معاشرہ اور ثقافت

مسلم معاشرہ برائیوں کی دلدل میں: ذمہ دار کون؟

سید فاروق احمد سید علی

محترم قارئین کرام:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آج سے کچھ سالوں پہلے اخبارات میں جرائم سے متعلق جو خبریں پڑھنے میں آتی تھیں ان خبروں کو پڑھنے کے بعد اطمینان ہوتا تھا اور اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ الحمد للہ ہمارے مسلم افراد کا نام نہیں ہے لیکن آج اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوئے جب جرائم کی خبروں کا صفحہ کھولا جاتا ہے تو زیادہ تر جرائم میں ملوث مسلم معاشرہ دکھائی دیتا ہے۔ آج کل گلے سے طلائی چین کھینچ کر بھاگنے والے ،ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،اور زنا جیسے جرائم پیشہ نوجوانوں میں مسلم نام دکھائی دیتے ہیں اور ان میں بھی بعض تعلیم یافتہ اور متوسط گھرانے کا طبقہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں تو دوسری جانب شادی کے بعد مسلم خاندانوں میں صرف چند ماہ کے اندر طلاق کے معاملات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

گذشتہ 2 مہینوں میں کرائم کے متعددواقعات میں ہمارے شہر اورنگ آباد میں بیڑ بائے پاس پر ہوئے بینک ملازم کے قتل کے معاملے میں جونا بازار کے دو مسلم نوجوان شامل تھے۔ جالنہ میں دن دہاڑے ہوئی قتل کی واردات میں ۴ مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ جلگائوں ضلع میں صبح کی اولین ساعتوں میں ایک باڈی بلڈر کو تلوار سے بری طرح قتل کرنے والے بھی مسلمان پائے گئے۔ گذشتہ ۵ ماہ قبل شہر اورنگ آباد سے مسلم لڑکیوں کاایک گروہ پکڑا گیا تھا جو گجرات جاکر قحبہ گری کرتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ کل ایک اور افسوسناک خبر پڑھنے ملی کہ ریلوے اسٹیشن علاقہ میں نئے تکنیک سے آراستہ ایک جوا خانہ پر چھاپہ مارا گیا جس میں شہر کے معروف مسلم شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں مسلم نوجوان پکڑے گئے۔ شہر میں معمولی معمولی باتوں پر جھگڑے ، چاقوزنی، قتل کے واقعات قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہوگئے ہیں ۔

نوجوان نسل ملک وملت کے مستقبل کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے، جس پر ملک وملت کی ترقی وتنزل موقوف ہے، یہی اپنی قوم اور اپنے دین وملت کے لیے ناقابلِ فراموش کارنامے انجام دے سکتے ہیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ نوجوان کی تباہی، قوم کی تباہی ہے، اگر نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوجائے تو قوم سے راہِ راست پر رہنے کی توقع بے سود ہے، جوانی کی عبادت کو پیغمبروں کا شیوہ بتایا گیا ہے۔ نوجوان قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں اور جس قوم کے نوجوانوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے وہ قوم تباہی کے راستہ پر چل پڑتی ہے۔ نوجوانوں کی اخلاقی تربیت صرف والدین، علماء یا اساتذہ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ خود نوجوانوں میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہونا ضروری ہے کہ وہ کس راہ پر گامزن ہیں ، اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ علماء ، والدین، سرپرست اور اساتذہ کے ساتھ حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی بربادی کو روکنے اور ان کے اخلاق وکردارکو بہتر بنانے کے لئے مواقع فراہم کریں ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس کے صدر نے شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہمارے نوجوان کردار سے عاری ہوچکے ہیں اس لئے ہمیں جنگ سے دوچار ہونا پڑا ‘‘۔ اخلاق و کردار ہی ہیں جو انسانی نسل کا سب سے  قیمتی اثاثہ ہیں ، جب کوئی قوم اخلاق سے محروم ہوجاتی ہے تو کوئی طاقت اسے ترقی سے ہمکنار نہیں کرسکتی۔ گزشتہ دنوں جالنہ،دھولیہ اور جلگائوں میں پیش آئے قتل کے واقعہ میں گرفتار شدہ نوجوانوں کو دیکھنے کے بعد کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کم عمر نوجوان قاتل ہوسکتے ہیں ، لیکن جب اخلاقی گراوٹ کا کوئی شکار ہوجائے تو عمر کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں حیدرآباد شہر میں ڈی ایس سی کے طلبہ کو پولیس نے گرفتار کیا جو گاڑیوں کے سرقہ میں ملوث پائے گئے اور وہ ان گاڑیوں کو فروخت کرتے ہوئے پْرتعیش زندگی گزاررہے تھے لیکن کیا ان کے والدین یا سرپرستوں کو ان لڑکوں کی فکر نہیں تھی یا پھر وہ ان کی حرکتوں سے ناآشنا تھے۔

