صحتمعاشرہ اور ثقافت

مسیحا بنے قاتل!

راحت علی صدیقی قاسمی

طب دنیا کا عظیم ترین فن ہے ۔اس فن میں مہارت حاصل کرنا قابل فخر ہوتا ہے ،ہر شخص کے قلب میں اس فن کے تئیں عزت و عظمت کا جذبہ موجود ہوتا ہے ،اس فن سے واسبتہ افراد کا احترام کیا جاتا ہے ،معاشرہ میں انہیں بے پناہ عزت و مقام حاصل ہوتا ہے ،ان سے لوگ عقیدت رکھتے ہیں ،جان نثاری کا جذبہ رکھتے ہیں ،دنیا کے عظیم ترین اشخاص کا درجہ دیتے ہیں ،بعض( متوں )خیالات سے متعلق افراد کا عالم تو یہ ہے کہ اطباء  کو انسانیت کے زمرے سے خارج کردیتے ہیں ، انہیں کویی عظیم مخلوق خیال کرتے ہیں ۔ لیکن یہ سب گذشتہ زمانے کی باتیں ہیں ۔

 آج ایک طبیب فن طب حاصل کرنے کے لئے ایک کروڑ سے زائد روپیے خرچ کرتا ہے ،محنت جد وجہد لگن کے بعد وہ ڈاکٹر ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے ،اب اس کے ذہن ودماغ پر خدمت خلق کا جذبہ سوار نہیں ہوتا ،بلکہ ایک تاجر کے خیالات سے کیفیت قلب مملو ہوتی ہے ،اور خرچ کی ہویی رقم کا حصول بھی حاشیئہ خیال میں موجود ہوتا ہے۔ یہی خیال ہمیں بسا اوقات ایسی تصویریں دکھاتا ہے ،جو روح کو تڑپا دیتی ہیں اور قلب کو غمزدہ کردیتی ہیں ،اور انسانیت کے محافظوں کو انسانی جسم کا تاجر بنا دیتی ہیں ،یہ ان افراد کی کیفیت ہے جو لالچ کے عمیق دریا میں غرق ہوجاتے ہیں ،اور دولت کی چمک دمک ان کی آنکھیں بند کردیتی ہے ۔زندگی کو خوبصورتی رعناء و زیباء سے آشنا کرنے کا خیال انہیں بھیڑیا بنا دیتا ہے ،اور وہ انسانوں کا شکار کرنے دن دہاڑے نکل پڑتے ہیں ،ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہیں ،اور چند سکوں کی خاطر انسان کی عظمت بھول جاتے ہیں ،اور بعضوں کا عالم یہ ہے کہ سرکاری نوکری پاکر ذہن و دماغ میں یہ خیال پال لیتے ہیں کہ یہ نوکری انہیں آرام کرنے کے لئے دی گی ہے ،سکون حاصل کرنے کے لئے دی گی ہے ،اس میں کام کی کیا ضرورت ہے ،کویی مریض آتا ہے ،تو اس سے ایسے گفتگو کرتے ہیں ،جیسے ساس بہو کو لیکچر دے رہی ہو ،یا استاذ کسی نافرمان طالب علم کو ڈانٹ رہا ہو ،کیی مرتبہ تو گفتگو اس مقام تک پہونچ جاتی ہے ،جہاں انسان شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے ،اور غربت و افلاس کا شکوہ قلب سے بلند ہوتا ہے ،اور زبان تک کا سفر طے نہیں کرتا گلے میں ہی روندھ کر رہ جاتا ہے اور انسان بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کی طرف چل پڑتا ہے ،اور بسا اوقات زندگی پر موت فتحیاب ہو جاتی ہے۔

