معاشرہ اور ثقافت

مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کا تجزیاتی مطالعہ

مقبول احمد سلفی

کفار کے یہاں بیٹی کی پیدائش منحوس مانی جاتی ہے ، نتیجۃ اسے ماں کے پیٹ میں ہی مار دی جاتی ہے جو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے ۔ اسی طرح خاندانی منصوبہ کے تحت ایک دو بچوں پہ اکتفا کفار کی عالمی پہچان بن گئی ہے ۔ ان دو وجوہات کی بنا پر عالمی اعتبار سے غیرمسلموں کا تناسب دن بدن  کم ہوجاچلا جارہاہے ۔ اباحیت پسندی کی گرم بازاری نے نکاح جیسے مقدس رشتے کو بے معنی کردیا ۔ اب بغیر شادی کے ہوس ناکی عام ہوگئی ہے جس میں بیوی بچوں کی کفالت و نگرانی کا کوئی جھنجھٹ نہیں ۔ اس مغربی شعوروکلچر نے تو آبادی کیا انسانیت کاہی گلا گھونٹ کررکھ دیا۔

عیسائیت کی تعداد عالمی پیمانے پہ سب سے زیادہ ہے مگر خاندانی منصوبہ بندی اور اباحیت پسندی نے عیسائیوں کو بھی اپنی آبادی کے متعلق فکرمندی میں مبتلا کردیا ہے اور مستقبل میں مسلمانوں کی کثرت کا اندازہ لگایا جارہاہے ۔ ساتھ ہی ابھی سے ہی مسلمانوں کو کم کرنے کے متعدد حربے استعمال کئے جارہے ہیں ۔

بین الاقوامی سطح پر مجموعی اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد گرچے کم ہو مگر یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مسلمان ممالک کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی مسلمانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ ان کے مختلف اسباب ہیں ۔

پہلا: اسلام نے آبادی بڑھانے کی ترغیب دی جس پہ مسلمانوں کا دیندار طبقہ سدا سےعمل پیرا ہے ۔

دوسرا: نئے مسلمانوں کی روز بروز بڑھتی تعداد نے مسلمانوں کی کثرت میں مزید اضافہ کیا۔

تیسرا: اسلامی غیرت رکھنے والے مسلمان فیملی پلابنگ اور اسقاط حمل سے الحمدللہ دورہیں کیونکہ انہیں اللہ کا خوف اور آخرت میں حساب وکتاب کا ڈر ہے ۔

چوتھا: صحیح ایمان رکھنے والے مسلمان نکاح چھوڑ کر کبھی بھی اباحیت پسندی کا طریقہ نہیں اختیار کرسکتے ۔

ان چند اسباب کی وجہ سے عالم نائیدار میں مسلمانوں کی آبادی بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ یہ بڑھتی آبادی جہاں مسلمانوں کے لئے باعث اضطراب ہے وہیں اہل کفروشرک کی خاطر بھی تشویش ناک ہے ۔

حقیقت میں مسلمان کی آبادی مسلمانوں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر مسلم اسٹیٹ اور ذمہ دار طبقات کی عدم توجہی نے اسے مسئلہ بنادیا۔

مسلمانوں کی بڑھتی آبادی کی وجہ سے دو قسم کے مسائل ہیں ۔ پہلی قسم کا تعلق کفارومشرکین کے ناپاک ہتھکنڈے سے  ہے اور دوسری قسم مسلمانوں کے اندرونی مسائل سے  ۔

ہندوستان کے متعدد صوبے اور علاقے جات  مثلا آسام اور نارتھ ایسٹ وغیرہ میں مسلمانوں کی اکثریت کی بناپر ہندووادی ، حکومت سے مسلمانوں کے لئے خاندانی منصوبہ بندی کی مانگ کررہے ہیں۔ ہندوستانی حکومت مسلمانوں کے تئیں کس قدر منصف ہے وہ سب کو پتہ ہے وہ زبردستی اس منصوبے کو ہرمسلمان پہ فانذ نہیں کرسکتی تو اس کا بدل اختیار کرتی ہے جس سے مسلمانوں کی تعداد آپ خود کم ہوجائے گی ۔

ہندوستان میں مسلمانوں پہ بے جاظلم وتشدد اورقتل وغارت گری، مسلمانوں کے ساتھ دنگے فساد، مسلمانوں کے لئےجیل کی آہنی سلاخیں،مسلمانوں کے لئے  وسائل کی عدم دستیابی  اور ان کے لئے نوکری کا فقدان ، بے جا مقدمات  وغیرہ  اسی کا شاخسانہ ہیں۔

اگر آپ ہندوستان کا سروے کریں تو معلوم ہوگا جیلوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ بھوک مری میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے ۔ غربت ولاچاری مسلمانوں کا نصیبہ ہے۔ کوٹ کچہری میں زیادہ معصوم مسلمان پھنسے ہیں۔ فرقہ واریت کے نام پہ مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے ۔دہشت گردی کے نام پہ دنیا بھر میں صرف مسلمانوں کو ہی پکڑا جارہاہے جیساکہ لگتا ہے باقی کسی قوم ومذہب میں کوئی دہشت گرد ہے نہیں ۔ خود جرم کرکے مسلمانوں کو پھنسانے کا بہانہ تلاش کیا جاتا ہے ۔ ان سب کے پیچھے اہم مقصد مسلمانوں کی نسل کشی ہے ۔بھارت کی تشدد پسند تنظیم وشوہندو پریشد کے متشدد رہنما پروین تگڑیا نے ہندو جوڑے کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی صلاح دی ہے تاکہ مسلمانوں کا مقابلہ ہوسکے۔اسی تنظیم کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر کمار نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں شرح پیدائش روزبروز بڑھ رہی ہے ، ہندؤں کی آبادی میں گراوٹ روکنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔

میں نے قادیانیوں کے ایک گروہ کے متعلق سنا جو مسلمانوںمیں ایڈس پھیلاکر مجبورا قادیانی بناتا ہے ۔ یہ لوگ دوستی کے نام پہ لڑکیوں کے موبائل نمبر اخبارات وجرائد کے ذریعہ مشہور کرتے ہیں ۔ یہ لڑکیاں دوستی کرکے لڑکوں کو زناکاری کے گروہ میں شامل کرتی ہیں جو ایڈس زدہ ہوتی ہیں ۔ جب ایڈس کا روگ لگ جاتا ہے تو اس گروہ کے لئے کام کرنا مجبوری بن جاتی ہے ۔پھر مذہب تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔اس طرح  نہ جانے کتنی اور کس  کس قسم کی تنظیمیں خفیہ طور پہ مسلمانوں کو دین سے بیزار کرتی ہوں گی؟ ۔عیسائی طاقت  افزائش نسل پہ جتنا دھیان نہیں دیتی اس سے کہیں زیادہ مسلم قوم کی نسل کشی اور مذہب بیزاری پہ دیتی ہے ۔

غیراقوام ہمیں آپس میں لڑاکر ہماری تعداد اور طاقت ختم کررہی ہے جسے ہم سمجھنے سے اب تک قاصر ہیں۔ فرقہ بندی کے نام پہ بہت ساری جگہوں پہ مسلمان آپس  ہی میں لڑکر ایک دوسرے کاگلا کاٹ رہے ہیں۔یہ ہمارے دشمن کی چال ہے ۔

دہشت گردی کے نام پہ نہ جانے کیا کیا کھیل کھیلاجارہا ہے ۔دنیابھر لاکھوں مسلمان تہ تیغ ہوچکے اور ہمیشہ ہوتے رہیں گے جب تک کہ مسلمان ایک نہ ہوجائیں ۔قضیہ فلسطین، مسئلہ کشمیر، عراق اور افغانستان کی مثالیں  ہمارے سامنے ہیں۔

داخلی طور پہ مسلمانوں کے اندر بھی بہت سے مسائل ہیں جن کی بدولت ہماری طاقت کو گھن لگ رہاہے ۔ مسلمانوں کی آبادی کے مسائل کو حل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ اتفاق واتحاد ہے ۔ مسلک پرستی اور گروہ بندی سے چشم کشی کرکے ایک پلیٹ فارم پہ آنا ہوگا تاکہ داخلی مسائل کاحل تلاش کریں اور خارجی طور پہ استعمال کئے جانے والے باطل ہتھکنڈے کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ آدمی جو کچھ سنتا، دیکھتا اور پڑھتا ہے زندگی پہ اس کا زیادہ اثرہوتا ہے ۔ آج میڈیا نے مسلمانوں کو بھی بڑھتی آبادی سے خوف زدہ کردیا ہے ۔ بنابریں کچھ مسلمان خاندانی منصوبہ بندی کے قائل ہیں تو کچھ اسقاط حمل کے ۔ کچھ کے نظریات تو بڑے بھیانک ہیں ۔ پیٹ اور بھوک کے لئے حلال وحرام کی تمیز کئے بغیر آرٹ اور فیشن کے نام پہ حرام کاری میں ملوث ہیں۔ قتل ، فساد، چوری، عیاشی  اور کالابازاری بڑھتی آبادی کے مسائل ہیں جن کی طرف بعض  مسلمان جہالت ونادانی میں مائل ہوجاتے ہیں۔ اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ صالح معاشرہ کا گلا گھونٹ دیتے ہیں ۔ یہ داخلی مسائل خود اپنے پیدا کرد ہ ہیں ۔ کہیں والدین کی غفلت ، کہیں اسلامی حکمراں کی بے توجہی ، کہیں علماء ودعاۃ سے سستی تو کہیں خدام خلق کی لاپرواہی سبب بن رہی ہے ۔ جب تک داخلی مسائل ختم نہ ہوں گے خارجی چیلنجز سے مکمل طور پر نبردآزما نہیں ہوسکتے ۔ اس لئے ذمہ دار طبقوں کو پہلے اندرونی مسائل کے سد باب کے لئے فضا ہموار کرنی ہوگی پھر اس راہ کی کافرانہ دشواریوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ داخلی اور خارجی دونوں محاذ پہ یکساں کام کیاجائے اس کے لئے گروہ بندی سے بالاترہوکر محض اسلام اور مسلمانوں کا مفاد پیش نظر رکھنا ہوگا۔ کاش کے مسلمان ان مسائل کو محسوس کرے اور ان کے حل کے لئے یک جوٹ ہوکر میدان میں آئے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close