پولیس  اپنے مشن کے تحت نوجوانوں میں سدھار لانے کی کوشش کررہی ہے لیکن یہ کوشش بھی شاید رائیگاں ثابت ہوچکی ہے چونکہ جن علاقوں میں سب سے زیادہمشن چلایا گیا ان علاقوں کے نوجوان ہی مذکورہ قتل و سرقہ کے واقعات میں ملوث پائے گئے۔ آپ مسلم علاقوں کے پولس اسٹیشنوں کا سروے کیجئے آپ شرمندہ ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے آپ وہاں دیکھیں گے کہ برقعہ پوش مسلم عورتیں سسرالی جھگڑوں ،آپسی تنازعات مارپیٹ اور مختلف چھوٹی چھوٹی وارداتوں میں ملوث اپنے بچے بچیوں کے مسائل کے حل کے لئے گھنٹوں بیٹھی رہتی ہیں ۔ پچھلے کچھ سالوں میں طلاق اور خلع کے واقعات میں مسلمانوں کا تناسب بڑھتا پایا گیا۔ کیا ہورہا ہے یہ سب کدھر جارہی ہے ہماری نوجوان نسل،اس کے سد باب کے لئے کیا کچھ کیا جارہا ہے، کیا اس جانب نام نہادجماعتوں اور تنظیموں کو کچھ نہیں کرنا چاہئے۔۔ ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں میں یہ بگاڑ گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اولاد کی تربیت کے سنہرے اْصول جو سکھائے گئے ہیں ان پر عمل نہ کرنے کے سبب نوجوان نسل میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے اور اس کی بڑی ذمہ داری مذہبی، سیاسی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ ان برائیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نظرانداز کیا جانا، قوم کی تباہی پر خاموشی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف عالمی سطح پر داعش کی دہشت گردی قوم کو بدنام کررہی ہے تودوسری جانب ہمارے نوجوانوں کی سرگرمیاں قوم کو شرمسار کرنے کے علاوہ معاشرتی زندگیوں کو تباہ کرنے کا موجب بن رہی ہیں ۔