اسی نوعیت کا واقعہ دہلی کے سفدر جنگ ہسپتال میں پیش آیا ،لا پرواہی کی منھ بولتی تصویر دہلی کے نامور ہسپتال سفدر جنگ کی عزت کو اچھالتا حادثہ  ،جہاں دنیا کے ماہرین اطباء  علاج کرتے ہیں ،جن کے کارناموں پر فخر کیا جاتا ہے ،پورا ملک ان پر ناز کرتا ہے ،ان سے ایسی حرکت ہونا قابل افسوس ہے ، اور لائق مذمت بھی ، ڈاکٹرس نے ایک نومولود بچہ کو مردہ خیال کر پلاسٹک کی تھیلی میں کر گھر والوں کو تھما دیا ،گھر پہونچنے پر  بچے کو دیکھا گیا ،تو اس میں آثار زندگی موجود تھے ،اور بعد میں بچہ دنیا سے رخصت ہوا ،رزق کی قلت کے خیال سے ہوتیں ،بچوں کی اموات ،اور بھارتیہ سرکار کی ان کی حفاظت کے لئے چلاء جاتی مہم کے دوران اس واقعہ کا پیش آنا یقینا تکلیف دہ ہے ،اور ہسپتال کے افراد کی سستی کوتاہی اور غفلت کا مظہر ہے ۔

اگر چہ ہسپتال کے پاس بچاو کی تدبیر موجود ہے ،اور وہ قانونی داو پیچ اڑا رہے ہیں ،اور بتا رہے ہیں ،کہ بچہ کی ولادت 22ہفتہ سے کم مدت کا ہوء ،اور 28ہفتہ سے کم مدت کا بچہ مردہ تسلیم کیا جاتا ہے ،اس دلیل کی بناء￿  پر وہ چاہے ،قانون کی پکڑ سے بچ جائیں لیکن وہ انسانیت کے مجرم ضرور ہیں ،سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں جب دوسرے کی کوکھ کا استعمال ممکن ہوچکا ،ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا ایجاد کیا جا چکا ،مرد اور عورت کے نطفہ کا اختلاط کیا جارہا ہے ،اور بچوں کی تخلیق کا عمل جاری ہے ،اس دور میں کیا اس بچہ کو بچانا ممکن نہیں تھا ،کیا اسے زندگی کا تحفہ نہیں دیا جاسکتا تھا ،کیا ایسا ماحول نہیں تیار کیا جاسکتا ،جس میں یہ اپنی دنیا میں آنے کی مدت پوری کرتا ،اور اس کی کلکرایوں سے کسی گھر میں خوشیوں کے چراغ جل رہے ہوتے ،ہر سمجھدار شخص اس کیفیت کو سمجھ سکتا ہے ،اور نتیجہ اخذ کر سکتا ہے ۔

دنیا کے قابل ترین اطباء کا یہ عمل حیرت زدہ کرنے والا ہے ،اور اس حقیقت کو عالم آشکارہ کرنے والا ہے ،کہ اطباء  میں سستی اور لاپرواہی جیسا مرض پیدا ہورہا ہے ،جو انسانیت کے لئے انتہاء خطرناک ہے ،خاص طور پر ولادت کے مسئلہ میں آپریشن کرنا بہت سے ڈاکٹر کا شوق بن چکا ہے ،اور صحیح حالت میں بھی وہ اپنی تجارت کے لئے پیٹ چیرنے میں کوء پریشانی محسوس نہیں کرتے ،حالانکہ درد و تکلیف سے بیچین ہو اٹھتی ہے ،بسا اوقات زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ،بلاضرورت خون کی جانچ ،پیشاب کی جانچ ،اور دنیا بھر کی جانچیں کراء جاتی ہیں ،حالانکہ ڈاکٹر مرض کا ادراک کرچکا ہوتا ہے ،اور اس کے علاج کی بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے ،لیکن پھر بھی ان جانچوں کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کیوں ؟جواب -ان کے ذریعہ روپئے حاصل کئے جاتے ہیں ،اور اطباء  کی جیبوں تک 30/40فی صد حصہ جانچ کا پہونچ جاتا ہے ،بہت سے افراد ان جھمیلوں کا خرچ اٹھانے کی تاب نہیں لاپاتے، درد و تکلیف سے کڑھتے رہتے ہیں ،اور موت کی آرزو کرتے رہتے ہیں ،اسی طرح قابل غور پہلو دواء کی کالا بازاری بھی ہے۔

