معاشرہ اور ثقافت

منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان نسل نو کی تباہی کا باعث

المیہ یہ ہے کہ اپنے نفس کی غیر اِسلامی تسکین کے لئے انسان کسی بھی حد سے متجاوز ہورہا ہے جو کسی بھی طور ایک صحت مند معاشرے کی نشانی نہیں۔

طالب شاہین

اُمت ِ مسلمہ عصر حاضر میں جن بڑے پیچیدہ مسائل سے دو چار ہیں ، اُن میں ایک اہم مسئلہ ہمارے سماج کی غیر اسلامی  صورتحال ہے۔ .  دن بہ دن ہمارے سماج میں نت نئے فتنے جنم لے رہے۔ روز بہ روز ایسے الحادی طوفانات ہمارے سماج میں وارد ہوتے ہیں جن کی موجودگی میں ایک خوش حال، پُرامن اور پُرسکون زندگی گزارنا  مشکل بن چکا ہے۔ مادیت کے بحران نے ہمارے معاشرے میں ایسے سِیاہ بادل منڈلائے کہ ڈاکہ زنی، بے گناہوں کا قتل عام، عصمت رِیزی اور یہاں تک کہ لڑکیوں کی کالا بازاری بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اپنے نفس کی غیر اِسلامی تسکین کے لئے انسان کسی بھی حد سے متجاوز ہورہا ہے جو کسی بھی طور ایک صحت مند معاشرے کی نشانی نہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اُس نے ہمیں دین اسلام اتنی جامعیت سے بخشا کہ ہر شعبہ میں مکمل رہنمائی ہوجاتی ہے۔ رب العٰلمین نے جہاں جہاد، اقامت دین، شہادت حق، قتال، عبادات، اور توحید جیسے احکامات نازل کیے وہی بے شمار آیات محکمات اور احادیث نَبوی بھی وحی کئے جو ایک خوشحال، پُرامن اور انسان دوست معاشرہ وجود میں لانے کے لئے کافی ہے اور جن تعلیمات کی بنیاد پر نبی پاکﷺ نے اسلامی معاشرہ تشکیل دیا۔ فحاشی، بدکاری، منشیات اور جنسی بے راہ روی؛مِلت اسلامیہ کو بالعموم اور مسلمانانِ کشمیر کوبالخصوص لپیٹ چُکی ہے۔ صورتحال ایسی ہوچکی ہے کہ دور دور تک تایکی ہی تاریکی نظر آرہی ہے۔ شرم و حیا اور خاندانی نظام کا جنازہ خاموشی سے نکل رہا ہے۔ خاموشی سے نسل نو کی تہذیب، تمدن، اسلامی فکر نکالی جارہی ہے۔ عُریانیت اور فحاشیت کو فروغ دیا جارہا ہے۔

