معاشرہ اور ثقافت

مغربی معاشرہ: ایک جائزہ

کمال اختر قاسمی

تاریخی پس منظر اوراس کی اہم بنیادیں

مغربی معاشرہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے بعد ہونے والے مختلف خوشگوار وناخوشگوار اور تغیرات پر مبنی ہے۔ جوہمیشہ سےعلمی وفکری بحرانوں کا شکار رہا ہے، جسے نہ تو کبھی کوئی معقول بنیاد فراہم ہوسکی اورنہ ہی وہ کسی متعین نظریۂ زندگی پر قائم رہ سکا، بلکہ اس کی تشکیل میں مغربی مفکرین ہمیشہ ہچکولیاں کھاتے رہے، متضاد افکارو نظریات اور منتشر تخیلا ت پر نظریہ زندگی کی بنیاد رکھتے رہے۔

سترھویں صدی سے قبل مغرب میں چرچ کی حکمرانی تھی، اس وقت پادریوں کا بول وبالا تھا، اٹلی سے لے کر اسکاٹ لینڈ تک تمام ممالک زیر اثر تھے۔ عیسائی عوام سخت ترین جہالت میں مبتلا تھی، ارباب کلیسا انہیں سینکڑوں خرافات میں الجھا کر بڑے بڑے نذرانے   وصول کررہے تھے، یہاں تک کہ جنت میں جانے کا اجازت نامہ اورسرٹیفکیٹ بھی بڑی بڑی رشوتوں کے عوض بانٹ رہے تھے۔ دوسری طرف معاشرہ کے بااختیار لوگوں کو عوام پر ظلم وزیادتی کی کھلی آزادی تھی، اوریہ سب کچھ مسخ شدہ مذہب کے سایہ میں انجام دیاجارہا تھا ‘ چنانچہ عوامی مخالفت وبغاوت کا خطرناک سلسلہ شروع ہوگیا۔

اِ س دور تاریک کے رد عمل میں عقلیت کی تحریک(Rationalist movement)نمودار ہوئی اورپادریوں کے ذریعے پھیلائےگئے اوہام وخرافات پر سخت تنقیدیں کی جانے لگیں ، جن کا پادریوں اورمذہبی حلقوں کے حقائق کھل کر عوام کے سامنے آنے لگے، کلیسا کی طرف سے ان ناقدین اوران کے ہم نواؤں پر سخت مظالم ڈھاکر انہیں باز رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی ، مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ تقریباً تین لاکھ لوگوں کا بہیمانہ قتل کیا گیا اوربڑی تعداد کو زندہ جلا دیا گیا۔ تفصیل کیلئے دیکھئے :تاریخ اخلاق یوروپ، لیکی، مترجم۔

اس طرح کے مظالم کی وجہ سے نفرت وعناد اورعداوت ودشمنی میں شدید اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے ایک اور فکر روشن خیالی کی تحریک (Enlight movement)کی شکل میں وجود میں آگئی، اورایک جدید معاشرہ کا قیام عمل میں آیا جسے جدیدیت (Modernism)اورلادینیت (Seculerism)جیسی مذہب مخالف بنیادوں پہ کھڑا کیا گیا، اس کے بعد انسانیت کی آزادی اور مساوات کا پر فریب نعرہ دے کر ہیومنزم اورلبرلزم اخلاق سوز افکار کوترقی دی گئی۔

ہیومنزم اورخدا کا انکار:

مغربی معاشرہ کی تشکیل میں ان افکارو نظریات کوبھی بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ یہ تمام نظریات غیراخلاقی تخیلات پر مبنی ہیں ۔ یہاں لذت اور تسکین نفس کو زندگی کا مقصد اصلی قرار دیا جاتا ہے، ان کی ابتداء ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ خدا یا کسی مافوق الفطری قوتوں کا انکار کیا جائے، اورایسے معاشرہ کووجود میں لایا جائے جہاں اخلاقی اقدار (Moral values)کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے اورنہ کسی جیسی ہدایت وراہنمائی کی حاجت محسوس کی جائے۔ایک نظریہ ساز مغربی مفکر جیک گراسی (Jack Grassly)

ہیومنزم کےبارے میں لکھتا ہے :

"Humanist Start From thr priemis that there are not  accessitele gods sprits or non meterial souls. There are no super natural beings to instruct or inform us. idealogical. that we can turn to for comfort validition or support. ( Jack Graossby: Post modern Humanism, new castle,P:16) Tups Books, unit:38, washington, new 380 AH 2005, philosophy socity-