 ،بہت سے اطباء  سرکاری ہسپتالوں سے مفت میں دوا حاصل کرتے ہیں ،اور اسے گرانقدر قیمت میں فروخت کرتے ہیں ،اور لوگوں سے پیسے وصولتے ہیں ،اسی طرح میڈیکل اسٹورس کا حال یہ ہے دواء پر جو قیمت لکھی ہوء ہے ،اس پر گفت و شنید کی تو چراغ پا ہوجاتے ہیں ،حالانکہ ہر شخص واقف ہے ،کہ دواؤں کی قیمتوں میں مول بھاو کیا جاسکتا ہے ،بلکہ کیا جانا چاہئے ،اس سلسلہ میں کوء سنجیدہ غور وفکر کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ،اور اس سے بڑھ کر کمپنیوں کا عالم یہ ہے کہ وہ دوا بہتر کرنے کے بجائے ڈاکٹروں کو لبھانے میں مصروف ہیں ،اتنی قیمت کی دوائیں لکھئے ،آپ کو گاڑی دی جائے گی ،آپ کو گھر دیا جائیگا ،ان تمام امراض نے شعبئہ صحت ہی کو بیمار کردیا ہے ،اور میڈیکل سے متعلق افراد کی یہ صورت ملک کو بہت مشکل حالات سے دوچار کرسکتی ہے ،تکلیف میں مبتلا کرسکتی ہے ،اگر چہ اس شعبہ میں بعض افراد ایسے بھی ہیں ،جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر لوگوں کی حفاظت کی ہے ،اور مشکلات و پریشانی کو ہنس کر جھیلا ہے ،اور ٹی بی ،پولیو ،کالی کھانسی ،جیسی سخت ترین بیماریوں کو ٹیکہ کاری مہم کے ذیعہ شکست دے دی ہے ،گھر گھر پہونچیں ہیں ،مفلس و نادار کا بھی خیال کیا ہے ،اور ملک کو سنگین نتائج سے محفوظ کیا ہے ۔

اس زمرے میں چند نام ڈاکٹرس کے نام پیش کردوں جنکی محنت نے قلب کو متاثر کیا ہے ،دیوبند کے ڈاکٹر ڈی کے جین جنہوں بخار کی پھیلی ہوء وبا کے دوران  دن رات جاگ کر لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کی ،کم قیمت پر دوائیں دیں غریبوں کا خیال کیا ،اور ان کی اہلیہ کو پولیس بھیج کر انہیں گھر بلانا پڑا،ورنہ وہ اپنی زندگی خطرے میں ڈال بیٹھے تھے ،اسی طرح کھتولی کے ڈاکٹر ازہر جاوید بہت سے غریب و مزدود ان کے یہاں سے مفت دوا پاتے ہیں ،شگفتہ مزاج مسکراہٹ لبوں پر تبسم مریض کو تسلی دینے کا انداز ، جانچ کم کرانا ،کمیشن نہ وصول کرنا ،یہ خوبیاں ہیں ،جو انہیں بڑا بناتی ہیں ،اور انکے اخلاص کی تصویر کشی کرتی ہیں ۔

اسی طرح مظفرنگر میڈیکل کالج کے پروفیسر ڈاٹر رہبر خان بیماری اور پریشانی میں بھی مریضوں کو دیکھتے ہیں ،ان کی عزت کرتے ہیں ،اور صحیح مشورہ  سے نوازتے ہیں ،ہمدردی کرتے ہیں ،اور اپنے نہایت ماہر ہیں ،ابتدا میں ہی مرض اور علاج کی نوعیت پر مطلع کردیتے ہیں ۔

ہندوستان میں اوربھی  بہت سے ایسے اطباء  ہیں جنہوں نے طب کو تجارت نہیں بنایا ،اسے خدمت خلق سمجھا ہے،اور انسان کی تکلیف ختم کرنے کو خوشی کا باعث گردانا ہے ،ضرورت ہے اس طرح کے افراد کی کثرت ہو ،اور میڈیکل کورسیز کی قیمتوں کو کم کیا جائے ،جب روس چین انتہاء کم قیمت میں ایم بی بی ایس کرا سکتے ہیں ،تو ہم کیوں نہیں ،اگر ان چیزوں پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا ،تو نتائج کی سنگینی ہمیں خون کے آنسو رونے پر مجبور کریگی ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close