منشیات، کالا دھندا، بے گناہوں کا قتل عام اور عصمت ریزی اس معاشرے کے معمولات بن چکے ہیں۔ انسانیت خون کے آنسوؤں رو رہی ہے اور یہ سب زہر ہلاہل ثابت ہورہے ہیں ۔ ایک سوچی سمجھی چال کے تحت اُمت مُومسلمہ کا راستہ بدلایا جارہا ہے اور اُنہیں مغربیت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دھکیلا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا اور کچھ موبائیل کمپنیاں اس کے لئے آلہ کار ثابت ہورہی ہیں ۔ میڈیا زیادہ سے زیادہ بے حیائی، عُریانیت اور زِنا کو فروغ دے رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے صرف اُن چیزوں کو حلال فرمایا ہے جو انسانی جسم اور روح دونوں کے لئے مفید ہے۔ اور جو چیزیں انسانی جسم اور روح دونوں کے لئے مضر ہے، جن کے استعمال سے انسان میں فساد و بگاڈ پیدا ہوجائے,، ایسی چیزیں اللہ نے حرام کردی  ہیں ۔ اور اُن سے اجتناب کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نشہ آور چیزیں بھی اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہے کیونکہ اِن میں بھی انسانیت کے لئے تباہی ہے۔ آجکل نوجوان اور طلبہ برادری نشہ آور چیزوں کی طرف زیادہ مائل ہورہی ہے۔ لگ بھگ 70% طلبہ میں سگریٹ اور گھٹکا کا استعمال عام ہے۔ سگریٹ، ٹکھا کے علاوہ نوجوانوں میں گانجہ، چرس اور شراب کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھنے کو ملتا ہے۔ روز بہ روز ملت کا سرمایہ کُند ہورہا ہے۔ روز بہ روز امراض میں اِضافہ ہورہا ہے۔ ہسپتال آباد ہورہے ہیں ۔ نوجوانوں میں حلق کی خرابی، امراضِ قلب، کھانسی، کینسر، بواسیراور گردے کی خرابی جیسی مہلک بیماریاں بڑھ رہی ہیں ۔ یہ انسانی دماغ کی تنگی کا ہی نتیجہ ہے کہ چند لمحات کا عارضی سکون و سرور حاصل کرنے کے لئے انسان اپنے دائمی سرور کا زریعہ ختم کردیتا ہے۔ لاتعداد زندگیاں اس نتیجہ سے فوت ہوگئی۔ آباد گلشن ویران ہو گئے۔ لاتعداد ماوؤں کے جگر موت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ غرض یہ رُلادینی والی داستان اتنی طویل ہے کہ میرا قلم اسے صفحۂ قرطاس پر اُتارنے کا متحمل نہیں ۔ منشیات نے کتنی زندگیاں اُجاڑ دی، اس کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک انسان لرز اُٹھتا ہے۔

چرس اور شراب کے نقصانات کے بارے میں میں نے کچھ مختصر الفاظ رقم کیے ہے جو سائنس کی روشنی سے ثابت بھی ہے:

1۔ چرس:

 ماہرین نباتات کے نزدیک چرس cannabis sativa اور cannabis indica نامی پودوں  سے نکلتا ہے۔ انکا شمار بارانی فصلوں میں ہوتا ہے۔ ایسے پودے اکثر پانی کے آس پاس اُگتے ہے۔ کبھی کبھار یہ کم پانی والے جگہوں پر بھی اُگتے ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بھی یہ پودے کثرت سے ملتے ہیں ۔ . cannabis sativa میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی خوشحالی اور تباہی، دونوں کا سامان  رکھا ہے۔ چرس کے علاوہ ان پودوں سے کپڑوں کا بنیادی سامان حاصل کیاجاتا ہے۔ مگر انسان میں لالچ اور ہِرس کی وجہ سے زیادہ طور اس کے منفی حصّے کا استعمال ہورہا ہے۔ محض کچھ پیسوں اور جنسی  خواہشات کی تسکین کے لئے ان پودوں کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے جو کہ سماج کے لئے وبال اور انسان کے لئے باعث ذلت ثابت ہورہا ہے۔

 چرس پینے والے اکثر اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہے۔ وہ احساس کمتری کے زیادہ شکار ہوجاتے ہے۔ گھروالے، اُستاد، والدین، دوست اور سماج کا ہر فرد اُنہیں  حقیر نظروں سے دیکھتے ہے۔ ایسے لوگ اکثر عجیب و غریب فطرت کے مالک ہوتے ہے۔ اُن میں شعور کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔ حلال و حرام کی تمیز کرنا انکے لئے مشکل بن جاتا ہے۔ وہ ڈپریشن اور پاگل پن کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ اُن میں سے اکثر زندگی سے مایوس ہوکر ابدی نیند سوجاتے ہے۔ وہ بلا وجہ گھبراہٹ اور مختلف شکوک و شہبات میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ انہیں آرام اور نیند جیسی نعمتیں بہت کم نصیب ہوتی ہے۔ ایسے انسان معاشرے کے لئے تباہی کا سامان بن جاتے ہے۔ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی دنیا و عقبیٰ دونوں برباد کرتا ہے۔ غرض انسان وہاں کھڑا ہوجاتا ہے جہاں سے واپس آنا بہت مشکل ہو جاتاہے۔ انسان کسی کام کا نہیں رہتا، دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی برباد کرلیتے ہے۔

