گوشہ خواتینمعاشرہ اور ثقافت

مطلقہ خواتین کی معاشی و معاشرتی زندگی

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گذشتہ چند سالوں میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر طلاق کی مانگ خود بیوی کی طرف سے ہورہی ہے۔

بشریٰ ناہید

 عورت انسانیت کی معمار ہے۔ اسلام نے عورت کو ہرر شتہ میں معزز مقام عطا فرمایا ہے۔ چاہے وہ رشتہ ماں کی صور ت میں ہو یا بیٹی کی، بہن کی شکل میں ہو یا بیوی کی، کوئی بھی رشتہ ہو، مرد کا تحفظ عورت کو حاصل ہوتا ہے اور ہرحالت میں ہوتا ہے۔ کنواری ہو یا شادی شدہ، طلاق یافتہ ہویا بیوہ۔۔۔۔۔۔۔ مطلقہ کے مسائل کو لے کر ہندوستانی سماج بڑافکر مند نظر آتا ہے۔ بالخصوص اسلام دشمن طاقتیں وقفہ وقفہ سے طلاق یافتہ خواتین کے مسائل کو ہدف بناکر اسلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اور کچھ ہماری کمزوریاں ان کو ہوا دینے کا کام کرتی ہے۔ چند سالوں سے طلاق کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اس طرح کی رائے عام ہورہی ہے جبکہ طلاق ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ اللہ کے رسولؐ کے دور میں بھی ہوتی رہی، صحابہؓ کے دور میں بھی اور ہر زمانے میں ہوتی رہی۔ کمی و زیادتی کے تناسب سے ہاں فرق اتنا ہے کہ پہلے اتنا چرچا نہیں ہوتا تھا۔ کوئی خبر دوسرے شہر میں پہنچنے تک بہت پرانی ہوجاتی تھی۔ اس لیے لوگ ان پر تبصرے اور مباحثہ بھی نہیں کرتے تھے۔ یہی فرق ماضی اور حال میں ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے پوری دنیا کو سمیٹ لیا ہے۔ کوئی واقعہ رونما ہوا کہ منٹوں میں خبریں نشر ہوجاتی ہیں۔

  بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گذشتہ چند سالوں میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر طلاق کی مانگ خود بیوی کی طرف سے ہورہی ہے۔ تامل ناڈو کی خواتین نے ہائی کورٹ میں RTI   داخل کیا تو معلوم ہوا کہ تقریباً 90فیصد طلاق کا مطالبہ خود خواتین کی جانب سے ہوتا ہے۔

 طلاق کے اسباب پر غور کیا جائے تو اکثر طلاق ان باتوں سے واقع ہوتی ہیں، جیسے میاں بیوی کا ایک دوسرے کے معیار پر پورا نہ اُترنا، فریقین کا ایک دوسرے کے تئیں فرائض کی ادائیگی سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کرنا، شکوک و شبہات، بے پردگی، بیوی کا محرم و نامحرم رشتوں کے حدود کا نادانستہ طور پر خیال نہ رکھنا، شوہر بیوی کے رشتہ کی اہمیت کا عدم احساس، اناپرستی، میکہ والوں کی بے جا مداخلت، حکومتی قوانین کا غیر متوازن ہونا، ذمہ داریوں سے فرار، فریقین کے رشتہ داروں کا بروقت ان کے مسائل کو حل نہ کرنا، کانسلنگ وغیرہ کے ذریعہ، بیوی کا شوہر کے اختیارات میں مداخلت کرنا مثلاً کاروبار، معاش، وراثت یا شوہر کے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی میں داخل اندازی کرنا، میکہ میں چھوٹی چھوٹی باتیں بذریعہ فون کے بتاتے رہنا، سسرالی رشتہ داروں سے عناد رکھنا، آرام پسندی وغیرہ۔