آج مسلم خاندانوں کا حال اتنا خراب ہوگیا ہے کہ جو کام اسلام نے مسلمانوں کو کرنے کی ترغیب دی وہی کام مسلمانوں کے بجائے غیر مسلم بجا لارہے ہیں ۔ آج ہمارے گھروں میں خیر و برکت کیوں ختم ہوتی جارہی ہے۔ ایک دور تھا جب مسلمان اس ملک میں صاحبِ ثروت تھے۔ ہم نے ہوائوں کے رخ کو موڑنا اور گرتے ہوئوں کو تھام لینا سیکھا تھا ہم نے کشتیاں بھی جلائیں اور بحر ظلمات میں گھوڑے بھی دوڑائے،ہم نے راجہ دہر سے زوردار ٹکر بھی لی اورصنم خانوں کو بھی توڑ کر بتایا۔ یہ جذبات یہ قوت یہ عزم اور یہ طاقت وہی نوجوان نسل ہے جس کو قوم نے آج لائق التفات نہیں سمجھا جس توجہ وہ سرپرستی کا وہ مستحق تھا وہ اسے نہ دی گئی۔ بالآخر وہ بے وقعت ہو کر اپنی ہی نظرو ں سے ایسا گرا کہ نشان منزل بھی گم کر بیٹھا۔ اورآج مسلمانوں کی اکثریت چپراسی اور نوکرسے بھی گری ہوئی ہے۔ ہمارے شہر کے مسلم علاقوں کی گلیوں کا رات میں سروے کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نصف رات گزرنے کے بعد سے مسلم نوجوانوں کی بیٹھک ہوتی ہے ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو شادی شدہ ہیں جنکی اولاد ہے اس کے باوجود یہ نوجوان مرد اپنے گھروں میں وقت دینے کے بجائے دوست احباب میں وقت ضائع کررہے ہیں ۔ صبح سویرے اٹھنے کے بجائے دس ، گیارہ بجے اٹھتے ہیں ۔

یہ صرف ان مرد نوجوانوں کا ہی حال نہیں بلکہ کئی مسلم گھرانوں میں خواتین و نوجوان لڑکیوں کا بھی یہی حال ہے۔ لڑکیاں اور خواتین کے ہاتھوں میں ہمیشہ سیل فون لگا رہتا ہے جس کے ذریعہ وہ گیم کھیلتی ہیں یا چاٹنگ وغیرہ میں مشغول رہتی ہیں اور یہ سلسلہ ہر روز رات دیر گئے تک جاری رہتا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رات کا بیشتر حصہ جاگتے ہوئے ضائع کردیتے ہیں ، کھانے پینے کی بھی انکے پاس کوئی اہمیت نہیں ۔ ان نوجوانوں کو نہ کھانے پینے کی پرواہ ہے ، نہ نیند کی پرواہ ہے اور نہ اسلامی ماحول میں زندگی گزارنے کی پرواہ۔ آج پولس کے سروے کے مطابق مسلم محلوں میں گانجہ،افیم غرضیکہ تمام منشیات کی چیزیں با آسانی دستیاب ہیں بچوں کی عادات سدھارنے اور بگاڑنے میں سب سے اہم والدہ کا رول ہوتا ہے لیکن آج مسلم معاشرہ کی مائیں اپنی اولاد کو بگاڑنے میں اہم رول ادا کررہی ہیں ۔ باپ بھی اس میں برابر کا ذمہ دار ہیں ۔ گھر کا ماحول اگر بگڑا ہوا ہوتو بچوں کی صحیح ڈھنگ سے پرورش ممکن نہیں ۔ ماں باپ اپنی اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کے لئے اہم ذمہ دار ہوتے ہیں ، اساتذہ کا رول تو اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ وہ تو اسکول یا مدرسہ میں جتنا ممکن ہوسکتا ہے ادب و اخلاق کی تعلیم دیں گے لیکن گھر کا ماحول بھی بہتر ہونا چاہیے۔ ٹیلی ویڑن پر اخلاق سوز سیریلس ، اشتہارات اور فلموں کے بعدآج انٹرنیٹ کا استعمال خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعہ ماحول انتہائی عریانیت اور فحاشی کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ آئے دن بے حیائی عام ہوتی جارہی ہے۔

والدین اپنی اولاد کو بھاری ، کثیر رقم خرچ کرکے فون دلاکر گناہوں کے دلدل میں ڈال رہے ہیں ۔ بچے پڑھائی کی جانب دھیان دینے کے بجائے بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں اور والدین کے ہوش اس وقت ٹھکانے لگ رہے ہیں جب بچے انکے ہاتھ نکل جارہے ہیں ۔ مسلم معاشرہ کو ہمارے ملک میں دیگر ابنائے وطن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کئے جارہے ہیں ۔ مذہبی آزادی حاصل ہے۔ چند فرقہ پرست ، زہریلے بھگوا قائدین اسلام کے خلاف وقتاب فوقتاً بیانات دیتے ہیں لیکن فی الحال مسلمان اس ملک میں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔ ہر مسجد میں مسلمان اپنی اولاد کی تربیت کے لئے دینی ماحول فراہم کرنے کے لئے صباحیہ و مساعیہ تعلیم کا انتظام کرسکتے ہیں ۔ اگر ہر محلہ کے بڑے بزرگ بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے پہل کریں تو انشاء اللہ ہماری یہ اور آنے والی نسلیں مسلم معاشرہ کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کیلئے اہم رول ادا کرسکتی ہیں ۔

