معاشرہ اور ثقافت

مسنون نکاح

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مرکز جماعت اسلامی ہند، کیمپس میں واقع مسجد اشاعت اسلام میں ایک نکاح کی تقریب کے موقع پر ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی، سکریٹری تصنیفی اکیڈمی نے جو تقریر کی تھی اسے ریکارڈ نگ کی مدد سے نقل کیا گیا۔ پھر موصوف کی نظر ثانی کے بعد افادۂ عام کے لیے پیش کیا جا ریا ہے۔ (محمد اسعد فلاحی ،معاون شعبۂ تصنیفی اکیڈمی)

     نکاح ایک معاشرتی ضرورت ہے ، جو تمام مذاہب میں رائج ہے ۔ اسلام میں نکاح کاجو تصور دیا گیا ہے وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے ، دوسرے مذاہب میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔
جنسی جذبہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے انسانوں نے عجیب و غریب طریقے اختیار کیے ہیں۔ کچھ مذاہب کے ماننے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بہت قبیح عمل ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انسان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے اس جذبے کو نہ دبائے اور نہ کچلے۔ ہم جانتے ہیں کہ عیسائی راہبوں اور ہندو جوگیوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے۔ان لوگوں میں اپنے جنسی جذبے کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگوں نے اس کو پورا کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ ان کے یہاں کوئی پابندی نہیں ہے۔انسان جس طرح چاہے اپنے اس جذبے کی تکمیل کر لے۔
اسلام نے جنسی جذبہ کی تکمیل کے لیے نکاح کے علاوہ کسی اور طریقے کو جائز نہیں قرار دیا ہے۔ اس نے سماج کو یہ حکم دیا ہے کہ تمہارے اندر جو غیر شادی شدہ ہوں ان کے نکاح کراؤ اور وہ نو جوان یا وہ لوگ جو غیر شادی شدہ ہوں ان کو بھی تاکید ہے کہ وہ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَاءِکُمْ إِن یَکُونُوا فُقَرَاء یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (النور:32)
’’ تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموںں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا، اللہ بڑی وسعت والا ہے‘‘۔
’ایامی ‘عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا واحد ’ایّم‘ ہے۔اس کے معنیٰ ہیں وہ نوجوان جس کی ابھی شادی نہ ہوئی ہو،یا وہ شخص جس کی شادی ہو چکی ہو ،لیکن کسی وجہ سے طلاق واقع ہو گئی ہو یا اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا ہو، یا وہ عورت جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو یا اس نے اس سے علیٰحدگی اختیار کر لی ہو۔ ایامی میںیہ تمام لوگ شامل ہیں ۔
قرآن سماج کی یہ ذمہ داری قرار دیتا ہے کہ ان کے درمیان کوئی بھی شخص، خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہو، بغیر نکاح کے نہ رہے۔ایک حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
’’یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوّج فانّہ أغضّ للبصر وأحصن للفرج‘‘ (صحیح بخاری: 1905، صحیح مسلم :1400)
’’اے نوجوانو ! تم میں سے جو بھی نکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو ، اسے نکاح کر لینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس سے نگاہوں کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور شرم گاہ کی جنسی جذبہ کی حفاظت ہوتی ہے۔‘‘
قرآن مجید میں بعض مقامات پر مر د وں اور عورتوں دونوں کو مخاطب بنایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَان(المائدۃ :۵)
’’ان کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو‘‘۔
مُحْصَنٰتٍ غَیْْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَلاَ مُتَّخِِذٰتِ أَخْدَان(النساء :۲۵)
’’وہ حصارِ نکاح میں محفوظ(محصنات) ہوکر رہیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ کسی بدچلنی