 درج بالا وجوہات کی روشنی میں غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ اکثر والدین اور خود اولاد نے شادی کو گڑاگڑی کا کھیل سمجھ لیا ہے۔ یعنی معمولی تکالیف کو برداشت کرنے کے بجائے فوراً طلاق کا فیصلہ لینے تیار ہوجانا۔ یہ بات درست ہے کہ طلا ق یافتہ ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، لیکن اسلام میں جائز چیزو ں میں سب سے مکروہ طلاق کو سمجھا گیا ہے۔ اس لیے حتی الامکان زوجین نے اپنی جانب سے نباہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :  فَإن کَرِھتُمُوھُنَّ فَعَسَیٰٓ أن تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیہِ خَیْرًا کَثیرًا  (سورہ النساء، آیت ۱۹)  اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔ اگر خلوص نیت کے ساتھ یہ کوشش ہوتو بہت سے جوڑے اچھی زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ لیکن کوشش کے باوجود نباہ نہ ہورہا ہوتو طلاق کے ذریعہ علیحدگی میں ہی بہتری ہے۔ اور یہ کوئی عیب نہیں۔ خود سرور کائناتؐ کی دو صاحبزادیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ کی طلاق ہوئیں۔ آپؐ کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ نے بھی اپنی بیوی حضرت زینبؓ کو طلاق دی تھی اور اس طلاق کے بعد حضرت محمدؐ نے حضرت زینبؓ سے نکاح فرمایا۔

 اسلام نے انتہائی حالت میں طلاق کی اجازت دے کر گویا میاں بیوی کے لیے زندگی گزارنے کے لیے دوسری راہ اختیار کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔ لیکن اس کو ہندوستانی مسلمانوں نے یہاں کی دیگر اقوام کی تہذیب کی طرح انتہائی مذموم فعل، کلنگ، خاندان کے نام پر دھبہ گھمان کرنا شروع کردیا ہے۔ ہندوانہ رواج کے مطابق شادی ایک مرد سے ہوتی ہے تووہ مرد اس عورت کا جنم جنم ہی نہیں سات جنموں کا شوہر ہوتا ہے او ران کی شادی کا یہ بندھن ٹوٹنے والا نہیں ہوتا۔ اگر شوہر مربھی جائے تو بیوہ کی دوسری شادی نہیں کروائی جاسکتی۔ اس لیے ان کے پاس طلاق اور دوسری شادی کا تصور ہی نہیں۔ یہ ہی اثرات ہندوستانی مسلمانوں پر پڑے ہیں۔ طلاق کو عورت پر ظلم بتاکر اسلامی قوانین کے خلاف مرد سے نان و نفقہ کی حقدار ٹھہرایا جاتا ہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے طلاق شدہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اس کے باپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر باپ حیات نہ ہوتو بھائی وہ بھی نہ ہوتو چاچا یا کوئی قریبی رشتہ دار کو اس کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایاکہ میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔ (ابن ماجہ، راوی حضرت سراقہ بن مالک)

اسلام نے عورت کو کسی حال میں بے یاد ومددگار نہیں چھوڑا ہے۔ اس پر معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی اور اس کی دیکھ بھال اور خبرگیری کرنے پر مرد کو اجر کا مستحق ٹھہرایا۔ اکثر طلاق کے بعد طلاق یافتہ عورت کے تعلق سے اس کے محرم رشتہ کوتاہی برتتے ہیں جس کی وجہ سے بات عدالتو ں تک پہنچ جاتی ہے اور مخالفین کو انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ مطلقہ پر اس کے محرم رشتے خرچ کرتے ہیں تویہ کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ان کا فرض ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے۔ اس کی ادائیگی پر اجر ہے اور عدم ادائیگی پر بازپرس۔ لیکن بعض گھرانوں میں ان اسلامی احکامات پر عمل آوری نہ ہونے کی وجہ سے مطلقہ کو مصیبتوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوانہ تہذیب کی دیکھادیکھی ایسی عورت کو منحوس سمجھنا، خاندان کے لیے باعث عار، اضافی بوجھ، دوسری شادی کے لائق نہ جاننا وغیرہ خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں، جس کے باعث یہ اپنے ہی میکہ میں بے وقعت ہوکر رہ جاتی ہے۔ خاندان اور سماج کے لوگ بھی اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یوں ایک عورت طلاق کے باعث پروقار زندگی سے محروم ہوجاتی ہے۔

