معاشرہ اور ثقافت

منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ عروج پر

نشہ مخالف مہم کو آگے بڑھانے کے لئے سماج کا ہر فرد اپنا مثبت کردار نبھائے تاکہ مستقبل میں نشہ مکت معاشرے کی تعمیر ممکن ہو سکے۔

ایم شفیع میر

اولاد ایک نعمت ہے اور نیک اولاد والدین کی نیک نامی کا باعث ہوتی ہے۔بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی والدین اس کے مستقبل کے سہانے سپنے بننا شروع کر دیتے ہیں، اور انہی سہانے سپنوں کو بنیاد بنا کر والدین اس کی ہر ممکن طریقے سے بہتر پرورش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بچے کو معاشرے میں رہنے کا ڈھنگ سکھاتے ہیں لیکن جب وہ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو گدھ نمامنشیات فروشوں نے چند سکوں کے عوض مستقبل کے ان معماروں کو اپنی جانب راغب کر نے کیلئے مختلف جال بچھا رکھے ہیں۔

ضلع رام بن کے علاقہ گول کا حال بھی ملک کے دیگر شہروں سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کی نوجوان نسل کے تئیں غیر سنجیدگی اور پھر بدقسمتی یہ کہ مقامی لوگوں کا ہی منشایات فروشی کے اس خوفناک دھندے کا اہم حصہ ہونا علاقہ کی نوجوان نسل کے لئے تباہ کن مستقبل کا باعث بنا ہواہے۔ موت کے سوداگروں سے زہر خر یدنے والے نشہ کے عادی بن چکے نوجوان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں لیکن رہنمائے قوم مجرمانہ خاموشی اپنائے ہوئے ہیں۔ قابل ِ رحم ہے علاقہ گول کی نوجوان نسل کہ جن کی فکر پولیس تو کچھ قدرے کر رہی ہیں لیکن والدین اور رہنمائے قوم قطعی طور اس صورتحال کو لیکر سنجیدہ نہیں۔ فلاحی، سماجی  وسیاسی غفلت کی نیندنہ جانے کہاں سوئی ہوئی ہیں یوں تو علاقہ کو تعمیر و ترقی طورآگے لے جانے کی دعویدار فلاحی و سیاسی تنظیموں کا جنونی رویہ آئے روز اخباروں اور چینلز کی زینت بناہواہے لیکن بحیثیت عزیز میں گول کی تمام سیاسی، سماجی و فلاحی تنظیموں کو کہہ دینا چاہوں گاکوئی بھی سماج تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اْن کا مستقبل (نوجوان) ہر بری لت سے محفوظ نہ ہو، اگر اس تباہ کن صورتحال میں آج تک سیاسی، سماجی و فلاحی تنظیموں کا کوئی کردار نہیں رہا ہے تو پھر کیونکر ہم اپنے نوجوانوں کو فلاسفر،ڈاکٹر، انجینئر، قانون دان اور استاد کی صورت میں دیکھنے کی نادان اُمید لگائے بیٹھے ہیں۔

میرے بزرگو،صاحبواور ساتھیو! ایسی صورتحال کے ہوتے ہوئے بہتر اور صحتمند معاشرے کی اُمید لگائے رکھنا ہماری ذہنی پسماندگی اور دیوالیہ پن کا وہ گناہ ہے جسے آنے والے وقت میں خود کو بھی معاف نہیں کر سکتے۔ہمارے سماج کے خوفناک اور تباہ کن مستقل کی مثال اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ جب جب بھی ہمارے سماج میں گدھ نمامنشیات فروشوں پر پولیس نے اپناشکنجہ کسا تب تب ہمارے میں سماج کے ذمہ دارلوگ منشیات فروشوں کوپولیس کے شکنجے سے باہر نکلالنے کا کام بڑے فخرانجام دیتے ہیں۔ ایسے افراد بھی قصوروار ہیں جو منشایات فروشوں کو بچانے کا کام کر کے نسل ِ نو کیلئے تباہی کا پیغام لاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب پولیس منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے قابل ستائش اقدام اٹھا رہی ہے وہیں مقامی لوگوں کوپولیس کابھر پور تعاون فراہم کرنا چاہیے۔بجائے اس کی بڑے پیمانے پر اپروچ لڑا کر موت کے سوداگروں کو بچانے کا کام انتہائی مایوس کن، تباہ کن اور شرمناک ہے۔

پولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون گول کی نوجوان نسل کو نشہ کی لت سے آزاد کرنے کا اہم موقعہ فراہم ہوا ہے۔ اس لئے تمام سیاسی، سماجی و فلاحی تنظیموں کو آگے آکر پولیس کی اس نشہ مخالف مہم کو آگے بڑھانے میں زمینی سطح پر کام کرنا چاہیے۔تعمیر و ترقی اور باشعورسماج کے اُن دعوئوں کو حقیقت کا روپ دینا وقت کا تقاضا ہے۔ایسے میں صحافی حضرات،شعرأ، ادیبوں اورقلمکاروں کو بھی اپنا کردارنبھانا ہوگا۔ صحافیوں کو محض سیاسی تجزیوں اور پریس نوٹوں تک خود کو محدود نہیں رکھناچاہیے۔ صحتمند اور با شعور سماج کی تکمیل کیلئے سماج کے ہر فرد کا بہتر کردار اشد ضروی ہے۔معذرت کے ساتھ لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ علاقہ بھر میں نوجوان نسل کو موت کی آغوش میں دھکیلنے والے ہم خود ہیں۔ موت کے سوداگروں کے خلاف پولیس کی کارروائیوں میں روڑے اٹکانے میں بھی ہمارا ہی ہاتھ ہے اور یہی ہماری تباہی کا باعث بنا ہوا ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ متعدد تعلیمی اداروں خصوصا ًسر کاری اداروں میں منشیات فروش اپنانیٹ ورک قائم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ کہیں برائے نام ٹھیکیدار تو کہیں ذمہ دار کسی نہ کسی طرح اس مکروہ دھندے کا حصہ بنے ہوئے ہیں سکولوں اور کالجوں کے باہر موت کے سودا گر شکار کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے اس ناپاک اور مکروہ دھندے کا نیٹ ورک بڑھانے کے لئے مستقبل کے ان نو نہالوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ انتہائی افسوسناک بات تو یہ ہے کہ منشیات کے اس مکروہ کارو بار میں خواتین بھیکسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

گزشتہ روز گول میں پکڑے جانے والے دو منشیات فروش میاں بیوی ہمارے کھوکھلے سماجی کی ایک زندہ مثال ہے۔ صنف ِ نازک کا منشیات فروشیکے اس دھندے میں ملوثہوناہمارے سماج کے لئے باعث ِ شرمندگی ہے، باشعور سماج کے دعوے کرنے سے قبل ہمیں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ جس علاقہ کی خواتین نشہ کو فروغ دینے کا اہم حصہ ہوں وہاں کی ننھی پود کے روشن مستقبل کی کوئی اُمید کرنا محض دیوانگی ہوسکتی ہے۔ جس سماج کی مائیں اوربیٹیوں منشیات فروشی میں ملوث پائی جائیں وہ سماج کس قدر بہتری کی راہ پر گامزن ہوگا یہ تو ایک کھلی کتاب ہے جو ہمارے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

منشیات فروشوں کے گروہ کو بے نقاب کرنے پر یہا ں جس قدر نیک نیتی سے پولیس کے اس اقدام کی کھل کر تعریف کرنے میں کوئی کنجوسی نہیں کرنی چاہیے لیکن یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے کہ علاقہ بھر میں موجود منشیات کا کارو بار کر نے والے موت کے سوداگروں کو پولیس کی کالی بھیڑوں کی پشت پناہی حاصل ہے جو ان کے خلاف کسی بھی کارروائی کو کامیاب نہیں ہونے دیتی جو کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے کے مصداق ہے۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ پولیس کی نشہ مخالف مہم کو آگے بڑھانے کے لئے سماج کا ہر فرد اپنا مثبت کردار نبھائے تاکہ مستقبل میں نشہ مکت گول کی تکمیل ممکن ہو سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close