علمائے کرام اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے طلبا و طالبات کی تعلیم و تربیت کے لئے کم از کم اپنے قیمتی وقت میں سے ہر روز دو گھنٹے بھی مسجد یا مدرسہ میں دیں تو یہ ایک عظیم کام ہوگااس سے مسلم نوجوان جس بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں اور چوری، ڈاکہ زنی،جوا،سٹہ چین کھینچنے کے واقعات، ہوٹلنگ،پبس(جہاں حیاء  سوز حرکات ، شراب نوشی وغیرہ میں ملوث)، طلاق و خلع کے واقعات میں جس طرح نظر آتے ہیں اس میں کمی واقع ہوگی۔ گھروں میں والدین بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے اسلامی ماحول فراہم کریں اور اسکولوں و کالجوں میں اساتذہ کرام انکی صحیح طرح تعلیم و تربیت کریں گے تو یہ سب کے لئے بہتر ہوگا ورنہ آج جس طرح مسلم بچے اورنوجوان تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں اس میں مزید اضافہ ہوگا جیسا کہ اوپرمیں نے لکھاہے کہ آج سے چند سال قبل مسلم نوجوانوں کا جرائم کی دنیا میں بہت کم نام دکھائی دیتا تھا لیکن آج مسابقتی دورکے حوالے سے مسلم نوجوان برائیوں میں بھی مسابقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کاش والدین و اساتذہ کرام اور علمائے اسلام اس جانب توجہ دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں تو انشاء اللہ العظیم ہمارے معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ تعلیم سے انسان سدھرتا ہے لیکن مسلم معاشرہ سدھرنے کے بجائے پستی کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔

مسلم علمائے کرام اور دانشوان قوم و اساتذہ کرام اور والدین کو اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ خصوصی طور پر میں امارت شرعیہ ، جمعیۃ علمائے ہند اور مدارس کے ذمہ داران سے گذارش کروں گاکہ وہ نقباء،محلہ کے بااثر شخصیات،اور سیاسی لوگوں کی ایک میٹنگ طلب کریں اور محلہ وار کمیٹیاں تشکیل دیں اور انہیں ہدایت دیں کہ وہ اپنے اپنے علاقہ میں معاشرہ میں سدھار کے تعلق سے مختلف میٹنگیں طلب کریں ۔ بے راہ روی کے شکار لوگوں اور خصوصاً نوجوانوں کی ایک فہرست تیار کریں انہیں ڈاکٹرس او رماہرین کے ساتھ بٹھائیں انہیں اس کے نقصانات سے واقف کرائیں اور بچنے کی تدابیریں بتائیں ۔ اور ائمہ کرام سے خصوصاً کہوں گا کہ وہ اپنے اپنے محلہ میں جمعہ کے خطابات میں سماج سدھار کے تعلق سے خطابات کریں ۔

انشاء اللہ ہم سب مل کر سماج سدھار کی کوشش کریں گے اللہ سے قوی امید ہے کہ وہ ہماری کوششوں کو قبول کرے گا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب میں اتحاد واتفاق کو قائم رکھیں ،ہماری نوجوان نسل کو آنے والی نسلوں کے لئے مشعل را ہ بنائیں ۔ بولا چالا معاف کرا۔۔ زندگی باقی تو بات باقی۔۔ ۔ ۔ اللہ حافظ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. خاص طور پر اسلامی ملکوں اور مسلم آبادیوں میں اکثر یہ کیس ہسپتال میں آتے ہیں……
    کیونکہ ھم یا عورت ایک دوسرے پر سبقت لینا چاہتے ہیں…. یہ کیس میرے نہایت قریبی دوست جو کہ ڈاکٹر ہیں اُنہوں نےمجھے اس شرط پر سنایا کہ تم میرا نام نہیں بتاؤ گے !.کسی موقعہ پر بھی نہیں..