 اسلام وہ آفاقی مذہب ہے جو عورت کو نصف انسانیت قرار دیتا ہے۔ اسلام کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں مطلقہ عورت کو باعزت جینے کا حق دلائیں۔ جس طرح اللہ کے رسولؐ اور صحابہؓ کے دور میں مطلقہ ہونا کوئی بہت بڑامسئلہ نہیں تھا۔ فوراً اس کے ساتھ کوئی بھی مرد نکاح کرنے کے لیے تیار ہوجاتا تھا۔ آج مطلقہ اور بیوہ کے مسائل کو اسی طرح نکاح کے ذریعہ حل کرنے کی ضرورت ہے۔مطلقہ کے معاشی مسائل کے حل کے لیے اس کی قابلیت و صلاحیت کی مناسبت سے روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔ وراثت میں حصہ دار بنایا جائے۔ اس طرح وہ معاشی طور پر مستحکم ہوگی۔ اور پھر اس کی دوبارہ شادی کے لیے مناسب رشتہ دار تلاش کرکے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں۔ عام طور پر مطلقہ اور بیوہ کے گھر والے اس کا دوسرا گھر بسانے کی کوشش کرتے بھی ہیں تو خود مذکورہ خانوں اس کے لیے تیار نہیں ہوتیں بعد میں پچھتاتی ہے۔ شاید اس کے انکار کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہوتی ہے اس کے لیے مسلم معاشرہ ہی ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ یعنی بیوہ اور طلاق شدہ کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھنا، ان کی دوسری شادی کو بے شرمی پر محمول کرنا، کسی مرد کی ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری بیوی بننے کو پہلی پر ظلم قرار دینا وغیرہ۔

خدود مرد کے نکاحِ ثانی کو ہوس پرستی یا بے حیائی سمجھا جانا جس کی وجہ سے مطلقہ اور بیوہ کے ساتھ نکاحِ ثانی سے بہت سے مرد رک جاتے ہیں۔ اگرچہ کہ وہ ثواب کی نیت سے بھی یہ نیکی کرنا چاہتے ہوں لیکن معاشرے کا خوف آرے آتا ہے۔ بعض اوقات مرد بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کر بھی لیتے ہیں لیکن اس کو رشتہ داروں سے پوشیدہ رکھتے ہیں گویا کہ انہوں نے کوئی ناجائز فعل انجام دیا ہے۔ مسلم معاشرے کی یہی سوچ رہی تو مطلقہ و بیوہ خواتین دوبارہ ازدواجی زندگی کا سکون حاصل کرنے سے محروم رہیں گی۔ کیونکہ اس طرح کی خواتین سے کنوارے لڑکے تو نکاح کرنے سے رہے۔ اگر کیے بھی تو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ عموماً لڑکوں کوکم سن اور حسین و جمیل لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔

 بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرہ کی سوچ و تہذیب و طریقہ پوری طرح اسلامی ہو ایسی خواتین بھی نکاح کے لیے آمادہ ہو تو باطل طاقتوں کو اسلام پر حرف اٹھانے کا اور کسی خاتون کے معاملے کو میڈیا میں اچھالنے کا موقع نہیں ملے گا اور ہماری بہنیں بھی کسی محرومی، کسمپرسی کے بغیر باوقار زندگی جینے لگیں گی۔

مزید دکھائیں

بشریٰ ناہید

اورنگ آباد، مہاراشٹر

متعلقہ

Close