2۔ شراب:

 شراب بھی ایک وبال کی شکل اختیار کرچکا ہے جسکا استعمال بھی بڑے پیمانے پر ہورہا ہے۔ کثرت سے شراب پینے والے مختلف امراض میں مبتلا ہوسکتے ہے جنکا خاتمہ انسان کی جان پر ہوتا ہے۔ اطباء کے نزدیک شراب سے انسان کی رگیں سخت ہوجاتی ہیں ۔ انسان میں قوت حافظہ کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ شراب عقل کو فاسد کرتی ہے، روح کو ماردیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذکر خاص کر نماز سے روکتی ہے، ایسے انسان مکمل ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہے، ذمہ داریوں سے بھاگتے ہے اور تنہاہی اختیار کرتے ہیں ۔ شراب انسان میں جنون لانے کا سبب بنتی ہے جس کے نتیجہ میں انسان کبھی کبھار انسانیت چھوڑ کر جانوروں کی مشاہبت اختیار کرتا ہے۔ ایسے انسانوں کی فکر و قوت متاثر ہوجاتی ہے۔ گھر میں بھی افراتفری، لڑائی، جھگڑا، بدامنی اور بدسکونی پھیل جاتی ہے۔ بچوں پر ناخوشگوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ طلاقوں کی کثرت ہوتی ہے۔ رشتوں کی پہچان اور لحاذ ایسے انسانوں میں کند ہوجاتی ہے۔

یہ تو معمولی معمولی نقصانات ہے، مزید تحقیق کے نتیجہ میں انسان بہت کچھ سمجھ پائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں میں زیادہ سے زیادہ منشیات کے خلاف علم اُٹھائی جائے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف دروس کا  اہتمام کیا جائے.علماء، مفتیان عظام، مولوی حضرات اور والدین اپنی زمہ داری نبھاکر اسلامی نظام زندگی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے۔ نوجوانوں سے انکے مسائل متعین کرے اور انکے لئے منظم حل مرتب کرے۔ اُمت مسلمہ کے پاس افرادی قوت تمام اقوام کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ مگر اسکے باوجود ہم پریشان حال ہے.طاغوت فتنوں کو فروغ دے رہا ہے اور منشیات بھی انہی فتنوں میں سے ایک مہلک فتنہ ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم دینی ہے کہ اسلام کا نظام زندگی کتنا روشن ہے، اسلامی خواہشات کے خلاف نہیں ہے مگر اسلام ہماری خواہشات، جزبات اور احساسات کو ایک صحیح راہ پر لگاتا ہے۔ تاریخ وہ منظر از سر نو پیش کرے جو نبی پاک کے اصحاب نے شراب کی حرمت پر دکھایا، لیکن اسکے لئے بنیادی کام یہ ہوگا کہ نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کی ہر ممکن کوشش انجام دے۔

ایسے نوجوانوں سے میری گزارش ہے کہ وہ آئیں اور  ہمت مردی سے کام لیں ۔ پریشان ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ پاؤں پھیلائے جائے۔ اپنے حق میں جد و جہد کی جائے۔ ایسے نوجوان اپنی صلاحیتوں پر غوروفکر کریں۔ زیادہ سے زیادہ کتابوں ک مطالعہ کریں۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہے، تنہائی ہرگز اختیار نہ کریں ، شیطان تنہائی میں زیادہ زور آور ہوتا ہے۔ اچھے دوستوں کے ساتھ رہے اور ٹھوس ارادوں سے منشیات چھوڑنے کا فیصلہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے اور مسجد سے اپنا تعلق جوڑے.۔ للہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ نوجوان نسل کو برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں جہنم کی آگ سے نجات دے۔ آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

طالب شاہین

سوپور، کشمیر

متعلقہ

Close