ہیومنزم کے پیروکار وں کی ابتدا ہی یہیں سے ہوتی  ہے کہ یہاں نہ کوئی خدا ہے نہ روح اورنہ کوئی غیر مادی قوتیں جن تک رسائی کی ضرورت ہو، یہاں ایسی کوئی غیبی طاقت نہیں ہے جوہماری راہنمائی کرسکے اوراپنی خبروں اوراحکام سےہمیں واقف کرائے، اورنہ ہی ایسی کوئی ہستی ہے جس سے ہمیں پرسکون زندگی، یا اس کی حمایت ونصرت حاصل ہوسکتی ہے۔

اخلاقی قدروں کی بے وقعتی:

 ہیومنزم کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ایک مغربی ناول نگار’’ ڈین کونٹز ‘‘ (Deen Koontz)اپنی مشہو ر کتاب ’’Intensity novel‘‘میں لکھتا ہے :۔

"The Soul purpose of existence is to open one self to sensation and to satisfy all appities as they areise no valuos can be attached to pure sensation no concideration of good or bad, right or wrong with no fear but only our fortitude” Deen Koontz, intensity novel, P.142-317 publition. Head line uk 1995.

ہمارے  وجود کا واحد مقصد خواہش نفس اوراپنی ہیجانی کیفیت کی تسکین ہونا چاہیے، یہاں اخلاقی قدر کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہئے، اورنہ ہی نیکی وبدی اور غلط وصحیح کے تخیل کی گنجائش رکھنی چاہیے۔

مارکس اورانگلس کے مینو فیسٹو میں خاص طور پر کہا گیا کہ’’قانون، اخلاق، اور مذہب سب اقتصادی آسودگی کی فریب کاری ہے، جس کی آڑ میں اس کے بہت سے مفاد چھپے ہوئے ہیں ۔‘‘

(Lenon selected works, P,2, Page no: 667-668 maccow 1947)

جدیدیت اور مابعد جدیدیت

مغربی معاشرہ میں کلیسائی استبداد کے رد عمل میں جب ہیومنزم کو ترقی ملی اوراس کے تصورات غالب آگئے، تو جنگ عظیم دوم کے بعد 1945ء میں جدیدیت (Modernism)کی تحریک وجود میں آئی، جس نے ایسے معاشرہ کی تشکیل کی دعوت دی جس میں انسان کی روحانی زندگی کویکسر مسترد کرکے اپنی مادی خواہشات اور نفسانی ہیجانات کوخدا، تصور آخرت، اخلاقی اقدار اور اس قبیل کے تمام امور سے بالاتر سمجھا گیا، صرف سائنس  اور عقلی تخیلات کوہی جگہ دی گئی، چنا نچہ انہیں بنیادوں پر جدید معاشرہ کی تشکیل عمل میں لائی گئی، لیکن جدیدیت کوئی قابلِ عمل اخلاقی نظام نہ لاسکی، اس کے بعد مابعد جدیدیت (Post Modernism)کا دور شروع ہوتا ہے، جس کا آغاز 1980ء سے مانا جاتا ہے، مابعد جدیدیت در اصل ان حالات اوربحرانوں کا نام ہے جونہایت ہی کمزور اورغیر مستحکم بنیادوں پر قائم جدید معاشرہ میں معاشرتی معاشی، اخلاقی اور ذہنی تبدیلی سے پیدا ہوئے، اوریہ تبدیلی جدیدیت کے بعد ہوئی اس لئےاس کومابعد جدیدیت  (Post Modernism)کہا جاتا ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے:

(Lyon David: postmodernity, P:7 open university press, Buckingan, Britain, 1994)

مابعد جدیدیت نے جدیدیت کی بھر پور تردید کی اورمعاشرہ میں پیدا ہونے والےسنگین معاشرتی اورمعاشی بحرانوں کا ذمہ دار جدیدیت کوہی قرار دیا گیا، بلکہ ہیومنزم (Humanism)کی بھی شدید مخالفت کی گئی اور ما بعد جدیدیت کے مفکرین نے تو اسے فکر وفریب قرار دے کر رد کرنا شروع کردیا۔

Levistraus, Barthes, Fouelt and lacan Rejected Humanism as a Philosophical illusion.

یعنی لیوی اسٹرس، بارتھس، فوالٹ، اور لے کین وغیرہ مغربی فلسفیوں نے ہیومنزم کو فلسفیانہ فراڈ کہہ کر رد کردیا۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے:

Rhonda hammar and Douglas Kellner Thrid wave feminism)

پوسٹ ماڈرنزم نے ایسے معاشرہ کی تشکیل کی جس میں ہر طرح کے تصورات وخیالات کو یکساں  اہمیت حاصل ہے، کسی کوکسی کے خیالات کی تردید کی ضرورت نہیں ، مابعد جدیدیت کے علمبردارں کا متفقہ طور پر ماننا ہےکہ :۔

”All concepts, all values are of aqual status and so relativits can belive in any thing.

