونما ہوئے . ممبئی مضافات میں نشے کے عادی افراد کے ہاتھوں اپنے بچوں کو بیچنے اور بیویوں کو زبردستی قبہ گری کے اڈے پر چهوڑنے کے واقعات درج ہوئے ہیں ان حالات میں سماج کو نشے سے آزاد کرنے کی جدوجہد کرنا ہر دردمند فرد کے لیے لازمی ہے کیونکہ تباہی والی آگ جب لگتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکهتی کے گهر کس کا ہے۔

سماج میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رواج کو ختم کرنے اور سماج کو اس برائی سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ایمانی جذبات اور خوف خدا کو بیدار کرنا، موثر دینی و اخلاقی تربیت، قرآنی و دینی تعلیم، آوارہ گردی اور بے روزگاری کے خاتمے کی کوشش کرنا، بری صحبت سے گریز اور اچھی صحبت کا التزام کرنا، اور اگر سنگین صورت ہوتو سماجی بائیکاٹ کرنا،  مسلسل منشیات مخالف اصلاحی مہمات غرضیکہ ایک ہمہ گیرتحریک کے انداز میں منشیات کے انسداد کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سماج کے تمام طبقات تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ نشہ کے نقصانات سے ہر سطح پر لوگوں کو باخبر کیا جائے ان تمام اسباب و عوامل پر بند لگانے کی کوشش کی جائے جو منشیات کے فروغ میں معاون ہوسکتے ہیں اگر ایک طرف شراب سے منع کیا جائے گا اور دوسری طرف شراب کی دوکانیں آسانی کے ساتھ کھلی رہیں گی تو اس تضاد کا نتیجہ سماج کے بگاڑ کی بھیانک شکل کے سوا اور کیا ہوگا ؟ جب تک منشیات کے خلاف ہر سطح پر تحریک نہیں چلائی جائے گی ہوٹلوں دوکانوں اور تقریبات وغیرہ ہر جگہ سے منشیات کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس لعنت کا خاتمہ نہیں کیا جا سکے گا لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات مخالف پروگرام قریہ قریہ بستی بستی نگر نگر منعقد کرکے عوام الناس کو سمجھایا جائے اور انہیں اس سے بچنے کی ترغیب دی جائے نیز حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ گھٹکے تمباکو  کی ڈبیوں بیڑی کے بنڈلوں اور شراب کی بوتلوں پر اس کے نقصانات لکھ کر بیچنے کی اجازت کے بجائے اسپر مکمل طور پر پابندی عائد کرے منشیات سے بچاؤ اس وقت دنیا کا یہ سب سے بڑا مسلہ ہے اس کے خلاف سب سےموثر اقدامات حکومتی سطح پر کیے جاسکتے ہیں سرکاری سطح پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے منشیات کینسر قسم کی تباہ کاریوں کو اس بڑے پیمانے پر پیش کیا جائے تاکہ قوم کے بچے بچے کی زبان پر اس کا تذکرہ ہو ٹیلی ویڑن ریڈیو اخبارات رسائل و جرائد منشیات کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنے اور اس سے قوم کو بچانے کے لیے اپنا مطلوب کردار نبھائیں منشیات فروشوں کو دی گئیں سزاؤں کو شہ سرخیوں میں مبالغہ آرائی کے ساتھ شائع کریں اس کے منفی پہلو خوب اجاگر کریں دینی سماجی اور سیاسی تنظیمیں بھی اس ناسور کے خاتمے کے لئے اپنا رول ادا کریں ہماری تعلیم گاہیں جہاں سے اس قسم کی بیماریوں کو بھرپور طریقے سے دور کیا جاسکتا تھا مگر آہ ! بدقسمتی سے آج وہ بھی منشیات کی لعنت سے محفوظ نہیں ہیں صورتحال ایسی دکھ بهری  ہے کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا ہے …. 2017 کے ایک سروے کے مطابق ہندوستان کے یونیورسٹیوں میں 69 فیصد طلباء نشے کے عادی ہیں جس میں سے 25 فیصد طلباء ہر طرح کا نشے کرتے ہیں اور نشے کے پیسے اگر ناہوتو جرائم کے راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت امت کو صحیح سمجھ عطا فرمائے مہلک عادتوں میں مبتلا لوگوں کو اس سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی ترغیب دینے کی توفیق بخشے اور جو اس لعنت میں گرفتار ہوکر اپنی زندگیوں کو برباد کرچکے ہیں یا مہلک امراض میں مبتلا ہیں اوربیماری کے عالم میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں انہیں صحتیابی نصیب فرمائے۔ آمین

مزید دکھائیں

ڈاکٹر احمد عروج مدثر

ڈاکٹر احمد عروج مدثر کا تعلق اکولہ مہاراشٹر سے ہے۔ موصوف پروفیشن سے طبیب اور تحریک اسلامی کے سرگرم رکن ہیں۔ مضامین، شاعری، نفسیات پر لیکچر اور مطالعہ آپ کی دل چسپی کے موضوعات ہیں۔

متعلقہ

Close