کی مرتکب ہوں‘‘۔
مردوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ عیاشیاں کریں، کھلے چھپے بدکاری کریں یا ناجائز تعلقات قائم کریں۔ اسی طرح عورتوں کو بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ نکاح کے بندھن میں نہ بندھیں اور کھلے چھپے آوارگی کا مظاہرہ کریں یا چوری چھپے عیاشیاں کریں۔
اسلامی تعلیمات میں اس سے آگے کی چیز ملتی ہے، جو ہم سب کے لیے قابل توجہ ہے ۔ اسلام نے نکاح کو آسان سے آسان تر بنایاہے اور زنا کو مشکل سے مشکل ترکیا ہے ۔ چنانچہ ہم سب جانتے ہیں کہ زنا کے متعلق سخت وعیدیں سنائی گئیں ہیں۔ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنیٰٓ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَّسَآء سَبِیْلاً (الاسراء:۳۲)
’’لوگو! زنا سے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یہ انتہائی فحش کا م ہے اور انتہائی برا راستہ ‘‘۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اسلام میں زنا کو مشکل سے مشکل تر بنایا گیا ہے اور اس کی سزا قرآن میں بیان کی گئی ہے ۔ اس کے مرتکب شخص کو کوڑے مارے جائیں گے اور اگر وہ شادی شدہ ہے تو اسے پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔ اس کے مقابلے میں نکاح کو بہت آسان بنایا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات ، آپؐ کا اسوہ اور صحابہؓ کا عمل ہمارے سامنے ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:
أعظم النکاح برکۃً أیسرہ مؤنۃً (مسند احمد)
’’سب سے زیادہ با برکت نکاح وہ ہے ، جس میں کم سے کم خرچ ہو‘‘ ۔
عام طور سے نکاح کے موقع پر بہت خرچ کیا جاتا ہے، دل کے ارمان نکالے جاتے ہیں، پر تکلف دعوتیں ہوتی ہیں، بڑی تعداد میں دولہا ،دلہن اور رشتہ داروں کے جوڑے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان مصارف کے لیے قرض تک لینے کی نوبت آجاتی ہے۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے اس نکاح کو سب سے بہتر قرار دیا ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو اور جو سب سے زیادہ آسانی سے انجام پائے ۔
اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں ایک عورت آئی اور کہا کہ مجھ سے نکاح کر لیجیے یا کسی اور سے میری شادی کر دیجیے۔ آپؐ خاموش رہے۔وہ عورت بیٹھ گئی۔ کچھ دیر کے بعد ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس عورت کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔آپ ؐ نے پوچھا: تمہارے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا:کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کچھ تو ہوگا۔اس نے عرض کیا: کچھ نہیں ہے۔آپ ؐ نے فرمایا: اپنے گھر جاؤ اور دیکھو، جو بھی ہو ،لے آؤ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی تاکید کے بعد وہ صحابی چلے گئے ۔کچھ دیر کے بعد واپس آئے اور کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ ؐنے فرمایا: تمہارے پاس لوہے کی انگوٹھی تو ہوگی؟ انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول !وہ بھی نہیں ہے۔مگر اس وجہ سے نکاح روکا نہیں گیا۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں جو کچھ قرآن یاد ہے ، اسے اس عورت کو سکھا دینا ۔ اسی کے عوض میں اس کو تمہارے نکاح میں دیتا ہوں۔ (بخاری:5121، مسلم:1425)
ایک مرتبہ ایک نوجوان آپ ؐ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ !میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، لیکن کہیں پیغام بھیجتا ہوں تو لوگ مجھے اپنی لڑکی دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔وہ نوجوان پچھنا لگانے کا کام کیا کرتا تھا۔ ہمارے سماج میں بھی لوہار، نائی اور اس طرح کے لوگوں کو بد ذات سمجھا جاتا ہے۔ چوں کہ وہ ایک معمولی پیشہ کرتے تھے، اس لیے لوگ انھیں اپنی بیٹی دینے کے لیے راضی نہ تھے ۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اس نوجوان سے فرمایا کہ تم فلاں قبیلے میں چلے جاؤ اور اس قبیلے کے سردار سے کہنا کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے بھیجا ہے ، کہ آپ اپنی بیٹی سے میرا نکاح کر دیں۔اس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے ان کے نکاح کا بھی انتظام کر دیا۔
اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ آج کل ہمارے سماج میں دوشیزائیں بیٹھی رہتی ہیں، ان کے رشتے نہیں مل پاتے ہیں۔اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہؓ کے زمانے میں مطلقہ یا بیوہ عور ت گھر میں بیٹھی رہے، اس کا کوئی تصور نہیں تھا۔ایک عورت کی کسی وجہ سے طلاق ہو گئی ہو یا وہ بیوہ ہو گئی ہو تو اس کی دوسری شادی ہوجاتی تھی، تیسری شادی ہوجاتی تھی، چوتھی شادی ہوجاتی تھی۔ عمر کے کم یازیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کم عمر لڑکیوں کی شادی بڑی عمر کے مردوں سے ہوجاتی تھی اور زیادہ عمر کی عورتوں کی شادی نو عمر لڑکوں سے ہوجاتی تھی۔ اس معاملہ میں کوئی روک ٹوک اور دشواری نہیں تھی ۔
ایک خاتون تھیں حضرت عاتکہؓ ۔حضرت ابو بکرؓ کے بیٹے حضرت عبدالرحمنؓ نے ان سے نکاح کیا۔ وہ شہید ہو گئے تو حضرت زید بن الخطابؓ نے ان سے نکاح کر لیا۔ وہ شہید ہو گئے توحضرت عمر فاروقؓ نے ان سے نکاح کیا۔ وہ شہید ہو گئے تو حضر ت حسن بن علیؓ نے ان سے نکاح کر لیا۔ اس طرح سے ان کا لقب’زوجۃ الشھداء‘( شہیدوں کی بیوی) پڑ گیا تھا۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ ایک اور صحابی نے ان کو نکاح کا پیغام دیا توانھوں نے جواب دیا: میں نہیں چاہتی کہ آپ بھی شہید ہو جائیں ۔ حضرت اسماء بنت عمیسؓ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی بیوی تھیں۔ وہ جنگ موتہ میں شہید ہوئے تو حضرت ابو بکرؓ نے ان سے نکاح کرلیا، حضرت ابو بکرؓ شہید ہوئے تو حضرت علیؓ نے ان سے نکاح کیا۔
حضرت فاطمہ بنت قیسؓ بہت مشہور صحابیہ ہیں ۔ ان کے شوہر نے ان کو طلاق دے دی تو ان کے پاس تین (۳) رشتے آگئے۔ بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے ان کو پیغام دیا تھا۔ ان میں سے ایک حضرت معاویہؓ بھی تھے ۔ وہ خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! میرے پاس فلاں فلاں رشتے آئے ہیں، بتائیے ،ان میں سے کون سا رشتہ میرے لیے بہتر ہوگا؟ حضور ﷺ نے فرمایا:اگر مجھ سے رائے لیتی ہو تو تم ان کے بجائے اسامہ بن زیدؓ سے نکاح کرلو۔ وہ خاتون خود کہتی ہیں کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں آیا۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے زور دے کر کہا کہ کہ اگر تم میرا مشورہ چاہتی ہو تو میں تو یہی کہوں گا کہ اسامہؓ سے نکاح کر لو۔چنانچہ انھوں نے حضرت اسامہؓ سے نکاح کر لیا۔ وہ خود بیان کرتی ہیں کہ میرا یہ رشتہ بہت با برکت ثابت ہوا۔ حضرت فاطمہؓ کی عمر زیادہ تھی، ان کے مقابلہ میں حضرت اسامہؓ کی عمر کم تھی۔ دونوں کی عمروں میں کافی تفاوت تھا۔
اسلام میں عورت کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس کو چاہے پسند کرے ۔ اسے کھل کر اپنی خواہش کے اظہار کی آزادی ہے۔ ایک لڑکی اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں آتی ہے اور کہتی ہے :اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے باپ نے میرا رشتہ اپنے بھتیجے کے ساتھ طے کر دیا ہے، مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے۔ میرے باپ کا بھتیجا غریب ہے، میں اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تم نہیں چاہتی ہو تو تمہارا یہ رشتہ نہیں ہو سکتا۔ وہ لڑکی فوراً بول اٹھی: مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ میں تو صرف یہ دکھانا چاہتی تھی کہ اسلام میں خواتین کو اپنی رائے کے اظہار کرنے کی کہاں تک آزادی ہے۔ آپ نے میرا حق تسلیم کر لیا، اب میں یہ رشتہ قبول کرتی ہوں۔
اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ عربی زبان میں جہیز کے لیے کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔ عہد نبوی میں جتنی شادیاں ہوئی ہیں، کسی میں بھی جہیز کا کوئی تذکرہ نہیں آتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شادی میں کسی باپ نے اپنی بیٹی کو کچھ نہیں دیا ہوگا۔ ضرور دیا ہوگا، لیکن وہ جہیز کی حیثیت سے نہ ہوگا۔ سامان اکٹھے نہیں کیے گئے ہوں گے، ان کی نمائش نہیں کی گئی ہوگی، شادی سے پہلے لڑکے والوں کی طرف سے لسٹ نہیں دی گئی ہوگی کہ فلاں فلاں چیز چاہیے اوروہ فلاں کمپنی کی ہونی چاہیے۔ آج معاشرہ میں جس بڑی مقدار میں اور جس دکھاوے کے ساتھ جہیز کا لین دین ہوتا ہے اس کی دین میں کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی ہر بیوی کا مہر پانچ سو درہم تھا۔ یہی مہر حضرت فاطمہؓ کا بھی تھا۔ حالاں کہ حضرت علیؓ شروع ہی سے آپ ؐکے پروردہ تھے،آپؐ کے ساتھ رہتے تھے۔ جب نکاح کا موقع آیا تو آپؐنے ان سے پوچھا: تمہارے پاس کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: میری ذاتی ملکیت میں کچھ نہیں ہے۔ میں تو شروع ہی سے آپ کے ساتھ رہاہوں، میرے پاس اپنا کچھ نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس جو زرہ ہے اسے بیچ لاؤ ۔ انھوں نے زرہ بیچی ۔ اس سے جو پیسے وصول ہوئے اس سے آپؐ نے گھر گرہستی کا سامان خرید وایااور اسی سے مہر ادا کر وایا۔
آج کل باراتیوں کی لمبی لسٹ بنتی ہے۔ لڑکے کے چچا اور چچیاں، خالو اور خالائیں، پھوپھا اور پھوپیاں، پڑوسی ، دوست و احباب ، غرض ایک لمبی فہرست تیار ہوتی ہے۔اس موقع پر کسی کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا بھول کر اس کا نام چھوٹ جاتا ہے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے۔پھر لڑکے والے لڑکی والوں سے کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔،ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو باراتی آئیں ان کی خوب اچھی طرح خاطر داری ہو۔ غور کریں، یہ کتنی بڑی زیادتی ہے کہ لڑکے والے اپنے مہمانوں کو زبر دستی لڑکی والوں کا مہمان بنا دیتے ہیں۔ عہد نبوی میں ہونے والی شادیوں میں بارات کا کوئی تصور نہیں تھا۔حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا شمار مدینہ کے انتہائی مال داروں میں ہوتا تھا۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انتقال کے وقت انھوں نے جو سونا چھوڑا تھا اسے کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر ان کے ورثہ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ان کا جب نکاح ہوا تو انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بھی بلانے کی ضرورت نہیں سمجھی ۔ بعد میں جب آپ ؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے ان سے فرمایا : اے عبد الرحمن !ولیمہ کرو ،چاہے اس میں ایک بکری ہی ذبح کرو۔ ہم غور کریں، اللہ کے رسول ﷺ کی ذات کتنی با برکت اور محترم تھی۔ ایک چھوٹی بستی میں نکاح کی مجلس ہوتی ہے، لیکن آپؐ کو بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں ہم نے اپنے اوپر بہت سے بوجھ لاد لیے ہیں۔ جب تک ہم ان سے دوری اختیار نہیں کریں گے اور ان کو اتار نہیں پھینکیں گے، ہمارے لیے صحیح اسلامی معاشرہ کا نمونہ پیش کرناممکن نہ ہوگا۔ ہر نکاح کی تقریب میں نکاح کے فضائل اور مسائل بیان کیے جاتے ہیں، اس کی تفصیلات پیش کی جاتی ہیں،لیکن عمل کا جذبہ مفقود ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ایجاد کی ہوئی رسموں کو چھوڑ کر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے لگیں اور ان کا عملی نمونہ پیش کریں تو نہ صرف یہ کہ معاشرہ کی اصلاح ہوگی، بلکہ جو غیر مسلم بھائی ہمارے آس پاس رہتے ہیں ، ان کے سامنے بھی اچھا نمونہ پہنچے گا۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close