    لہذا یہ کیس میں آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ھوں اور اس پر آپ لوگوں کی رائے بھی جاننے کامتمنی ہوں….

    ,, سو کالڈ فرسٹ نائیٹ tear کے کیسز صبح چار،پانچ بجے ایمرجنسی میں آتے ہیں۔کافی سال پہلے مجھے اُس وقت سرجری میں ہاؤس جاب کرتے ہوئے ایک ماہ ہی ہوا تھا۔میرے ساتھ ایک سینیئر فی میل سرجن کی ڈیوٹی تھی کہ صبح کوئی ساڑھے چار بجے ایک دلہن کو لایا گیا. جس کو بہت بلیڈنگ ہو رہی تھی۔آپریشن تھیٹر میں لے جا کر سینیئر سرجن صاحبہ نے ٹریٹ کیا اور میں اپنی سینیئر کو assist کر رہا تھا۔مریض سے فارغ ہونے کے بعد میں نے اپنی سینیئر سرجن صاحبہ سے پوچھا کہ مردانہ عضو تو گوشت پوشت کا بنا ہوتا ہے۔چھری یا بلیڈ تو مردانہ عضو میں لگی نہیں ہوتی تو پھر اتنا کٹ اور بلیڈنگ کیسے ہو گئی؟
    پہلے تو وہ ہسنے لگیں پھر انہوں نے بتایا کہ یہ اُن کی زندگی کا 31 واں فرسٹ نائیٹ ٹیئر کا کیس ہے۔کہنے لگیں کہ تمہاری بات صحیح ہے کہ human penis میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی کہ اتنے کٹ یا بلیڈنگ کروا سکے۔دو چار قطرے ورجنٹی ختم ہونے،مطلب ھائمن rupture ہونے پہ ضرور نکل سکتے ہیں۔اس سے زیادہ کچھ نارملی ممکن ہی نہیں ہے۔
    اصل میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ دلہنیں ویڈنگ نائٹ پہ ورجن نہیں ہوتیں اور اپنے آپ کو ورجن ثابت کرنے کے لیے کبھی vaginal lip پہ اور کبھی اندر کٹ لگا لیتی ہیں۔اکثر کیسز میں تو بلیڈنگ تھوڑی دیر بعد بند ہو ہی جاتی ہے لیکن کبھی کبھار بلیڈنگ بند نہیں ہوتی اور پھر دلہن ایمرجنسی میں۔پھر ہم سرجنز ان کو فرسٹ نائیٹ ٹیئر کیس لکھ دیتے ہیں۔اور کیا لکھیں؟ڈاکٹر کا کام ہے کہ وہ مریض کا سیکرٹ سیکرٹ ہی رکھے۔کہنے لگیں کہ آپریشن تھیٹر میں چونکہ دلہن اکیلی اور رشتہ داروغیرہ کوئی نہیں ہوتا تو انہوں نے تقریبآ اپنی ہر مریضہ سے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا؟ کیوں کٹ لگایا؟
    تو تقریبآ سب نے اقرار کیا کہ وہ ورجن نہیں تھیں اور آپنے آپ کو ورجن ثابت کرنے کا اُنہیں یہی طریقہ سُجھا تھا…
    مسلم معاشروں میں یہ برائی تیزی کےساتھ پھیل رہی ہے.یہ ایک لمحہ فکریہ ہے.اس پربہت سنجیدگی سےغورکرنےکی ضرورت ہےتاکہ اس کاتدارک ہوسکے.

متعلقہ

Close