تمام خیالات وتصورات اورتمام اقدار کو یکساں اہمیت حاصل ہے، اسلئے وہ ہر ایک پر یقین رکھتے ہیں ۔ ’’جنگ گراسی ‘‘(Jack Grassby)لکھتے ہیں :۔

We can believe any thing. or what amount to the same thing, believe nothing” Jack Grasby: Post, modernism, Humanism, P:13-24.

یعنی ہم کسی بھی چیز پریقین کرسکتے ہیں ، جس کا  یہ مطلب بھی ہےکہ ہم کسی چیز پر یقین نہیں کرتے ہیں ۔

خلاصہ یہ کہ مغربی معاشرہ کے تشکیلی ادوار ہمیشہ متضاد مراحل سے گزرتے رہے، اس لئے اسے کبھی کوئی ایسا متعین معیار اورمستحکم اصول فراہم نہ ہوسکے جن کی روشنی میں زندگی گزارنے کے حسین اقدار مرتب کئے جاسکیں اور فطرت کے مطابق پرسکون اورہم آہنگ زندگی کےاصول وضوابط اخذ کئے جاسکیں ۔ ایک جرمن ماہر نفسیات ’’کارل جنگ‘‘ (Curl Jang)نے ان متضاد نظریات زندگی کے ذریعے آنےوالی خوفناک تباہی کا قوی امکان ظاہر کرتے ہوئے یہ پیشین گوئی کی تھی۔:

’’میں اچھی طرح سمجھ چکا ہوں کہ دنیا کو معقول نظم وانتظام پر مبنی معاشرہ کے امکانات سے مایوسی ہی ہاتھ لگے گی، اورمجھے امن وہم آہنگی اورخوبصورت طرزِ زندگی کا سینکڑوں سالہ خواب چکناچور ہوتا ہی نظر آرہا ہے۔

Carl Gustav Jung: modern man in search of soul, Page no: 235. Publisher: KJLR, 14 June 1933

مغربی معاشرہ کے متضاد تغیراتی بنیادوں پر قائم ہونے کی وجہ سے اس میں وہ تمام تباہ کاریاں در آئیں جنہوں نے انسانی زندگی کوبے چینی ومایوسی اور اضطرار وانتشار میں جکڑ دیا ہے، اور آج اس بھیانک خواب کی تعبیر ہر جگہ نظر آرہی ہے جوبہت پہلے خود مغربی مفکرین نے دیکھے تھے۔ چنانچہ ایک برطانوی مصنف ’’ چارلس لےگے ایٹن‘‘ (charles Le Gai Eaton)اپنی کتاب "Choice and Responsibility in the modern world”میں مغربی معاشرہ کی افراتفری اوراخلاقی اقدار کی بربادی پر روناروتے ہوئے لکھتا ہے :

’’انیسو یں اوربیسویں صدی کے لوگوں کوطویل انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تہذیب ومعاشرت کی تخلیق اوراس کی تعبیر کا موقع ملا۔ صنعتی دور سے بہت سے فوائد حاصل ہوئے، لیکن بھیانک خواب کے مانند خوفناک ماحول بھی برپا ہوگیا۔ ‘‘

(New edn, combridge Islamic text socity: king of the castle. Page no: 109)

ان غیرمستحکم افکار ونظریات کوپروان چڑھانے کے لئے بعض ایسی تحریکات وجود میں آئیں جنہوں نے معاشرہ سے بچی کچی روح انسانی کوختم کرکے اپنے حیرانیت اورشہوت پرستی کےایسے دلدل میں لا چھوڑا جن سے نکلنے کے لئے مغربی مصلحین کی طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود کوئی کامیاب نتیجہ برآمد نہ ہوسکا، اور یہ تحریکا ت پوری توانائی کے ساتھ روز بروز معاشرہ پر چھاتی رہیں ، جن کے سنگین اثرات سےپورا معاشرہ شرو فساد تباہی وبربادی، جنسی انار کی اورمختلف قسم کے جرائم کی آماجگاہ بن گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. ماشاءاللہ
    کمال بھائی,آپ کایہ مضمون کمال کاہے,بہت بہترین.
    لیکن تشنگی کااحساس ہورہاہے,کاش مضمون اتنامختصر نہ ہوتا.

متعلقہ

Close